عصری اردو ادب کے رحجانات

مضمون نگار : ابرار مجیب

کسی بھی زبان کے ادب میں عصری رحجانات کی شناخت اس بات پر منحصر ہے کہ عصریت کا تصور اپنے زمانی حدود میں معنویت کے لحاظ سے بہت واضح ہو۔عصریت کے دوپہلو ہیں ایک تو زمانہ حال ہے جس کے نمایاں مزاج اور چلن کو یعنی موجود کلچرل ڈسکورس کے عملی اظہارکے نمایاں نشانات کو عصریت کے روپ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ دوسرے پہلو کا تعلق فکر یا تھیوری کے مکالموں سے وابستہ ہے ،یعنی جاری علمی اور ادبی مکالموںمیں عہد کی عصریت کے واضح فکری وفلسفیانہ قضایا کیا ہیں؟ ادب میں عصریت کی اصطلاح کے معنی کا تعئین اسی وجہ سے ایک انتہائی مشکل امر ہے کیوں کہ عصر یت کی عملی صورت اور اس کا ادبی اظہار کئی طرح کے مباحث کے در وا کرتا ہے اور کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچاتا ۔عصری ادب اپنے پیش رو ادب سے نہ تو مکمل آزاد ہوتا ہے نہ ہی انسلاک کی سطح اتنی دبیز ہوتی ہے کہ ایک عہد دوسرے عہد کا سایا قرار دیا جاسکے۔عصری ادب اور ماضی کے تمام تر ادب کے مابین ادبی روایت کا اندیکھا تار موجود ہوتا ہے ۔یہی وہ رشتہ ہے جو عصری ادب کی معنویت اور اس کے جواز کو قائم بھی کرتا ہے۔کسی بھی زمانے کا ادب نہ تو ماضی کے ادب سے پوری طرح خود مختار ہوتا ہے اور نہ ہی اس کا پرتو۔ ایک ہم آہنگی سے وجود میں آنے والا عصری ادب اپنے عصر کے لیے بامعنی بھی ہوتا ہے اور ا س کی اپنی علیحدہ شناخت بھی قائم ہوجاتی ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ ادب میں عہد بہ عہد تفریق و ترجیحات کی وجوہات یا وجہ کیا ہوتی ہے۔ ادب کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ادب ایک طرف ادبی معیارات ، فکرورحجان ،ہئیت و مزاج کا تسلسل اور ارتقاء ہی نہیں بلکہ انحراف اور تجربات کی آماجگاہ بھی ہے۔ ایک طرف روایت کے اعلٰی اقدارکے جذب و انجذاب کا عمل جاری رہتا ہے تو دوسری طرف موضوعات ، ہئیت ، مزاج اور زمانی ترجیحات کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ظاہر ہے ادب میں تبدیلی زمانی ادوار کے مزاج اور ترجیحات ہی کی طرح بہت خاموشی سے واقع ہوتی ہے۔ ادب نہ تو ہنگامی طور پر کسی انقلابی تبدیلی کی وجہ سے راتوں رات بدل جاتا ہے نہ ہی فوری طور پر کسی فلسفیانہ یا فکری قضایاسے اثرات قبول کرتا ہے۔ کسی فکری یا زمانی رحجان کو ادبی مزاج میں جذب ہونے میں ایک عرصہ لگتا ہے۔ عام طور سے یہ کہا جاتا ہے کہ ادب میں ہنگامی موضوعات پر خامہ فرسائی اسے دائمی وقار نہیں بخشتی بلکہ صحافت سے قریب لے آتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ادبی رحجانات کے ارتقاء میں تاریخیت کا عمل جاری و ساری رہتا ہے۔ عام طور سے کسی ایک ادبی دورانیے کو مخصوص نمائندہ رحجان سے منسلک کردیا جاتا ہے جیسے ترقی پسند ادب ، یا جدیدیت وغیرہ لیکن اگر ہم تحقیق کی باریک بین نظرسے جائزہ لیں تو پائیں گے کہ حاوی رحجان کے پس منظر میں کئی مختلف رحجانات اپنی شناخت بناتے رہتے ہیں۔ اس بیان کے پس منظر میں دیکھیں تو ترقی پسند عہد میںجہاں کمیونزم کے نظریات کے تحت لکھنے والوں کی ایک بھیڑ چال نظر آتی ہے وہیں منٹو جیسا افسانہ نگار بھی اپنی شناخت بناتا دکھائی دیتا ہے جو ادب میں ہر طرح کی وابستگی سے انکار کردیتا ہے ۔ اسی طرح جدیدیت کی تحریک کے فکری منطق سے الگ انور سجاد جیسا فنکار سامنے ا ٓتا ہے جو خود کو کمیٹیڈ ادیب کہتا ہے اور جس کے نظریات میں مارکسزم اور کمیو نزم کے عناصر شامل نظر آتے ہیں۔


