خورشید طلب کی غزلیں

Read Urdu Poetry on the topic of Khursheed Talab ki gazal. You can read famous Urdu Poems, Gazal, and Urdu Sher o Shayari Whatsapp Status. Best and popular Urdu Ghazals and Nazms can be shared with friends. Urdu Tiktok Status Poetry and Facebook Share Urdu Poetry available.

خورشید طلب کی غزلیں
خورشید طلب کی غزلیں

شاعر : خورشید طلب

خاندانی نام : خورشید عالم خان
ادبی نام : خورشید طلب
(ابتدائی دور میں خورشید قمر، بعد میں خورشید طلب)
پیدائش : 25 اگست 1963
آبائی وطن : اکبر پور، رہتاس، بہار
آغاز شاعری : 1976
تلمیذ : تاج پیامی اور سلطان اختر
( دونوں سے مختصر مدت کے لیے)
تعلیم : بی کام
پیشہ : سرکاری نوکری ( سینٹرل گورمنٹ )
شعری : مجموعے :
1۔ دعائیں جل رہی ہیں (2006)
2 ۔ جہاں گرد (2012)
پتہ : بوکارو اسٹیل سٹی، جھارکھنڈ
رابطہ نمبر : 8709786440


غزل

قرینِ قلب و جاں ہونے کا مطلب
سمجھتے ہو یہاں ہونے کا مطلب
تری خود کی کوئی پہچان ہے کیا
فلاں ابن فلاں ہونے کا مطلب
کرشمہ آگ کا دیکھا ہے ہم نے
سمجھتے ہیں دھواں ہونے کا مطلب
جب اکدن خاک ہوجانا ہے سب کچھ
یہ آشوب جہاں ہونے کا مطلب
سیاہی قلب میں پسری ہوئی ہے
جبیں پر کہکشاں ہونے کا مطلب
پتہ بھی ہے امیرِ کارواں کو
امیرِ کارواں ہونے کا مطلب
اگر خاموش ہی رہنا ہے سب کو
تو پھر منھ میں زباں ہونے کا مطلب
میسر. جب نہیں سایہ کسی کو
سروں پر آسماں ہونے کا مطلب
خدا تو بس عبادت کے لئے ہے
خدا سے بد گماں ہونے کا مطلب
ہو کچھ تو سعیِ لاحاصل کا حاصل
مرے یوں رائیگاں ہونے کا مطلب؟
ہری کر دے بہو کی کوکھ مولا!
اسے بتلادے ماں! ہونے کا مطلب
طلب اچھا ہے گوشہ گیر ہے تو
جہاں سب ہیں وہاں ہونے کا مطلب



غزل

تیرا نہیں بنا تو کسی کا نہیں بنا
خوش ہوں کہ میرا عشق تماشہ نہیں بنا
کچھ ایسے اس نے مٹی ہماری خراب کی
پھر اس کے بعد کچھ بھی ہمارا نہیں بنا
ذرّے تمام دیکھے گئے تھے ہواؤں میں
اس دن کے بعد کوئی ستارہ نہیں بنا
اک ساتھ اک طویل مسافت کے باوجود
افسوس اعتبار کا رشتہ نہیں بنا
یاروں نے حسن یار پہ دیوان لکھ دیے
ہم سے تو ایک ڈھنگ کا مصرع نہیں بنا
اس بات کا ملال مجھے بھی ہے کوزہ گر!
تو جیسا چاہتا تھا بنانا نہیں بنا
اس کی ہنسی کے رنگ چرائے گئے بہت
لیکن کسی کے گال میں گڈھا نہیں بنا
لہروں کے اضطراب سے لگتا تو ہے یہی
ساحل پہ آج کوئی گھروندہ نہیں بنا
لہجے میں اس کے حکم تھا اصرار کی جگہ
اس بار مجھ سے کوئی بہانہ نہیں بنا
انسان بن کے آیا تھا میرے قریب وہ
سو میں بھی اب کی بار فرشتہ نہیں بنا
رکھا ہوا ہے اس نے نشانے پہ سب کا دل
وہ دل ابھی کسی کا نشانہ نہیں بنا
اک عمر اس نے مجھ میں گزاری مگر طلب
وہ شخص میری ذات کا حصہ نہیں بنا


