ہندوستانی سیاست اورسکھوں کی حالت زار

راجہ منیب کم و بیش دس سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، دفاعی و پارلیمانی رپورٹنگ کرتے ہیں، افواج پاکستان کے نظم و نسق، پیشہ وارانہ امور کے ساتھ ساتھ اقتدار کی رسہ کشی، حکومت اپوزیشن داوپیچ اور قومی سلامتی سے جڑے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

کالم نگار : راجہ منیب

بھارت کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ کسی نہ کسی انداز میں سوا ارب سے زیادہ آبادی والا یہ ملک پہلے تو آگ لگاتا ہے اور پھر جلتی پر تیل ڈالتا رہتا ہے۔ برصغیر تقسیم ہوا ۔ بھارت اور پاکستان دو آزاد ملک بن تو گئے لیکن آج تک ہندوستانی قیادت نے اس تقسیم کو خصوصاً قیام پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا ۔ مسلسل سازشوں اور ہم پاکستانیوں کی کوتاہیوں کا فائدہ اٹھا کر مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش تو بنوا ڈالا لیکن نئی دلی میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بھارت میں سر اٹھاتی تحریکوں پر کبھی دھیان نہیں دیا ۔ دلتوں کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک بھارت میں کیا جاتا ہے اُس پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں ۔ مسلمان تو شدت پسند ہندووں کا مرغوب ہدف ہیں۔ گرجا گھروں کو جلانے ، پادریوں سمیت مسیحی مشنری عملے پر بہیمانہ تشد د اور جبری مذہبی تبدیلی کے ان گنت واقعات بھارتی ریاست کا چہرہ داغدار کئے ہوئے ہیں۔کچھ عرصہ قبل  بھارت کی 265 جعلی میڈیا ویب سائٹس اور سٹیشنز منظر عام پر یہ ویب سائٹس میڈیا سٹیشنز بے نقاب ہوئے جو  پاکستان سے متعلق گمراہ کن حقائق اجاگر کر رہے تھے۔ ان ویب سائٹس میڈیا سٹیشنز پر سب بڑی بات مسئلہ کشمیر پر دیکھنے کو ملی ہے جن کی مدد سے پوری دنیا کو بتایا جا رہا ہے کہ کشمیر میں مکمل طور پر امن ہے اور بھارت کا کشمیر پر کوئی ظلم و ستم نہی کر رہا دوسری جانب اس بات کو بھی عام کیا گیا ہے کہ پاکستان کشمیر میں دہشتگرد تنظیموں کو فروغ دے رہا ہے جس پر ہمیں وہاں اپنی افواج کی تعداد میں اضافہ کرنا پڑا ہے۔!!

ارنب گوسوامی کی لیک چیٹ

اس کے علاوہ بھارتی ٹی وی کے میزبان اور ری پبلک میڈیا نیٹ ورک کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کی اپنے ساتھی صحافی اور براڈکاسٹ آڈیئنس ریسرچ کونسل  کے سابق سی ای او پارتھو داس کے ساتھ واٹس ایپ چیٹ لیک ہوئی تھی۔ واٹس ایپ چیٹ کے مطابق پلوامہ میں بھارت نے اپنے فوجی خود مروائے اور الزام پاکستان پر لگا دیاتھا۔ارنب گوسوامی نہ صرف بالاکوٹ پر حملے،بلکہ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے بھی آگاہ تھا۔!   مگر اب بھارتی  پنجاب  کے سکھوں اور خالصستان کے بارے میں پروپیگنڈا بے نقاب ہوا ہے۔کہ برطانیہ میں قائم سینٹر فار انفارمیشن ریزیلینس (سی آئی آر) نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بھارتی جعلی سوشل میڈیا نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے جسے کسانوں کے احتجاج اور خالصتان تحریک کو نشانہ بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ سنٹر فار انفارمیشن ریزیلینس  کی رپورٹ یعنی ایک با ر پھر ایک نئی رپورٹ میں بھارت کے کرتوت یعنی پروپیگنڈا  نیٹ ورک میں 80 اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی تھی، جنہیں اب معطل کر دیا گیا ہے کیونکہ وہ جعلی تھے۔جعلی اکاؤنٹس کے ایک مربوط نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے جہاں بھارتی حکومت بھارتی حکومت، قوم پرستی اور سکھ کارکنوں کو دہشت گرد قرار دینے کے لیے جعلی سکھ اکاؤنٹس کا استعمال کر رہی ہے۔یعنی ٹویٹر، فیس بک اور انسٹاگرام پر اکاؤنٹس کا استعمال ہندو قوم پرستی اور بھارت نواز حکومتی بیانیے کو فروغ دینے کے لیے کیا۔

