ٹوّیٹلر

افسانہ نگار : اسد محمود خان

”کیریکٹر“کہانی کی جان ہوتا ہے ……
عالمی تھیٹر کے امریکی ہال میں الیکشن ۶۱۰۲ء کے بعد جب پردہ بے نقاب ہُوا تو”مسٹرڈونلڈ ٹرمپ“ کی کہانی چل پڑی تھی؛ہرچند کہ موجودہ کہانی میں چلنے والے اَب تک کے تمام مناظر میں مرکزی ”کیریکٹر“ کا ”کردار“ مختصر مختصر مگرتماش بینوں کی تفریح و طبع کا سامان مہیا کرنے کے لیے کافی تھا۔بدلے منظر نامے میں یُوں موقع بے موقع بن جانے والے تفریح و طبع کے موقعوں پر سب سے نمایاں ”کردار“مسٹر ٹرمپ کا ہی رہا ہے۔ نئی کہانی کی نقاب کشائی ہُوئے گنتی بھر مہینے گزرے کہ سال کی آخری شب منانے کاسمے آپہنچا اور موصوف ہاتھ میں قلم سنبھالے کسی چِٹھی پر دستخط فرمانے کے انتظار میں ”وائٹ ہاؤس“ کابینہ کے سامنے کرسی گھما رہے تھے۔صد فی صد درست فرماتے ہیں کہ سال کی آخری شب میں پچھلے برس کی تاریخ سمیٹ کر اَگلے برس اُمید کی جھولی میں ڈالے جانے کی روایت منانے کا اہتمام تو پُوری دُنیا میں کیا جاتا ہے لیکن رواں برس کی آخری جاتی شب نے جس دم اَٹلانٹک اَ وشن (The Atlantic Ocean) اور میکسیکو گلف (The Gulf of Mexico) کے مثلِ شیشہ شفاف نیلگوں رنگوں سے نکلتے سبز زمردی ”کلّاوے“ میں جُھولتے ”مارا ٓلاگُو“ محل میں چھپی روشنی سے جھانکتی اگلی صبح کشید کرنے کی کوشش کی توبھی مسٹر ٹرمپ کی اَندر جاتی چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے بڑے بڑے خواب نکلنے کی کوشش میں جھانک رہے تھے؛
”گُڈ اَیوری باڈی! ہیپی نیو ائیر!!!“
(سب لوگ اچھے ہیں؛ نیا سال مبارک)


بلیک سوٹ میں کالے بٹنوں والی سفید شرٹ اور سیاہ ”بَو ٹائی“ میں ملبوس مسٹر ٹرمپ نے مہمانوں والے ہال کے ریمپ پرآتے ہُوئے باآوازِ بلند کہا؛جہاں ایک پہلو پرستاروں سے مزین پژمردہ گلابی، میانہ لمبائی والی اسکرٹ میں امریکی خاتونِ اوّل مِیلانیہ جب کہ دوسرے پہلو پربلیک سوٹ سے جھانکتی سفید شرٹ اور سیاہ ”بَو ٹائی“ میں ملبوس سب سے چھوٹا اور خاتونِ اوّل سے اِکلوتا بیٹا بارون بھی قدم سے قدم ملاتے ساتھ پہنچ چکے تھے جب کہ صاحب کی پہلی بیوی اَیوانا سے بڑی بیٹی اَیوانکا اور دوسرے رشتہ دار پہلے سے ہال میں موجود مہمانوں کے ساتھ کھڑے نئے سال کی مبارک بادیں بانٹ رہے تھے؛
” ہیپی نیو ائیر!!!“
(نیا سال مبارک)


