اکرام اللہ کے افسانے

مضمون نگار : محمد عباس

اکرام اللہ کے افسانے

اردو کے بہت سے معروف افسانہ نگاروں سے ہٹ کر ایک نسبتاً کم معروف نام اکرام اللہ کا ہے جنہوں نے افسانہ لکھنے کے عمل کو حصولِ شہرت کا ذریعہ نہیں سمجھا۔ اکرام اللہ اردو کے جدید افسا نہ نگاروں میں کبھی صفِ اول میں شمار نہیں کیے گئے لیکن ان کے افسانے اردو کے بیسیوں جدید افسا نہ نگاروں کے برعکس اپنا ایک الگ اسلوب اور اپنی ایک علیحدہ شناخت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس منفرد پہچان کی وجہ ان کی مروجہ ادبی اور فنی معیارات سے بے اعتنائی ہے ۔ انہوں نے محض شہرت یا داد حاصل کرنے کے لیے معاصر فیشن کو نہیں اپنایا۔ اسلوب کی تزئین و آرائش کا چلن عام تھا اور انہوں نے زبان سے واضح ابلاغ کا کام لیا، علامات اور استعارے کا رجحان حاوی تھا اور انہوں نے سادہ اظہار کو اہمیت دی، سیاسی مسائل کی بالواسطہ پیش کش فن کا خاصہ سمجھی جاتی تھی اور اکرام اللہ نے سماج کے پہلو دار رشتوں اوران رشتوں کے تقاضوں پر نظر رکھی ، کہانی پن کے نام پر نثر پارے اور انشائیے تخلیق کرنے کا رواج تھا اور ادھر اکرام اللہ کہانی کی روایتی شکل کو برقرار رکھنے میں اپنی تمام فنی مہارت ثابت کر رہے ہیں ۔ انہی تمام خوبیوں کی بنا پر وہ اپنا ایک الگ افسانوی جہان تخلیق کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس کے سنگ و خشت اردو افسانے کی مضبوط روایت سے پختگی اور خوبصورتی حاصل کرتے ہیں ۔


افسانوں کا منفرد موضوع، بیانیے پر مکمل گرفت اور وحدت ِ تاثر سبھی افسانے کی روایت سے ان کی کامل آگاہی کے غماز بھی ہیں اور ایک خالص فنکار کی بے تکان جستجو کا بولتا ثبوت بھی۔ اکرام اللہ کا افسانہ عام طور پر روایتی افسانے کی درجہ بندی میں رکھا جاتا ہے اور گو کہ ان کے کئی افسانے بظاہر روایتی افسانے کی کھری حقیقت نگاری، واضح اظہار اور یک سطحی معنویت سے اوپر نہیں اٹھتے لیکن درپردہ ان کے افسانوں میں کسی نئی سمت کی طرف لپکنے کی توانائی نظر آتی ہے۔افسانے کا مزاج روایتی ہے مگر افسانہ اپنے موضوع اور بیانیے کی بنا پر فن کی نئی راہوں کی جانب بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ سیدھی سادی کہانی کو معنوی پہلو داری دینے کی کوشش ، حقیقت نگار جزئیات نگاری کو علامتی معنویت عطا کرنے کا ذوق اور عام آدمی کے مکالموں میں رزمیہ شکوہ پیدا کرنے کی مہارت ، اردو افسانے کے سفرِ ارتقا میں اکرام اللہ کی دین ہیں ۔ مثال کے طور پر افسانہ ’’سب راتوں جیسی ایک رات‘‘ ایک حقیقت نگار بیانیہ ہے جہاں ایک خاندان کے چار افراد گھر کی چھت پر مورچہ لگائے بندوقیں سنبھالے دشمن کے منتظر ہیں ۔ تمام افسانہ ٹھوس حقیقت نگار جزئیات کی بنیاد پر تعمیر کیا گیا ہے مگر اس افسانے میں بہت سے مکالمے ایسے ہیں جو ان افراد کو عام افراد کی سطح سے اوپر اٹھا کر انسان کی جنگجو فطرت کی علامت بنا دیتے ہیں ۔ ’’انسانو ں کا فرق ازلی ہے، ان کا تفاوت ابدی ہے۔ ہر ایک کا مفاد دسرے سے ٹکراتا ہے ، اسی کا نام دشمنی ہے۔‘‘