سکھوں اور ہندوستانی قیادت کے درمیان ٹکراؤ

سنٹر آف انفارمیشن ریزیلینس کی طرف سے شائع ہونے والی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح بی جے پی کی قیادت والی ہندوستانی حکومت سکھوں کے سیاسی مفادات کو انتہا پسند اور ہندوستان اور بیرون ملک ثقافتی تناؤ کا نام دے رہی ہے۔ہندوستانی حکومت کے حامی بیانیہ پوسٹ کرنے والے جعلی سکھ اکاؤنٹس بی جے پی کی زیرقیادت حکومت کے حق میں اچھی طرح سے تیار پائے جاتے ہیں۔ اس طرح کے اکاؤنٹس نہ صرف پاکستان کی طرف سے سکھوں کی پشت پناہی کے بارے میں افواہیں پھیلاتے ہیں بلکہ سکھوں کی آزادی کی تحریک کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔سکھ تحریک خالصتاً سکھوں کے ذریعے چلائی جاتی ہے جو بھارتی جبر سے تنگ ہیں اور اپنا وطن چاہتے ہیں۔ انتہا پسند اور جابر بھارتی حکومت اس حقیقت کو سنبھال نہیں سکتی اور اپنی ٹوٹتی ہوئی سلطنت کو بچانے کے لیے ہزاروں جعلی سکھ پروفائل استعمال کر چکی ہے۔سکھ مزاحمت کے خلاف پروپیگنڈہ ہی بھارتی حکومت کا واحد دفاعی طریقہ کار ہےبھارت سکھوں کے خلاف عوام کے تاثرات و نظریات کو تبدیل کرنے کی کوشش میں بھی  بری طرح سے ناکام ہو رہاہے۔جعلی پروفائلز میں سکھوں کے نام استعمال کیے گئے اور “اصلی سکھ” ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ انہوں نے مختلف سیاسی نقطہ نظر کو بدنام کرنے کے لیے #RealSikh اور #FakeSikh ہیش ٹیگز کا استعمال کیا۔کئی لوگوں ، چینلز، دیگر کئی اداروں نے انڈین حکومت سے اس پر ردعمل جاننے کی کوشش کی گئی لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔

جعلی پروفائل کا کامیاب استعمال

سینٹر فار انفارمیشن ریزیلینس (سی آئی آر) کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اس نیٹ ورک میں مختلف پلیٹ فارمز پر ایک ہی جعلی پروفائل کا استعمال کیا گیا تھا۔ ان اکاؤنٹس کے نام، پروفائل پکچرز اور کور فوٹوز بھی ایک جیسے تھے۔ یہی نہیں ان پروفائلز سے بھی ایسی ہی پوسٹس کی گئیں۔ ان میں سے کئی اکاؤنٹس پر مشہور شخصیات کی تصاویر استعمال کی گئیں، جن میں پنجابی فلموں کی اداکاراؤں کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ اکثر پیغامات والی تصاویر، کثرت سے استعمال ہونے والے ہیش ٹیگ، ایک جیسی سوانح عمری کی تفصیل، یہ سب اس بات کے ثبوت ہیں کہ یہ اکاؤنٹس جعلی تھے۔ ایک انٹرنیشنل ٹی وی چینل نے آٹھ مشہور شخصیات سے رابطہ کیا جن کی تصاویر استعمال کی گئیں۔ ایک مشہور شخصیت نے اپنے مینیجر کے ذریعے آگاہ کیا کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کی تصویر کو اس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر کارروائی کریں گی۔ ایک اور مشہور شخصیت کی انتظامی ٹیم نے کہا کہ اس کے مؤکل کی تصویر ہزاروں جعلی اکاؤنٹس کے ساتھ استعمال کی گئی ہے۔ ایک مربوط و منظم طریقے سے جعلی اکاؤنٹس کا استعمال کیا جار ہا ہے تاکہ سکھوں کی آزادی کے لیے مطالبے کو بدنام کیا جا سکے، سکھوں کے سیاسی مفادات کو انتہا پسند قرار دیا جا سکے، بھارت اور بین الاقوامی برادریوں کے اندر ثقافتی کشیدگی کو ہوا دی جا سکے اور بھارتی حکومت کے بیانیے کو فروغ دیا جا سکے۔ جعلی اکاؤنٹس جنہوں نے حقیقی سکھ ہونے کا دعویٰ کیا نے ایسا متن اور مواد تیار کیا جس کا مقصد کسانوں کی تحریک کو غیر قانونی قرار دینا اور متنازعہ زرعی قوانین کے بارے میں بحث و مباحثے کو ختم کرنا ہے۔ان اکاؤنٹس کے ذریعے فروغ دیا جانے والا بیانیہ کسانوں کے احتجاج کے حوالے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ رہنماؤں اور مین اسٹریم نیوز چینلز کے بیانات سے ملتا جلتا تھا۔ اس جعلی نیٹ ورک نے بھارت میں کسانوں کے احتجاج کے آغاز کے بعد سے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور اس نے کسانوں کے احتجاج اور خالصتان کی تحریک کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا ۔ ان تمام اکاؤنٹس نے انہیں پاکستانی ایجنٹ، جعلی سکھ اور بھارت اور سکھوں کا دشمن قرار دیا۔