مہمانوں کے اکٹھ سے نکلی یک بارگی نئے سال کی مبارک بادنے مسٹر ٹرمپ کی سرخ سپیدچمکتی پیشانی پراپنا بوسہ چھوڑ دیا؛
”آئی تھینک! یُو کین مُوو اِن سائیڈ؛ میک سَم فوٹو گرافس اینڈ انجوائے“
(میرے خیال میں آپ سب اَندر چلیں؛ تصویریں بنائیں اور خوشی منائیں)
مسٹر ٹرمپ نے چلتے چلتے دی مبارک بادپر جوابی مبارک بادوصول کی اور بائیں ہاتھ پر کھڑے مہمانوں کے ہجوم کی جانب منہ کر تے ہُوئے کہا؛ بائیں پہلو میں چلتی خاتونِ اوّل نے نہ تو مردِ اوّل کا پہلو چھوڑا اور نہ ہی اپنا پہلو بدلاالبتہ چھوٹے مسٹر ٹرمپ نے باپ کی پیٹھ کے پیچھے اپنے بالوں کی الجھی لَٹھ سلجھانے کی کوشش میں کئی بار انگلیوں کی کنگھی پھیری ہو ں گئی؛ مہمانوں کی سرگوشیوں نے اَند ر کی جانب بڑھنے والے راستے کی سمت اشارہ دیا تو کئی من چلے مہمانوں کے موبائل مسٹر ٹرمپ کے پہلو میں ٹھہرے سائیڈ پَوز کو اپنی فوٹو گیلری میں محفوظ بناچکے تھے؛
”یَو وِل ہیو اے وَیری گُڈ ائر؛ فنٹاسٹک ٹونٹی اَیٹین“
(آپ کا ایک بہت اچھا سال ہَوگا؛ بہترین بیس سو اَٹھارہ)


مسٹر ٹرمپ نے کیمروں کی آنکھ مچولی دیکھی تو خود بھی چند لمحے پَوز بنانے کو ترجیح دیتے ہُوئے کہا؛کہانی شروع کرتے یہی تو لکھا تھا ناں: ”کیریکٹر“کہانی کی جان ہوتا ہے؛ ہر چند کہ موجودہ کہانی میں چلنے والے اَب تک کے تمام مناظر میں مرکزی ”کیریکٹر“ کا ”کردار“ مختصر مختصر مگرتماش بینوں کی تفریح و طبع کا سامان مہیا کرنے کے لیے کافی تھا؛مہمانوں نے مسٹر ٹرمپ کی بات سنی تو جوشِ پذیرائی میں اپنی اپنی شکل مطابق منہ بناتے اور آوازیں نکالتے بڑے ہال کی جانب سرکتے رہے جہاں ضیافتی ”کورسز“ کے دوران ہلکی ہلکی موسیقی کی دُھن اور ”کمربندکلّاوے“ کے ساتھ ڈانس کا اہتمام بھی یہاں کی سابقہ چند روایات کا ایک حصّہ رہا ہے؛
”کم آن! مُو اِن سائیڈ“
(چلیں! اَندر چلیں)


مسٹر ٹرمپ نے ایک بار پھر سے اپنی بات پر زور دیتے ہُوئے کہا اور قدم ہال کی جانب بڑھا دیے؛ بائیں پہلو پر خاتونِ اوّل نے چند ایک بار مسکرانے کی کوشش میں گوناہائے لب پھیلائے اور بڑھتے قدموں پر قدم بڑھا دیے جب کہ دائیں پہلو پر بارون بھی ہاتھ اور ٹانگوں میل بناتے اَندر کی جانب چل پڑاتھا۔استقبالیہ میں کھڑے مہمانوں نے بھی اب کی بار مزید مبارک بادی کو ہال سے باہر لُٹانے کی بجائے ہال میں جانے کو بہتر جانا۔
………………………………………………