عصری ادب میں رحجانات کے حوالے سے شمیم حنفی صاحب نے ایک بہت اچھی بات کہی تھی کہ ہم رحجان اور تحریک کو ایک سمجھنے کی غلطی کربیٹھتے ہیں ۔ ادبی تحریک چیزے دیگر است ، جبکہ رحجان کئی عناصر کا مرہون منت ہوتا ہے۔ شمیم حنفی صاحب کی بات بہت حد تک درست ہے ۔ لیکن ادبی تحریک کے تعلق سے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ادب میں کسی نظریے کی بنیاد پر ایک منظم تحریک چلانا قطعی غیر ادبی فعل ہے۔ ہم نے ماضی قریب میں دیکھا کہ ترقی پسند ادب جو نظریاتی طور پر مارکسزم اور کمیونزم سے وابستگی رکھتا تھا ایک تحریک کی شکل میں اردو ادب پر غالب رہا۔ یہاں ادیب کی انفرادی فکر اور نقطہ نظر کی اہمیت صفر ہوگئی اوراردو ادب جیسے ایک ہجوم کا منظرنامہ پیش کرنے لگا جو ایک ہی نعرہ لگا رہا تھا۔ گو کہ تحریک بھی رحجان سازی کا ہی ایک عمل ہے اور ترقی پسند ادب اشتراکیت کی تشہیر اور رحجان کی تعیبروتعمیر میں ہی الجھا رہا۔ادب میں اس رویے نے فکری اور تجرباتی آزادی کو بہت نقصان پہنچایا۔دوسری طرف ہمارے یہاں جدیدیت کا غلغلہ بلند ہوا ، انیس سو ساٹھ کے بعد ایسا لگا جیسے ادب زبان کی شکست و ریخت،ہئیت کے تجربوں ، علامت سازی ، تجریدیت اور وجودیت کے جنگل میں بھٹک رہا ہے ، ایک بھیڑچال یہاں بھی نظر آتی ہے جو بہت منظم ہے۔ جس طرح ترقی پسندوں نے اپنے نمائندہ ادبی رسائل نکالے اور ان ہی لوگوں کے ادب کو شائع کیا جو اشتراکیت سے قریب یا اس کے حمایتی تھے اسی طرح جدیدیت کے علم برداروں نے منظم طریقے سے رسائل شائع کئے اور ایسے تمام لکھنے والوں کو باہر کا راستہ دکھایا جو وجودیت، علامت سازی ، تجریدیت سے الگ لکھ رہے تھے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں بھی ادیب کی انفرادی آزادی بے معنی ہوگئی۔منظم ادبی تحریک اگر ادبی رحجان سازی کرتی ہے تو اس کے کیا نتائج ہوتے ہیں اس کی ایک مثال جدیدیت میں فکشن کی زبوں حالی سے کیا جاسکتا ہے۔


