حقیقت کی شب اور خواب کا غزال

مضمون نگار :محمد عباس

حقیقت کی شب اور خواب کا غزال

کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جو آدمی کو اپنی روزمرہ حقیقت سے زیادہ ٹھوس، روشن اور جاندار نظر آتے ہیں۔ وہ اپنی کھلی آنکھوںسے اپنے گردو پیش میں متحرک دیکھنے لگتا ہے اور اس ماحول میں جینے کو اپنی حقیقی دنیا میں جینے سے زیادہ برتر جاننے لگتا ہے۔ یہ خواب اس کی زندگی کو شوخ اور خوبصورت رنگوں سے بھرتے ہیں، اسے سریلی آوازوں کی موسیقی سے مسحور کرتے ہیں اور اس کے احساس کو نئی خوشبوئوں کی لطافت سے معمور کردیتے ہیں۔ حقیقت کی دنیا معمول کے مطابق ایک ہلکی سی رفتار سے چلتی ہے لیکن خواب کی روشن ہوتی ہوئی کائنات کے سامنے حقیقت کی یہ دنیا ماند نظر آنے لگتی ہے اور آدمی اس سے اکتا کر خوابوں کی دنیا میں پناہ لے لیتا ہے۔ خوابوں کی یہ دنیا جو بظاہر لطیف لگتی ہے اور آدمی اس سے اکتاکر خوابوں کی دنیا میں پناہ لے لیتا ہے۔ خوابوں کی یہ دنیا جو بظاہر لطیف لگتی ہے اور جانے والا اس نرم و نازک ماحول میں گویا ہوا کے دوش پر ہلکورے لیتا چلا جاتا ہے۔ ایک مدت ، ایک عمر خوابوں میں گزار کر احساس ہوتا ہے کہ خوابوں کی اس دنیا میں جینا ایک سراب میں زندہ رہنا ہے اور اگر صحیح معنی میں زندگی گزارنی ہے تو خواب سے نکل کر واپس حقیقت کی دنیا میں لوٹنا ہو گالیکن جب وہ خواب کی دنیا سے پلٹ کر دیکھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اب اس کے لیے معاملہ الٹ چکا ہے۔ اتنے زمانی بُعد کے باعث حقیقت کی دنیا اس کے لیے دھندلی اور غیر واضح ہو چکی ہے جس میں نہ تو کوئی کشش ہے اور نہ ہی جاذبیت ۔ اب اس کے لیے حقیقت کی دنیا وہی خواب ہی ہو سکتا ہے جس میں وہ رہتا آیا ہے۔ حقیقت کچھ بھی نہیں، جسے چاہے حقیقت سمجھ کراس کے ساتھ مفاہمت کرلے، یہی اس کے لیے حقیقت ہے۔ حقیقت ہو یا خواب ، جس کے ساتھ رہ رہے ہوں، اس کے ساتھ مفاہمت کرنی پڑتی ہے۔


مستنصر حسین تارڑ کا ناول ’’اے غزالِ شب‘‘ حقیقت کے ساتھ مفاہمت اور خوابوں کی دنیا میں خواب ہو جانے کی ایک شاعرانہ داستان ہے۔ اس ناول میں مستنصر کا شعری اور غنائیہ اسلوب اپنی انتہا پر پہنچا ہوا ہے اور اس اسلوب میں کمال خلاقّی سے وہ حقیقت اور خوابوں کی دو مختلف دنیائوں کے ساتھ انسان کے جذباتی تعلق کی مختلف پرتیں کھولتے ہیں۔ اگر ناول کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ ایک بڑی غنائی نظم کی شکل میں دکھائی دیتا ہے جو نغمے کے سے بہائو کے ساتھ انسانی زندگی کے سب سے بڑے خواب کی شکست کے بعد کا منظر دکھاتی ہے۔انسانی مساوات پر مبنی اور غیر طبقاتی معاشرے کے قیام کا خواب ۔ جہاں رہنے والے ہر فرد کو زندگی کی بنیادی ضروریات مساوی طرح سے حاصل ہوں اور وہ بغیر کسی استحصال کے اپنی محنت سے اپنے معاشرے کو پروان چڑھا سکیں۔وہ خواب جس کی تشکیل میں بیسویں صدی کے سینکڑوں بڑے دماغوں نے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کیں اور جس کے ابھرتے سورج کو دیکھنے کی تمنا میں لاکھوں ، کروڑوں افراد نے اپنے ابلتے لہو سے افق کے گالوں کو سرخی بخشی۔ یہ خواب جب تک خواب تھا تو نیلم پری کی طرح زندگی کو سہولت اور آسانی کے رنگیلے سپنے دکھاتا تھا لیکن جب مزدور کے سامنے آیا تو استبداد کا دیو نکلا جو اپنے اقتدار کے تخت کو استحکام بخشنے کے لیے چھوٹے بڑے سبھی کو قربان کرنے کے لیے تیار تھا۔خواب دکھانے والے دانشوروں کے پیچھے جب دنیا بھر کے مزدور کٹ مرنے کو تیار ہوئے تو ان کے خوابوں کو قربان کر کے ، ان کی آرزوئوں اور امنگوں کا سودا کرنے کے لیے وہ لوگ رہنمائی کو اترے جن کا مقصد محض اقتدار کا حصول تھا ۔ اپنا مقصد پا لینے کے بعد انہوں نے بندۂ مزدور کے اوقات سخت ہی نہ کیے بلکہ ان پر زندگی کا قافیہ اس قدر تنگ کیا کہ وہ پہلے کی زندگی کو زیادہ شدت سے یاد کرنے لگے۔


