بستی اجاڑ ڈالی

ناصر خان ناصر۔ امریکہ

قدیم پاکستانی فلموں میں شاعری بے حد عمدہ اور دلفریب ہوا کرتی تھی۔ کچھ عرصہ قبل کمپوٹر پر پرانے گانے تلاش کرتے ہوئے ایک پرانی پاکستانی فلم “نام میرا بدنام” جو پاکستان کی مایہ ناز ہدایت کارہ محترمہ سنگیتا صاحبہ نے بنائی تھی، کے چند گیت نظر آئے اور فوراً دل میں کھب گئے۔۔۔
سنگیتا صاحبہ، محمد علی صاحب، شبنم صاحبہ، ایاز اور کویتا صاحبہ سب ہی کی معیاری اداکاری ان گیتوں میں بہت اچھی لگی۔ انہی گیتوں کی بدولت جھٹ پٹ یہ فلم بھی دیکھ ڈالی۔ گھسا پٹا ٹاپک۔۔۔ اوور ایکٹنگ۔۔۔۔ ٹھونسے ٹھنسائے فارمولے والے گرم مصالحے۔۔۔ پھسکڑ مزاح۔۔۔
مگر ہماری عادت ہے کہ جو گیت پسند آ جائیں، وہی بار بار دیکھتے رہتے ہیں۔
تھوتھا چنا باجے گھنا۔۔۔


محترمہ نور جہاں صاحبہ کی میٹھی رسیلی آواز کا جادو تو خیر ہمیشہ سر چڑھ کر ہی بولتا ہے اور راہ چلتے مسافروں کو راستہ بُھلا کر ان کی منزل کھوٹی کر دینے پر قادر ہے۔
اِس گیت میں شاعری بھی اچھی خاصی متاثر کن تھی۔
بال کی کھال اتارنا بھی اپنی پرانی عادت ہے۔ ہمیں زیادہ تجسس ہوا تو 1984 میں بننے والی اس فلم کو Wikipedia پر بھی تلاشنے کھوجنےکی کاوش کی۔ وہاں تو کچھ نہیں ملا مگر گوگل انکل کا خدا بھلا کرے وہ ایسے ایسے راز فاش کرنے پر قادر ہیں کہ اللہ دے اور بندہ لے۔۔۔۔
اللہ معافی۔۔۔
اچھوں اچھوں کو منٹوں میں برہنہ کر دینے والے گوگل نے جو جو سربستہ راز اس گیت کے کھولے ہیں تو ہماری بولتی ہی بند نہ ہوئی بلکہ سٹی ہی گم ہو گئی۔۔۔۔ اور ابھی تک گم ہے۔
ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے۔۔۔
خیر ہماری طرف سے بطور زیب داستان تھوڑا سا گرم مصالحہ اور نمک مرچ چھڑکنے سے قبل پہلے یہ گیت ملاحظہ فرما لیجیے۔۔۔
فلم میں سنگیتا صاحبہ اپنی اداس، خانماں، برباد اور اجاڑ صورت لیے ستار ہاتھ میں پکڑے(کبھی کبھار ہی تاروں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے) محفل میں یہ گیت پیش کرتی ہیں۔۔۔
حاضرین تماشبین صمّ بکمً بیٹھے اپنے اپنے ہاتھ مسل رہے ہیں۔۔ گھمبیر اداسی اپنا سحر طاری کر رہی ہے۔۔۔


حادثے بن کے یہاں لوگ ملا کرتے ہیں
زخم دینے ہی کے سامان کیا کرتے ہیں
روز بن بن کے امیدوں کے محل گرتے ہیں
روز ہم موت کے سائے میں جیا کرتے ہیں
اپنی فطرت ہے دوستی کا بھرم رکھ لینا
جن کی فطرت میں ہو ڈسنا وہ ڈسا کرتے ہیں۔۔۔۔
وہ ڈسا کرتے ہیں۔۔۔
وہ ڈسا کرتے ہیں۔۔۔
ابھی وہ اتنا ہی فرما کر اپنی تان اونچی کیے یہی گردان کر ہی رہی ہوتی ہیں کہ پری چہرہ، چاند کا ٹکڑا بنی، مٹکتی ٹھمکتی کویتا صاحبہ، شبنم صاحبہ اور محمد علی صاحب کے جلو میں اپنے ناز و انداز سے بجلیاں گراتی ہوئی جلوہ فروش ہو جاتی ہیں۔ ان کے اِس بزم میں قدم رنجہ فرماتے ہی محترمہ سنگیتا صاحبہ پر سکتہ سا طاری ہو جاتا ہے۔
وہ مزید غمزدہ شکل بنا کر بالکل مختلف دھن اور بالکل الگ سر میں بنا کسی فرمائش کے نیا گیت یوں چھیڑ دیتی ہیں جیسے دو غزلا سنانے پر وقت بے وقت تُلا ہوا شاعر اچانک اپنی بیاض بغل سے نکال کر مچل اٹھے۔
ہوش و حواس لُوٹے “بے درد” آ کے تو نے
صبر و قرار چھینا، صورت دکھا کے تو نے
حیرت زدہ بنایا، نظریں ملا کے تو نے
برباد کر دیا دل، دل میں سما کے تو نے
بستی اجاڑ ڈالی، بستی۔۔۔ بستی بسا کے تو نے۔۔۔۔
بسا کے تو نے
جذبہ میری وفا کا، پہلے سے کم نہیں ہے
تجھ سے مجھے شکایت تیری قسم نہیں ہے
تیرے ہی پاس اب کچھ عذرِ ستم نہیں ہے
پچھتا رہا ہے تو ہی، مجھ کو تو غم نہیں ہے
اپنا ہی دل دُکھایا، مجھ کو۔۔۔
مجھ کو ستا کے تو نے۔۔۔۔
ستا کے تو نے
بستی اجاڑ ڈالی۔۔۔۔