”مارا ٓلاگُو“،فلوریڈا کے ”پام بیچ“ شہر کا حسن ہے……
بحرِ اوقیانوس کی ہنگامہ کرتی لہروں کی لب بوسی نے ساحل پر بکھری ریت کی قیمت بڑھائی تو ہر سمت ننگے ابدان کا میلہ سج گیا۔ اب تو ”مارا ٓلاگُو“محل کے نقش بنائے صدی کا عرصہ ہونے کو آیا ہے۔ زمینوں کی بندر بانٹ کا معاملہ وراثتی معاملہ ہے جو مسٹر ٹرمپ کو بچپن کی حد سے باہر جھانکنے پر مل چکا تھا۔لب بوسی کا ذائقہ بھی جناب کے ہونٹوں پر یُونہی ثبت ہے جیسے اوقیانوسی لہروں کی لب بوسی کا ساحل جواب دیتا ہے۔ برس ہا برس کی لب بوسی یادوں کو تازہ کرنے کاکوئی ایک مناسب مقام ”مارا ٓلاگُو“ محل سے بڑھ کر نہیں رہا جبھی تو مسٹر ٹرمپ اِسے ”وینٹر وائٹ ہاؤس“ کہہ کر گزری یادوں کو سلگاتے اور پہلو میں بیٹھ کر سیک کا مزہ اُٹھاتے ہیں۔ یہاں کی محفل اب سالانہ رنگ سنبھال چکی ہے جہاں پر دعوتی مہمانوں کے ساتھ ساتھ ”ٹکٹی“ مہمانوں کی آمد کا سلسلہ بھی اپنا رنگ جما چکا ہے۔ رواں سال بھی بکنے والے ٹکٹوں نے ڈالرز کی قیمتوں میں آسمان کی حد کو ہاتھ لگایا تھا لیکن من چلے کا سودا بیچا جائے تو خریدار بَولیاں لے کر آجاتے ہیں؛
”وَیکم ٹَو دِی پارٹی سر! کین آئی ہیو یَور رَیزرویشن پلیز!!!“
(سر!پارٹی میں خوش آمدید؛ کیا میں آپ کی ٹکٹ دیکھ سکتا ہُوں!!!)
ہال میں داخل ہونے والے ”ٹکٹی“ مہمانوں کی راہنمائی کے لیے موجود باوردی منیجر نے داخل ہونے والے ایک مہمان سے پوچھا جب کہ دوسری جانب سے دعوتی مہمانوں کی آمد کا راستہ بنایا گیا تھا؛


”شَورلی یس! اینڈ ڈُو گائیڈ اَس ٹُو دی ٹیبل پلیز!!!“
(یقیناً کیوں نہیں! اور برائے مہربانی ہمیں مخصوص میز تک راہنمائی بھی کیجئے گا!!!)
داخلی دروازے میں کھڑے مہمان نے ہاتھ میں پکڑا ٹکٹوں کا لفافہ باوردی منیجر کے حوالے کرتے ہُوئے اپنے لیے مخصوص میز کا بھی پوچھ لیا؛
”ڈاکٹر مانی! ہیپی نیو ائیر؛ یَو ہَیو دِی ٹیبل نیکسٹ ٹو مسٹر ٹرمپ پلیز!!!“
(ڈاکٹر مانی! نیا سال مبارک ہو؛ آپ کی میز مسٹر ٹرمپ والی میز کے پہلو میں ہے!!!)
منیجر نے ٹکٹ پر نام دیکھ کر دائیں ہاتھ پر موجود اسٹینڈ میں مہمان کا نام تلاش کیا اور واپس پلٹ کر مسکراتے ہُوئے کچھ ایسے انداز میں جواب دیا جیسے مہمانِ خصوصی کے پہلو میں مل جانے والی میز پربیٹھنے والے مہمان کے بارے دل ہی دل میں سوچ رہا ہو؛
”تھینک یُو!!!“
(شکریہ!!!)


ڈاکٹر مانی، درمیانی قدپر سیاہ ”لاؤنج سوٹ“، داڑھی مونچھ بغیر چہرے پر ہلکی سانولی رنگت، متوازن ناک، موٹی آنکھیں اور چوڑی پیشانی پرروشنی کی ایک لکیر پھیل رہی تھی، نے منیجر کے ہاتھ سے اپنی ٹکٹ واپس لے کوٹ کی اَندر والی جیب میں دالی، شکریہ ادا کیا ور بتائی گئی میز کی جانب قدم بڑھے تو پیچھے پیچھے کم و بیش اُسی حلیے سے مشاہبہ تین احباب نے بھی قدم بڑھا دیے تھے؛
”یہ تو کمال نہیں ہوگیا“
میز کے قریب پہنچتے ہی ایک صاحب نے پہلی بار زبان کھولی تو اب تک بولی انگریزی کا جبڑا بھی کچھ آرام میں آیا؛
”کمال کے لیے فالتو ڈالز دیے ہیں“
ڈاکٹر مانی نے بھی انگریزی کو کندھے سے اُتارا اور میز کی بغل میں دبکی کرسی کے پیچھے جگہ سنبھالتے ہُوئے کہا؛
”او چل کوئی نہیں! اِسی کی جیب سے جانے ہیں!!!“
سب نے اپنی اپنی کرسی کے پیچھے جگہ بنائی تو سامنے کھڑے دوسرے بھلے مانس نے مسکراہٹ کو دباتے ہُوئے جواب دیا؛
”ہاہاہا!!!“