اس ناول میں مستنصر نے اشتراکیت کے اسی حسیں خواب کے ٹوٹنے کے بعد ان لوگوں کی حسرت ناک داستان بیان کی ہے جو سرخ سویرے کی جگمگاتی روشنی دیکھنے کو منتظر تھے اور ان کی بوڑھی ہوتی آنکھوں نے ہوائوں میں اس حقیقت کا عریاں رقص دیکھا جس کی رڑک سے بھاگ کر وہ یہاں آئے تھے۔ ناول میں چھ بنیادی کردار ہیں، ظہیر الدین، وارث چوہدری، سردار قالب، عارف نقوی، مصطفی اسلام اور قادر قریشی۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ان لوگوں نے اپنے ملک سے ترکِ سکونت کی اور اس زمین میں آ کر خیمے گاڑ دیے جہاں انسانی مساوات کا بیج بویا گیا تھا اور اس کی لہلہاتی فصلوں کا پوری دنیا میں چرچا تھا۔ خیمے گڑے رہے، ان کے اردگرد گھاس اگتی رہی اور وہ انسانی مساوات کی بانسری سے امڈتی مدھر تانیں سنتے خیمہ گزیں رہے۔ یہ نہ دیکھ پائے کہ فصل بہت چھدری ہے اور کسان نکمے ہیں۔ آنکھ اس وقت کھلی جب یہ بانسری سرمایہ داری کے گٹار میں بدل گئی اور ان کے خیموں تلے بچھی زمین نے اپنا رنگ بدل لیا۔ ایک مدت سے قیام پذیر لوگوں کے لیے خیمے لپیٹنا جان لیوا متحان تھا اورجو لوگ اس امتحان سے گزر گئے وہ نئے زمانے کے منہ زور گھوڑے پر سواراِس اجنبی زمین کو زریںسموں تلے روندنے لگے۔ جن کے لیے یہ امتحان سخت نکلا وہ بدلی فضائوں سے مفاہمت نہ کر سکے اور واپس اپنی حقیقت کی اس دنیا کی طرف پلٹنے کو بے تاب ہوگئے جسے کبھی اپنے خوابوں کی د نیا پر نچھاور کر آئے تھے۔ ناول کی کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے ۔ یہ کہانی چھ کرداروں کا قصہ سناتی ہے جو چھٹے کردار کی بیٹی کی وجہ سے کل سات کردار بن جاتے ہیں۔ ان سات کرداروں نے اپنی اپنی جگہ حقیقت کی سرزمین سے نکل کر خواب کی دنیا کا رخ کیا تھا اور اب چھ کے چھ لوگ مختلف حالات کا شکار ہیں اور اسی نسبت سے ان کا ردِ عمل بھی ظاہر ہوتا ہے۔