غزل

لباسِ جسم کی اک اک شکن سے بولتا ہے
وہ بولتا ہے تو سارے بدن سے بولتا ہے
یہاں ہے کوئی ترا غم گسار تو میں ہوں
غبارِ راہ غریب الوطن سے بولتا ہے
کہاں سے آتے ہیں ذہنوں میں تازہ تازہ خیال
یہ کون ہے جو ہمارے دہن سے بولتا ہے
ابھارتا ہے وہ رنگوں سے اک جہانِ طلسم
جو بولنا ہو اسے پیرہن سے بولتا ہے
زبان اپنی ملاحت پہ خون روتی ہے
کسی سےجب بھی کوئی روکھےپن سے بولتا ہے
چمن میں جو بھی ہے رونق اسی کے دم سے ہے
کبھی سنا ہے کوئی گل چمن سے بولتا ہے
پہاڑ اتنی خموشی سے کیسے ٹوٹ گیا
یہاں تو شیشہ بھی ٹوٹے تو چھن سے بولتا ہے
جو عمر بھر کی ریاضت کے بعد آتا ہے
وہ اعتماد طلب تیرے فن سے بولتا ہے


غزل

حور ہو یا پری ، نہیں چلے گی
کہہ دیا نا کوئی نہیں چلے گی
تو! مجھے چاھئے مجھے بس تو
دوسری ، تیسری نہیں چلے گی
اب تو صحرا بھی ٹوکنے. لگا ہے
اتنی وحشت تری نہیں چلے گی
اس تماشائے رنگ و روغن میں
آپ کی سادگی نہیں چلے گی
تم چلے جاؤگے ، چلے جاؤ
کیا مری زندگی نہیں چلے گی
یار! تلوار چل رہی ہے یہاں
اس جگہ شاعری نہیں چلے گی
ایک زنجیر نے لپٹ کے کہا
اب سے. آوارگی نہیں چلے گی
سر سے پانی گزرنے والا ہے
بھائی اب خامشی نہیں چلے گی
عشق ہے تو ہمارے سر ماتھے
عشق میں دل لگی نہیں چلے گی
ہاتھ میں پھول جیب میں خنجر
اس طرح دوستی نہیں چلے گی


غزل

میں بکھر جاؤں تو دوبارہ مجھے ترتیب دے
کیا عجب جو میرا فن پارہ مجھے ترتیب دے
منتشر رہتا ہوں زیرِ حلقئہ سیّارگاں
کیا پتہ کب کون سیّارہ مجھے ترتیب دے
اسکی بےحس انگلیوں میں خون بن کردوڑجاؤں
اور لمسِ دستِ ناکارہ مجھے ترتیب دے
تو مجھے چھولے تو بن جاؤں میں گلزارِ ارم
مو بہ مو خوشبو کا فوّارہ مجھے ترتیب دے
کب تلک پھرتا رہوں میں گرد سا خانہ خراب
آ کوئی دن شامِ آوارہ مجھے ترتیب دے
کوئی چنگاری کبھی خاکسترِ جاں سے اٹھے
پھر کوئی نو خیز انگارہ مجھے ترتیب دے
میں نظر بن کر بکھر جاؤں ترے چاروں طرف
پھر ترا صد رنگ نظّارہ مجھے ترتیب دے
میری بے ترتیبیوں پر بھی رکھے کوئی نگاہ
گھر میں جب آؤں تھکا ہارا مجھے ترتیب دے


غزل

زوال صبح ہوں تحریر کر لے
مری بے چارگی تصویر کر لے
جو میرے ساتھ دم گھٹتا ہے تیرا
الگ اپنا جہاں تعمیر کر لے
میں سچ ہوں جگ اجاگر ہی رہوں گا
تو اپنے جھوٹ کی تشہیر کر لے
کہاں وہ سورما پیدا ہوا جو
انا میری تہہِ شمشیر کر لے
میں اس آوارگی سے تھک چکا ہوں
کوئی آئے مجھے زنجیر کر لے
نمودِ صبح کب روکے رکی ہے
اندھیرا چاہے جو تدبیر کر لے
رہوں کب تک حریفِِ آب بن کر
سمندر آ ، مجھے تسخیر کر لے
طلب لکھے گا خود اپنا مقدر
جو تجھ سے بن پڑے تقدیر ، کر لے !


