افسانے کے چند مسائل

مضمون نگار :محمد عباس

افسانے کے چند مسائل

انسان کبھی بھی نصیحت سننا پسند نہیں کرتا، یہ مسلمہ صداقت ہے۔
انسان کہانی میں ہمیشہ دلچسپی لیتا ہے، یہ بھی مانی ہوئی حقیقت ہے۔
فکشن کا فن صحیح معنی میں اس وقت شروع ہوتا ہے جب کسی دانشور نے یہ دونوں حقیقتیں تسلیم کر لیں۔ دانشور نصیحت کرنا چاہتا تھا لیکن یہ جان گیا تھا کہ کوئی شخص اس کی نصیحت سننے کو تیار نہیں ہے۔اس نے دوسری حقیقت کو بھی مدِ نظر رکھا اور اپنی نصیحت کو اس طرح کہانی کے اندر گتھا کہ سننے والے اشتیاق سے مجبور اس کی پوری بات سنتے چلے گئے۔ سننے والوں نے اپنی طرف سے کہانی سنی لیکن سنانے والے نے اپنی طرف سے پوری نصیحت بھی ان تک پہنچا دی اور انہیں احساس تک نہ ہوا کہ کہانی کے پردے میں در اصل نصیحت سنانا اصل مقصود تھا۔ یہ اصل فنکاری تھی۔ سامع جو نصیحت کے لفظ سے بھی بیزار ہے، اس تک سلیقے سے نصیحت پہنچا دینا۔ میٹھی گولی میںکڑوی دوا لپیٹ کر دے دینا۔ کہانی کا فن ازل سے انسانی فطرت کی ان دو باتوں پر ایمان رکھتے ہوئے چل رہا ہے۔ ہر فنکار اپنی زندگی کے تجربات کو نصیحت کی شکل میںقاری تک پہنچانا چاہتا ہے لیکن اس کے لیے اسے ایساطریقہ اپنانا پڑتا ہے جس سے قاری کو ایک لمحے کے لیے بھی احساس نہ ہو کہ اسے نصیحت دی جارہی ہے۔ کہانی کو اس پیچیدگی سے بنا جاتا ہے ، اس فنکاری سے الجھایا جاتا ہے کہ قاری اس کی دلچسپی میں کھویا رہے اور اس کے پسِ پشت اسے احساس ہی نہ ہو کہ اس کے حلق میں کچھ کڑوی دوا اتاری جارہی ہے۔ وہ کہانی ہمیشہ سراہی گئی جس میں نصیحت پسِ پشت ہو اور اس کہانی کو پڑھنے والوں نے کبھی اعتنا نہیں بخشا جس میں نصیحت سامنے نظر آتی ہو۔


ہمارے ہاں اردو کے اکثر نو آموز افسانہ نگار کہانی کہنے کی اس رمز کو نہیں سمجھتے۔ اول تو ان کے پاس زندگی کے تجربات ہی نہیں ہوتے جنہیں وہ کہانی میں بیان کر سکیں ، وہ کسی تحریک (وجودیت،جدیدیت، مابعد جدیدیت،علامتیت،سر رئیلزم وغیرہ )یا کسی دوسرے بڑے ادیب کے نمایاں موضوعات اٹھا لیتا ہے، پھر اسے استعارے اور تشبیہ کے لچھوں میں پرو کر ایک بیانیہ ترتیب دینے کی کوشش کرتا ہے لیکن کیوں کہ وہ تجربات اس کے اپنے نہیں ہوتے، اس لیے بیانیے میں کوئی تاثیرپیدا نہیں ہو پاتی۔ دوسرے کچھ لوگ ایسے بھی ہیںجن کا فکشن کے علاوہ دوسرے مضامین کا مطالعہ کافی ہوتا ہے، یہ لوگ جب فکشن کی طرف آتے ہیں تو کہانی کو اس کے فنی معیارات پر قائم کرنے کی بجائے دوسرے مضامین سے اخذ کردہ علم پر کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے افسانے میں کہانی تو ملتی نہیں اور اگر ملتی بھی ہے تو کچی ادھ کتری سی، البتہ سیاست، معیشت، تاریخ،مذہب، عمرانیات، نفسیات ، فلسفہ جیسے مضامین کے مشہورِ زمانہ خیالات کی بازگشت بہت سنائی دے گی۔ ان لوگوں کے افسانوں کی تنقید بھی اسی طرح لکھی جاتی ہے کہ ان کے لکھے گئے الفاظ میں چھپی دانش اور حکمت پر نقاد اپنی علمیت کا ملمع چڑھاتا ہے اور وہ جو پہلے ہی بوجھل چیز تھی، اسے مزید بوجھل کر کے قاری کے سامنے رکھ دیتاہے۔ یہ تنقید افسانے کو پڑھنے کے لیے جو معیارات ہمارے سامنے رکھتی ہے، وہ خالصتاً غیر ادبی ہوتے ہیں۔ اُدھریہ افسانہ نگار لولوئے حکمت ارزاں کرنے اور دانش کے موتی بکھیرنے کی خواہش سے مغلوب افسانے کی نازک کمر پر دنیا بھر کے بھاری بھرکم خیالات کے پشتارے لاد دیتے ہیں۔ انہیں کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ افسانہ اپنی اصل میں حکمت اور بصیرت دینے کا ذریعہ ضرور ہے لیکن اس نصیحت کو کہانی کے اندر متھنا پڑتاہے، فن کے اندر ملفوف کرنا پڑتا ہے تا کہ قاری اس نصیحت کو واضح نہ دیکھ سکے۔ جیسے قدرت نے دودھ کے اندر پانی میں گھی پوشیدہ کر رکھا ہے، ایسے ملایا ہے کہ نظر تک نہیں آتا جب کہ ان لوگوں کے افسانوں میں دانش یوں تیرتی نظر آتی ہے جیسے مکینک کے تغارے میں پانی کے اوپر گریس چمکتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ افسانہ نگار اپنی عقل اور حکمت کو اس قدر انمول سمجھتے ہیں اور اس کو لٹانے کے لیے اس قدر بے تاب ہوتے ہیں کہ افسانے کی ہیئت اور ساخت کا بھی خیال نہیں کرتے اور بلا کسی جواز اور ہیئتی تقاضے کے اپنے قیمتی خیالات کے جواہرات ٹانکنے لگتے ہیں۔


