جدید اور شدید کامی

 مضمون نگار، سید علی بابا، کراچی

یہ کتاب جس کا نام قدیم ہے، یہ صرف نام کی ہی قدیم ہے کیونکہ اس میں موجود شاعری بالکل جدید ہے اور شدید بھی۔

جہاں کسی کو بھی خاطر میں کوئی لاتا نہیں
ہمارا ہونا وہاں واقعہ بنا ہُوا ہے
سوائے اس کے بھلا کیا ہے ماجرا سارا
ہمارا صبر کسی کی رضا بنا ہُوا ہے
بنا ہے اشک کسی آنکھ میں یہ دل کامی
جگر کا خوں کہیں رنگِ حنا بنا ہُوا ہے
مل جاتا ہے مٹی میں اور زندہ کردیتا ہے اُسے
ایسا کوئی اور نہیں ہے ایک اکیلا پانی ہے
تم میرے خوابوں میں اترو تو تم پر احوال کھلے
باغِ ابد میں اک ندی ہے جس میں نیلا پانی ہے

اس سے پہلے کہ ہم اس شاعری پر بات کریں، ذرا قدیم کے خالق کے حوالے سے بھی کچھ بات کرتے چلیں۔ کامی شاہ میرا بھائی ہے، دوست ہے، یار ہے اور یارباش ہے، اس میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو ایک سچے شاعر میں ہوتی ہیں یا ہونی چاہئیں۔ عفت بھابھی نے قدیم میں شامل اپنے مضمون میں بہت سچی بات لکھی ہے کہ کامی شاہ دوستوں کا دوست اور دشمنوں کا استاد ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ صرف دشمنوں نے ہی نہیں بہت سے دوستوں نے بھی اس سے بہت کچھ سیکھا ہے مگر ہر کوئی کھلے دل سے اعتراف نہیں کرپاتا۔

میرے لیے کسی بڑے کو بڑا ماننا کوئی دشوار کام نہیں ہے اس لیے میں کھلے دل سے یہ اعتراف کرتا ہوں کہ کامی شاہ سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے اور ان میں سب سے خاص بات یہ ہے کہ جب لوگ دنیا اور خواہشاتِ دنیا کے پیچھے بھاگ رہے ہوں تو چپ چاپ ایک طرف بیٹھ کر تماشا دیکھو۔

سب منحصر ہے آپ پر، القصہ مختصر
دل دیکھیے یا دوڑ کے دنیا اٹھائیے

قدیم میں موجود شاعری سچائی، ایمانداری اور حقیقت پسندی میں گندھی ہوئی ہے جو پڑھنے والے پر اپنا پورا اثر چھوڑتی ہے۔ ہر شعر میں منظر ہے، خیال آرائی ہے، پس منظر ہے اور زندگی کا فلسفہ سانس لیتا دکھائی دیتا ہے۔

سب فلسفے وجود کے مٹی میں مل گئے
ایسی قدیم آگ سے اک دن ملا ہوں میں
غم اور کوئی شے ہے، خوشی اور کوئی شے
پر اپنے تعاقب میں رہی اور کوئی شے
تیشے سے سر کو پھوڑ کے فرہاد مر گیا
اُس کو جو پتھروں میں ملی اور کوئی شے
مٹی نے دِکھایا تھا مجھے اور کوئی نقش
پانی سے مگر آئی نِدا اور طرح کی
دو رنگ جو حاصل ہیں تجھے ان کو ملا کر
تصویر کوئی اور بنا، اور طرح کی
کچھ لوگ ابھی واقفِ زنداں ہی نہیں ہیں
اِس دشت میں آتی ہے ہوا اور طرح کی
خزاں کو سبز کِیا اور اب یہ سوچا ہے
سفید ہے جو بہت کاسنی کروں گا اُسے
وہ اپنا آخری لشکر بنا رہا ہوگا
شروعِ جنگ سے پہلے ہی جاملوں گا اُسے

