ہزارہ قوم کی نسل کشی؟

umm e ammana ام امارہ

ہزارہ، وسطی افغانستان میں بسنے والی اور دری فارسی کی ہزارگی بولی بولنے والی ایک برادری ہے۔ یہ تقریباً تمام شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں کچھ کا تعلق سنی مسلک سے بھی ہے۔یہ افغانستان کی تیسری سب سے بڑی برادری ہے۔

افغانستان میں ان کی آبادی کو لے کر تنازع ہے اور یہ 26 لاکھ سے 54 لاکھ کے درمیان میں مانی جاتی ہے۔ کل ملا کر یہ افغانستان کی کل آبادی کا تقریباً (20–30%) حصہ ہیں۔ایران اور پاکستان میں بھی ان کے پانچ – پانچ لاکھ افراد آباد اجتماعی شکل میں آباد ہوۓ تھے۔ پاکستان میں یہ پناہ گزین زیادہ تر کوئٹہ شہر میں آباد ہوۓ تھے۔اب پاکستان میں ان کی تعداد تقریباً 9 سے 10 ملین ہے۔

جب افغانستان میں طالبان اقتدار میں تھی تو انہوں نے ہزارہ لوگوں پر ان کے شیعہ ہونے کی وجہ سے بڑی سختی سے حکومت کی تھی، جس سے باميان صوبہ اور دايكدی صوبہ ہزارہ جیسے وزیر علاقوں میں بھوک اور دیگر دوسری جان لیوا وباٸیں پھیلی تھیں۔

دیکھیے، پشتون اور ہزارہ قبیلے کی دُشمنی بہت پرانی ہے کہا جاتا ہے کہ جب پشتون قبیلے کا سردار عبدالرحمان سرداری میں آیا تو اس نے تقریباً آدھے سے زیادہ ہزاروی مروا دیے تھے اس نسل کشی سے بچنے کے لیے ہی ان لوگوں نے پاکستان اور ایران میں پناہ لی تھی۔۔۔

پاکستان نے ہمیشہ اپنے ان بھاٸیوں کی داد رسی کی ہے اور انہیں امن دیا ہے اورکوٸی شک نہیں ہے کہ اس قبیلے کے لوگ انتہاٸی قابل ثابت ہوۓ ہیں انہوں نے تعلیم سے لے کر بلوچستان کے حکومتی فلور تک اپنی ذہانت منواٸی ہے۔۔۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب حکومت اور دوسری انٹیلیجینسز انہیں تحافظ دینے میں ناکام کیوں ہورہی ہیں؟

ہزارہ نسل کشی بند کرو

یہاں کٸ وجوہات ہیں: پہلی وجہ تو افغان طالبان اور کابل حکومت میں امن کی کشمکش ہے۔ایران چونکہ کابل حکومت کا بڑا اتحادی ہے تو بیرونی طاقتیں کوشش کررہی ہیں کہ یہ اتحاد اس طرح ٹوٹے کہ پاکستان ایران سے تعلقات کی بنیاد پر یا تو خاموش ہو جاۓ یا یہ تعلقات ختم ہو جاٸیں۔یہ بیج سولہ سال پہلے کے پاکستان کی پُرسکون مٹی میں ڈالے گۓ ہیں اور اب ان کی جڑیں مضبوط ہو چکی ہیں۔ جب 1996 سے 2001 تک افغانی طالبان نے بلوچستان میں انتشار پھیلاۓ رکھا تو ان کی پہلی ترجیح ہزاروی باشندوں کی نسل کشی ہی تھی

افواجِ پاکستان نے اپنی انتھک محنت اور ذہانت سے انھیں یہاں سے نکال باہر تو کیا لیکن یہ اب بھی کسی نہ کسی راستے سے یا سچ کہوں تو بیرونی اور اندرونی سہولت کاروں کی مدد سے سال میں ایک آدھی واردات کر جاتے ہیں۔

یاد رہے ہزاروی قبیلہ کابل حکومت کے ساتھ ہے جس کا بدلہ اُن سے اُنکی نسل کشی کرکے لیا جا رہا ہے۔ افغانستان میں بھی اور پاکستان میں بھی۔پاکستان میں انھیں ملکی اور غیر ملکی انتشار پسندوں کا سپورٹ حاصل ہے جس پر دیکھا جاۓ تو غیر یقینی حد تک قابو پایا جاچکا ہے۔

جب تک ہم اس پس منظر کو نہیں سمجھتے تب تک ہم اس کھیل کا نا چاہتے ہوۓ بھی حصہ بنتے رہیں گے۔راۓ قاٸم کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اُس ذہانت کو سمجھا جاۓ جو اس کھیل کے پیچھے ہے۔

پاکستان کی سالمیت کے دُشمن دو چیزیں ہی تو چاہتے ہیں۔ایک پاکستانی قوم اپنی ہی فوج کے مخالفت میں کھڑی ہوجاۓ اور دوسری پاکستان میں فرقہ واریت کی فضا کو ایسی ہوا ملے کہ مُلک اندرونی انتشار سے ہی بکھر جاۓ۔

تحریر: ام ِ امارہ

Share This Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>