سب کا یک بارگی قہقہہ بُلند ہُوا اور ہال میں دوطرفہ راستوں سے داخل ہونے والے مہمانوں کے شور میں گم ہوگیا؛ڈاکٹر مانی”لِیمبس رِی جنریشن“ کے سرخیل کہے جاتے ہیں جو اپنی ٹیم کے ساتھ پاکستان سے یہاں پر جاری تحقیق کے لیے آئے تو موقع کی مناسبت سے تحقیقی ادارے کی طرف سے نئے سال کی تقریب میں شمولیت کے ٹکٹ فراہم کیے گئے جن میں ٹرمپ کے پہلو میں سیٹ اور تصویر کا اضافی معاوضہ بھی رعایتاًبھرا گیا تھا۔ موجودہ سائنس اور خصوصاً امریکی کئی برس سے کوشش میں ہیں کہ لڑائی بھڑائی میں یا تو ”مشینی سپاہ“ کو اُتارا جائے یا کچھ ایسا ہو کہ کٹنے، پھٹنے والے اعضاء کو قدرتی طور پر پہلے جیسا پیدا کیا جاسکے۔ جب ہر سوراخ میں اُنگلی ڈالی جائے تو اُنگلی کی پریشانی تو بڑھ ہی جاتی ہے جبھی تو ”لِیمبس رِی جنریشن“پر سب سے زیادہ تحقیق بھی انہی اُنگلی والوں کی بنتی ہے البتہ انگلی کی نئے سرے سے تخلیق، تجدید، بحالی اور بڑھوتری میں عملی تحقیق میں ڈاکٹر مانی کی ٹیم کی پیش رفت نے سب کی آنکھیں نکال رکھی ہیں۔ قدرتی عدم استحکام اور نقصان کی ایک بڑی تجربہ گاہ تو ڈاکٹر صاحب کے شہر میں تھی جہاں آئے روز کی دہشت گردی میں کٹنے، پھٹنے والے کئی معصوم اعضاء کی تخلیق، تجدید، بحالی اور بڑھوتری کی مسلسل کوشش نے اُنہیں ”لِیمبس رِی جنریشن“ کا سرخیل بنایا تھا۔
………………………………………………


جاتی شب نے آخری کروٹ لی تو ہال مہمانوں سے بھر چکاتھا ……
زرد فانوسوں سے گرتی روشنی تلے نشت بچھائے گول میزوں کے گرد گولڈن اور سفید کرسیوں کا گھیرا تھا۔گولڈن کرسیوں والی میزیں، ہیڈ ٹیبل کے آس پاس کی پہلی قطار میں جب کہ سفید کناروں والی کرسیوں کی میزیں اگلی قطار کا گھیرا بنارہی تھیں۔ مستطیلی ہیڈ ٹیبل کے ایک کنارے پر اُونچی پشت پر کھڑے سروں والی کرسیاں مسٹر ٹرمپ، خاتونِ اوّل مِیلانیہ اور بارون کے ساتھ چندخاص مہمانوں کے لیے مخصوص تھیں۔ تھوڑی سی دیر میں ہال مہمانوں سے بھر گیا؛ سب اپنی اپنی میز میں دبکی کرسیوں کے پیچھے پہنچ چکے تو ہیڈٹیبل کی کرسیوں کی پشت بھی بھری بھری دکائی دینے لگی؛
”جنٹلمین دِی ٹَوسٹ“
(معزز مہمانوں کے اعزاز میں)
مسٹر ٹرمپ نے کرسیاں بھر جانے پراُونچی آواز میں کہا اور سامنے رکھے مشروب کو اُٹھا کر ہَوا میں بلند کرنے کے بعد حلق میں اُنڈیل لیا؛
”چیئرز“
(باسلامتی)