شاعری کامی شاہ کے خون میں شامل ہے اور اس کے دل و دماغ میں دوڑتی پھرتی ہے، اس نے اپنے دکھ کو اور غصے کو اور خوابوں کو شاعری میں ڈھالا ہے اور صرف شاعری میں ہی نہیں وہ زندگی کے اچھے برے معاملات کو اپنے فن میں سمو دیتا ہے، صبح کے اجالوں، شام کے سایوں، رات کے اندھیروں، تتلیوں کے رنگوں اور پرندوں سے باتیں کرتا ہوا کامی شاہ آدمی کو ڈھونڈتا ہُوا خدا تک جا پہنچا ہے۔

سب کچھ بنایا اُس نے بغیرِ مشاورت
پھر مجھ کو اس نظام کا حصہ بنادیا
مجھ کو بنایا اُس نے شبیہِ قدیم پر
میرے لیے تمہارا سراپا بنادیا

میں سمجھتا ہوں کہ اچھا شاعر ہونے سے زیادہ مشکل کام مختلف شاعر ہونا ہوتا ہے۔ کامی شاہ کو اپنے الگ اور منفرد کا پوری طرح ادراک ہے، جبھی تو وہ کہتا ہے۔۔

تمہارے شہر میں شاعر بہت سے ہیں کامی
فقط یہ عرض ہے ان سے ہمیں جُدا سمجھو

کامی شاہ کی کتاب قدیم اس کے تخلیقی وفور کا ثمر بھی ہے اور اس کی خوش سلیقگی مظہر بھی ہے، انسان کا ادب ہی اصل میں ادب ہے جو کہ پوری طرح سے کامی شاہ کی شاعری میں نظر آتا ہے۔

آپ آدم ہیں، آپ اشرف ہیں
اس کا رکھیے گا دھیان آدمی جی
آدمی ہے تو آدمی کے لیے
کیوں نہیں مہربان آدمی جی
ہر ایک چہرے میں چہرہ تِرا نظر آئے
تِرے سِوا نہیں کوئی تو کیا نظر آئے
تُو میرے دل پہ کبھی ہاتھ رکھ کے دیکھ ذرا
سُنائی دے تجھے دھڑکن، دُعا نظر آئے

کامی شاہ نے لفظوں کو اپنے خون سے سینچا ہے۔ اس کی کتاب قدیم میں دریا، پھول، درخت، سبزہ، تتلیاں، پرندے، باغ، بغیچے، انگوروں کی بیلیں، سات پریاں، شہزادیاں، فرشتہ، بادشاہ، غلام سب اپنی پورے منظر نامے کے ساتھ موجود ہیں، اس کے ہاں زندگی اپنی پوری رنگارنگی کے ساتھ نظر آتی ہے۔ کامی شاہ لال فرشتے کو بھی جانتا ہے اور گنجے فرشتے کو بھی، وہ سبز پری سے بھی واقف ہے اور ایک تتلی کو اپنا دوست رکھتا ہے۔

انگوروں کے باغ میں کامی ایسی بھی اک شام ہوئی
لال فرشتے کے ملنے سے سبز پری کا بھید کھلا
اُن آنکھوں کے سِحر میں ہم نے عمر گزاری تب جا کر
جادو کے احوال کھُلے، جادونگری کا بھید کھلا
میں نے اک دن آئینے کو ایسے رُخ سے کھول دیا
خوش پوشی حیران ہوئی جب عریانی کا بھید کھُلا

زندگی کے ان لاتعداد رنگوں سے بننے والی کیفیات اور ان کیفیات کا انسان پر اثر اور اس کا شاعری میں تخلیقی استعمال کامی شاہ کا ہی خاصا ہے۔ رنگوں کی رنگ بازیوں سے اسے خوب جانکاری ہے۔ ایسی ہی صورتحال قدیم میں جگہ جگہ دکھائی دیتی ہے۔

باغ میں ایک باغ ہے، پھولوں میں ایک پھول
رنگوں میں ایک رنگ کو نیلا بنادیا
ایسا لگایا رنگ تِرے عشق نے مجھے
سارا مِرا وجود سنہرا بنادیا

کامی شاہ نے اپنے تجربات کو شاعری میں بخوبی استعمال کیا ہے، کچھ تجربے صرف تجربے ہوتے ہیں، کچھ ناکام تجربے ہوتے ہیں اور کچھ خطرناک، جان لیوا تجربے ہوتے ہیں۔