سب سے پہلا طبقہ وہ ہے جس نے بدلی ہوئی حقیقت کے ساتھ کلی طور پر مفاہمت کرلی۔اس طبقے میں وارث چوہدری اور قادر قریشی شامل ہیں۔ وارث چوہدری لائل پور سے آیا ہوا شخص ہے اور باوجود نصف صدی روس میں گزارنے کے لائل پور ور وقت اس کے وجود کے گرد روشنی کا ہالہ کیے رکھتا ے۔ لائل پور اس کے لیے ناسٹلجیا نہیں اور نہ ہی وہ وہاں لوٹنے کے لیے کوئی کسک رکھتا ہے۔ وہ روس کے نئے سرمایہ دارانہ نظام کا ایک اہم پرزہ بن چکا ہے لیکن اس کے باوجود لائل پور اس کے لیے خوشگوار زراب کا کام کرتی ہے جو ہر لمحہ اس کے مشامِ جاں کو تازہ رکھتی ہے۔ وہ خود لائل پور سے نکل آیا ہے ، لائل پور اس کے اندر سے نہیں نکل سکتا۔ وہ ظہیر الدین کو وقت اور حالات کے ساتھ مفاہمت کرنے اور ہوا کے رخ چلنے کی تلقین کرتا ہے اور خود بھی اسی طرح زمانے کے ساتھ چل رہا ہے لیکن پھر بھی اسے کہیں اندر اپنی مٹی سے بچھڑنے کا کوئی ناقابلَ تلافی احساس ضرور ہے اور یہی احساس اسے ظہیر کے قریب لے کر آتا ہے۔ ظہیر میں اسے اپنے علاقے م اپنی مٹی کے خالص جذبوں کی ہری خوشبو محسوس ہوتی ہے اور وہ اسے دیکھ کر خود کو دیسی ماحول میں زندہ سمجھتا ہے۔ ظہیر کے پاکستان چلے جانے کے بعد وارث چوہدری کو روس کے برف زاروں میں زندگی یخ بستہ محسوس ہونے لگتی ہے۔ وہ اپنے گھر کی تمام راحتوں اور آسائش سے بے پروا ہو چکا ہے اور اپنے تمام دوستوںسے بے زار۔ ان میں سے کسی میں بھی اسے بے غرض رفاقت کا احساس نہیں ہوتا۔ سبھی لوگ اس کے وجود کے دھاگوں کو اپنی غرض کی کھڈی پر بننا چاہتے ہیں ۔ ظہیر کی یاد اس پر اتنی حاوی ہے کہ وہ اس کی مائی بوڑھیوں کو محسوس کرنے کے لیے اپنے ہلکے پھلکے لباس میں برف کے یلغار کرتے گالوں کے درمیان کھڑا رہ جاتا ہے ۔ وارث چوہدری کے ساتھ ہی دوسرا کردار قادر قریشی کا ہے۔ قادر قریشی ایمن آباد کے ایک پرہیز گار متقی اور مفلس امام مسجد کا دوسری بیوی سے تیسرا بیٹا ہے۔ اپنی نوجوانی میںعیاشی اور زنا کاری اس کی روشیں تھیں اور وہ اپنی جنسی کج روی اور بدتمیزی کے باعث اپنے باپ کے لیے باعثِ شرم تھا۔ روس کا ویزہ حاصل کرنے کے لیے اس نے خود کو کمیونسٹ مشہور کیا اور چند ہی مہینوں میں ایک پرجوش کمیونسٹ مشہور ہو گیا۔ جلد ہی اسے روس میں مفت تعلیم کا موقع مل گیا مگر وہاں جا کر اپنی جنسی کج روی اور عیاش طبیعت کی وجہ سے تعلیم پر پوری طرح توجہ نہ کر سکا اور جب دیکھا کہ تعلیم ادھوری رہ جانے کی بنا پر وطن واپس بھیج دیا جائے گا تو اس نے شادی کرکے وہیں اپنا گھر جما لیا ۔ سوویت یونین کے دور میں اس پر معاشی تنگ دستی رہی اور یکے بعد دیگرے دو شادیاں ناکام لیکن جب سوویت یونین کا انہدام ہوا اور سرمایہ دار روس میں ہر آدمی کو اپنا روز گار خود پیدا کرنا پڑا تو اس کھلے موقع سے قادر قریشی نے خوب فائدہ اٹھایا ۔ روس میں جوان لڑکیوں کی ایک پوری نسل بیکار رہ گئی تھی جس کے پاس سوائے اپنا جسم فروخت کرنے کے اور کوئی چارہ نہ تھا۔ قادر قریشی نے اس مال کو فروخت کرنے کا کاروبار جما لیا اور ایشیااور افریقہ کے جنسی طور پر نا آسودہ خطوں میں یہ گوری لڑکیاں برآمد کرنے لگا۔ اس کردار کے اندر مفاہمت اور مطابقت کی صلاحیت سب سے زیادہ ہے۔ اپنی موقع پرست فطرت اور لالچی طبیعت کی وجہ سے اس نے آگے سے آگے ہی بڑھنے کی ٹھان رکھی ہے۔ اس کے اندر اپنی آبائی زمین کی طرف لوٹنے کا ہلکا سا خیال بھی گزرنے پاتا اور اگر کہیں وہ مذہب یا وطن کا نام بھی لے تو اس کا مقصد محض اپنے کاروبار کو چمکانا ہوتا ہے۔ یہ کردار خوابوں کی زمین کو حقیقت کی ٹھوس دنیا بنانے میں پوری طرح سے کامیاب ہو گیا ہے۔


