خلاء سے مسلسل آنے والے سگنلوں سے سائنسداں حیران

خلاسے مسلسل آنے والے سگنل
خلاسے مسلسل آنے والے سگنل

انسان برسوں سے ایلین (alien)کی تلاش کر رہا ہے ۔ سائنداں زمین سے ریڈیائ لہریں بھیج کر ایلین سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر ایلین یا خلائ مخلوق نے اب تک ان کے کسی پیغام کا جواب نہیں دیا تھا اور یہ کوشش ناکام ہی رہی تھی ۔

ایلین انسان کے پیغام کا جواب کیوں نہیں دیتے ؟ وہ ہیں بھی یا نہیں ؟ وہ ہیں بھی تو کہاں ہیں؟ 1950 میں مشہور ماہر علم طبیعات اینیریکو فرمی نے یہ سوالات اپنے ایک ساتھی سے پوچھے تھے ۔ فرمی کا ماننا تھا کہ اس کائنات میں انسانوں جیسی اور کئ عقلمند تہذیبیں الگ الگ سیاروں پہ رہتی ہیں ۔ لیکن پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر وہ ہیں تو ان سے ہمارا رابطہ قائم کیوں نہیں ہو پاتا ؟ وہ کہاں ہیں؟

فرمی کا یہ سوال بیحد مشہور ہے ۔ اور اس سوال سے پیدا ہونے والے تضاد کو FERMI PARADOX کہتے ہیں ۔ SETI سرچ فار ایکسٹرا ٹیریسٹیرئر کئ سال سے ان سوالوں کے جواب تلاش رہے ہیں ۔

لیکن اب جو خبر ہم آپکو بتانے جا رہے ہیں تو کیا وہ اس سوال کا جواب ہے ۔ دراصل سائنس دانوں نے پہلی بار ایک ایسا سگنل کھوجا ہے جو ایک خاص وقفے کے بعد مسلسل خلاء سے زمین کی طرف آ رہا ہے ۔ ابھی تک اس سے وابسطہ پہلو پراسرار ہیں ۔ سائنسدانوں نے اس سگنل کا نام FRB رکھا ہے۔

ناسا سے لی گئی خلائی تصویر
ناسا سے لی گئی تصویر

آخر کیا ہے FRB یہ سگنل کہاں سے آ رہے ہیں ۔سائنسدانوں نے کس طرح اس سگنل کا پتہ لگایا؟ ان سبھی سوالوں کے جواب ہم آپکو دیں گے ۔

کیا ہے FRB

ایسا نہیں ہے یہ واقعات پہلی بار سننے کو ملی ہے ۔ پہلے بھی خلاء سے پراسرار ریڈیو سگنل آنے کے واقعات ملتے ہیں ۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ سائنسدانوں نے اس وقت جو سگنل کھوجا ہے وہ ایک خاص وقفے کے بعد بار بار آتا ہے ۔ اس جا رکھا گیا ہے FRB یعنی فاسٹ ریڈیو بسٹ۔

کیسے کیا گیا اس کا تجربہ

سائنسدانوں کے مطابق زمین سے قریب پانچ سو ملین مطلب پانچ سو کروڑ لائٹ ائیر دور سے آ رہا ہے ۔ کینڈا کے CHI یعنی کینیڈین ہائڈروجن انسنٹیسٹی میپنگ ایکسپریمنٹ کے سائنسدانوں چار سو نو دنوں تک ان ریڈیو سنگلز کے دائروی پر نگاہ رکھی ۔ رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے بتایا کہ یہ خلاء سے چار دنوں تک ایک گھنٹوں تک آتی رہتی ہیں ۔ ان ترنگوں کی معیاد کافی مختصر ہوتی ہے ۔اس کے بعد ان کا آنا بند ہو جاتا ہے۔ یہی عمل بارہ دنوں کے بعد دوبارہ شروع ہوتا ہے ۔

آخر کیا ہے ان ترنگوں کا منبع

سائنسدانوں کے لیے ابھی بھی یہ ریڈیائ لہریں ایک پہیلی بنی ہوئ ہیں ۔سائنسدانوں کا کہنا ہے اگر منبع کا علم ہو جائے تو اس بات کا بھی خلاصہ ہوگا کہ یہ لہریں کیوں آ رہی ہیں ۔خاص بات یہ ہے کہ یہ ریڈیائ لہریں الگ الگ جگہوں سے آ رہی ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں نے بتایا ہے کہ پہلے فاسٹ ریڈیو بسٹ ایک چھوٹی کہکشاں سے آیا تھا ۔ اس کے بار دوسری گھماؤ دار کہکشاں سے آیا تھا ۔ فی الحال ان ریڈیوئ لہروں کا پتہ لگانے میں مصروف ہیں ۔ آپ کو بتا دیں یہ کائنات اتنی بڑی ہے کہ اس کا تصور بھی محال ہے ۔ تسلیم کیا جاتا ہے کہ کائنات میں ہماری زمین ریت کے ایک ذرے کے برابر بھی نہیں ہے ۔اس زمین سے کڑوڑوں گنا بڑے سیارے ہماری کائنات میں موجود ہیں ۔

Share This Post
Written by مدیر اعلیٰ
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>