غالب اور سرسید کا واقعہ

غالب اور سرسید احمد خان اردو کہانی

ایسے وقت میں جب ہندوستان پر انگریزوں کا تسلط قائم ہو چکا تھا، تمام سماجی اور سیاسی اداروں میں انکے اپنے بنائے ہوئے اصول اور قوانین نافد کئے جا چکے تھے، مقامی سلطنت خاتمے کے آخری مرحلے میں تھیں، سر سید نے بیتے ہوئے دور کی بھولی ہوئی کہانیوں کو نئے سرے سے پڑھنا اور یاد کرنا شروع کیا۔

واقعہ یہ تھا کہ دلی کے ایک علم کے شیدائی تاجر نے سر سید کو مشورہ دیا کہ وہ اکبر کے زمانے کی اہم کتاب ‘آئین اکبری’ کا تدوین و تہذیب کریں۔ درباری ودوان ابو الفضل کی لکھی ہوئی یہ کتاب اکبر کے زمانے کی تاریخ ، تہزیب و تمدن ، طریقۂ حکومت اور دربار کی تمام ہلچلوں کا تفصیلی بیان تھی۔

سر سید نے معاوضے کی ایک مخصوص رقم کے بدلے یہ کام شروع کر دیا۔

ماضی کی عظمتوں سے شناسائی اور انکے اشتہار کا سر سید کے لیے یہ دوسرا موقع تھا۔ اس سے پہلے وہ ‘آثار الصنادید ’ جیسی اہم کتاب لکھ چکے تھے۔ ‘آثارالصنادید’ دلی شہر کی پرانی عمارتوں کی تاریخ، جغرافیہ اور ان سے جڑی تہزیب کا ایک تفصیلی بیان تھی

آئین اکبری’ کے شائع ہونے سے پہلے سر سید کو خیال آیا کہ مرزا غالب سے اس کتاب کا پیش لفظ لکھوایا جائے۔ انہوں نے مرزا سے فرمائش کی کہ وہ اس اہم کام پر اپنی رائے دیں۔

سر سید کی فرمائش پر غالب نے ایک مثنوی لکھ کر بھیج دی۔ یہ مثنوی غالب کے فارسی دیوان میں شامل ہے۔

اس مثنوی میں غالب نے سر سید کی ماضی کی محبت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سر سید جیسا ذہین شخص گھسے پٹے پرانے باب میں اپنا وقت برباد کر رہا ہے۔ غالب کو اکبر کے وقت کے قوانین انگریزوں کے بنائے قانون کے سامنے بہت بے وقعت نظر آتے تھے۔ غالب نے لکھا،

“مردہ پروردن مبارک کار نیست” (یعنی مرے ہوئے لوگوں کی پرستش کوئی اچھا کام نہیں ہے)

غالب کے خیال میں یہ کتاب اتنی اہم نہیں تھی کہ اسکو ٹھیک کرنے میں سر سید جیسا شخص اپنا اتنا قیمتی وقت برباد کرے ۔

غالب روشن خیالی کا گہرا احساس رکھنے والوں میں سب سے آگے تھے۔ انکے سامنے انگریزوں کے روشن ذہن اور انکی ترقی پسند فکر کے نمونے تھے۔ وہ چاہتے تھے ہندوستانی قوم کو اپنے ماضی میں جینے کے بجائے نئے علم اور نئی زندگی کا ساتھ دینا چاہئے۔

اس مثنوی میں غالب نے سر سید کے کام پر اتنی تنقید نہیں کی جتنی اس گھسے پٹے آئین پر کی ہے جو انکی رائے میں اس وقت اپنا معنیٰ کھو چکا تھا۔

الطاف حسین حالی لکھتے ہیں، “جب یہ تقریظ مرزا غالب نے سر سید کو بھیجی تو انہوں نے اسکو مرزا کے پاس واپس بھجوا دیا اور لکھا، “ایسی تقریظ مجھے درکار نہیں۔ سر سید نے غالب کی لکھی تقریظ اپنی کتاب کے ساتھ شائع بھی نہیں کی۔

اس واقعے کے بعد دونوں کے بیچ دوریاں بڑھ گئیں اور تعلقات خراب ہوتے چلے گئے۔ کئی سال ایسے گزرے کہ مرزا اور سر سید کے درمیان رابطے کی کوئی صورت ہی پیدا نہ ہو سکی۔

برسوں بعد صلح صفائی کی ایک صورت حال پیدا ہوئی۔ یہ واقعہ کافی دلچسپ رہا۔ سر سید خود اسکا بیان یوں کرتے ہیں،

“میں جب مرادآباد میں تھا (مرادآباد میں وہ جج کے عہدے پر رہے) اس وقت مرزا صاحب نواب یوسف علی خاں سے ملنے رام پور گئے تھے۔ انکے جانے کی تو مجھے خبر نہیں ہوئی مگر جب وہ واپس ہوئے تو میں نے سنا کہ وہ مرادآباد میں ایک سرائے میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ میں فوراً سرائے میں پہنچا اور مرزا صاحب کو ساز و سامان کے ساتھ اور انکے تمام ساتھیوں کے اپنے مکان پر لے آیا۔”

مرزا نے سر سید کے مکان پر پہنچتے ہی حسب عادت شراب کی بوتل نکالی اور میز پر رکھ دیا۔ بوتل ایسی جگہ رکھی تھی جہاں تمام آنے جانے والوں کی نظر اس پر پڑتی تھی، اسلئے سر سید نے بوتل اٹھا کر اندر رکھ دی۔ تھوڑی دیر بعد جب بوتل جگہ پر نہ پائی تو مرزا نے گھبراکر پوچھا

“میری بوتل کیا ہوئی۔”

اس پر سر سید مرزا کو ایک کوٹھری میں لے گئے جہاں انہوں نے بوتل رکھی تھی۔

بوتل دیکھتے ہی مرزا بولے،

“اس میں خیانت ہوئی ہے، سچ بتاو کس نے پی ہے۔”

اور پھر حافظ کا یہ شعر پڑھا،

واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر می کند
چوں بہ خلوت میرود آں کارِ دیگر می کند

(وعظ ونصیحت کرنے والے جو منبر اور محراب پر آکر دکھاوا کرتے ہیں جب تنہائی میں ہوتے ہیں تو کچھ اور ہی کرتے ہیں)

اس پر سر سید ہنس پڑے اور اس طرح دونوں کے درمیان حائل دوریاں بھی ختم ہو گئیں۔
******
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

Share This Post
Written by مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے
1 Comment
  1. سرسید اور غالب کے حوالے سے تحریر کردہ یہ دلچسپ واقعہ پڑھ کر محظوظ ہوا.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>