ہندوستان کا جھوٹ اور ڈرامہ

یادرہےکہ31 اکتوبر کو لندن میں خالصتان کے حوالے سے شروع ہونے والے ریفرنڈم کا عمل جاری ہے۔ پنوں ان دنوں 10 دسمبر کو جنیوا میں ہونے والے ریفرنڈم کیلئے ووٹنگ کی مہم چلا رہی ہے۔جبکہ دوسری جانب23نومبر کو بھارتی صدر اورمودی کی موجودگی میں ایک خصوصی تقریب کا اہتمام ہوا جس میں بھارتی صدر نے چین کے ہاتھوں مارے گئے بھارتی فوج کی ’بہار ‘رجمنٹ کے کرنل ’سنتوش بابو‘ کو مہا ویر چکر دیا۔کہ انھوں نے چین کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں بڑی دلیری دکھائی۔راقم چوں کہ بھارت کی داخلی سیاست کا عمومی طالب علم ہے اس لیے اس تناظر میں یہ بتانا ضروری ہے کہ خود ہندوستان کے سنجیدہ حلقوں نے انکشاف کیا ہے کہ مگر حقیقت میں   ڈیڑھ سال قبل بھارتی فوج کے لداخ (گلوان )کے مقام پر   20 فوجی اپنے کمانڈر سمیت چین کے ہاتھوں مارے گئے تھے مگر ہندوستان نے اپنے روایتی جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے اور اپنے فوجیوں کے گرتے ہوئے مورال کو بہتر کرنے کے لئے انہیں تمغوں سے نواز دیا۔بھارت کی یہ روش کوئی نئی نہیں ہے بلکہ اس نام نہاد ڈرامے سے ایک دن پہلے بھی اپنے بھگوڑے افسر ابھی نندن کو ویر چکر سے  نوازا تھا۔سکھوں کے ساتھ بھارت میں جو مظالم ڈھائے گئے ان کا نتیجہ ہے کہ دنیا بھر میں بسنے والے سکھوں کی کثیر تعداد آج آزاد خالصتان کے قیام کی دل و جان سے حمایت کر رہی ہے۔ خالصتان تحریک کے سربراہ گوپال سنگھ چاولہ کے حالیہ بیانات نے ایک ہلچل مچا دی ہے ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سکھ فوجیوں کی کثیر تعداد بھارتی فوج سے مستعفی ہوکر آزاد خالصتان کی تحریک میں شمولیت اختیار کر چکی ہے۔ گوپال سنگھ چاولہ کے مطابق سکھ کبھی بھی اپنے کشمیری اور پاکستانی بہن بھائیوں پر بھارت کے اکسانے پر گولی نہیں چلائیں گے۔