دنیا بھر کے ادب کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ جو دانش اور حکمت ادب کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی ہے، باقی سبھی شعبہ ہائے علم مل کر بھی نہیںپہنچا سکتے تھے۔ دوسرے علوم مل کر انسان کی زندگی پر دھوکے کے جس پردے کو گاڑھاکرتے ہیں،ادب اس پردے کوچاک کر کے انسانی فہم کی سمت نمائی کرتا ہے۔ایک سچا ادیب ان علوم کا مطالعہ بھی کرتا ہے ، ان سے استفادہ بھی کرتا ہے لیکن صرف اس لیے کہ اس کے علم اور مشاہدے میں اضافہ ہو، وہ ان علوم سے اپنے ادب کے لیے رہنمائی کا کام نہیں لیتا۔ اس مقصد کے لیے اس کے پاس فنکارانہ وجدان ہی کافی ہوتا ہے۔ ہمارا افسانہ نگار اس کے الٹ چلتاہے۔ ان علوم کی دی ہوئی دانش کو اپنے افسانے کا تاج بنا کر پیش کرتا ہے اور کیوں کہ اس کا یہ علم بھی تسلی بخش نہیں ہوتا، وہ اس علم کے ماہرین سے زیادہ علم تو نہیں رکھتا، سوایسی ٹھوکریں کھاتا ہے کہ نہ تو ادب کا قاری اس کا لکھا پڑھتا ہے اور نہ ہی اس علم کے لوگ اسے وقعت دیتے ہیں۔ دوسری طرف عالمی سطح پر ادب کے شاہکار دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ فنکار کہانی کو اس طرح گتھتے ہیں کہ ایک جملہ بھی بوجھ نہیں لگتا اور پوری کہانی کے ساتھ ساتھ زیریں سطح پر دانش کی اعلیٰ ترین صورت بھی لہریں لے رہی ہوتی ہے۔ کہیں احساس نہیں ہو گا کہ لکھنے والا علمیت جھاڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کی کوشش پوری سنجیدگی سے کہانی بیان کرنے کی طرف ہوتی ہے اور وہ اسی پر متوجہ ہوتا ہے۔ ان کا ادبی مقام و مرتبہ بھی دیکھ لیں اور انہوں نے انسانیت کو جو تہذیبی روایات اور دانش کے جو زریں نمونے دیے ہیں، وہ سب دنیا کے سامنے ہیں لیکن ہمارا افسانہ نگار جس کی عقل اورعلمیت کا دائرہ بہت محدود ہوتا ہے، وہ اسی دائرے میں اپنے فکشن کو بھی مقید کرنے کی کوشش کرتاہے ۔ وہ اس خبط میں مبتلا ہوتا ہے کہ اس کے پاس جو علم اور دانش مہیا ہے، وہ دنیا میں اور کسی شخص کے پاس میسر نہیں، اس لیے میرا فرض بنتا ہے کہ لوگوں میں یہ نورِ بصیرت عام کرتا رہوں۔ رہی کہانی تو اس کی ضرورت ہی کیا ہے۔اگر کسی نے اعتراض کیا تو روایت پرست ،افسانے سے نابلد، کہانی پن سے نا شناسا کی پھبتی کس کر اسے شرمندہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔


عام طور پر عالمی سطح کا فکشن ان موضوعات کو اپنے اندرسموتا ہے جو فلسفی کا پِتّا بھی پانی کردیں ، جو فلسفے کی حدود ختم ہونے کے بعد شروع ہوں ۔ جب فلسفی اپنی انتہا پر پہنچ جاتا ہے اور فلسفہ کے مسائل کو بیان کرنے کے لیے فلسفے کے میدان کو عاجز محسوس کرتا ہے تو وہ آرٹ کا سہارا لیتا ہے ۔ جب کہ ہمارے ہاں معاملہ مختلف ہے۔ یہاں فلسفی تو آج تک جنما ہی نہیں۔ جوکوئی شوقین تھوڑا بہت مطالعہ کرتاہے اور کچھ کوشش کے بعد اپنی زبان (اردوبھی اور اپنے ذاتی اسلوب) میں اس کا اظہار کرنے میں عجز محسوس کرتا ہے اور فلسفے کے میدان کو اپنے لیے ناقابلِ عبور پاتا ہے تو افسانے میں پناہ لینے کی کوشش کرتاہے۔ نتیجتاً عام طور پر فلسفے کے وہ مسائل افسانے میں ادھر ادھر لڑھک رہے ہوتے ہیں جو اگر فلسفے کے میدان میں بتائے جائیں تو بہت سطحی لگیں گے۔ اگر افسانے میں ایسے خیالات پیش کرنے پڑیں جو کسی فلسفی کے مطالعے کا نتیجہ ہوں، تو پھر یہ افسانے کا عجز کہلائے گا۔ خیر اس کوشش کا نقصان قاری کو نہیں ہوا، خسارے میں رہا تو ادیب، کہ اس کے افسانے پڑھنے کے لیے کوئی عاشق چراغِ رخِ زیبا لے کر بھی نہیں ملتا۔


اردو نثر کی ایک خامی یا خوبی یہ رہی ہے کہ یہ کسی بھی خوبصورت اور جامع اظہار کے لیے اردو غزل سے وسائل مستعار لیتی ہے۔ جہاں بھی مصنف کا جی چاہا کہ کوئی دلکش پیرایہ یا جاذبِ نظر جملہ لکھنا ہے تو اس نے جھٹ اردو غزل کی روایت کی طرف جھانکا اور کسی کا مصرعہ یا شعر نثر میں ڈھال کر اپنی تحریر میں ٹانک لیا۔اگر مصرعہ نہیں اپنانا تو نثر کے ٹکڑوں کو تشبیہ استعارے کی سلائی سے ملبوس کی شکل دے دی۔ لیکن اردو افسانے کو اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر اردو کی نثری نظم نے خراب کیا۔افسانہ نگار نے اپنے بیانیے کو نثری نظم کے قریب ترین رکھنے کی کوشش کی۔ افسانہ نگار افسانے کے تمام پہلوؤںکی بجائے صرف نثر کوچمکانے پر توجہ دینے لگے۔ افسانہ نگاروں کے متعلق غزل گوئوں کی طرح مشہور ہونے لگا ، فلاں افسانہ نگار کا یہی مخصوص اسلوب ہے ، فلاں کا یہی انداز ہے۔حالانکہ فکشن کے فن کے لیے اس معنی میں اسلوب کا لفظ قاتل ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کہ اورحان پامک نے کہا تھا:


”What was venerated as style was nothing more than an imperfection or flaw that revealed the guilty hand.”