چاروں طرف سے یک بارگی آواز اُٹھی اور اُٹھی مشروب سبھی کے حلق سے نیچے کا راستہ دیکھ گئی البتہ مشروب اور ٹوسٹ کی آزادی نے بہت سوں کی مشکل کو آسان بنادیا تھا۔ مشروب کے نیچے جاتے ہی کرسیوں کی پشت چھپا کر کھڑے مہمان بھی نیچے بیٹھ گئے۔ہیڈ ٹیبل کی کرسیاں بھی سیٹ سنبھال کر میز کے قریب ہو ئیں تو اُونچی پشت اور کھڑے سروالی کرسیوں پر خود کا سر دب سا گیا۔مسٹر ٹرمپ نے کرسی پر جاتے ہی جیب میں خاموشی پر بیٹھا ”آئی فون“ نکال کر سامنے میز پر رکھا اور اُنگلیوں سے چھیڑ خانی کرنے لگا۔ ایسا کرتے ہُوئے جہاں پر کیمروں کی ننگی آنکھیں دیکھ رہی تھین وہاں ڈاکٹر مانی کی براۂ راست نظر بھی مسٹر ٹرمپ کی کرسی پرجمی ہُوئی تھی جب کہ ٹیم کے دیگر لوگ آڑھی ترچھی نگاہوں سے یُوں آنکھوں کا چار ہونا دیکھ رہے تھے؛
”لو! اَیڈولف ٹوّیٹلر جاگ گیا“
ٹوئی، ٹوئی، ٹوئی کی ہلکی ہلکی آواز نے پُورے ہال میں بکھری موسیقی کے بیچ اپنی جگہ بنائی تو ڈاکٹرمانی نے کوٹ کی اَندر والی جیب سے آئی فون نکال کر چہرے کے سامنے کیا اور دھیمے لہجے میں بَول پڑا؛
”کیا مطلب!!!“
پہلو میں بیٹھے ساتھی نے ایسے ہی دھیمے لہجے میں حیرت سے چوچھا؛
”مسٹر ٹرمپ نے کرسی پر بیٹھتے ہی ٹویٹ کیا ہے“
ڈاکٹر مانی نے آئی فون نکال کر سامنے میز پر رکھا اور جلتی بجھتی اَسکرین کے پیچھے نکلنے والی ٹوئی، ٹوئی کی آواز کے بارے جواب دیا؛
”جناب نے کیا ٹویٹ کیا ہے“
اب کی بار دوسرے پہلو سے آواز آئی؛
”ہیپی نیو ائیرٹَو آل؛ اِنکلوڈنگ مائی اَینیمِیز؛ دَوز ہُو ہَیو فاٹ مِی اینڈ لَوسٹ بیڈلی“
(سب کو نیا سال مبارک؛ بشمول میرے دشمنوں کے، جو مجھ سے ٹکرائے اور بُری طرح سے ہار گئے)


ڈاکٹر نے میز پر جلتی بجھتی اسکرین پر ٹھہرے میسج کو پڑھتے ہُوئے کہا؛
”اَیڈولف ہِٹلر تو سنا تھا،یہ اَیڈولف ٹوّیٹلر کیا ہُوا“
سامنے کی کرسی پر بیٹھے موصوف نے جاری گفتگو میں حصّہ ڈالتے ہُوئے کہا؛
”اگر چھونپڑی میں رہنے والے بھیڑیے کو اَیڈولف ہِٹلر کہیں گے تو کیا ٹویٹ میں رہنے والے کو یڈولف ٹوّیٹلر نہیں کہیں گے!!!“
ڈاکٹر مانی کی تشریح و توصیح نے ٹیبل پر پیش کیے جانے والے کھانے کے پہلے کورس میں شامل ”ٹرمپ آئس برگ ویج“ کے ساتھ دبے دبے قہقہوں کا لیموں نچوڑ کر بدیسی سلاد میں دیسی ذائقہ بھی ڈال دیا تھا۔ بھیڑ کے دودھ سے بنی ہلکی نیلی پنیر میں شامل ٹماٹروں کی چٹنی اور ہرے پتوں والی سلاد جب سے مسٹر ٹرمپ کے منہ لگی ”ٹرمپ آئس برگ ویج“ ہو گئی؛ سب مہمانوں کے سامنے پہلا کورس سجایا جاچکا اور سبھی چھری کانٹے سیدھے ہو گئے۔ مسٹر ٹرمپ ایک ہاتھ سے اپنی پسندیدہ سلاد کی پرتیں اُتارنے اور دوسرے سے سامنے رکھے موبائل کے بدن سے پھوٹتے ٹویٹس سنبھالنے کی کوشش میں مصروف رہے جب کہ ڈاکٹر مانی ایک آنکھ اپنے موبائل کی اسکرین اور دوسری جوابی تاثرات کی خاطر مسٹر ٹرمپ کے چہرے پر اُتار چڑھاؤ کھوج رہی۔
………………………………………………