اکرام اللہ کے فن میں ایک اچھے افسانہ نگار کے تمام جوہر موجود ہیں ۔ وہ اپنے سولہ افسانوں میں نئے سے نئے موضوع کے ساتھ قاری کے احساس پر وارد ہوتے ہیں ۔ ایک ماہر فنکار کی طرح انہوں نے ہر نئے موضوع کے لیے کہانی بھی منفرد تخلیق کی ہے ۔ اور پھر ہیئتی تجربات، بلکہ تجربات کہنا نامناسب ہے کہ اردو دنیا میں ہر پھوہڑ تحریر کو تجربہ کہہ دینے کا رواج عام ہے، ہیئت کے استعمال سے ان کے ہر افسانے میں الگ ذائقہ ملتا ہے۔ ان کا اسلوب اور ہئیت دونوں تنوع کے حامل ہیں ۔ اس قدر تنوع اردو کے بعض صفِ اول میں شمار کیے جانے والے افسانہ نگاروں کے ہاں بھی نہیں ملتا۔ اور پھر یہ بھی نہیں کہ اسلو ب کی یہ تبدیلی محض رنگینیِ داستان کی خاطر ہو یا ہئیت کی تبدیلی صرف تجرباتی حیثیت رکھتی ہو بلکہ دونوں افسانے کے موضوع اور ماحول کے مطابق ڈھل کر آتے ہیں ۔ موضوع جس ہئیت کا تقاضا کرتا ہے، وہی ہئیت اپنائی جاتی ہے اور افسانے کی فضا جس زبان کا مطالبہ رکھتی ہے ، اسی زبان کا استعمال نظر آتا ہے۔ رومانوی اندا ز کے افسانے ’’اتم چند ‘‘ میں بیس کی دہائی کا وہ رومانوی نوجوان ملتا ہے جس کی جنسی ناآسودگی اور حقیقت سے فرار کی دو مخالف لہریں اس کے وجود کو آتش فشاں کی طرح ابال دیتی ہیں اور اس افسانے کے لیے ہئیت بھی بیس کی دہائی کے افسانے اور زبان بھی اسی خواب گوں فضا سے تعلق رکھتی ہے۔ افسانہ ’’ایک دوپہر‘‘ دیہی روایت کے بندھن میں جکڑی اس عورت کی داستان ہے جو ان زنجیروں کو توڑ کر فرار حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن جب انہیں ناقابلِ شکست سمجھتی ہے تو اس طوق کو برضا و رغبت گلے کی زینت بنا لیتی ہے۔اس افسانے کی فضا پریم چند کی افسانوی فضا سے ملتی جلتی نظر آتی ہے۔زبان بیان، مناظر وہی ہیں اور افسانے کا تقاضا بھی یہی تھا۔ اسی طرح ’’جنگل ‘‘،’’پل اور نقلی چوکیدار‘‘اپنے تھیم کے ساتھ ہم آہنگ زبان لے کر آتے ہیں جو ساٹھ کی دہائی کے افسانہ نگاروں کے نامۂ اعمال میں تیرگی بن جاتی ہے مگر اکرام اللہ کے ہاں حسن کا جلوہ بن کر سامنے آتی ہے۔’’سب راتوں جیسی ایک رات‘‘ افسانہ لاطینی امریکی فکشن کے ان افسانوں کی یاد دلاتا ہے جہاں آدمی بلاوجہ لڑتے اور بغیر کسی مقصد کے مرتے ہیں ۔ یوں ان کا ہر افسانہ الگ موضوع، منفرد فضا اور انوکھی صورتحال کا حامل ہے۔


اکرام اللہ کے افسانوی دھارے میں ہمیں افسانے کا پورا ارتقائی سفر نظر آتا ہے۔ رومانوی، سماجی حقیقت نگاری، نفسیاتی ژرف بینی، علامتی، جدید ، طلسمی حقیقت نگاری، سبھی منازل کا نشان ان کے نقشِ پا کی رفتار میں دکھائی دیتا ہے۔ اور یہاں بھی خاصیت وہی ہے کہ انہوں نے کسی بھی انداز اور رجحان کو محض تقلید یا نقل کرنے کے لیے نہیں اپنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں نہ تو کسی ایک رجحان کے ساتھ اٹوٹ لگائو ملتا ہے اور نہ ہی کسی روایت میں کوئی کمزور افسانہ ملتا ہے۔ انہوں نے جس انداز کا بھی افسانہ لکھا، اس انداز میں ایک اچھا افسانہ لکھا اور اس کے متوازی کسی ایک افسانہ نگار کی چھاپ بھی محسوس نہیں ہوتی۔ اگر رومانوی افسانہ لکھا ہے تو یہ رومانوی افسانے کی پوری روایت سے الگ ایک افسانہ نظر آتا ہے۔ جس کے باطن میں اس پوری روایت کا عکس جھلکتا ہے۔ اگر سماجی حقیقت نگاری کا افسانہ ہے تو اس روایت میں ایسا کوئی افسانہ نظر نہیں آتا جس کا اثر ’’ایک دوپہر‘‘ اور ’’محتاج‘‘ پر نظر آتاہو۔ جنسی آگاہی کے حوالے سے ’’احتیاج‘‘ کو محمد خالد اختر نے اس رنگ کی بہترین کہانی قرار دیا تھا۔ ’’لے گئی پون اُڑا‘‘ شعور کی رَو کو خوبصورتی کے ساتھ نبھاتا ہے تو ’’پکنک‘‘ بے معنویت کی تحریک کا جوہر اپنے اندر سمیٹ کر آگے بڑھتا ہے۔ ’’جنگل‘‘ اور ’’پُل اور نقلی چوکیدار‘‘ دونوں تجریدی اور علامتی افسانے کی معراج پر کھڑ ے ہیں اور ساٹھ کی دہائی کے کئی افسانہ نگاروں کے لیے رہنما ستارے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ’’بدلتے قالب‘‘ طلسمی حقیقت نگار تکنیک کا عمدہ افسانہ ہے۔ ہر افسانہ پڑھ کر یوں لگتا ہے کہ متعلقہ روایت کے کسی نمایاں افسانہ نگار کا افسانہ ہے یا اس افسانے کو اس روایت کا نمائندہ افسانہ شمار کیا جائے۔