جدیدیت کے تحت لکھے گئے فکشن کا حاوی رحجان وجودیت کے فلسفے کی نیم پخت تخلیقی تعبیر ہے۔فلسفہ وجودیت کی تفہیم کو اگر جدیدیت کی تنقیدی بصیرت کی روشنی میں پیش کریں تو صرف ایک جملہ کافی ہوگاکہ،ـ’فرد سماج سے الگ تنہا وجود ہے۔‘شمس الرحمٰن فاروقی اسے معاشرے کے ویرانے میں تنہا انسان کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ جدیدیت کی تنقیدی بصیرت کے اس سطحی اظہار نے اردو افسانہ نگاروں کو سب سے زیادہ گمراہ کیا ۔ اس گمرہی میں افسانہ نگار اپنی ذات کی تلاش میں نکل پڑا اور بدھ کی طرح نروان کی منزلیں طے کرنے لگا۔ذات کا کرب، روح کی بے چینی ، اور ہر طرف گھنا جنگل ، بھیڑیے، کتے، بلی ، گدھے، گھوڑے، چیتے ،سانپ ، لکڑبگھے دوڑنے لگے۔افسانہ نگار کبھی آسیب کا شکار ہوجاتا تو کبھی پردیسی بن کر ایسے ممنوعہ علاقوں میں داخل ہوکر کہانیاں جمع کرنے لگتا جس کی اسے اجازت نہیں۔ انسان پرچھائیوں میں ڈھل گیا، آسمان غائب ہوگیا اور زمین دھواں بن کر اڑگئی ، لوگ بیسویں صدی میں موریہ ونش کا زوال دیکھنے لگے ۔مطلب لغویات کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا جس کہ انت ہین تھا۔قصہ مختصر یہ کہ وجودیت کی لجلجی تفہیم نے سطحی اذہان کو بچکانہ فکر کی اندھی کھائی میں دھکیل دیا۔کچھ نیم رومانی زبان، کچھ شاعرانہ تعلی ، اور کچھ جدیدیت بطور تحریک کا بخار!وجودیت کی گمراہ کن تنقیدی تاویل نے اردو فکشن کو مجذو ب کی بڑ بنادیا۔اس میں افسانہ نگاروں کا قصور کم اور صاحب علم وبصیرت ناقدین کا زیادہ ہے کیوںکہ وجودیت پر دنیا بھر کی کتابوں کا مطالعہ کرکے انہوں اردو میں اس کی گمراہ کن تعریف رائج کی۔حتیٰ کہ جدیدیت کی فلسفیانہ اساس کے نام سے لکھی گئی شمیم حنفی کی مکمل تحقیقی کتاب نے بھی وجودیت کے تعلق سے وہی سطحی نظریہ قائم رکھا جس میں فرد کی تنہائی کا بساند مارتا ہوا نالا ابل رہا تھا۔جبکہ مغرب میں وجودیت کی تفہیم کچھ اور ہی تھی۔مثلا’’ پائول ٹیلچ نے وجودیت کو صنعتی معاشرے میں انسان کو غیر انسانی شئے بنانے کے خلاف بغاوت کی سو سالہ تحریک قرار دیا۔یہاں بات معاشرے کے بے حسی کی نہیں ہے بلکہ سائنسی ترقی کے عہد اور خود کا رنظام میں انسان اپنی انسانی عظمت کی بحالی کے لیے جو جدوجہد کررہا ہے وہ دراصل وجودیت کی تحریک ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو مارڈرن ازم کی مغربی تشریحات کی روشنی میں ترقی پسند ادبی تحریک ہی دراصل جدید ادبی تحریک تھی۔ہم اسے ایک دوسرے پہلو سے بھی دیکھ سکتے ہیں کہ اشتراکیت مغرب میں مارڈن ازم کا ایک مضبوط حصہ ہے، مارڈن سے الگ اشتراکیت کا کوئی وجود نہیں کیوں کہ روشن خیالی کے مہابیانیوں میں اشتراکیت بھی ایک مہا بیانیہ ہے، یہ بھی انسان کے روشن مستقبل کا خواب دیکھتا ہے اور مساوات کا یوٹوپیا بناتا ہے۔سارترے جسے وجودیت کے فلسفے کا موجد مانا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب Being and nothingnessمیں وجودیت کا ایک مبسوط فلسفیانہ نظام پیش کیا، یہ فلسفہ ایک طرح سے صنعتی اور سائنسی ارتقاء کے اس پہلو کے خلاف بغاوت ہے جس نے انسان کو بھیڑ بکری سے کم تر سطح پر پہنچا دیا۔ہمارے جدید ناقدین نے اپنی خود ساختہ تاویلوں سے اپنے کچے پکے علم کا سکہ تو خوب چلایا لیکن انہوں نے ایک پوری نسل کو گمراہ کرکے اردو ادب کا بڑا نقصان کیا۔ بیس سالہ جدیدیت کے دوران ادبی گمشدگی کے اس دور کی بازیافت شاید ہی ممکن ہوسکے۔