دوسرا طبقہ ان کرداروں کا ہے جو اجنبی ملک کے ساتھ اتنے پرانے تعلق کے باوجود عمر کے آخری حصے میں واپس اپنی سرزمین کی طرف لوٹنے کی خواہش رکھتے ہویں۔ انہیں احساس ہوتا ہے کہ جس جگہ انہوں نے اپنی عمر گزاری ، وہ جگہ ان کی اپنی نہیں ہے اور انہیں لوٹ کر واپس چلے جانا چاہیے۔ مصطفیٰ اسلام اور سردار قالب ایسے ہی دو پشیماں لوگ ہیں جنہیں ایک عمر ہنگری اور ماسکو میں گزارنے کے باوجود بھی اس اجنبی مٹی کے ساتھ الفت نہ ہو سکی اور اپنے وطنِ مالوف کی یاد انہیں ستاتی ہے۔ مصطفی اسلام لاہوری دروازے کی ایک گلی، کوچۂ کمانگراں کا باسی ہے۔ اس کا باپ شاہ عالمی میں جوتے کا کاروبار کرتا تھا۔ مصطفی پنجاب یونیورسٹی میں پڑھنے کے دوران سرخا بنا اور اپنی بے لوث نظریاتی وابستگی کی بنا پر اسے بوداپسٹ ہنگری میں منعقدہ ترقی پسند نوجوانوں کے پندرہ روزہ اجتماع میں بھیجا گیا۔ وہاں آخری شب اسے ایک رقص کرتی جپسی لڑکی روجا ملی اور وہ اس کے رقص کی دیوانگی کا شکار ہو گیا۔ روجا نے اس کے پائوں کو جکڑ لیا اور اس نے ایک مدت بوداپسٹ میں ڈینیوب کے پانیوں میںاپنا عکس دیکھتے گزار دی۔ اب اسے اپنی زمین کے بلاوے آنے لگے ہیں اور وہ ان کی طرف لوٹنا چاہتا ہے۔


’’ہر شخص…چاہے وہ ایک مدت سے کسی اجنبی دیار میں حیات کرتاہو… وہاں پرائی دھرتی پر بے شک میری طرح اپنے وطن کی نسبت زیادہ برس گزار چکا ہو… اپنے موسموں، شجروں اور مٹی کی مہک کو بھلا بیٹھا ہو…ہمیشہ بڑھاپے کی دہلیز پر ایک ایسا وقت آ جاتا ہے جب وہ سارے موسم ، شجر اور مٹی کی مہک گمشدگی میں سے ظاہر ہو کراس کے اندر پھوٹنے لگتے ہیں اور اسے اپنی قبر بلاتی ہے۔‘‘(ص:133)


مصطفی اسلام نے اس پکار کے جواب میں مراجعت اختیار کی اور واپس اپنے وطن پہنچ گیا اور لوہاری دروازے کے اندر اپنے آبائی گھر میں جا کر رہنے لگا۔وہ بہت خواب لے کر آیا تھا لیکن یہاں کے مقامی ماحول میں وہ خود کو اجنبی محسوس کرتا رہا۔ بھائیوں نے اسے توجہ نہ دی کہ شاید جائیداد میں سے حصہ لینے آیا ہے۔ دوسرے کوئی رشتہ دار موجود نہ تھے۔ وہ بہت مایوس اور بیزار وہاں دن گزارتا رہا۔ اتنی مدت تک دور رہنے کی وجہ سے یہ مٹی اور یہاں کے لوگوں کے لیے وہ اجنبی ہو گیا تھا۔ لوہاری دروازہ اس کے دل میں تو بستا تھا لیکن لوہاری دروازے میں اب وہ نہیں رہ سکتا تھا۔ ان دونوں کے درمیان وقت کی ایک طویل خلیج موجود تھی۔ وہ جس طرح بودا پسٹ میں اجنبی تھا، اسی طرح لوہاری میں بھی اجنبی تھا۔ تب ایک دن اسی بیزاری سے تنگ اس نے واپسی کا رخ اختیار کر لیا۔بوداپسٹ واپس پہنچ کروہ اپنی بیٹی کو اپنے اس تجربے کے متعلق یوں بتاتا ہے۔