یہاں تو ہر کہانی کا مزاج الگ ہوتا ہے، کردار ، ماحول اور فضا کے مطابق لفظ لکھنے ہوتے ہیں، وہ اسلوب اپنانا پڑتا ہے جو کہانی کا تقاضا ہوتا ہے۔ ہر نئی کہانی اپنے ساتھ ایک نیا اسلوب لے کرآتی ہے۔ اپنے منہ سے پکار پکار کے اپنے لیے ایک منفرد زبان مانگتی ہے لیکن ہمارے افسانہ نگار اپنے لیے ایک اسلوب گھڑ لیتے ہیں (صحیح معنی میں وہ اسلوب ہوتا ہی نہیں، محض آرائشی جملے اور مصنوعی زبان ہوتی ہے۔ )اور پھر اسی اسلوب میں سبھی کہانیوں کو جکڑتے جاتے ہیں۔کہانی میںکیفیت دکھ کی یا سکھ کی، کہانی پہاڑی علاقے کی ہو یا صحرائی کی، کردار ان پڑھ ہو یا اعلیٰ تعلیم یافتہ، پوری کہانی ایک ہی رومانوی مرصع زبان میں لکھی جاتی ہے۔ کردار دکھی ہو یا غصہ ، بیسیوں استعاروں اورتشبیہو ں کے ساتھ اظہار کرے گا۔ افسانہ نگار سادہ سی بات نہیں سمجھتے کہ یہ اسلوب نہیں کہلا سکتا۔ موضوع کے ساتھ مطابقت کے بغیر اسلوب کب بن سکتا ہے۔ محض مصنوعی زبان اور نقلی غازہ ہوتا ہے۔ افسانہ تو ابلاغ کا فن ہے، جتنا براہِ راست اظہار ہو گا، اتنا ہی پڑھنے والے پر اثر انداز ہو گا،چیخوف، موپساں، او ہنری، ایچ ایچ منرو، ارنسٹ ہیمنگوے اور ڈی ایچ لارنس دیکھ لیں،پریم چند ،منٹو، بیدی اور غلام عباس دیکھ لیں، دنیا میں نئے مقبول افسانہ نگار Kevin Barry, Wells Tower, Yiyun Li, Chimamanda Ngozi Adichie پڑھ لیں، خود اپنے ہاں اسد محمد خان اور صدیق عالم پسند کیے جاتے ہیں۔وجہ صرف یہی کہ ان سب کے ہاں ابلاغ دوسروں کی نسبت آسان ہے۔ افسانہ بتانے کا ، دکھانے کا فن ہے، یہ شاعری کی طرح ترصیع میں حسن نہیں ڈھونڈتا،ترسیل کو خوبصورتی گردانتا ہے،بامعنی اظہار کو خوبی جانتا ہے۔ ادھر ہمارے افسانہ نگار ایسے ہیں کہ کہانی کا انجر پنجر ڈھیلا کر دیںگے ، کہانی کو توڑ کے رکھ دیں گے لیکن اسلوب سے روگردانی نہیں کریں گے۔ یہ اسلوب کے وفادار ہیں، کہانی کے نہیں۔ کہانی کے تقاضے کو سمجھ نہیں سکتے، اپنی مرضی کے الفاظ ٹھونستے جائیں گے۔
اسلوب اور علمیت کے ان مسائل کو مزید بڑھاتے چلے جانے میں بڑا ہاتھ ہمارے ناقدین کا ہے۔ (ایک عام قاری افسانے کے متعلق جو رائے رکھتا ہے، وہ مستند ہوتی ہے لیکن معتبر نقاد صاحبان افسانے کو ادیب کی بجائے سماجی مصلح کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ )ہمارے ناقدین تشریح اور تفسیر کی روایت سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ متن پر کوئی ادبی حکم لگانے کی اہلیت نہیں رکھتے اور نہ ہی غیر جانب دار موازنے کے آداب سے واقف ہیں۔ یہ صرف جملے اور الفاظ کی طول طویل تشریح کر سکتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے نقاد عموماً شاعری پر لکھتے ہیں کہ وہاں تشریح کا کاروبار زیادہ گرم رہتا ہے۔ افسانے کی تنقید پر بھی جب ہاتھ صاف کرتے ہیں تو یہ لوگ جملہ در جملہ متن کی تشریح کرنے کو ہی تنقید سمجھتے ہیں۔ افسانے کے ہئیتی تقاضوں اور صنفی معیارات کو مدِ نظر رکھ کر افسانے پر بہ حیثیتِ کل کے بات نہیں کرتے۔ ان ناقدین کی عادت ہے کہ افسانے کا کوئی ایک جملہ پکڑ لیں گے اور غزل کے شعر کی طرح اس کی تشریح کرنا شروع کر دیںگے۔ اس طرف دھیان نہیں دیں گے کہ جملہ افسانے میں بلاضرورت ڈالا گیا ہے یا اس کا کوئی جواز بھی بنتا ہے ۔ انہیں بس اپنی تشریح سے غرض ہے۔ ساٹھ ستر اور اسّی کی دہائی کے افسانہ نگاروں پر کی گئی تنقید یہی رخ رکھتی ہے۔بیشتر ایسے افسانوں کی تعریف میں پل باندھتے دکھائی دیتے ہیں جو حتمی تجزیے میں افسانہ ہی نہیں کہلا سکتے ۔ ایک عام قاری ، عام اس حوالے سے کہ وہ گوشے میں بیٹھا خاموشی سے پڑھتا ہے، بلند بانگ تنقیدی دعوے نہیں کرتا، ان افسانوں کی اصلیت سے واقف ہو جاتا ہے اور ناقدین کے غوغا کے باوجود بھی دوبارہ یہ افسانے پڑھنے پر مائل نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ بالا نسل کے تمام افسانہ نگار اردو کے قاری نے رد کر دیے ہیں ۔ اردو کا افسانہ ستر کی دہائی سے پہلے تک کتنا مقبول تھا، اس سے ہر اہلِ دل واقف ہے لیکن پھر جدید افسانہ کے نام پر قاری کوبے معنی نثر پارے پڑھائے گئے، اگر اس بے چارے نے صدائے احتجاج بلند کی تو اسے کم ذوق کہہ کر نخوت سے نظر انداز کر دیا گیا اور نتیجتاً یہ قاری ان ناقدین کی فضول آراء پر یقین کرنے کی بجائے اردو فکشن کی دنیا سے ہی منہ موڑتا گیا۔قاری کو کہانی چاہیے تھی، کہانی کے نام پہ فلسفیانہ موشگافیاں نہیں۔ اردو کے مہا افسانہ نگار انور سجاد کو اگر گلہ ہے کہ ان کے افسانے کوئی سمجھ نہیں سکا تو اس میں غلطی قاری کی نہیں، ان کے اپنے افسانوں کی ہے۔ خود سوچیں ، جس افسانہ نگار کی پشت پر اردو دنیا کے مایہ ناز ترین معاصر نقاد موجود ہوں ، پاک و ہندمیں طوطی بولتا ہو،بلکہ پورا نقارخانہ ہی گونجتا ہو، اگر اسے بھی کوئی پڑھنے کی طرف راغب نہیں ہوتا اور اس کے افسانے کے نام سے بھی لوگ بھاگتے ہیں تو پھر افسانہ نگار کو خود اپنی ادائوں پر نظر ڈال لینی چاہیے اور آنے والے افسانہ نگاروں کو بھی اس کی تقلید کی بجائے اس کے انجام سے عبرت پکڑنی چاہیے۔افسانہ کسی تنقیدی تجزیے سے اپناآپ نہیں پڑھواتا ، اپنی اندرونی طاقت سے پڑھواتا ہے۔ یہ طاقت کہانی بخشتی ہے۔ سینکڑوں محافظ نقادوں کا ٹولہ افسانہ نگار کو وہ تحفظ نہیں بخش سکتا جو ایک اچھی کہانی عطا کر سکتی ہے۔