سچ پوچھیں تو گوگل چچا بڑے میسنے سے ہیں، اور لائی لگ ہرجائی بھی۔۔۔۔ ایسی ایسی داستانیں چٹکی بجا کر منٹوں میں قدموں میں لا ڈالتے ہیں کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔۔۔
نام پتے کا چارہ ڈالے بنا ہاتھ آتے نہیں، مگر تھوڑی سی زیادہ چاپلوسی کرو تو اچھوں اچھوں کے بھید بھاؤ، گرہ پتر، کھلے چٹھے کھولنے میں کوئی شرم نہیں۔
موئی آنکھ کا پانی ڈھلکا ہوا ہے۔۔۔ شیخ چنڈال، نہ چھوڑے مکھی، نہ چھوڑے بال۔۔ گھر گھر کا حال از بر ہے۔ پُوتھیاں بہ نوک زباں، باعث فغاں و بلائے ناگہاں قدم قدم نہاں ہیں۔
ہم نے سعادت مندی سے چائے، پانی، پان، حقہ، قہوہ کیا پوچھا وہ تو پھٹ پڑے۔۔۔۔
یہ گیت محترمہ منی بیگم صاحبہ نے 1978 میں گایا تھا اور کیا خوب گایا تھا۔۔۔۔
ندرت میرٹھی صاحب نے اسے لکھا بھی تو خوب ہے۔۔۔۔
قسم سے قلم توڑ دیا ہے۔ پھر محترم نثار بزمی صاحب کی موسیقی۔۔۔ وہ بھی تو گھاٹ گھاٹ کا پانی پئے ہوئے تھے ۔۔۔
ایسی مسحور کن دھن بنائی کہ سنتے ہی کلیجہ اچھل کر منہ کو آنے لگ جائے!
ندرت میرٹھی؟
مگر فلم میں تو شاعروں کے نام نامی، اسم گرامی محترم قتیل شفائی صاحب اور سعید گیلانی صاحب کے دیئے گئے ہیں؟
ھاھاھا۔۔۔۔
گوگل چچا ہنس پڑے تو دیر تک کھی کھی کھی کرتے ہنستے ہی چلے گئے۔۔۔۔
پھر بولے
“بچو جی!
ہوش میں ہو۔۔۔؟
فلم میں تو موسیقی بھی کمال احمد صاحب نے دی ہے۔۔۔۔”
“لو پھر سنو۔۔۔۔ اوریجنل نغمہ دوبارا خود سنو۔۔۔۔ اور کان کھول کر سنو!
دھن میں کہیں کوئی بال برابر بھی فرق ہے؟
یہاں تو ملکہ ترنم صاحبہ نے آواز اور انداز تک منی بیگم صاحبہ کے یوں چرا لئے جیسے کوئ شاطر چور آنکھ سے سرمہ چرا لے “
ہمیں منہ پھاڑا دیکھ کر گوگل چچا پھر مسکرائے۔۔۔
“شاعری میں بھی صرف پہلے مصرعے میں ایک حرف “بے پردہ” کو تبدیل کر کے “بے درد” کر دیا گیا اور شاعر کا نام بدل گیا۔۔۔۔”
“لو بچڑا!
کیا یاد کرو گے۔۔۔۔


اب لگے ہاتھوں اس لاجواب گیت کے آخری بند بھی سن لو، جو اس فلم میں نہیں ہیں مگر منی بیگم صاحبہ کے گائے اور ندرت میرٹھی صاحب کے لکھے گیت میں ضرور شامل ہیں۔۔۔”
جامِ مےِ شہادت میں نے پیا نہیں تھا
تھی زندگی، مگر کچھ، اس میں مزہ نہیں تھا
میرا مزار تیرے در پر بنا نہیں تھا
بگڑی ہوئی تھی قسمت، جب تک مٹا نہیں تھا
قسمت میری بنا دی، مجھ کو۔۔۔
مجھ کو مٹا کے تو نے۔۔۔ مٹا کے تو نے
بستی اجاڑ ڈالی۔۔۔۔۔
لیکن ہمارے دل کی بستی ابھی تک اجڑی ہوئی ہے۔۔

Share This Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>