اکرام اللہ کے ایک افسانے’’ بدلتے قالب‘‘ کا ذکر خاص طور پر کرنا چاہوں گا ۔ اردو دنیا میں جب سے طلسمی حقیقت نگاری کی اصطلاح متعارف ہوئی ہے، اردو کے افسانوی ادب میں طلسمی حقیقت نگاری کی تلاش میں خاصی شد و مد کا مظاہرہ کیا گیا۔ ہر وہ افسانہ جس میں ابہام ، مافوق الفطرت عناصر ، توہمات اور واہمے کی کارفرمائی نظر آئی ، بلاتردد طلسمی حقیقت نگار افسانہ دے دیا گیا۔ انتظار حسین ، نیر مسعود وغیرہ کے بیشتر افسانوں میں سے طلسمی حقیقت نگاری کشید کرنے کی کوشش کی گئی۔ محترم ناصر عباس نیر صاحب نے تو ’’آگ کا دریا ‘‘اور ’’پھندنے‘‘ میں سے بھی طلسمی حقیقت نگاری کا عرق نچوڑ لیا لیکن کسی کو طلسمی حقیقت نگاری کی اصل ماہیت پر توجہ دینے کی توفیق نہ ہوئی۔ طلسمی حقیقت نگاری طلسماتی دنیا، فینٹیسی یا تخیلاتی دنیا کی کہانی بیان کرنے کا نام نہیں بلکہ حقیقت نگار علاقے میں کھڑ ے رہ کر اُن مافوق الفطرت عناصر کوحقیقی انداز میں اس بیانیے کا حصہ بنانے کا عمل ہے ۔ اس کے لیے پہلے بیانیے کا ٹھوس حقیقی بنیادوں پر تعمیر ہونا بہت ضروری ہے۔ پھر ان عناصر کو بیانیے میں کوئی غیر معمولی اہمیت حاصل نہ ہو اور وہ بالکل حقیقی انداز میں ہی پیش آتے جائیں جیسے اس طرح کا واقعہ روز کا معمول ہو۔ ان دونوں شرطوں پر اردو دنیا میں گنتی کے چند افسانے ہی پورے اترتے ہیں اور ان افسانوں میں بھی ’’بدلتے قالب‘‘ سرِ فہرست ٹھہرتا ہے۔ حقیقت کی سرزمین پر کھڑ اافسانہ اپنے اندر تبدیلیِ قالب کی پوری اسطورہ غیر محسوس انداز میں سمیٹ کر لے چلتا ہے اور واقعے کے غیر معمولی یا مافوق الفطرت ہونے کی طرف دھیان جانے کی بجائے ایک حقیقی اور روزمرہ کا عمل نظر آتا ہے۔ بڑھیا صفیہ کا جوان جسم ہتھیا کر چل نکلتی ہے اور قاری بیانیے کے خوبصورت تاثر کی وجہ سے اسے حقیقت سمجھتے ہوئے صفیہ کے ہمراہ کفِ افسوس ملتا دکھائی دیتا ہے۔ ذرا دیر کے لیے بھی قاری کا دھیان اس واقعے کے ناممکن العمل ہونے کی طرف نہیں جاتا۔ یہاں حقیقت اور طلسم کی باہمی سرحدیں مٹ جاتی ہیں اور صحیح معانی میں طلسمی حقیقت نگار اقلیم قائم ہوتی ہے۔


اکرام اللہ کے افسانے تعداد میں تھوڑے ضرور ہیں ،مگر ان کا کام مقدار کی بجائے معیار کے حوالے سے وقعت رکھتا ہے اور بہت سے افسانہ نگاروں کی بھاری بھرکم کلیات سے زیادہ وقیع ہے، انہوں نے ہر روایت میں لکھ کر ایک طرح سے ان سب روایتوں پر حتمی قلم پھیر دیا ہے۔ اب اگر کسی نے اکرام اللہ سے اچھا افسانہ لکھنا ہے تو ان روایات سے آگے بڑھ کر کوئی روایت تخلیق کرنی پڑے گی۔ موجود روایتیں تو انہوں نے اچھی طرح سے برت کے دکھا دی ہیں ۔ ان کی تخلیقی طاقت اس قدر متنوع اور رنگا رنگ ہے کہ اردو افسانے کی روایت ان کی عطا کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔

Share This Post
Written by محمد عباس
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>