ہمارے افسانہ نگار کا گزشتہ کچھ مدت سے ایک بہت بڑا مسئلہ یہ رہا کہ وہ اپنی مٹی اور اپنے کلچر سے جڑا ہوا نہیں ہے۔ وہ جب اپنا علم بڑھانے کے لیے جدیدسماجی علوم کی کتب پڑھتاہے تو وہ عام طور پر مغرب کے معاشرے سے تعلق رکھتی ہیں، کیوں کہ ان علوم کی تحقیق کی تجربہ گاہ وہی معاشرہ ہے۔مغرب میں لکھی گئی سوشیالوجی، تاریخ، انتھروپولوجی، آرکیالوجی، فلسفہ، لسانیات وغیرہ کی کتابیں پڑھ کر ، وہاں کی ادبی تنقید پڑھ کر اس کے ذہن میں جو مباحث جنم لیتے ہیں وہ بھی انہی معاشروں سے ربط رکھتے ہیں اور ہمارا فن کار ان موضوعات کو اپنے طبع زاد سمجھ کر اپنی کہانی میں لے آتا ہے۔ اس کا نقصان دو طرفہ ہوتا ہے۔ ایک تو اس کے موضوعات اپنی زبان کے لوگوں کے لیے یکسر اجنبی ہوجاتے ہیں ،انہیں قاری ہی نہیں ملتا اور وہ ادبی تاریخ کے قبرستان میں خاموشی کی قبر میں دفن کر دیے جاتے ہیں۔ دوسرے ان موضوعات کے ساتھ جذباتی تعلق نہ ہونے اور مشاہدے کی تحدید کی وجہ سے ان کے فن میں وہ تاثیر ہی پیدا نہیں ہو پاتی جو ادب کا خاصا ہے۔یوں لگتا ہے کہ کہانی کار کی شبانہ محفل کی بجائے سوشل سائنس کے کسی غائب دماغ پروفیسر کا لیکچر سننا پڑ گیا ہے۔ اب لیکچر میں جو موضوع زیرِ بحث ہے، سامعین سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھتا، اصطلاحات انہیں پلے نہیںپڑ رہیں لیکن وہ اپنی ٹکی لگائے چلے جارہا ہے۔ایسے افسانہ نگار سے اگر پوچھا جائے کہ آپ مقامی موضوع پر کیوں نہیں لکھتے تو ان کا گھڑا گھڑایا جواب ہوتا ہے کہ ہم عالمی سطح پر لکھتے ہیں، اگر واقعی ایسا ہے تو پھر کسی ایسی زبان میں ہی لکھا کریں جو وہاں کے قاری تک پہنچ سکے۔ اگر اردو میں لکھنا ہے تو افسانہ نگار کو ان مسائل پر غور کرنا ہو گا جن کا دائرۂ اثر اردو کے قاری تک بھی ہو۔ ادیب اپنی زبان کے قاری کے لیے کچھ نہ لکھے تو پھردوسری زبانوں کے قاری کے لیے لکھنا ایک بے معنی بات ہے۔دوسرا نقصان یہ کہ مغربی معاشرے کے موضوعات پر جتنا اچھا افسانہ وہاںکا کہانی کار لکھ سکتا ہے، دوسری کسی جگہ کا فنکار نہیں لکھ سکتا۔ کیا ہم جدیدیت کی پوری تحریک میں جوائس جیسا فکشن نگار جنم دے سکے؟ وجودیت کی تمام تر دھوم دھام کے باوجود ہم سارترسا ایک روشن مینار بھی سامنے لاسکے؟ مابعد جدیدیت کا واویلا بہت مچایا گیا ہے لیکن کیا سیموئیل بیکٹ جیسا مردِ نبرد پیشہ ہمارے ادب میں کہیں نظر آسکتا ہے؟اگر نہیںتو پھر کیوں نہ ہم ان تجربات کو چھوڑ دیں جو ہمارے اپنے نہیں ہیں اور ان تجربات کو افسانے میں لے آنے کا سوچیں جو ہمارے اپنے ماحول پہ گزرتے ہیں۔
یہاں یہ واضح کرنا ضرور ی ہے کہ میں افسانے میں موضوع یا فکر کی مخالفت نہیں کر رہا۔کوئی بھی ایسا اد ب پارہ جو معنویت نہیں رکھتا، لغو ہے، لچر ہے۔ میری تمام بحث کا مقصد صرف یہ ہے کہ موضوع اور ہیئت میں سے ہیئت کو اولیت حاصل ہے۔ اگر افسانہ افسانہ نہیں بنے گا تو اس کے اندر جتنی بھی معنوی گہرائی سمو دی جائے، وہ اس افسانے کو اچھا فن پارہ نہیں بنا سکتی۔ ایسا افسانہ اس تیر کی مانند ہو گا جو کمان کے بغیر ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ میرا مطمعِ نظر یہ ہر گز نہیں کہ افسانے میں صرف ہیئت کے تجربات یا کسی نئی تکنیک کا استعمال کرنے پر زور ہو اور کہانی کار کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہ ہو۔ خواہ مخواہ کی تکنیک اس کمان کے برابر ہے ، جس میں کوئی تیر نہ ہو۔ ہمارے کئی افسانہ نگاروں نے تکنیک پر ایسی توجہ دی کہ پھر موضوع اور فکر ان کے حاشیہ بردار ناقدین کو بھی نظر نہ آتی تھی۔


