بیٹیوں کی پیدائش اور سلسلہ نسب

بیٹیوں کی پیدائش

یہ نام چلانے کا مسئلہ بھی عجیب ہے کہ جس کی خاطر اوپر تلے ہم سات سات ناپسندیدہ بیٹیوں کی پیدائش برداشت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں اولادِ نرینہ کا خبط کسی عذاب سے کم نہیں۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ آخر یہ ’نام‘ ہے کیا جس کی خاطر ہم اتنی مصیبت اٹھاتے ہیں۔ کیا نام وہ ہے جس سے ہمیں پکارا جاتا ہے۔ اگر پہچان کا تعلق اس پکارے جانے والے نام ہی سے ہے تو پھر ایک جیسے نام والے تمام افراد کی شناخت ایک جیسی ہونی چاہئے۔ پھر ایسا کیوں کہ ایک ہی نام کے حامل دو افراد میں ایک باکردار ہواور دوسرا بدکردار۔ تو گویا یہ فارمولہ پہلے ہی ٹیسٹ میں فلاپ ہوگیا۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ایک ہی نام کے دو مختلف افراد کے لیے وہی نام الگ الگ بلکہ متضاد پہچان کا باعث بن جاتا ہے۔ جیسے عمر بن ہشام اور عمر بن خطابؓ۔ یزید بن معاویہ اور یزید بسطامیؒ ۔ اور ایسی ہی کئی اور مثالیں آپکے اپنے تجربے میں بھی ہوں گی۔ تو پھر آخر نام کے علاہ وہ کونسی بات ہے جو ایک ہی نام کے افراد کو مختلف پہچان دیتی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ نام تو آدمی کے کام کردار اور کارکردگی سے ہوتا ہے نہ کہ دھن دولت سے۔ کتنے مشاہیر ہوں گے جن کے والدین یا اولاد کے نام ہم جانتے ہوں گے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ارسطو، سقراط اور افلاطون جیسے نابغے کن حضرات کے بیٹے تھے۔ تو طے یہ ہوا کہ نام صرف انہی کا چلتا ہے جن میں کوئی گُن ہو۔ اکثر تو ایسے ہوتے ہیں جن کا تعارف چند سو لوگوں سے زیادہ کسی کو بھی معلوم نہیں ہوتا اور وہ بھی ایسا کہ جس کی کوئی خاص معنویت بھی نہیں ہوتی۔ ناکارہ ااور نکمے آدمی کا نام آپ بھلے آئین سٹائین رکھ دیں یا صلاح الدین ایوبی، وہ دھیلے کی عزت نہیں کماسکتا۔ بلکہ الٹا لوگوں کی تفننِ طبع کا وسیلہ بن جائے گا۔

نام اور مثبت پہچان کی سعادت صرف اور صرف تخلیقی لوگوں کے حصے میں ہی آتی ہے۔ اس کے لیے فرد کا اپنی صلاحیتوں کو پرکھنا اور نکھارنا شرط ہے۔ اور اس کے لیے صنف یا جنس کی کوئی تفریق یا قید نہیں۔ صرف مرد ہی نہیں عورتیں بھی نامور ہوسکتی ہیں بشرطیکہ انہیں اپنا آپ سامنے لانے کے مواقع میسر ہوں۔سائنس اور فلسفے کے میدان میں مادام کیوری اور سیمون ڈی بوائر ایسی ہی خواتین تھیں۔ حکمرانوں کی بات کریں تو گولڈامیئر، بندرانائیکے، اندراگاندھی، مارگریٹ تھیچر اور بے نظیر بھٹو سامنے کی بات ہیں۔ جہاں تک ادبی دنیا کی بات ہے عصمت چغتائی، قرۃالعین حیدر، امرتا پریتم ،فہمیدہ ریاض، کشورناہید اور پروین شاکر شہرت میں بڑے بڑے مرد ادیبوں کے مقابل پورے قد سے جمی کھڑی ہیں۔

بے کار اور تھوتھے آدمی کا کوئی نام نہیں ہوتا بھلے وہ ایک درجن بیٹے پیدا کرلے۔ یہ دراصل فیوڈل دور کا مسئلہ تھا جب زمین گاہنے، سنبھالنے اور شریکوں سے لڑنے کے لیے مردانہ طاقت درکار ہوتی تھی۔ مشین نہ ہونے کے سبب بوجھ ڈھونے کا کام یا توڈھور ڈنگر کرتے تھے اور یا خود انسان۔ شائد اسی لیے اس دور میں پہلوانی ایک قابلِ عزت و شہرت شعبہ تھا۔ ایسا نہیں کہ عورتیں پہلوان بننے کی صلاحیت سے محروم تھیں بلکہ انہیں نام نہاد عزت کے نام پر ایسا کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ وہ دور تھا جب عورت کھیت کھلیانوں میں مرد کے شانہ بشانہ کام کرتی تھی مگر مرد کا بنایا ہوا سماج اس کے کام کی اہمیت کو ماننے سے صاف انکاری تھا۔ شہروں میں عورتیں گھر کی چاردیواری میں بند رہنے پر مجبور تھیں۔ انہیں تعلیم اور نوکری سے اس خوف کی وجہ سے محروم رکھا جاتا تھا کہ کہیں وہ مرد کی برابری نہ کرنے لگیں۔ انہیں صرف ایسی احادیث اور واقعات پڑھائے اور رٹائے جاتے تھے جو ان میں مرد کی بے چون و چرا اطاعت کا جذبہ پیدا کریں اور اپنے ساتھ ہونے والی ہر زیادتی کو اپنا نصیب جان کر قبول کرلیں۔ اشرف علی تھانوی نے اسی طرح کی خواتین کو بہشتی زیور میں آئیڈیل کے طور پر پیش کیا تھا۔

(کتاب ‘سیکس اور سماج’ سے ایک موضوع)

Share This Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>