’’مجھے وہاں پہنچ کر احساس ہوا کہ وطن اب ایک سراب ہے…اگر آپ ایک طویل مدت اپنی مٹی سے جدا رہیں تو وہ بے وفا ہوجاتی ہے،تمہیں پہچاننے سے انکاری ہو جاتی ہے…میرے سارے رشتے کب کے سارے ناطے ایک مدت سے خس و خاشاک ہو کر ہوا بُرد ہو چکے اور جو ابھی موجود تھے، انہیں جدائی کی لمبی مسافت نے اتنا اجنبی کر دیا تھا کہ نہ تو ان کے دل میں آپ کے لیے الفت کی کوئی چنگاری پھوٹتی تھی اور نہ ہی آپ کے بدن میں وہ خون جوش کرتا تھا جوکہ مشترک تھا… وطن محض کسک آمیز پرانی یادوں کا رومانوی نام نہیں ہے… محض چند گلی کوچے… کچھ گل بوٹے اور شناسا شجر یا پرانے ذائقے نہیں ہیں…بلکہ وہ وطن ہے جہاں کوئی تمہارا منتظر ہو…جہاں تمہارے وجود کی ضرورت ہو، حیات کرنے کا کوئی جواز ہو۔‘‘(ص:246)


اسی وجہ سے وہ جب واپس اپنی بیوی کے پاس لوٹتا ہے تو اس کے وجود کی کشش اسے جوانی کی سی دیوانگی کے ساتھ اپنی طرف کھینچتی ہے اور وہ اُس کے ساتھ لپٹ کر وہ سکون حاصل کرتا ہے جس کی خواہش میں وہ اپنے وطن واپس گیا تھا۔ وہ جذباتی طور پر اِسی سرزمین کے ساتھ وابستہ ہو چکا ہے جسے وہ کچھ دن پہلے تک پرائی سمجھتا آیا تھا۔
جینا اسلام اسی مصطفی کی بیٹی ہے اور اس کے کردار کو مزیدروشن کرتی ہے۔ وہ اپنے جپسی خون کی وجہ سے کسی ایک جگہ ٹھہرنے کی قائل نہیں ہے۔ باپ کا وطن اس کے لیے ایک رومان کا درجہ رکھتا ہے اور وہ ہنگری سے چلتی لاہور آ پہنچتی ہے۔ یہاں آ کر وہ اپنے باپ کی محبت کی وجہ سے اس کے آبائی گھر میں ٹھہرتی ہے اور اپنے باپ کے شہر کواچھی طرح دیکھتی کھنگالتی ہے۔ یہاں اس کا دل خوب لگ جاتا ہے لیکن پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب اُسے یہ وطن اجنبی محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کے رویے اسے بہت تنگ نظر آتے ہیں۔ اُسے اپنا وطن واپس بلانے لگتا ہے۔ وہ جو جپسی ہے اور کسی جگہ ٹھکانہ نہیں بنا سکتی ، اسے اپنا وطن یاد آنے لگتا ہے۔ ڈینیوب کی یاد اس کی آنکھوں میں چبھنے لگتی ہے اور وہ پچھتاوے کا شکار ہو کر واپس اپنے اس شہر کی طرف چلی جاتی ہے جہاں اس نے جنم لیا تھا۔


’’انسان چاہے جتنے بھی دیسوں کی خاک چھان لے… جتنے بھی دریائوں کے پار ہو…جتنے بھی جنگلوں میں گم ہوتا پھرے اور جتنے بھی صحرائوں میں آبلہ پا ہو جائے لیکن اس کے رگ و پے میں ہمیشہ ایک ہی دیس کی پکار ہوتی ہے… ایک ہی دریا اسے بلاتا ہے، ایک ہی صحرا اس کے نقشِ پا کی آرزو کرتا ہے اور ایک ہی جنگل اس کی یاد میں سائیں سائیں کرتا ہے اور وہ دیس ، دریا ، صحرا اور جنگل بے شک وہ کائنات پار کر جائے، اس کے پیچھے چلا آتا ہے۔‘‘(ص:180)