موضوع سے جڑتا ایک مسئلہ نعرہ بازی کا بھی ہے۔ جہاں کہیں ادیب نے افسانے یا ناول کے اندر کسی خیال کا اظہار کرنا چاہا، ہیئت پرست ناقدین کو ناگوار گزرا اور اس پر نعرہ بازی کا لیبل لگا دیا۔ یہاں ناقدین غیر جانب دار ہو کر یہ تجزیہ کرتے کہ یہ نعرہ بازی ہیئت کا حصہ بن کر آئی ہے یا نہیں؟ آخر ادیب اسی لیے تو لکھتا ہے کہ وہ کچھ کہنا چاہتا ہے،اسے وہ سب کچھ کہنے کا حق بھی دینا چاہیے۔ ادب اور ادبی قاری صرف یہ شرط رکھتے ہیں کہ ادب کے معیارات کو پورے کرنے کے بعد کہہ سکتے ہیں اور اگر ادبی معیار پورے نہیں کر سکتے تو کچھ اور لکھیں جیسے حسن جعفر زیدی،سعید ابراہیم ، ارشد محمود ، مبارک حیدر نے کیا ہے۔ ادب لکھنا ہے تو ادب کی تخلیقی شان بھی قائم رکھنا پڑے گی اور جس صنف میں لکھا جا رہا ہے، اس صنف کے ہیئتی تقاضوں کو بھی مدِ نظر رکھنا پڑے گا۔ ادب اور مخصوص صنف کے معیارات مدِ نظر رکھے بغیر ادیب ہو یا شاعر، کبھی بھی اچھا ادیب نہیں بن سکتا۔
ایک اور مغالطہ اردو کے نقادوں کا پیدا کردہ ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اردو کے بیشتر نقاد شاعری کے نقاد ہیں۔ فکشن کے باقاعدہ نقاد تین چار ہی رہے ہیں۔باقی ناقدین شاعری پر تنقید سے اپنا ایک استناد قائم کر لیتے ہیں اور فکشن کو دوسرے درجے کا ادب سمجھتے ہوئے نہ تو پڑھتے ہیں اور نہ اس طرف سنجیدہ تنقید کا مزاج رکھتے ہیں۔ جب ان ناقدین کی مشہوری زیادہ ہو جاتی ہے تو کوئی نہ کوئی دوست آشنااپنی افسانوی کتاب پر ان سے مضمون لکھوانے کا طلبگار ہوتا ہے۔ یہ حضرات بھی اس تکلف میں نہیں پڑتے کہ فکشن کی تنقید کی مبادیات سے واقف ہوں لیں اور کسی افسانے ناول کی تعریف ان معیارات پر کریں جو فکشن کے معیارات ہیں، ایسے ہی اپنے لگے بندھے معمول کے مطابق دو چار صفحات فکشن پر بھی کھینچ ڈالتے ہیں۔ اس تنقید میں کئی پہلو مضحکہ خیز ہوتے ہیں۔ خاص طور پر یہ کہنا ’’اردو میں ایساافسانہ/ناول کبھی نہیں لکھا گیا۔‘‘یا ’’جہاں تک اردو کا سوال ہے، یہ اپنی طرز کا پہلا افسانہ/ناول ہے۔‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ یہ جملے فکشن کی تنقید کے ہر گز نہیں ہو سکتے۔ یہ جملے شاعری کے جملے ہیں۔ شاعری ایک ایسی صنفِ ادب ہے جو اپنی مٹی سے جڑی ہوئی ہوتی ہے اور کسی صورت بھی الگ نہیں ہوتی۔ شاعری کی اصل جذبات اور احساسات ہوتے ہیں جو ہر ثقافت اورتہذیب کے اپنے ہوتے ہیں۔ کسی نقاد نے کہا تھا کہ ’شاعری ترجمہ نہیں ہو سکتی۔ اسے ترجمہ کرنے کی کوشش کی جائے تو جو چیز ترجمے کے درمیان غائب ہو جاتی ہے، وہی اصل شاعری ہوتی ہے۔ ‘اس لیے شاعری ہمیشہ اسی زبان میں لطف دیتی ہے، جس میں وہ کی گئی ہے۔ ترجمے سے اس کا صحیح لطف نہیں لیا جا سکتا۔ لیکن فکشن ایسی صنف نہیں ہے۔ فکشن کی اصل جذبات نہیں، کہانی ہے۔ اور کہانی کا لطف ہر جگہ کے لوگ ایک ہی طرح سے لیتے ہیں اور اس سے نتیجہ بھی ایک ہی جیسا اخذ کرتے ہیں۔ ترجمہ جیسا کیسا بھی ہو، فکشن کا لطف آ جاتا ہے۔ ہم میں سے بیشتر لوگوں نے محمد حسن عسکری کا عجلت میں ترجمہ کردہ ’’مادام بوواری‘پڑھا ہے لیکن ہر قاری نے اس کا لطف لیا ہے۔ روسی ادب کے اکثر ترجمے بہت کم معیاری ہوتے ہیں، پھر بھی پڑھنے والے ان کا پوری طرح سے لطف لیتے ہیں۔ کسی نے اگر انگلش میں بھی پڑھ لیا تو وہ بھی ترجمہ ہی ہے۔اسے پڑھتے ہوئے کبھی تشنگی کا احساس نہیں ہوتا۔ کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ اس فن پارے کی عظمت کے متعلق جو دعوے کیے جاتے ہیں، وہ سمجھنے کے لیے ہمیں اصل روسی زبان میں فکشن پڑھنا پڑے گا۔مزید برآں ایک معاشرے کے فن پارے دوسرے معاشرے کے لوگ جب پڑھتے ہیں تو بھی کسی کمی کا احساس نہیں ہوتا۔ ہیمنگوے کا ’بوڑھا اور سمندر ‘ پڑھنے والے مختلف خطے کے لوگوں کی تفہیم میں کہیں تضاد نہیں پایا جاتا۔’’ ڈان کیہوٹے ‘‘سے لے کر ’’ میرا نام سرخ‘‘ تک ہر ناول کا لطف سبھی خطوں میںرہنے والے لوگوں نے تقریباً ایک ہی طرح سے اٹھایا ہے۔ چیخوف سے لے کر بورخیس تک سبھی کا فکشن پوری دنیا کا من پسند ہے۔ اور کوئی بھی ان افسانوں اور ناولوں کوان کی اصل زبان میں پڑھنے کی حاجت محسوس نہیں کرتا۔ فکشن کی یہی ادا ہے جو اسے عالمی سطح پر مقبول بناتی ہے۔شاعری اسی وجہ سے اپنی اصل زبان پڑھنے کی طرف پکارتی ہے۔ آج پبلشرز کا عام دعویٰ ہے کہ شاعری نہیں بکتی، فکشن بہت آسانی سے بک جاتاہے۔ حال ہی میں اردو کے ضخیم ناول’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘، ’’غلام باغ‘‘ اور ’’خس و خاشاک زمانے‘‘ جس تعداد میں بکتے رہے، اس طرح اردو کا کوئی شاعر نہیں بِک سکتا۔فکشن کو اپنی زبان تک محدود کرنا ایک مغالطہ ہے۔قار ی کبھی بھی اردو کے فکشن کو اردو کے پس منظر میں نہیں پڑھتا۔ وہ اردو کے افسانے کو دنیا کے بڑے افسانوں کے مقابلے میں رکھ کر دیکھتا ہے اور اس کے بعد اگر ان میں ذرا سی بھی تخلیقی قوت ملتی ہو تو اسے پڑھتا ہے ورنہ اسے پھینک کر عالمی ادب کا کوئی شاہکار اٹھا لیتا ہے۔ قاری نے کبھی بھی کسی دوسری زبان کے فکشن کو پڑھتے ہوئے ذہن میں یہ نہیں رکھا کہ یہ افسانہ اپنی اصل زبان میں کیا مقام رکھتا ہے۔ وہ اسے پوری دنیا کے افسانوی ادب کی روایت میں کھڑا کر کے اس کا مقام پرکھتا ہے۔ اگر وہ منفرد کہانی اور فرد و معاشرہ کو دیکھنے کا نیا نقطۂ نظر لے کر آتا ہے تو قاری پڑھتا ہے اور اگریہ سب کسی اور افسانے میں بہتر طریقے سے بیان ہو چکا ہے تو وہ اس افسانے کو ہر گز وقت نہیں دیتا۔ یہی معاملہ وہ اردو کے افسانوں کے ساتھ رکھتاہے۔ اگر وہ ان تمام افسانوں سے ہٹ کر، جو عالمی سطح پر اپنا مقام رکھتے ہیں ، کوئی نئی راہ اپناتا ہے تو اسے افسانہ پسند آئے گا، دوسری صورت میں اس افسانے کی کوئی وقعت نہیں ہو گی۔ شاعری کے ساتھ الٹ معاملہ ہے۔ دانتے کی آٹھ سو سال پرانی کتاب ’’طربیۂ خداوندی ‘‘ کی طرز پر لکھی گئی کتاب ’’جاوید نامہ‘‘ اپنے ملک میں اسی طرح اہمیت حاصل کرتی ہے۔ اگر فکشن میں کسی نے ایسی نقل کی ہوتی تو عام سا قاری بھی اسے اٹھا کے دیوار پر دے مارتا۔ سو فکشن کی تنقید کرتے وقت ’’اردو کی حد تک‘‘ محدود کرنا فکشن کے اصولوں کے خلاف ہے۔فکشن کا کوئی علاقائی معیار نہیں ہے۔ فکشن کے ہر فن پارے کو عالمی سطح کے ادب کے سامنے رکھ کر پرکھا جاتا ہے اور اگر وہاں اس کا کوئی مقام نہیں بنتا تو اس کی کوئی اہمیت اور قدر نہیں ہے۔