غزل

جس کو دیکھو وہی پیکار میں الجھا ہوا ہے
ہر گریبان کسی تار میں الجھا ہوا ہے
دشت بے چین ہے وحشت کی پزیرائی کو
دلِ وحشی درو دیوار میں الجھا ہوا ہے
جنگ دستک لئے دروازے تلک آپنہچی
شاہزادہ لب و رخسار میں الجھا ہوا ہے
سر کی قیمت مجھے معلوم نہیں ہے لیکن
آسماں تک مری دستار میں الجھا ہوا ہے
اک حکایت لبِ اظہار پہ ہے سوختہ جاں
ایک قصہ ابھی کردار میں الجھا ہوا ہے
آئیے بیچ کی دیوار گرا دیتے ہیں
کب سے اک مسئلہ بیکار میں الجھا ہوا ہے


غزل

گھر کی رنجش سرِ بازار نکل آتی ہے
بات ہی بات میں تلوار نکل آتی ہے
روز دیوار میں چن دیتا ہوں میں اپنی انا
روز وہ توڑ کے دیوار نکل آتی ہے
رات کے پنچھی ادھر ڈھونڈھنے آتے ہیں پناہ
دھوپ جب جھیل کے اس پار نکل آتی ہے
مصلحت کوشی سجا لیتی ہے سر پر دستار
حق پرستی طرفِ دار نکل آتی ہے
سست رو ہوتے ہیں سب اپنے سفر میں پہلے
ٹھوکریں لگتی ہیں ، رفتار نکل آتی ہے
دیکھتے دیکھتے قدریں ہی بدل جاتی ہیں
کام کی چیز بھی بےکار نکل آتی ہے
کوئی موسم ہو کبھی بانجھ نہیں ہوتے خواب
شاخ کوئی ثمر آثار نکل آتی ہے
فیصلہ جاتا ہے ہر بار محبت کے خلاف
یہ ابھاگن ہی خطا کار نکل آتی ہے
آگ بن جاتی ہےجنگل کی طلب مور کی پیاس
پیاس جب چھید کے منقار نکل آتی ہے


غزل

نقوشِ رفتہ خجل ہو کے ڈھونڈتا رہا میں
کل آئینے میں بہت دیر بت بنا رہا میں
نہ جانے کس کی توجہ کی آبیاری تھی
خزاں برستی رہی اور ہرا بھرا رہا میں
نکل گئی تھی مِری روح لمبے سیر کو اور
بدن میں اپنے کئی دن مَرا پڑا رہا میں
غضب کی ہونی ہے بارش ، بہت تپی ہے زمیں
یہ سوچ سوچ کے اندر سے بھیگتا رہا میں
عجیب نشْہ بدن کی جمالیات میں تھا
تمام عمر غریقِ مطالعہ ریا میں
اب اپنےبارے میں سوچوں گاخوب سوچوں گا
بہت زمانے کے بارے میں سوچتا رہا میں
گزر رہا تھا طلب سرسری ابھی جس سے
جب اس کو غور سے دیکھا تو دیکھتا رہا میں


غزل

ہم تو طوفان سے ٹکرائے ، بھنور سے گزرے
اب سمندر پہ بھی لازم ہے کہ سر سے گزرے
اپنی آنکھیں میں وہیں پھوڑ لوں، اندھا ہو جاؤں
ایسا منظر تو کہیں میری نظر سے گزرے
ہم بھی اس بھیڑ میں شامل ہیں اٹھائے ہوئے ہاتھ
دیکھئے ، کس کی دعا بابِ اثر سے گزرے
ایک ہی سمت کو جاتے ہیں یہ رستے سارے
جس کا دل چاہے جدھر جائے ، جدھر سے گزرے
پاؤں ہی پھسلے ملنگوں کے نہ گاگر چھلکی
رقص کرتے ہوئے پنگھٹ کی ڈگر سے گزرے
خاک ہی خاک کی منزل تھی مگر خاک بسر
دشت میں بھٹکے ، خلاؤں کے. سفر سے گزرے
پھر سے بکھرے ہوئے ہم لوگ کہیں یکجا ہوں
چاہتے ہیں کوئی طوفان ادھر سے گزرے
سر پہ کچھ بوجھ ہی ایسا تھا طلب پھول سے پاؤں
روز اک تپتی ہوئی راہ گزر سے گزرے

Share This Post
Written by مدیر اعلیٰ
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>