مسٹر ٹرمپ کا اگلا ٹویٹ……
”یونائیٹڈ اسٹیٹ ہیز فُولِشلی گِون پاکستان، مَور دَین 33 بلین؛ گِون اَس نَتھینگ بَٹ لَئیز اینڈ ڈِیسیٹ؛ تھینکنگ آف آور لیڈرز اَیز فُولز“
(امریکہ نے بیوقوفانہ انداز میں تینتیس بلین پاکستان کو دیے؛ہمارے رہنماؤں کو بے وقوف سمجھ کر بدلے میں بس کذب و فریب دیا)
ہیڈٹیبل پر جھکے مسٹر ٹرمپ نے سر اُٹھایا توڈاکٹر مانی کے سامنے بچھی اَسکرین بھی جاگ گئی؛ ٹوئی، ٹوئی کرتی نیلی ناراض چڑیا کی ناراضگی جیسے بھڑک اُٹھی۔ پُورے ہال میں ہلکی ہلکی ٹوئی، ٹوئی کی آوازیں ہال میں بجنے والی موسیقی میں نمایاں ہونے کو آئیں توآرکیسٹرا پر بیٹھے موسیقار کی دُھنیں بھی پہلے سے زیادہ بھڑکیلی ہوکر کانوں میں اُترنے کی تیاری کرنے لگیں:
”شُڈ اَولڈ اَیکونٹنس بی فار گاٹ، اینڈ نیور براٹ ٹُو مائینڈ؛
(کیا پرانی رفاقتوں کو بھلا دیں اور اُنہیں یاد بھی نہ کیا جائے)
شُڈ اَولڈ اَیکونٹنس بی فار گاٹ، اینڈاَولڈ لنگ سائین“
(کیا پرانے دوستوں کو بھلا دیں اور اُن سے نظربھی نہ ملائیں)
موسیقی کے شور شامل ٹوئی، ٹوئی؛ پہلا رِی ٹویٹ @ نوآں آیاں سونڑیاں ……
”مَنیا بھولی پر اِینّی وِی نہیں بھولی“
(مانا کہ بھولی ہے لیکن اتنی بھی بھولی نہیں ہے)
موبائل اسکرین پر اُتری تصویر اور آٹو لینگویج ٹرانسلیٹر نے ایک جھٹکا دیا؛ میز پر جھکا سر کرسی کی پشت سے جا لگا جیسے آئی فون سے نکلے مکے نے پنچ رسید کیا ہو؛ خاتونِ اوّل نے یُوں غیر ارادی جھٹکے پر ہلکے سے میزکے نیچے پاؤں کے پہلو پر اشارہ دیاجو بے دم پیروں میں ہی بیٹھ گیا؛ ڈاکٹر نے چمکتی اسکرین کی ترجمانی نے دیسی لیموں نچوڑ کی صورت پُوری میز سنبھالی اور دھیرے سے زوایہ بدل کر کرسی کی دیوار سے لگتی مسٹر ٹرمپ کی گردن کاناپ لیا؛


دوسرا رِی ٹویٹ @ تاڈا پرآ ……
”ایک منٹ کے لیے مانگی یو ایس بی واپس نہیں کرتے، یہ تینتیس ملین مانگ رہا ہے“
مسٹر ٹرمپ کی پشت پر ٹکی گردن واپسی کا سفر ہی بھول گئی؛ اب کی بار تو چہرے پر آنے والے غیر معمولی تاثرات کو دوسرے پہلو میں بیٹھے بارون نے بھی محسو س کیا اور کن اکھیوں سے پہلے بائیں اور پھر دائیں بیٹھے مہمانوں پر ایک نظر دوڑائی اور باپ کے من بھاتے پر چھری چلانے میں مشغول ہُوا؛
تیسرا رِی ٹویٹ @ لالے دِی جان …… ”گھر آئی گیند واپس نہیں کرتے تم ڈالرز واپس کرنے کا پوچھ رہے ہو“
کرسی کی پشت پر لگی مسٹرٹرمپ کی گردن نے کھانے کے پہلے کورس کو وقت سے پہلے نبٹا دیا؛ کرسیوں کے پچھواڑے کھڑے باوردی خانساموں کی ایک کھیپ نے ”ایکسکیوزمی“ کہہ کر منہ کے سامنے دھری پلیٹوں کو سنبھالنے کا کام کیا تو دوسری کھیپ کھانے کا اگلا کورس برقع بند ”شیفن ڈِشوں“ میں سجا کر لے آئے؛ ”مین لوبسٹر ریوے یِولی“ بمعہ ململی سونف، زیتون اور چٹی پٹی چٹنی کے ساتھ پیش کیا جانے والا دوسرا کورس میزوں پر سجایا جا چکاتو موسیقی کی دُھن بھی اگلے بند کی تشریح کی صورت بنادی تھی:
”وِی وِل ٹیک آ کپ آف کینڈنس یِٹ؛ فار اَولڈ لنگ سائین؛
(ہمیں پرانے رشتوں کے لیے کوئی گنجائش رکھنی ہوگی)
شَورلی یَو وِل بائے یور پینٹ کپ؛ آئی وِل بائے مائین
(یقیناً تم اپنی مرضی کا پیالہ خریدو گے اور میں اپنی مرضی کا خریدوں گا)
وِی وِل ٹیک آ کپ آف کینڈنس یِٹ؛ فار اَولڈ لنگ سائین؛
(ہمیں تب بھی پرانے رشتوں کے لیے ایک گنجائش باقی رکھنی ہوگی)
موسیقی کے شور شامل ٹوئی، ٹوئی؛ ایک اور رِی ٹویٹ @ بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام ……