فیس بک کے آنے سے افسانہ نگاروں کو یہ سہولت مل گئی ہے کہ وہ جب چاہے اپنا افسانہ اپنی مرضی کے کثیر قارئین تک پہنچا سکتے ہیں۔ اب ادبی رسائل کے سخت گیر مدیران اور ان کے کڑے معیارات اشاعت کے رستے کی دیوار نہیں رہے اور نہ ہی لکھنے کے بعدچھپنے کے لیے طویل مدت تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اب تو یہ سہولت ہے کہ ادھر آپ نے افسانہ لکھا اور ادھر آپ نے شائع کر دیا۔ چشمِ زدن مین لوگ پڑھ بھی رہے ہوں گے۔ آج کے ادیب کے لیے یہ ایک بہت بڑی سہولت ہے ۔ کوئی مدیر ، کوئی ادبی گروہ بندی کسی ادیب پر گمنامی یا نامقبولیت کا پردہ نہیں تان سکتا۔ ادب ادیب اپنے فن کی طاقت سے اس تمام شہرت کا لطف اٹھا سکتا ہے جو اس کا حق بنتا ہے۔ ان سب فوائد کے ساتھ فیس بک ایک ادیب کے لیے قاتل بھی ہے۔ ہر ادیب اپنے طور پر خود پسند اور انا پرست ہوتا ہے۔ اس مزاج کی وجہ سے اکثر اوقات ادیب اپنے لکھے ہوئے لفظ کو غیر جانبداری سے پرکھ نہیں سکتا اور اپنی ہر اچھی بری تخلیق کو عالمی سطح کا شاہکار سمجھتا ہے۔ یہی ادیب جب مدیران کی نظر سے اپنا فن پارہ گزارتا تھا تو کسی فنی کمزوری کی وجہ سے رد ہونے پر مزید محنت کی طرف مائل ہوتا تھا اور اگر کسی معتبر ادبی رسالے میں چھپ جائے تو اسے اصل ادبی معیار کا اندازہ ہو جاتا تھا اور آئندہ اسی معیار کو قائم رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ لیکن فیس بک کی اس سہولت نے ادیب کو بہت زیادہ سہل پسند بنا دیا ہے۔ اب وہ محنت کی بجائے تن آسانی کا عادی ہو گیا ہے۔ جو بھی لکھتا ہے ، پہلی فرصت میں اسے فیس بک پر ڈال دیتا ہے۔ فرینڈز لسٹ میں شامل لوگوں سے ان باکس میں اسے پسند فرمانے اور اس پر کمنٹ کرنے کی استدعا کرتا ہے اور پھر ان کے بناوٹی تبصرے پڑھ پڑھ کر خوش ہوتا ہے۔ یہ تبصرہ کرنے والے عموماً ادب کی دنیا میں مبتدی ہوتے ہیں اور داد دینے کے لیے ’’ایسا لاجواب افسانہ آج تک نہیں پڑھا‘‘ قسم کے جملے لکھ کر درا صل مطالعے سے اپنی بیگانگی کا برملا ثبوت دے رہے ہوتے ہیں یا ادبی لحاظ سے اپنی ایک الگ پہچان رکھنے والے لوگ ہوتے یہں جو اس ادیب کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات نبھانے کے لیے بلند آہنگ تبصرے کر دیتے ہیں۔ ادیب بے چارہ اپنی کچی پکی تحریروں پر ملنے والے کمنٹس اور لائکس کی بنیاد پر ہی خود کو مایہ ناز اور عہد آفریں افسانہ نگار سمجھنے لگتا ہے۔ وہ اپنی خود پسندی کی وجہ س ان تبصروں اور لائکس کی کے خمار سے نکلنا ہی نہیں چاہتا اور نئی سے نئی تحریر، نظرِ ثانی کی زحمت کے بغیر ہی اٹھا کر فیس بک پر ڈالنے لگتا ہے ۔ اب تو صورت حال یہ ہے کہ افسانے کے کچھ حصے لکھتے ہی انہیں چڑھا دیا جاتا ہے جب کہ ابھی وہ مکمل بھی نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ تو پہلے پیرا گراف اور پہلے جملے بھی چڑھا دیتے ہیں اور ایسے حضرات بھی دیکھے گئے ہیں جو ’’افسانہ لکھنے کو جی چاہ رہا ہے۔‘‘،’’کل سے ایک افسانہ لکھنا شروع کروں گا۔‘‘، ’’احباب مشورہ دیں کہ افسانہ لکھوں یا نہ لکھوں؟‘‘قسم کے جملے لکھ کر بھی داد کے طور پر سینکڑوں کمنٹس وصول کرتے دیکھے گئے ہیں۔ اس حوالے سے فیس بک نے اردو افسانے پر منفی اثر مرتب کیا ہے ۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ جن لوگوں کے پاس واقعی صلاحیت ہے، وہ اپنا کام محنت سے کر رہے ہیں اور فیس بک کی وقت شہرت کے چکر میں پڑتے ہی نہیں۔


