ایک چمچ نیوٹران ستارہ

ایک مفروضہ ہے کہ نیوٹران ستارے پر موجود مواد کو اگر ایک چمچ بھرا جائے تو اس کا وزن زمین کے وزن سے بھی کئی گنا زیادہ ہوگا۔ یہ نہایت عجیب و غریب بات ہے لیکن کیا سائنسی رو سے اس میں کوئی سچائی پائی جاتی ہے؟ آئیے اس مفروضے کو سائنسی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

نیوٹرون ستاروں کا شمار مردہ ستاروں میں ہوتا ہے۔ جب کوئی بھاری بھرکم ستارہ اپنی زندگی کے اختتام پر سپرنووا بن کر پھٹ پڑتا ہے تو اس کا زیادہ تر مادہ بکھر جاتا ہے لیکن اس کے کور کا کچھ نہ کچھ حصہ بچ جاتا ہے۔ اگر اس بچے کچے مادے کی کمیت 1.4 سورجوں کی کمیت برابر ہو تو وہاں ایک نیوٹران ستارہ اور اگر 3 سورجوں کی کمیت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو وہاں ایک بلیک ہول بن جاتا ہے۔

اب اندازہ کرلیں کہ 1.4 سورجوں کے برابر کمیت کو 16 کلومیٹرز کے گھیرے میں سکیڑ دیا جائے تو وہاں گریوٹی کتنا زیادہ ہوجائے گا؟ بہت ہی زیادہ۔ اسی بے پناہ گریوٹی کی وجہ سے نیوٹرون ستارے کے ذرات کا وزن کروڑوں اربوں گنا بڑھ جائے گا۔

ایک چمچ نیوٹران ستارہ

اگرچہ ہم نیوٹران ستارے سے چمچ بھر کر نہیں نکال سکتے مگر ہم با آسانی کیلکیولیٹ کرسکتے ہیں کہ اس کے ایک چمچ کے برابر ذرات کا وزن ایک کروڑ ٹن کے برابر ہوگا۔

جہاں تک پوسٹ کے مندرجات کا تعلق ہے تو یہ غلط ہے۔ ایک کروڑ ٹن کے وزن کو دنیا کے سات ارب انسانوں کے وزن سے تقابل کریں تو یہ بہت ہی کم پڑجائیں گے۔

Share This Post
Written by مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>