بہرحال جدیدیت جو کہ خود کو ادب میں وابستگی کے خلاف ایک آزاد ذہنی رویے اور ادب برائے ادب کا رحجان مانتی تھی دراصل رحجان کی بجائے ترقی پسند ادب کی طرح ہی ایک مخصوص نظریاتی تحریک بن گئی جس میں تجریدیت کا بول بالا تھا۔انیس سو اسی کے بعد اردو ادب میں ایک طرح کی بے چینی اور انتشار کی کیفیت نظر آنے لگی۔ تنقید کی مطلق العنانیت کا زور دھیرے دھیرے ٹوٹنے لگااور تخلیق کار جدیدیت سے الگ اپنی شناخت کا مطالبہ کرنے لگے۔الگ شناخت کا مطالبہ مبہم فکری رویہ کی روشنی ہی میںکیوں نہ ہو یہ ایک مثبت رویہ تھا۔ یہاں کسی فکری نظام کے جبر کا عمل نہیں بلکہ تخلیق کار کی فکری آزادی کی اہمیت صاف نظر آتی ہے۔ دلی میں گوپی چند نارنگ کی قیادت میں مابعد جدیدیت پر ایک مکالمہ سیمنار میں پڑھے گئے مقالوں اور مضامین میں فنکاروںنے اپنے تخلیقی محرکات پر بھی روشنی ڈالی اور ان میں بیشتر نے یہ قبول کیا کہ وہ کسی فکری نظام یا ادبی تحریک کے پرورہ نہیں ہیں بلکہ ان کی اپنی ادبی ترجیحات ہیں ، ان کے اپنے مشاہدات ہیں ، وہ موجودہ سماج اور اس کے تاریخی تناظر کو اپنے ڈھنگ سے دیکھتے ہیں ۔اگر غور کریں تو یہ ایک تکثیری رحجان ہے۔جیساکہ میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ ماضی میں بھی حاوی ادبی رحجانات کے متوازی آزاد ادبی رویے موجود رہے ہیں لیکن ادبی اور فکری آزادی کا صحیح معنوںمیں اظہار ہمارے عہد میں نظر آتا ہے جس کے خدوخال انیس سو اسی کے بعد ابھرنے لگے تھے۔تخلیقی فنکاروں کے انفرادی ادبی رویے جو تکثیریت کا منظرنامہ پیش کرتے ہیں دراصل وہ مابعد جدید معاشرتی رویہ ہے جو کسی سکہ بند فلسفیانہ قضایا سے بالکل الگ اور منفرد ہے۔


مابعد جدید رحجان کو بھی بعض لوگوںنے ایک تحریک کی شکل دینے کی کوشش کی جو کہ ایک غلط ادبی رویہ ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ ہندوستان کے تناظر میں مابعد جدید رحجانات اور ان رحجانات کی تخلیقی نمائندگی کی شناخت کس طرح ممکن ہے؟فکری دروبست میں معاشرتی ، سیاسی ،معاشی اور سماجی تکثیریت کی تھیوری مغرب میں دوسری جنگ عظیم کی ہولناکی کے بعد معرض وجود میں آئی۔مہابیانیہ یا روشن خیالی کے فلسفے یا ہومنزم کا یوٹوپیا اپنی موت آپ مر گیاکیوں کہ کسی بھی فلسفہ سے انسان کا اعتبار ختم ہوگیا۔وجہ یہ تھی کہ روشن خیالی کے ان فلسفوں کی موجودگی میں انسان نے انسان کے مکمل فناکے اسباب پیدا کرلیے۔منٹوں میں دو جیتے جاگتے شہر کو صفحہء ہستی سے مٹادیا گیا۔فکر میں مرکزی اہمیت رکھنے والے انسان دوست کرداروں کی موت واقع ہوگئی ، انسان ، خدا، مصنف سب مر گئے یعنی مذہب، فرد، معاشرہ ، فلسفہ ، ادب سب کچھ انسان کی جبلی حیوانیت کو ختم کرنے میں ناکام رہا، ظاہر ہے اس کے ساتھ ہی وہ انتشار نمایاں ہوگیا جو ہماری دنیا اور انسانی رویوں کی حقیقت ہے۔نظری اور فلسفیانہ افکار کی موت کے پس منظر میں نتشے کا Nihilisticفلسفیانہ اور منطقی رویہ اپنی جڑیں جمانے لگا۔
اردو کے عصری ادب میں تکثیریت کی اس فضا کو دیکھنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ہمارا مابعد نوآبادیاتی منظرنامہ بھی انتشار اور تصادم کی بھیانک فضا سے عبارت ہے۔علاقائیت ، مذہبی جنون، فرقہ واریت اور دہشت گردی کی عملی صورتیں ادبی اظہار اور رویوں کو بھی بدل رہی ہیں۔اگر ہم ذرا پیچھے تقسیم ہند کے واقعہ کی طرف ایک نظر کریں تو ہم پائیں گے کہ تقسیم بذات خود ایک مابعد جدید واقعہ ہے جس میں قوم کا تصور مذہب سے شناخت پذیر ہوا۔اس واقعہ نے یہ ثابت کیا کہ ناپائیدار ہی سہی لیکن انسانیت کے روشن خیالی کے تصور کے مقابلے رسومیاتی مذہبی عقائد زیادہ طاقتور ہیں، عقائد جو انسان کو آگ کے دریا سے گزار سکتے ہیں اور خون کی ہولی میں نہا سکتے ہیں۔منٹوکا فکشن اور فیض کی شاعری میں آزادی کے تصور پر طنزمابعد جدید ادبی رویہ اور عصری ادبی رحجان کی اولین آہٹ ہے۔منٹو کے افسانوں میں تقسیم اوراس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مذہبی جنون کا انتشار بہت نمایاںہے۔فرد کے حوالے سے منٹو نے سماج میں جاری قاتلانہ ذہنیت کی ہولناک داستان لکھی ہے۔ایک طرف دو مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے وجود کو مٹادینا چاہتے ہیں دوسری طرف انتشار کی اس فضا میں ہم مذہب ہی جنسی استحصال کی علامت بنتا دکھائی دیتا ہے۔انسان انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر بھیڑ کا ہی منظر نامہ پیش کرتا ہوا نظر آتا ہے جوجنون کی گرفت میں ہے۔فیض احمد فیض کی نظموں میں آزادی کے مثبت تصوراور اس کی جدوجہد میں ملنے والی آزادی داغ داغ اجالا سے مشابہت رکھتی ہے۔ جس سحر کی تمنا تھی ویسی سحر نہیں آئی بلکہ یہ سحر آگ و خون کا پیغام لے کر آئی ۔ آزادی بذات خود انسانی سیاست کے ہاتھوں انسانی استحصال کی علامت بن گئی۔انسان ہندو اور مسلمان بن گیا، لفظ انسانیت مرگئی۔


