درخت پر اشعار

Read Urdu Poetry on the topic of Darakht Urdu Shayari (Darakhton Jangalon Pe Sher o Shayari). You can read famous Urdu Poems about Trees and Plants Urdu Poetry and Urdu Sher o Shayari Whatsapp Status. Best and popular Urdu Ghazals and Nazms can be shared with friends. Urdu Tiktok Status Poetry and Facebook Share Urdu Poetry available.

ان درختوں سے بھی ناطہ جوڑئیے
جن درختوں کا کوئی سایہ نہیں
رونق نعیم

پھل دار درختوں نے رجھایا تو مجھے بھی
آزاد پرندوں کے لیے شاخ و ثمر کیا
بدر واسطی

راہ رو بچ کے چل درختوں سے
دھوپ دشمن نہیں ہے سائے ہیں
اعجاز وارثی

آگ بھی برسی درختوں پر وہیں
کال بستی میں جہاں پانی کا تھا
سلیم شہزاد

وہ جنگلوں میں درختوں پہ کودتے پھرنا
برا بہت تھا مگر آج سے تو بہتر تھا
محمد علوی

آتے ہیں برگ و بار درختوں کے جسم پر
تم بھی اٹھاؤ ہاتھ کہ موسم دعا کا ہے
اسعد بدایونی

اک خوف سا درختوں پہ طاری تھا رات بھر
پتے لرز رہے تھے ہوا کے بغیر بھی
فضیل جعفری

ہوا درختوں سے کہتی ہے دکھ کے لہجے میں
ابھی مجھے کئی صحراؤں سے گزرنا ہے
اسعد بدایونی

یہ سوچ کر کہ درختوں میں چھاؤں ہوتی ہے
یہاں ببول کے سائے میں آ کے بیٹھ گئے
دشینت کمار

شریفے کے درختوں میں چھپا گھر دیکھ لیتا ہوں
میں آنکھیں بند کر کے گھر کے اندر دیکھ لیتا ہوں
محمد علوی

درختوں پر پرندے لوٹ آنا چاہتے ہیں
خزاں رت کا گزر جانا ضروری ہو گیا ہے
حیدر قریشی

وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا
انہیں درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے
احمد سلمان

کبھی کتابوں میں پھول رکھنا کبھی درختوں پہ نام لکھنا
ہمیں بھی ہے یاد آج تک وہ نظر سے حرف سلام لکھنا
حسن رضوی

یادوں کے درختوں کی حسیں چھاؤں میں جیسے
آتا ہے کوئی شخص بہت دور سے چل کے
خورشید احمد جامی

دھوپ سائے کی طرح پھیل گئی
ان درختوں کی دعا لینے سے
کاشف حسین غائر

گل سے لپٹی ہوئی تتلی کو گرا کر دیکھو
آندھیو تم نے درختوں کو گرایا ہوگا
کیف بھوپالی

پوچھتا پھرتا ہوں میں اپنا پتہ جنگل سے
آخری بار درختوں نے مجھے دیکھا تھا
عابد ملک

جو سائے بچھاتے ہیں پھل پھول لٹاتے ہیں
اب ایسے درختوں کو انسان کہا جائے
اصغر مہدی ہوش

وہی سفاک ہواؤں کا صدف بنتے ہیں
جن درختوں کا نکلتا ہوا قد ہوتا ہے
شاہد میر

یہ اور بات کہ رنگ بہار کم ہوگا
نئی رتوں میں درختوں کا بار کم ہوگا
آنس معین

Share This Post
Written by مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>