اردو کے افسانہ نگاروں کے پاس ایک عجیب قسم کا مدافعانہ ہتھیار ہے۔ تجربہ۔ جب ان سے کوئی افسانہ نہ لکھا جائے اور فارم اور موضوع کا آپس میں کوئی تعلق نہ بن رہا ہو تو دفاعی طور پر پکار اٹھتے ہیں:’’ یہ افسانہ ایک تجربہ ہے۔ ‘‘ادب کی دنیا میں تجربات کی اہمیت مسلّم ہے اور نت نئے تجربات ضروری بھی ہیں اور ان پر آواز اٹھانے والا بے بہرہ ہی ہو سکتا ہے لیکن تجربہ کسی ادب پارے کی پذیرائی کی دلیل نہیں ہو سکتا۔ تجربے کی اہمیت تب ہی تسلیم ہوتی ہے جب وہ کامیاب بھی ہو۔ ناکام تجربے کو صرف تجربہ ہونے کی بنا پر ادب کی دنیا میں جگہ نہیں دی جاسکتی۔ تجربے کے ساتھ ساتھ اردو افسانہ نگار تحریکی پس منظر میں افسانہ لکھنے کو بھی باعثِ افتخار سمجھتے ہیں اور اگر کسی افسانے میں فنی لحاظ سے کوئی کمزوری ہو تو بہت ہی استناد سے فرما دیا جاتا ہے کہ علامتی افسانہ ایسے ہی ہوتا ہے، جدیدیت کادور ہے، اب ایسے ہی فسانے لکھے جاتے ہیں، یا جدیدیت کا دور گزرنے کے بعد اسی طرح کے افسانے مروج ہیں۔ افسانہ کیا ہونا چاہیے، اس بات کا تعین کوئی تحریک نہیں کرتی بلکہ فن افسانہ نگاری کی وہ دوسو سالہ پرانی روایت کرتی ہے جس میں دنیا کے ہر خطے سے بڑ افسانہ نگاروں نے شاہکار نمونے پیش کر رکھے ہیں۔ گوگول، پشکن، بالزاک، او ہنری، چیخوف، موپساں، ساکی، ماہم، ڈی ایچ لارنس، جیمس جوائس، ہیمنگوے، ٹامس مان، بورخیس، کافکا، سے لے کراتالو کلوینو،مارکیز،فرینک اوکونر، کارل چاپیک، فلینری اوکونر، جیک لنڈن، روالڈ ڈاہل، ایلس منرو، لیڈیا ڈیوس، مویان وغیرہ جیسے افسانہ نگاروں کی تخلیقات سے رہنمائی ملتی ہے۔ دنیا کا کوئی نقاد یا تنقیدی نظریہ فنکار کی سمت نمائی نہیں کر سکتے۔کوئی اچھاافسانہ نگار ایسا نہیں ہو گا جو افسانہ لکھنے سے پہلے کسی نقاد کا ہدایت نامہ دیکھتا ہو گا۔ افسانہ نگار کے رہنما بڑے افسانہ نگار ہیں۔ فارم کیسی ہو، تکنیک کون سی اپنائی جانی چاہیے، یہ ہرموضوع کا اپنا مسئلہ ہوتا ہے۔ ایک ہی افسانہ نگار بہت سی مختلف تکنیکوں میں اظہار کرتا ہے۔ اگر وہ کسی تحریک تک محدود ہو گیا تو پھر کچھ بھی نیا نہ لکھ پائے گا۔