ادب کے جاری منظر نامے میں عصری رحجانات پر غور کریں تو یہ مابعد جدید عہد کے مسائل سے علیحدہ نہیں ہیں۔آج اردو ادب کا منظر نامہ بہت حد تک تکثیری ہے، کسی ایک نظریہ یا تصور ادب کی اجارہ داری نہیں اور ادیب ہر لحاظ سے خود مختار ہے۔ تنقید ی مباحث میں جدیدیت کے علم بردارو ں کی طر ف سے اکثر یہ سوال کیا جاتا رہا کہ جدیدت سے الگ اپنی شناخت پر اصرار کرنے والی نسل جدیدیت سے کس طرح الگ ہے۔ ان کا ادبی نظریہ کیا ہے؟ان کا ناقد کون ہے ؟اگر کوئی ناقد نہیں ہے تو اس نسل نے ابھی تک اپنا ناقد پیدا کیوں نہیں کیا؟بظاہر یہ سوالات انتہائی منطقی نظر آتے ہیں لیکن ادب میں فکری اور فنی آزادی کے پس منظر میں یہ سوالات بچکانہ ہیں۔پہلی بات تو یہ کہ ہر دور کو دوسرے دور سے بالکل مختلف ہونا چاہئے ، یہ مطالبہ اپنے آپ میں ادبی رویے کی آزادی پر قدغن لگاتا ہے۔کلاسیکی عہد سے لے کر آج تک زیریں سطح پر ادبی رویوں میں کہیں نہ کہیں پیش رو ادب کی گونج اور ادبی فکر کا جاری عہد کے تناظر میں اثبات موجود ہوتا ہے اس لیے علیحدگی ممکن ہی نہیں۔دوسری بات موجودہ ادب جس تکثیری سماجی ، سیاسی ،مذہبی ، علاقائی ، علمی ، فلسفیانہ ، اور نفسیاتی ، ہیئتی پس منظر میں وقوع پذیر ہورہا ہے وہ نہ تو مکمل طور پر اشتراکی ، نہ وجودی ، نہ ہی ہئیتی اور نہ ہی تجرباتی ہے۔شعری اظہار کی مثال لیں تو غزل آج بھی صنف سخن میں امتیازی اہمیت کی حامل ہے لیکن کیا غزل کا وہی شعری رویہ ہے جو مثلا‘‘جدید غزل کاتھا۔فرحت احساس کا یہ شعر دیکھیے ع
جادو بھری جگہ ہے بازار تم نہ جانا
اک بار ہم گئے تھے بازار ہوکے نکلے


جدیدیت کی پوری تاریخ میں موضوعاتی سطح پر غزل کا ایسا ایک بھی شعر پیش کرنا ناممکن ہے۔انسان کا بازار بن جانا آج کاالمیہ ہے۔جہاں جدید شاعری زبان کی شکست وریخت بقول شمس الرحمٰن فاروقی ریڈیو سیلون کے اثرات کے تحت کرتی ہے وہیں آج کے غزل کا شاعر عالمی منڈی میں بیٹھا خود اپنے وجود کا جائزہ لے رہا ہے۔ ہمارا مسئلہ ہئیت اور نئی زبان کا نہیں انسانی سطح پر اپنی ازسر نو بحالی کا ہے۔ شاعر جب خود کو بازار میں بدلتے دیکھتا ہے تو بازار اور سیاست کے درمیان وہ خود کو محض ایک شئے میں بدلتا ہوا دیکھتا ہے۔

