فرعونی لوک کہانی

فرعونی لوک کہانی
فرعونی لوک کہانی

سچ کا بیٹا

افسانہ نگار: ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی 

(جھوٹ) اپنے بھائی (سچ) کو ایک جال میں پھنسانا چاہتا تھا، اس لیے اس نے اپنا خنجر اس کے پاس امانت کے طور پر چھوڑ دیا، پھر (جھوٹ) خنجر چرانے میں کامیاب ہو گیا،اور جب اس نے اپنے بھائی (سچ) سے خنجر کے بارے میں پوچھا تو (سچ) نے خنجر کے کھونے کے لئے اپنے بھائی (جھوٹ) سے معافی مانگی، لیکن (جھوٹ) نے اس کا عذر قبول نہیں کیا اور دیوتاؤں سے شکایت کی، اور دعویٰ کیا کہ اس کا خنجر بہت بڑا ہے، پہاڑ کی اونچائی تک اور اس کی مٹھی ایک درخت کی بلندی تک ہے۔ تو دیوتاؤں نے حکم دےکر (جھوٹ) سے خنجر کو معاوضہ دینے کی تجویز پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ جھوٹ نے اپنے بھائی (سچ) کی آنکھوں کو اندھا کرنے اور اپنے گھر پر ایک اندھا دربان مقرر کرنے کا مشورہ دیا تو دیوتا راضی ہو گئے۔


مقررہ مدت کے بعد (سچ) (جھوٹ) کے دروازے پر پہرے دار کے طور پر کھڑا رہنے کے باوجود جب (جھوٹ) نےاس میں صبر و تحمل کی خوبی پائی تو اس نے اپنے بھائی کو قتل کرنے کا فیصلہ کرکے اپنے دو غلاموں کو حکم دیا کہ اسے بھوکے شیر کے پاس پھینک دیں ،تاکہ اسے کھا جائے۔ لیکن (سچ) کی شرافت نے اسے بچا لیا، کیوں کہ جن دو غلاموں کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی، انہوں نے (جھوٹ) کے حکم پر عمل نہ کیا۔ دونوں نے اسے روٹی اور پانی دیا اور جھاڑی کی طرف بھاگ گئے، اور دونوں نے (جھوٹ) کو بتایا کہ شیر اسے کھا گیا ہے۔


(سچ) جنگل میں اکیلا رہنے لگا، کچھ عرصہ زندگی گزاری ، اور ایک دن ایک خوبصورت عورت نے اسے دیکھا اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اس سے محبت کر کے اس سے شادی کر لی۔ پھر اسے اپنے گھر کے قریب ایک گھر میں رکھا، تاکہ لوگوں کو اس کے بارے میں پتہ نہ چلے۔ ان کے یہاں ایک صحت مند اور ذہین بیٹا پیدا ہوا، وہ پڑھنے لکھنے میں ماہر تھا۔ اس نے ایک بہادر اور ذہین شہسوار بننے کے لیے تمام مارشل آرٹس میں بھی مہارت حاصل کی۔ جب وہ بڑا ہوا تو اس نے اپنی ماں سےاپنے باپ کے بارے میں پوچھا، تو اس کی ماں نے بتایا کہ اس کا والد وہ اندھا دربان ہے، جب اسے اپنے باپ کی کہانی سمجھ آئی تو اس نے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا، چنانچہ اس نے ایک بیل خرید لیا۔ اور اسے اپنے چچا (جھوٹ) کے چرواہے میں سے ایک کو دے دیا، تاکہ (جھوٹ) کی بھیڑ بکریوں کے درمیان ایک معمولی رقم کے عوض اس کی پرورش ہو، جب تک کہ چچا (جھوٹ) اپنے سفر سے واپس آجائے۔


چونکہ بیل بڑا اور خوبصورت تھا تو جب (جھوٹ) نے بڑے ہوئے بیل کو دیکھا تو اسے بہت اچھا لگا، کھانے کے لئے اس نے بیل کو ذبح کر دیا۔ جب (سچ) کے بیٹے کو بات کا علم ہوا تو اس نے اپنے بیل کو واپس کرنے کے لئے دیوتاؤں سے شکایت کی اور ان سے کہا: میرے بیل کی طرح کوئی بیل نہیں ہے۔ اس کے سینگ مشرق اور مغرب کے پہاڑ تک پہنچ جاتے تھے۔ دیوتاؤں نے اس پر مبالغہ آرائی اور جھوٹ بولنے کا الزام لگایا، تو(سچ) کے بیٹے نے دیوتاؤں سے کہا : کیا تم نے پہلے ایک بڑا خنجر دیکھا ہے جوپہاڑ کی اونچائی تک اور اس کی مٹھی ایک درخت کی بلندی تک ہے۔ اور اس نے اپنے چچا (جھوٹ) کو بے نقاب کر دیا۔ اور دیوتاؤں سے عدالت قائم کرنے کی گزارش کی ۔ دیوتاؤں نے ( جھوٹ) کو سو کوڑے مارے، اسے شدید زخمی کر دیا، اس کو آنکھوں سے اندھا کر دیا اور یہ کہ وہ اپنے کیے کے بدلے میں اپنے بھائی (سچ) کا دربان بن جائے۔
(یہ کہانی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جھوٹ کی رسی چھوٹی ہوتی ہے چاہے وہ کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو۔)

ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی
اردو کی ایسوسی ایٹ پروفیسر
عین شمس یونیورسٹی
قاہرہ۔ مصر

Share This Post
Written by مدیر اعلیٰ
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>