سکھ برادری کا ردعمل فطری ہے

سکھ برادری کا یہ رد عمل نہ تو غیر متوقع ہے اور نہ ہی کسی عارضی واقعے کا ردعمل ہیں ۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد سے آج تک بھارتی ریاستی مظالم اور ناانصافیوں کے نہ ختم ہونے والے سلسلے نے سکھ برادری کو ہندوستان کے خونی پنجے سے نجات حاصل کرنے پر مجبور کر ڈالا ہے۔ آج من حیث القوم سکھ برادری قیام پاکستان کے وقت بھارت کی حمایت کرنے کے فیصلے پر پچھتا رہی ہے۔ ماسٹر تارا سنگھ نے سکھ برادری کو کانگریسی قیادت کے جال میں ایسا پھنسایا کہ قائد اعظمؒ کی مخلصانہ پیشکش کو رد کر کے ہندوستان کے دلدل میں پھنس گئے۔ اب سکھ برادری کے سامنے سات عشروں پر محیط دونوں ریاستوں کا طرز عمل موازنے کے لیے دستیاب ہے۔ ایک جانب بھارت ہے کہ جس نے سکھ برادری کے خلوص ، جذبہ قربانی اور سادہ لوحی کو شدت پسندانہ سوچ کے ہتھوڑے سے کچل ڈالا ۔ اور دوسری جانب پاکستان ہے جس نے تقسیم و ہجرت کی تلخ یادوں کو بھلا کر سکھ برادری کے ساتھ رواداری ، محبت ، ایثار اور کشادہ دلی کا رویہ اپنایا۔ جب سکھ برادری اپنے مقدس مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے پاکستان آتی ہے تو حکومت اور عوام دیدہ و دل فرش راہ کرتے ہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سکھ مذہب پر اسلام کے عقیدہ توحید اور مسلم صوفیاء کی تعلیمات کا گہرا اثر ہے۔ مشہور بزرگ حضرت میاں میر ؒ سے بابا گورو نانک ؒ  کے انتہائی نیازمندانہ تعلقات رہے۔اندرا گاندھی کے دور حکومت میں سکھ برادری پر مظالم کے جو پہاڑ توڑے گئے ان کی کوکھ سے آزاد خالصتان کی نئی تحریک نے جنم لیا ۔

گولڈن ٹیمپل پر خونی فوج کشی

صبح و شام سیکولرازم کا راگ الاپنے والے بھارت میں سکھوں کی مقدس عبادت گاہ گولڈن ٹیمپل پر آپریشن بلیو سٹار کی صورت خونی فوج کشی کی گئی ۔ آزادی کا مطالبہ کرنے والے سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کو حریت پسند ساتھیوں سمیت نہایت بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا ۔ تقریباً چھ ماہ بعد عبادت گاہ کے تقدس کی پامالی کا انتقام لینے کے لیے دو سکھ باڈی گارڈز نے وزیر اعظم اندرا گاندھی کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ ہندو شدت پسندوں کا سکھ برادری کے خلاف جوابی ردعمل نہایت خوفناک اور خوں ریز تھا۔ صرف دلی شہر میں ہزاروں سکھ گھرانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ۔ بے گناہ سکھ نوجوانوں کو غدار قرار دے کر جعلی مقابلوں میں یا تو مار دیا گیا یا تشدد کر کے عمر بھر کے لیے معذور کر دیا گیا۔خالصتان تحریک عالمی ریفرنڈم کروا کر سکھ برادری سے آزاد خالصتان کے قیام کے معاملے پر رائے حاصل کروانے والی ہے۔ بھارت کے راج سنگھاسن پر براجمان آر ایس ایس کے شدت پسند ٹولے کو اندرونی محاذ پر جنم لینے والے سنگین بحرانوں پر توجہ دینے کی نہ تو فرصت ہے اور نہ ہی صلاحیت! ہندوتوا بریگیڈ اس گھمنڈ کا شکار ہے کہ وہ پرانے وقتوں کے مہاراجہ  اشوکا  کی قائم کردہ سلطنت کی قدیم حدود بحال کر کے اکھنڈ بھارت کی شکل میں سری لنکا ، پاکستان ، کشمیر ، تبت، اکسائی چن ، نیپال ، بھوٹان ، مالدیپ سمیت ایشیا پیسیفک کے علاقوں کو بھی ہڑپ کر لیں گے۔

Share This Post
Written by راجہ منیب
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>