راجیش ریڈی کے چند اشعار دیکھیں:
کبھی دیوار کی ابھری کبھی در کی تصویر
خواب میں بھی نہ مکمل ہوئی گھر کی تصویر
شہر مقتل نظر آتے ہیں اب اخباروںمیں
کہیں تصویر ہے دھڑ کی ،کہیں سر کی تصویر
شرمندہ اپنی جیب کو کرتا نہیں ہوں میں
بازار آرزو سے گزرتا نہیںہوں میں
علی اکبر ناطق کے چند اشعار دیکھیں:
تخت شاہی کی سرفرازی ہو
چوک میں دار نصب کردی ہے
ہم نے سو بار سر کو پٹخا ،پھر
آپ نے تیغ کی خبر لی ہے
عالم خورشید :
زباں تراش لی ہونٹوں کو سی لیا ہم نے
اب اور کیسے زمانے سے التجا کرتے


یہاں میرا مقصد ناموں کی فہرست سازی نہیں ہے بلکہ شعری اظہار اور موضوعاتی دروبست کی اس سمت کی طرف اشارہ کرنا ہے جو جدیدیت کی کلاسیکی روایت پرستی سے مختلف ہے۔جدیدیت کی کلاسیکی روایت پرستی کو سمجھنے کے لیے شمس الرحمن فاروقی کے تنقیدی رویے پر غور کرنے کی ضرورت ہے جس میں وہ اشعار کے کلاسیکی تصور سے کبھی باہر نہیں نکل سکے۔ان کے لیے اشعار میں عصری موضوعات کی کوئی اہمیت نہیں ہے، وہ اس بات کو اہم مانتے ہیں کہ آپ نے شاعری میں الفاظ کے دروبست میں کس قدر ابہام سے کام لیا ہے ، کیا یہ ابہام ناقد کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ کسی شعر کی تشریح میں معنی کو اپنی مرضی سے اتنی جہت عطا کرے کہ معنی کا دم اکھڑنے لگے۔اسی طرح وہ کلاسیکیت کے ان تصورات کو اہمیت دیتے ہیں جو انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروعاتی دور میں رائج تھے، وہ مضامین ،معنی آفرینی، صنائع بدائع، مضمون آفرینی ، ترکیبات کا حسن، ردیف و قوافی کے استعمال وغیرہ کو اہمیت دیتے ہیں ۔شاعری کے فکری پس منظر کی ان کی نظر میں کوئی وقعت نہیں۔ اسی لیے آج جب ہم ادب کے عصری رحجان پر گفتگو کرتے ہیں تو جدید تنقید ہمیں اس سے روکتی ہے۔کلاسیکی ہئیت شعر کی بحث میں شاعری کے عصری رحجان اور معنویت پر غور وفکر ممکن ہی نہیں کیوں کہ کلاسیکی شعری تنقید شعر کی رسومیات سے بحث کرتی ہے جس کا زیادہ تر تعلق ہئیت سے ہے۔بہرحال آج کی شاعری میں موجود رحجانات کے کچھ اشارے میں قبل ہی کرچکا ہوں جس میں ہئیت یا اشعار کی رسومیاتی بحث سے زیادہ اس با ت کی اہمیت ہے کہ شاعر اپنے انفرادی اور سماجی تجربات کو شعریت عطا کرسکتا ہے کہ نہیں اور معنوی سطح پر فکر کا ایک نیا پہلو روشن ہوسکتا ہے کہ نہیں۔یہی وجہ ہے کہ اردو میں غزل کے ساتھ ساتھ نثری نظموں کا چلن بھی عام ہوتا جارہا ہے۔


