محمد افضل (بکٹ کہانی) کی خدمات

محمد افضل (بکٹ کہانی) کی خدمات
محمد افضل (بکٹ کہانی) کی خدمات

اردو ادب میں افضل جھنجھانوی نے اپنی مثنوی “بکٹ کہانی” کے ذریعے ایک نئی صنف کا آغاز کیا جسے “بارہ ماسہ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ افضل جھنجانوی کون تھے اور کہاں پیدا ہوئے اس بارے میں زیادہ تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔ افضل کا ذکر سب سے پہلے قیام الدین قائم نے اپنے “مخزن نکات” میں کیا تھا اور انہیں دیارِ مشرق کا ساکن بتاتے ہوئے اپنی بات ختم کردی تھی۔

یہی حال میر تقی میر کا رہا۔ انہوں نے اپنی تصنیف “نکات الشعراء” میں ان کا ذکر کرنا بھی مناسب نہ سمجھا۔ قائم کے بعد اسپرنگس نے شاہان اودھ کی کتب کی فہرست شائع کی تو اس نے افضل کا مختصر ذکر کرتے ہوئے صرف اتنا لکھ دیا کہ وہ میرٹھ کے قریبی گائوں جھنجھانہ کے رہنے والے تھے۔ وہیں پروفیسر مسعود حسین خان کے مطابق افضل پانی پت کے رہنے والے تھے۔ اس طرح ان کی زندگی کو لے کر ادبی حلقوں میں ایک اختلاف پیدا ہوگیا۔

والہ نے افضل کو پانی پتی بتایا ہے۔ ان کے قول کے مطابق وہ نہ صرف ہندی اور فارسی کے باکمال شاعر تھے بلکہ فارسی نثر لکھنے پر بھی یکساں قدرت رکھتے تھے۔ معلمی ان کا پیشہ تھا اور ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ مجمع کثیر ان کے حلقہ ء درس میں شامل ہوتا تھا۔

افضل کہاں پیدا ہوئے اس پر بحث ہوچکی لیکن یہ بات طے ہے کہ اردو ادب میں سب سے پہلے بارہ ماسہ کی صنف کا آغاز افضل کی “بکٹ کہانی” کے ذریعے ہوتا ہے۔ میر حسن کے مطابق ان کی مثنوی “بکٹ کہانی” کو کافی شہرتیں حاصؒ ہوئیں۔ حالات تو یہاں تک پہنچ گئے کہ بہت سے لوگوں نے ان کی اس مثنوی کے اشعار کو زبانی یاد کرلیا۔

افضل ہندی زبان کے بھی بڑے ماہر تھے اور انہوں نے ہندی زبان میں بھی اپنے جوہر دکھائے ہیں لیکن یہ افسوس کی بات ہے کہ ان کی ہندی شاعری اب موجود نہیں ہے۔

مولانا افضل ایک عالم بھی تھے لیکن ایک حادثے نے ان کی زندگی کو بدل دیا اور وہ شاعری کی نشستیں قائم کرنے لگے۔ ہوا یوں کہ انہیں ایک ہندو لڑکی سے عشق ہوگیا اور اس عشق کی وجہ سے زہد و تقوی کو خیرآباد کہا اور وارفتگی کے عالم میں عاشقانہ غزل کھنے لگے جن میں سے ایک غزل کا مطلع یہ ہے:

عالم خراب حسن قیامت نشان کست
دور کدام فتہ گراں است زمان کست

مولانا افضل کی یہ کیفیت دیکھ کر وہ عورت بے عزتی کے ڈر سے شہر متھرا جا بسی۔ مولانا کچھ عرصہ تک سر ٹکراتے رہے اور بالاخر پتہ حاصل کر کے اس کے شہر پہنچ گئے۔ وہاں ایک دن کیا دیکھتے ہیں کہ وہ لڑکی بخوشی ایک باغ میں سیر کر رہی ہے۔ افضل بے اختیار اس کی جانب بڑھے اور حسبِ حال یہ شعر پڑھا:

خوشا رسوائی و حال تباہے
سرِ راہے و آہے و نگاہے

مولانا کی یہ بے موقع کہی ہوئی بات لڑکی کو بہت بری لگی اور اس نے ان سے کہا کہ آپ کو شرم نہیں آتی؟ آپ کی داڑھی سفید ہو رہی ہے اور آپ اظہارِ محبت کر رہے ہیں۔ لڑکی کی اس بات کو سن کر مولانا نے اپنا حلیہ بدل دیا اور داڑھی منڈوا کر زنار پہنا اور مندر کے ایک پجاری کی صحبت اکتیار کر لی۔

جب پجاری کی وفات ہوگئی تو افضل اس مندر کے پجاری مقرر ہوئے۔ اتفاق سے ایک دن وہی لڑکی مندر میں تشریف لاتی ہے اور جب وہ پجاری کے پائوں چھونے کے لئے ہاتھ نیچے لاتی ہے تو افضل اس کے ہاتھ پکڑ کر آنکھوں سے لگا لیتے ہیں۔ اس پر وہ لڑکی انہیں پہچان لیتی ہے اور حیران رہ جاتی ہے کہ اس کے عشق میں وہ مندر کے پجاری بن گئے۔ بالاخر وہ لڑکی مسلمان ہوجاتی ہے اور افضل بھی اسلامی ماحول میں آ کر اس سے شادی کر لیتے ہیں اور باقی زندگی بخوشی گزارتے ہیں۔

بارہ ماسہ کیا ہے؟

بارہ ماسہ شاعری ایک ایسی صنف ہے جس کے ذریعے ایک برہن کے بارہ مہینوں کے غم بھری داستان کو بیان کیا جاتا ہے۔ اس صنف کو لکھنے کے لئے مثنوی کی ہیت استعمال کی جاتی ہے۔ یعنی ہر شعر غزل کے مطلع کی طرح ہم قافیہ ہوتا ہے اور ردائف پر مشتمل ہوتا ہے۔ بارہ ماسہ کو موسمی نظم بھی کہا جاتا ہے۔ اافضل جھنجھانوی کی کتاب بکٹ کہانی بھی بارہ ماسہ ہی کی صنفِ سخن میں لکھی گئی ہے۔

Share This Post
Written by مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>