یوں یہ باپ بیٹی وطن کے ساتھ محبت کے ایک ہی جذبے کو متضاد انداز میں ابھارتے ہیں۔ کہیں وطن کے ساتھ اٹوٹ رشتہ ریزہ ریزہ ہو چکا ہے اور کہیں یہ رشتہ اپنی تمام تر کشش کے ساتھ اپنی طرف کھینچتا ہے۔


سردار قالب بھی ایسا ہی ایک شخص ہے۔ اس کا باپ ایک انقلابی شاعر تھا اور عوام میں ایسی ولولہ انگیز شاعری کے لیے بہت مقبول تھا جو غریبوں اور مجبوروں کو انقلابی جدو جہد کے لیے اکساتا تھا لیکن اپنے گھر کے معاشی حالات سے بالکل بے نیاز تھا اور معاشی تنگ دستی کے باوجود بچوں پہ بچے پیدا کیے جاتا تھا۔شاید یہ حبیب جالب کا مسخاکہ ہے۔ قالب اپنے باپ کی خدمات کی بدولت سوویت یونین تعلیمی وظیفے بہ بھیجا گیا تھا۔ وہ اپنے ملک سے ، گھر کے عسر ت زدہ حالات سے اتنا تنگ تھا کہ واپس نہ لوٹنے کے فیصلہ کر لیا۔ سوویت یونین دور میں اس کی شادی کے جی بی کے ایک جنرل کی مطلقہ بیٹی سے ہو گئی اور اس کے حالات ایسے پھرے کہ واپسی کا دھیان ہی نہ رہا۔ایک عمر اسی عورت کے ساتھ اور اس کے باپ کے روزگار کا خیال رکھتے ہوئے نبھا دی۔ عمر ڈھلتے وقت ایک حادثے نے اسے گھر کی یاد دلا دی اور وہ اپنی محبت کرنے والی بیٹی سمیت پاکستان آ گیا۔ یہاں آتے وقت اس کے ذہن میں مٹی سے حبت کے کوئی جذبات نہیں تھے لیکن پھر بھی اپنی بچبن کی دنیا میں رہنے کی تمنا ضرور رکھتا تھا۔وطن واپسی پہ اس نے اپنے بھائی کا کچا بستی والا مکان دیکھا۔ اس کے معاشی حالات پہ نظر پڑی تو اس زندگی کے مقابلے میں اپنی زندگی جنت کا ایک نمونہ دکھائی دی۔ غربت کی بد بو اور تنگ دستی کے تعفن نے اسے بہت جلد واپس ماسکو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ یہ دونوں کردار حقیقت کی طرف سے واپسی کے لیے امڈتے ضرور ہیں لیکن بہت جلد اس حقیقت سے واقف ہو جاتے ہیں کہ ان کی اپنی حقیقت چار پانچ دہائیوں کے ملبے تلے دب گئی ہے اور اب جو دنیا ان کے سامنے ہے ، وہ ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔اس کے مقابلے میں انہیں اپنی موجودہ زندگی کی رنگینی اور دلفریبی زیادہ لبھاتی ہے سو وہ اپنی اسی دنیا میں لوٹ جاتے ہیں۔