ہمارے لکھاری کو جانے یہ کیوں سمجھ نہیں آتا کہ قاری اس سے زیادہ پڑھا ہوا ہے۔ آخر قاری ایک تو نہیں ہے، ہزار وجود رکھتا ہے اور وہ سب وجود مل کر اس کے ایک فن پارے کے متعلق ایک مجموعی رائے قائم کرتے ہیں۔ ان ہزاروں قارئین نے کیا پتا کیا کیاپڑھ رکھا ہو گا۔ قاری پر اس بے اعتمادی کے ساتھ مصنف یہ بھی سمجھتا ہے کہ قاری نادان ہے، اس کی ادبی تربیت میں کمی ہے اور وہ کبھی اس کی تحریر میں مخفی مطالب تک رسائی نہ کر پائے گا۔ لیکن مصنف یہ نہیں جانتا کہ قاری ہر وقت پڑھنے میں مشغول رہتا ہے اور مسلسل پڑھتے رہنے سے تفہیم اس کا مسئلہ نہیں ہے۔ متن خود اس پر اپنے معنی وا کرتا چلا جاتا ہے۔ لکھاری جن معانی کو اپنی طرف سے سات پرتوں میں چھپاتا ہے، وہ قاری کے سامنے متن کے صفحات پر عریانی سے جلوہ گر ہوتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارا نقاد بھی جانے کیوں یہ نہیں سمجھتا کہ تنقید ایک دیانت دارانہ فرض ہے اورہر فن پارے کے متعلق دی گئی اس کی رائے، اگلے فن پاروں کے لیے اس کی رائے کو استناد عطا کرتی ہے۔ اگر کبھی اس کی رائے میں کھوٹ ہو تو اگلی دفعہ کوئی اس کی رائے پر بھی اعتبار نہیں کرے گا۔’ مویان ‘کے ایک افسانے ’’سانڈ‘‘میں ایک کردار مویشی منڈی میں زندہ مویشی دیکھ کر اس میں سے نکلنے والے گوشت کا اندازہ لگاتا تھا۔ ہر گاہک اس کے کہے پر اندھا یقین کرتا اور جانور خرید لیتا۔ بیچنے والا اور خریدنے والا دونوں اس خدمت کے عوض اس کی مدد کر دیتے تھے۔ کئی دفعہ جانور بیچنے والوں نے اسے پیش کش کی کہ جانور کا وزن زیادہ بتا دو، ہم تمہیں زیادہ عوضانہ دیں گے لیکن وہ آدمی نہ مانتا تھا کہ یہی تو میری ساکھ ہے جس کی وجہ سے میرا روزگار چلتا ہے۔ اگر یہ اعتبار اٹھ گیا تو پھر مجھے کون پوچھے گا۔ کاش ہمارے نقاد اس نکتے کو ذرا سمجھ لیتے۔ معمولی سے تعلق کو نبھانے کی خاطر کسی فضول فن پارے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں۔ جب قاری بے چارہ اس فن پارے کو پڑھتا ہے تو مایوسی کے ساتھ آئندہ اس نقاد کی رائے پر اعتبار کرناچھوڑ دیتا ہے۔ کوئی نقاد برے فن پارے کی تعریف کر کے اسے قاری کے لیے پسندیدہ خاطر نہیں بنا سکتا اور نہ ہی اچھے فن پارے کی بے جا تنقیص کر کے وہ قاری کو اس سے برگشتہ کر سکتا ہے۔ اردو میں پچھلے سو سال کے دوران کتنے افسانے لکھے گئے؟ لیکن جو برے افسانے تھے، وہ آج کوئی نہیں پڑھتا اور اچھے افسانوں کی مقبولیت کسی طرح کم نہیں ہوئی۔ نقاد کی رائے پر قاری نے ذرا اعتبار نہ کیا اور خود اپنی فہم سے اچھے برے کو الگ کرتا رہا۔ حسن عسکری اور سلیم احمد جیسے دیو قامت ادیبوں کے ہزار واویلے کے بعد بھی فراق گورکھپوری کو کس نے بڑا شاعر تسلیم کیا ہے؟شمس الرحمٰن فاروقی جیسا نقاد بھی جدید افسانے کو اس کے پیروں پرکھڑا نہ کر سکا۔ ساٹھ کی دہائی کے افسانے کے حق میں ناقدین کی ایک پوری کھیپ تھی جس نے اردو تنقید کے میدان میں ہلڑ مچائے رکھا لیکن قاری نے بڑی آسانی سے ان کی چالاکی سمجھ لی تھی اور اس افسانے کو یوں رد کیا کہ اس کی تاریخی اہمیت کا اندراج کرتے ہوئے ادبی مؤرخ کا قلم لڑکھڑاتا ہے۔ اگراتنے بڑے ناقدین کی رائے کا سکہ نہیں چلا تو چھوٹے موٹے نقاد کیا بیچتے ہیں۔ ان کی جانب دار رائے پر کون اعتبار کرتا ہے۔ہمارے ہاں ناقدین جب اس اصول کو سمجھ جائیں گے تو کسی افسانہ نگار یا ناول نگار کی بے جا تعریف کرنے سے باز رہیں گے اور لکھنے والا بھی اپنی انجمنِ ستائشِ باہمی کی مدد کے بجائے اپنے فن کو چمکانے کی کوشش کرے گا۔ تنقید کو چاپلوسی اور خودنمائی کی بجائے تفہیم اور تعینِ قدر پر دھیان دینا ہو گا، بے غرض ہونا پڑے گا۔ افسانہ نگار کو افسانے کے فن پر محنت کرنی ہو گی۔ اچھا افسانوی ادب تخلیق ہونے کا یہی راستہ ہے اور اسی طرح اردو کا افسانہ آگے بڑھ سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭

Share This Post
Written by محمد عباس
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)
1 Comment
  1. عمدہ

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>