اردو ادب میں فکشن کا جائزہ اگر انیس سو اسی سے لیں تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اردو فکشن میں شفاف بیانیہ نے جدیدیت کے تجریدی بے راہ روی کو بے دخل کردیا، تجریدیت کی بے راہ روی سے مراد وہ شکستہ نثر ہے جو شاعری کے لیے تو ٹھیک بھی لیکن فکشن جو کہ زندگی کے حادثات وواقعات سے اپنی غذا لیتا ہے، جس میں انسانی مشاہدات ،تجربا ت ، علم اور مطالعہ کی ایک دنیا آباد ہوتی ہے کے لیے قطعی غیرموزوں تھی۔ ۱۹۸۰ کے بعد فکشن میں ناول نگاری کا رحجان تیزی سے ابھرا،ظاہر ناول ہے ایک لمبے عرصے تک ناول کے غیاب کے بعد اس کا نمودار ہونا ادبی مطالعات کو ان وجوہات کی تلاش کی ترغیب دیتا ہے کہ آخر کیا وجہ رہی کہ جدیدیت کے پورے دور میں کوئی بھی قابل ذکر ناول نہیںلکھا گیا ، اورانیس سو اسی کے بعد اچانک وہ کون سا ادبی رحجان سطح پر ابھر آیا جس کے تحت ناولوں کو ایک انبار لگ گیا۔ اس دور میں سید محمد اشرف،شموئل احمد، عبدالصمد، مشرف عالم ذوقی ، حسین الحق،صادقہ سحر نواب، صغیر رحمانی ، رحمٰن عباس ، انیس اشفاق اور صدیق عالم، پاکستان میں مرزا اطہر بیگ، کاشف رضا، رفاقت حیات ، مرزا حامد بیگ اور بہت سارے دوسرے ناول نگاری میں نمایاں ہوئے۔یہاں ناموں کا ذکر مقصود نہیں بلکہ ناو ل نگاری کی طرف اشارہ مقصود ہے۔


یہ حیرت کی بات ہے کہ فکشن کے نام نہاد جدید نقاد ، جدیدیت کی تحریک سے متاثر افسانوں کے جواز پر اپنے اپنے طور پر خامہ فرسائی تو کررہے تھے لیکن ناول کے غیاب پر ان میں کوئی تجسس نہیں تھا۔ ان ناقدین نے افسانے میں علامت ، تجریدیت ، وجودیت اور بیانیہ سے انحراف کی وجوہات خوب تلاش کیں لیکن بشمول فاروقی اور شمیم حنفی کسی نے اس بات پر غور کرنے کی زحمت گوار ا نہیں کی کہ شاعری اور نثر کی ٹوٹتی حد بندیوں کے عہد میں ناول کہاں گم ہوگیا؟ناول کی گم شدگی کے اسباب کیا ہیں؟کیوں ترقی پسند دور کی سماجی وابستگی کے دورانیہ میں ناول لکھے جاتے رہے؟وارث علوی نے ا لبتہ یہ ضرور لکھا تھا کہ جدیدیت پرست افسانہ نگار کی گرفت نہ توعمدہ نثر پر ہے ،نہ ہی وہ بصیرت افروز بیانیہ لکھنے پر قادر ہیں۔ایسی صلاحیتوں کے ساتھ وہ افسانہ کیا خاک لکھیں گے۔وارث علوی نے جو معروضات پیش کیے وہ بہت حد تک درست ہیں ، اچھی نثر اور بہتریخلیقی بیانیہ کے بغیر فکشن کا وجود ممکن ہی نہیں۔ہمارے عہد کا فکشن جدیدیت کے پھیلائے کنفیوژن سے باہر آچکا ہے،یہی وجہ ہے کہ ہمیں عمدہ ناولوں کی بہتات نظر آتی ہے، یہاں تک کہ شاعری ادب کی مرکزی بحث سے دور نظر آتی ہے۔