تیسرا طبقہ ان کا ہے جو کسی طرح بھی مفاہمت نہیں کرسکتے۔ ان میںایک ظہیر الدین ہے جس کا بچپن بورے والا کے ایک گائوں کے ویرانوں میں آک کی مائی بوڑھیوں کا تعاقب کرتے گزرا تھا۔ اس کا باپ شمس الدین ، مزدور یونین کا متفقہ لیڈر تھا ۔ نہ بکنے والا، نہ جھکنے والا۔ تو اسی باپ سے مارکس اور اینگلز کی تعلیمات گھٹی میں ملیں اور وہ ایک پکا کمیونسٹ بن گیا۔ اس نے دل و جان سے ان تعلیمات کو قبول کر لیا تھا جو پوری دنیا کے انسانوں کو مساوات کا درس دیتی تھیں ۔ باپ کی خدمات کے صلے میں اسے روس میں تعلیمی وظیفہ مل گیا اور وہاں پہنچ کر اس نے تعلیم پر توجہ دینے کی بجائے گالینا نامی لڑکی سے شادی کی اور وہیں بس گیا۔ سوویت یو نین کے انہدام تک انسانی مساوات اور اشتراکی جدو جہد کے حسین خوابوں میںزندگی گزاری۔سب کچھ خوبصورت تھا۔ ایک معقول روزگار بھی میسر تھا اور پورے معاشرے میں اس کی عزت بھی تھی جس نے اشتراکی جدو جہد کے لیے اپنا ملک چھوڑ دیا تھا۔ سرمایہ داری نظام کی فتح کے بعد ’چھٹے جو اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا‘ کے مصداق روس کے حالات بالکل بدل گئے۔ ظہیر جیسے پردیسی لوگوں کے لیے زمین تنگ ہو گئی۔ نئے سرمایہ دارانہ نظام میں اپنے ہی ہم وطنوں کے لیے معقول روزگار فراہم کرنا حکومت کے لیے ایک کڑا امتحان تھا تو غیر مقامی کیسے گوارا ہوتا۔ اب سڑکوں پر اسے چبھتی ہوئی نظریں ملتی تھیں اور رات کے وقت اکیلے راہ گزر پر چلنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ گھر میں فاقے شروع ہو گئے ۔وہ بدلنے یا نئے حالات کے مطابق ڈھلنے پر تیار نہ ہو رہا تھا۔ اپنے خوابوں سے دستبرادر ہو کر سرمایہ دار نظام کی دوڑ میں شریک ہونے کو آمادہ نہیں ہو پاتا تھا۔اپنے آدرش کو ٹوٹتا دیکھنے کا صدمہ اس کے لیے جھیلنا آسان نہ تھا۔ وہ ایک مدت تک اپنے ٹوٹے خواب کی کرچیاں اکٹھی کر کے سینے سے لگائے رکھتا ہے اور کسی صورت اسے فراموش کرنے کو تیار نہیں۔ وہ نئے حالات کے ساتھ جینے کی خواہش ہی نہیں رکھتا لیکن وارث چوہدری کے اکسانے پر وہ سرمائے کی دوڑ میں شامل ہوجاتا ہے۔ اس کا روز گار کمانے کا طریقہ بہت معنی خیز ہے۔ کانسی سے بنے کامریڈ لینن کے متروک مجسموں کو کلیسائوں کے لیے صلیب میں ڈھالتا ہے۔ یہ علامت واضح ہے کہ وہ پرانے خدا کو متروک مان چکا ہے اور ایک بار پھر اسی مذہب کی طرف راغب ہو گیا ہے جس کا بہیمانہ طلسم چاک کرنے کی قسم کھائی گئی تھی۔ نظریاتی خد ا کو بھٹی میں تب کر نئی شکل اختیار کرتے دیکھنا اس کے لیے پہلے سے کہیں گہرا صدمہ تھا۔و اب خوابوں کی اس سرزمین پر سانس نہ لے سکتا تھا جس کا خدا بے نام و نشاں ہو چکا تھا۔ اس نے واپسی کا سفر اختیار کیا اور بوریوالہ اپنے گائوں پہنچ گیا۔ اسے یقین ہے کہ اگر سب کچھ بھی بدل گیا ہو تب بھی آک کی مائی بوڑھیاں وہیں ہوں گی ۔ بوریوالو میں اس کا ماضی بہت بوسیدہ حالت میں موجود تھا۔ باپ اب نہیں رہا تھا اور اس کا کوارٹر خالی اور ویران پڑا تھا۔ ظہیر الدین کے لیے مفاہمت کرنا مشکل تھا۔ روس میں بدلے ہوئے حالات کے ساتھ نہیں چل سکتا تھا اور یہاں بھی اس کے لیے کوئی زندگی نہیں تھی۔ واپسی کا راستہ ابھی صاف لیکن وہ اس زمین میں جانا نہیں چاہتا جہاں اس کے خواب توڑ کر صلیب کی شکل میں ایستادہ کر دیے گئے ہیں۔ یہاں اس کے وجود نے ہر قسم کی مفاہمت سے انکار کرد یا اور اس کا انجام ایک شاعرانہ لطافت کے ساتھ ہوتا ہے۔ آک کی مائی بوڑھی نظر آئی تو تعاقب کرتا اس کے پیچھے بھاگا اور جب مائی بوڑھی ہوا میں اونچی اونچی اڑتی گئی تو ظہیر کا وجود بھی ،جواس زمین کے تمام حالات سے مفاہمت کرنے سے قاصر تھا، اس کے ساتھ اوپر اڑتا گیا اور مائی بوڑھی ہو کر فضائوں میں اڑ گیا۔