”آپ کی ذہنی حالت دیکھتے ہُوئے بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کے تحت تینتیس بلین بھیجے جارہے ہیں“
موبائل اسکرین پر اُتری چیک والی تصویر اور آٹو لینگویج ٹرانسلیٹر نے ایک اور زور کاجھٹکا دھیرے سے دیا تو مسٹر ٹرمپ کو اگلا کورس بھی بھول گیا؛یُوں بار بار کا زاویہ بدلنا اور ہر بدلے زاویے پر منہ کو ٹیڑھا میڑھا کرنا، پہلو میں بیٹھی خاتونِ اوّل کو بے چین کیے جارہا تھا؛ کہانی کے شروع میں کہی بات کو پھر ایک بار دُوہرانا پڑ جائے گاکہ ”کیریکٹر“کہانی کی جان ہوتا ہے اور ہر چند کہ موجودہ کہانی میں چلنے والے اَب تک کے تمام مناظر میں مرکزی ”کیریکٹر“ کا ”کردار“ مختصر مختصر مگرتماش بینوں کی تفریح و طبع کا سامان مہیا کرنے کے لیے کافی تھا؛خاتونِ اوّل نے یُوں آنکھوں کے بدلے زاویوں بیچ اُتری بے چینی دیکھی تو ہلکی سی ایک مسکراہٹ کے پیچھے نکلی ”ایکسکیوز می“ کے ساتھ پہلو کا دامن چھوڑ دیا اور ہال میں ایک طرف موسیقی کی تال پر رقص کی تیاریاں کرتے جوڑوں کی جانب نکل گئی؛ ننھے میاں تو پہلے ہی خود کو دبا کر رکھنے میں ناکام ہُوئے تھے، اب جو ایک موقع دیکھا تو وہ بھی اپنی عمر کی دوشیزاؤں کی کمر کو ناپنے کسک گئے؛ ڈاکٹر بھی مسلسل اپنے سامنے چمکنے والی موبائل اسکرین کی ترجمانی دیسی لیموں کانچوڑ جان کر ہر نئے کورس میں ڈال رہا تھا جب کہ میز کے گرد گھیرے ڈال کر بیٹھے باقی ٹیم کا پیٹ پکڑ کرمچلنے والے دیسی قہقہوں پر قابو رکھنا بھی کچھ آسان بات نہیں رہی تھی؛