زخم کھرچا تو رات بہہ نکلی
ایک سورج گمان میں تھا کہیں
خوب جھگڑا کریں، خوب گریہ کریں
آئو مل جُل کے پھر اک تماشا کریں
وہ جو سب کچھ تھا اب وہ نہیں ہے کہیں
اب کسی اور کی کیا تمنا کریں
دل نہیں لگ رہا ہے کہیں بھی مِرا
اِس اذیت میں تھوڑا اضافہ کریں

کامی شاہ کا بھائی اور دوست ہونے کے ناتے میں اسے بہت قریب سے جانتا ہوں، مجھے لگتا ہے کہ کامی شاہ کے اندر بہت بڑی کائنات ہے جو باہر والی، ہماری آپ کی کائنات سے بھی بہت بڑی ہے۔ اس کی شاعری میں بار بار در آنے والے استعارے جیسے شام، دن ، سویرا، مٹی، پانی، جادو، آگ، چراغ، چاند، ستارے، دشت، تماشا اور تماشائی فکر و نظر کا ایک الگ منظرنامہ پیش کرتے ہیں۔


دیواروں میں در کا تماشا
خوب رہا اک گھر کا تماشا
جتنے تماشا گر ہیں یہاں پر
ایک سا ہے اکثر کا تماشا
لَوٹ کے بدھو گھر کو آئے
ختم ہُوا منظر کا تماشا
باہر شام اُتر آئی ہے
دیکھیے اب اندر کا تماشا


زندگی کی بے معنویت،لایعنیت اور اس کے اتار چڑھائو اور سرد و گرم سے شاعری کشید کرنا کامی شاہ کا ایک ایسا ہنر ہے جسے ہم اس کا وصفِ خاص کہہ سکتے ہیں، اس نے اس دشت کی سیاحی میں آنکھوں کے چندھیانے اور سر کے بالوں کے سفید ہو جانے تک ایک طویل سفر طے کیا ہے اور ابھی یہ سفر تمام نہیں ہوا ہے۔ اس نے مر کر دیکھا ہے اور بے جان لفظوں میں روح پھونکی ہے۔
بدن کے پار بھی اک سلسلہ رواں ہے مِرا


بدن کے دشت میں رہنے کی بھی اذیت ہے
دِکھائی دے گا کبھی آدمی کا دُکھ اُس کو؟
وہ جس کو مٹی کے بُت میں خدا نظر آئے
دِکھائی دے کہیں پانی میں آگ سی کوئی
اور آگ میں بھی کوئی رنگ سا نظر آئے


کامی شاہ کا مطالعہ بہت وسیع ہے اور مشاہدہ بھی۔۔ اس کے لیے شعر و ادب کا یہ کام نہ تو شہرت کمانے کا کوئی ذریعہ ہے نہ تعلقات بنانے کا، نہ ہی اس کے لیے یہ کوئی وقت گزاری کا ذریعہ ہے۔
وہ قلم اور کتاب کے اس تعلق کو ایک بڑی ذمے داری خیال کرتا ہے اور اپنے کلام میں پوری ذمے داری سے بات کرتا ہے۔ اس نے دو مصرعوں میں پوری انسانی تاریخ کو کس آسانی سے سمیٹ دیا ہے، یہ شعر دیکھیے۔۔۔
پہلا آدم تھا جو نکلا تھا کسی جنت سے
دیکھیے آخری انسان کہاں جاتا ہے


شاعری کامی شاہ کا مسئلہ ہے، جیسے وہ خود اپنے لیے ایک مسئلہ ہے، یا یہ کائناتی تماشا اس کے لیے ایک مسئلہ ہے، وہ اس ہونے نہ ہونے کے تماشے پر غور و فکر کرتا ہے اور ہر پل اپنے جی کو جلائے رکھتا ہے۔
کام نہیں کچھ کرنے لائق
خاک اُڑائی جاسکتی ہے
اپنا اپنا ظرف ہے بھائی، اپنی اپنی بات میاں
ہم نے اُس کو راہ دِکھائی، اُس نے ہمیں دیوار کیا
کون زمانی، کون مکانی، کون ہے کامی لافانی
کون تھا جس نے گھڑی بنائی وقت مرا دُشوار کِیا