ظہیر کی طرح دوسرا کردار عارف نقوی ہے جو مفاہمت نہیں کرسکتا۔ وہ بھی اسی سرخ سویرے کے خواب کے پیچھے جرمنی میں سیٹل ہوا تھا لیکن اب بدلے ہوئے حالات میں اسے بھی کہیں چین نہیں ملتا۔ جوانی کے دنوں میں وہ اپنے ایک دوست آغا بابر کے ساتھ اسٹیج پر کرشن اور ارجن کا کھیل پیش کرتا رہا تھا۔ اب اسے دکھ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کرشن کی بجائے پاپ سنگر سنتا ہے۔ اسے جرمنی میں اپنا ارجن آغا بار بار یا د آتا تھا جس کے سامنے وہ اپنا دکھ رو سکتا تھا کہ جس گلستان کی آبیاری پر وہ عمر بھر کے لیے در بدر ہوا تھا، وہ گلستاں خود باغباں کی بے سلیقگی سے اُجڑ گیا ہے۔ وہ اپنے ارجن سے ملنے کا خواب پلکوں پہ سجائے واپس پاکستان آ جاتا ہے۔یہاں اسے معلوم ہوتا ہے کہ آغا بابرتو مر چکا ہے۔ اس کا بیٹا جو بالکل آغا بابر جیسا ہی ہے، اسے باپ کی طرح ہی عزت دیتا ہے اور اپنے گھر رکھ لیتا ہے۔ عارف یہاں کے حالات دیکھ کر آزردہ ضرور ہے لیکن مایوس نہیں ہے ۔ وہ انہیں لوگوں میں سے ہے جو امید کے ذرا سے تنکے پر سوار زمانے کے تلاطم خیز سمندر میں بہنے سے بھی نہیں ڈرتے۔ وہ اب خوابوں کی اجڑی سرزمین کو الوداع کہہ آیا ہے اور اب وہ اپنی حقیقت کی دنیا کو اپنے فن اور اپنی تخلیقی صلاحیت سے سنوارنے کی خواہش رکھتا ہے۔ ایک ڈرامے میں کردار حاصل کرنے کے لیے امتحان کے طور پر مکالمے بولتے ہوئے وہ اپنے آپ سے باہر ہو جاتاب ہے۔ زمان و مکان سے ماورا ہو کر اپنے خیالات کو مکالمے کی شکل دیتا چلا جاتا ہے۔ ظہیر کی طرح ہی اس کی بھی اپنے خواب کے ساتھ چلتے چلتے موت واقع ہو جاتی ہے۔ الحمرا کے ہال نمبر ایک میں اداکاری کا امتحان دیتے دیتے اس نے اپنے وکالمے یوں ادا کیے کہ وقت کے احساس سے ماورا ہو گیا اور گزرتے وقت کی انگلی تھام کر ایک معصوم بچے کی طرح اس کے ہمراہ چل پڑا۔


ان تین طبقوں اور چھ کرداروں کی مجموعی کہانی کو ’’اے غزالِ شب‘‘ میں بُنا گیا ہے اور ان کی صورت میں مستنصر نے اندانی ردِعمل کی وہ تمام ممکنہ صورتیں دکھا دی ہیں جو خوابوں کے پیچھے چلتے انسان شکستِ خواب کے بعد ظاہر کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے خواب کو طاقِ نسیاں پر رکھ کر نئی زندگی آغاز کرسکتے ہیں۔ وہ اپنے وطن کو سنوارنے کی خواہش میں لوٹتے ہیں لیکن حالات کی سختی سے ہار مان کر واپس پلٹ کر اپنے حالات سے مفاہمت کر لیتے ہیں اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ خواب کو آنکھوں میں سجائے ، بدن پر اوڑھے اسی خواب کے ساتھ مل کر خود بھی خواب ہو جائیں۔ مستنصر نے ان سبھی صورتوں کو اپنے قلم کے ساتھ ’’اے غزالِ شب ‘‘ کے صفحات پر نقش کر دیا ہے ۔

٭٭٭

Share This Post
Written by محمد عباس
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>