دوسرا رِی ٹویٹ @ ایس اَو ایس کال ……
”مسٹر ٹرمپ اِز مائی پریذیڈنٹ؛ سر سٹے اَوے فرام سچ ٹویٹس اینڈ سٹے سیف“
نئے ٹویٹ میں لہراتے امریکی جھنڈے پر نظر پڑی اور کرسی کی پشت میں جاتی مسٹر ٹرمپ کی گردن لمحہ بھر کو واپسی کا سفر بھول گئی؛ٹوئی، ٹوئی کی پہلی آواز تھی جس نے چہرے پر آنے والے غیر معمولی تاثرات کا یُوں چمکایا کہ پہلو میں بیٹھے ڈاکٹر کی ٹیم نے بھی محسوس کیا لیکن یہ تبدیلی بھی لمحہ بھر کی تبدیلی تھی جو فقرے کے آخر تک جاتے جاتے چلی گئی؛ مہمان سامنے دھرے نئے کورس پر چھریاں چلانے میں مشغول رہے اور موسیقی دُھنیں چیڑتی رہی:
”وِی ٹو ہیو رَن اَباؤٹ دِی سلوپس؛ اینڈ پکڈ دِی ڈیزیز فائن؛
(ہم نے مل کر کئی صحراؤں کا سفر باندھا اور پھول چُنے)
وِی ٹو ہیو پیڈلڈ اِن دِی سٹریم؛ فرام مارننگ سَن ٹِل ڈائین؛
(ہم نے مل کر کئی دریاؤں کوپار کیا، صبح سے شام ڈھلے)
سِنس اَولڈ لنگ سائین؛ فار اَولڈ لنگ سائین؛
(پس پرانے رشتوں کے لیے؛ یقیناً پرانے رشتوں کے لیے)
موسیقی کے شور شامل ٹوئی، ٹوئی؛

تیسرارِی ٹویٹ @ باپ بڑا یا روپیہ ……
”ہیپی نیو ائیر؛فیُو وَڈز آف لو فار یُو…………سکرول ڈاؤن……
(نیاسال مبارک؛ محبت بھر کچھ الفاظ آپ کے لیے…………نیچے جائیں ……)
پہلے غیر متوقع پیغام نے چہرے پر آنے والی زردی میں سرخی کا ہلکا سا ایک رنگ دیا؛ کرسی کی پشت میں دھنسنے والا سر اچانک جاگ گیا؛ انگلیوں کی مستی میں جان واپس لوٹ آئی؛ مسٹر ٹرمپ نے تیزی سے پیغام میں بھیجی گئی ہدایت پر عمل کیا اور کچھ نیچے پہنچ گیا؛ ڈاکٹر بھی غیر متوقع پیغام اور غیر یقینی ردِ عمل پر چونکا اور تیزی سے پیغام کی آخری لائین تک پہنچ گیا؛ موسیقی کی آوازمیں دَر آنے والی تیزی کورسوں کی اُٹھان کے ساتھ اُٹھائی جارہی تھی؛
”سکرول ڈاؤن، آلٹل مَور……“
(کچھ اور نیچے جائیں)


انگلیوں کی بے چینی نے چہرے کی بے چینی کی نبض پر ہاتھ رکھ لیا تھا؛
”کائینڈلی! اِنکلوڈمائی نیم اِن دَوز ہُو اِف فاٹ، وِل لٹ یوٹیسٹ ڈفیٹ“
(برائے مہربانی میرا نام اُن میں شامل کرلو جو لڑے تو پھرتمہیں شکست کا ذائقہ بھی چکھائیں گے)
ڈاکٹر والی میز پر دبائے جانے والوں قہقہوں پر مزید قابو رکھنا مشکل ہُوا تو موسیقی کے ڈرم پر پڑنے والی زور دار چوٹوں نے سنبھال لیا؛ مسٹر ٹرمپ نے سامنے پڑے موبائل کے آجو باجو دوہتھٹر مارے اور سر کو کرسی کی پشت میں بے دم چھوڑ دیا؛
”مسڑ ٹرمپ کے دماغ کو چڑھ گیا ہے“
ڈاکٹر مانی نے پہلو کی ٹیبل پر پڑنے والے دوہتھڑ کی آواز کے پیچھے جاتے سر کو دیکھتے ہُوئے کہا؛
”کیا!نیو ائیر کا ٹوسٹ!!!“
سامنے بیٹھے موصوف نے قہقہے پر قابو پاتے ہُوئے پوچھا؛
”نہیں!نیو ائیر کا ٹویٹ!!!“
میز پر پڑنے والے دوہتھڑ نے موسیقی کے دھیمے سروں میں ایک اُونچی تان لگائی تو رقص میں محو بدن کمر پر ہاتھ رکھے ٹھہر گئے جب کہ ٹویٹ کی چڑیا ٹوئی، ٹوئی کا شور مچاتی مہمانوں کے ہال سے باہر نکل رہی تھی۔
٭……٭……٭

Share This Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>