ناولوں پر ایک نظر ڈالیں تو شموئل احمد کا ناول ’’گرداب‘‘ اور صغیر رحمانی کا ناول ’’ تخم خون‘‘ قابل ذکر ہیں۔موضوعاتی لحاظ سے دونوں ناول دو منتہائوں پر نظر آتے ہیں۔شموئل احمد کا ناول گرداب محدود کرداروں کی نفسیاتی اور جذباتی جدوجہد کے گرد گھومتا ہے۔یہ محبت اور ہوس کے درمیان معلق انسانی رویوں کی کہانی ہے۔بظاہر دیکھیں تو یہ موضوع نیا نہیں بلکہ آفاقی ہے لیکن اصل چیز اس ناول کا بیانیہ ہے ۔بیانیہ پر اثر قوت کرداروں کے باطن میں داخل ہوکر ہر کردار کے مکمل وجود کو ہمارے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ یہ بیانیہ ماضی کے اس سادہ بیانیہ سے بیحدمختلف ہے جس میں تخلیقی گہرائی اور گیرائی کی بجائے بیان کی سادگی ہوتی ہے۔ شموئل احمد کا یہ بیانیہ انسانی جذبات و احساسات کی پیچیدہ دروبست کے عین مطابق ہے، یہاں ایک دھندلی کیفیت جس میں معنی کی تہیں پوشیدہ ہیں۔ ناول کی مرکزی کردار ساجی ایک شادی شدہ عورت ہے ، کئی بچوں کی ماں ہے، ایک ایسے شخص کی محبت میں گرفتار ہوتی ہے جو خود شادی شدہ ہے اور اپنی پاسداری اور سماجی حیثیت کی حفاظت کرتے ہوئے ساجی کے جسم سے لطف اندوز ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔یہ ناول ڈی ایچ لارنس کے ناول لیڈی چیٹر لز لور کی یاد دلاتا ہے لیکن ساجی کا کردار لیڈی چٹر لی کی طرح بولڈ نہیں ہے ۔یہ کردار ہندوستانی معاشرے کے عورت کے نفسیات کی نمائندہ ہے جو محبوب کی ہر خواہش کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔ناول اس وقت قاری کے ذہن کو جھنجھوڑ ڈالتا ہے جب ساجی ایک مکار ، خود غرض اور جسم کی لذت کے مارے شخص کی لاشعور ی خواہش کو عملی جامہ پہنا دیتی ہے۔ وہ لاشعوری خواہش کیا ہے ؟ ساجی کی موت تاکہ مرد اپنا سماجی وقار برقرار رکھ سکے۔ اور ساجی یہ موت خوشی خوشی قبول کرلیتی ہے۔دھند کی کی ایک عجیب فضا ابھرتی ہے کہ کسی کی لاشعوری خواہش کا شعور اتنا طاقتور کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی اپنی جان دے دے؟ یہ سوال ہی شموئل احمد کے اس ناول کے پاور فل بیانیہ کو ہمارے سامنے لاتا ہے اور ہم نفسیاتی پیچیدگیوں کے تجربہ سے گزرتے ہوئے یہ تسلیم کرلیتے ہیں کہ ایسا ممکن ہے۔
شموئل احمد کے ناول کے مقابلے صغیر رحمانی کے ناول ’’تخم ِ خون‘‘ کا موضوع اگر اردو ناول کے لیے بالکل نیا نہیں تو کسی موضوعاتی تسلسل کا حصہ بھی نہیں۔ مراٹھی ، ہندی ، گجراتی اور دوسری ہندوستانی زبانوں میں دلت فکشن کی روایت بہت مضبوط ہے لیکن اردو میں دلت فکشن کا کوئی رحجان اتنے توانا شکل میں موجود نہیں جتنی توانائی کے ساتھ اسے تخم خون میں پیش کیاگیا۔میں سمجھتا ہوں یہ اردو میں اپنی نوعیت کا پہلا ناول ہے جو دلت مسائل، دلت زندگی ، جدوجہد ، دلتوں کے استحصال کے نئے روپ اور دلت ڈسکورس کے پہلوئوں کو ایک ساتھ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔


یہاں انفرادی سطح پر ناولوں کا جائزہ پیش کرنا میرا مقصد نہیں ، تقابلی مطالعہ کے لیے ایک علیحدہ مضمون کی ضرورت ہے۔ ان دو ناولوں کے حوالے سے میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوںکے فکشن میں عصری رحجانات پر غور کریں تو اس کی نوعیت تکثیری ہے۔ آج کے افسانوں اور ناولوں میں مابعد نوآبادیاتی ڈسکورس بھی ہے اور سماجی انتشار جو کہ مابعد جدید صورت حال ہے کا اظہار بھی۔آج کا فکشن نہ تو ترقی پسند ادب کی وابستگی کے تحت لکھا جانے والا اشتراکی اشتہار ہے ،نہ وجودیت کے غار میں اپنی ذات کے اندھیرے میں بھٹکنے والی فراریت۔آج فکری سطح پر فکشن نگارمارکسسٹ بھی ہے اوروجودیت کے نظریے کا صحیح فہم شناس بھی۔یہ دریدا کے معنی کی تکثیریت کو بھی سمجھتا ہے اور ایڈورڈ سعید کے مشرقیت کے تصور کو بھی۔ یہ فر د کی نفسیات کا بھی رمز شناس ہے اور ہجوم کے پاگل پن کا گواہ بھی۔

Share This Post
Written by ابرار مجیب
ابرار مجیب کا تعلق جمشید پور ، جھارکھنڈ سے ہے ، پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں لیکن اردو اور انگریزی ادب میں یکساں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ ان کا افسانوی مجموعہ رات کا منظر نامہ شائع ہوکر موضوع بحث بن چکا ہے جب کہ ان کے تنقیدی مضامین ادبی حلقے میں ہنگامہ کا سبب بن جاتے ہیں۔ان کی شاعری بھی بیحد منفرد ہے گوکہ شاعری پر ان کی توجہ کم لیکن ان کی بعض نظمیں بیحد اہم ہیں ۔ ان کا ناول "ایک تازہ مدینے کی تلاش" جلد ہی منظر عام پہ آنے والا ہے
1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>