کامی شاہ ایک بہترین شاعر اور کامیاب کہانی کار تو ہے ہی، وہ ایک بہت عمدہ دوست بھی ہے جو اپنے دوستوں کو کامیاب ہوتا دیکھ کر خوش ہوتا ہے، کامی شاہ اپنے دھیان کا پکا ہے اور اس کا گیان بھی سچا ہے، جبھی تو وہ اپنی تخلیقی لہر میں رہتے ہوئے اتنی سہولت سے ایسے شعر کہتا چلا جاتا ہے۔
ہے دیکھنے کو ضروری نگاہ کا ہونا
سو دھیان کر کہ تجھے دوستا نظر آئے
عورتیں ہوں، خواب ہوں کہ راز ہوں
قیمتی چیزوں کو پردہ چاہیے
بیٹھے بیٹھے یہ ترا دھیان کہاں جاتا ہے
دھیان کر دھیان، ارے نادان، کہاں جاتا ہے


اور یہ غزل تو اس کی تخلیقی سرگرمیوں، وجودی المناکیوں اور روحانی کیفیات کا ایک بالکل ہی الگ منظر نامہ پیش کرتی ہے۔
کوئی خواہش مگر نہ کی ہم نے
شام یونہی گزار دی ہم نے
یا کوئی خواب خواب میں دیکھا
شے کوئی زہر جیسی پی ہم نے
دو ٹکے کی وہ ایک شے تھی مگر
اُس کی قیمت زیادہ دی ہم نے
اٹھ گئے سب سمیٹ کر وحشت
وہ گلی پُرسکون کی ہم نے
سر سے کچھ کام لینا تھا آخر
اُس کی دیوار لال کی ہم نے
رنگ کی بات کیجیے کامی
آگ دیکھی ہے بھائی جی ہم نے


ہمارے سامنے موجود قدیم صرف ایک کتاب ہے اور وہ بھی شاعری کی جبکہ کامی شاہ کہانیاں بھی لکھتا ہے، تنقید کے میدان میں بھی سر کھپاتا ہے اور صحافت بھی کرتا ہے، آج کل کہتا ہے کہ کسی دوست کے لیے فلم بھی لکھ رہا ہے۔
اس کی کتاب پہلی کتاب تجھ بن ذات ادھوری ہے اور اس تازہ مجموعہ کلام قدیم کو پڑھ کر ہم اس کی شاعری کے منظرنامے سے تو کسی حد تک واقف ہوسکتے ہیں مگر اس کی شخصیت کو پوری طرح سمجھنے کے لیے اس کے دیگر تخلیقی میلانات پر بھی نظر کرنی پڑے گی۔ میں قدیم کی کامیابی کے لیے دعا گو ہوں

Share This Post
سید کامی شاہ معروف شاعر اور افسانہ نگار ہیں، گاہے گاہے ادبی مضامین اور کالم بھی لکھتے ہیں، ایک طویل عرصے سے اس دشت کی سیاحی میں مشغول ہیں، ان کی شاعری کے اب تک دو مجموعہ کلام اشاعت پذیر ہوچکے ہیں، پہلی کتاب تجھ بن ذات ادھوری ہے کہ نام سے دو ہزار آٹھ میں شائع ہوئی جبکہ دوسری کتاب قدیم کے نام سے دو ہزار اٹھارہ میں شائع ہوئی۔ کئی شعری انتخابات کا حصہ بھی بن چکے ہیں۔ افسانے، مضامین، کالم اور شاعری کثیر تعداد میں ملکی و غیر جرائد میں اشاعت پذیر ہوتی رہتی ہے۔ سید کامی شاہ پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں، اخبارات و جرائد میں طویل عرصے تک صحافیانہ ذمہ داریاں نبھانے کے بعد الیکٹرانک میڈیا میں طویل عرصے سے سرگرم ہیں۔ اردو زبان کے ایک کثیر الاشاعت جریدے گوسپ کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں اور میڈیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں برقی صحافت بھی پڑھاتے رہے ہیں۔ آج کل ایک نجی میڈیا ہائوس میں ویب پروڈیوسر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ تخلیقی میدان میں اپنی کہانیوں کی کتاب کاف کہانی، شاعری کے مجموعے وجود سے آگے اور ناول کشش کا پھل پر کام کررہے ہیں۔ عصری شعرا و ادبا پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ تازہ کامی کے نام سے زیرِ طبع ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>