بچے ،جاڑااور کپڑے

بشکریہ معین گریڈہوی / قومی تنظیم

ایک دن کسی شخص نے ایک سوال لال بیگ سے پوچھا بھائی تم جاڑوں میںکیوں نظرنہیں آتے ، حالانکہ تم تو بڑے سخت جان ہوتو اس نے کہا، بھائی میںجب موسم گرما میںکبھی آپ لوگوں کے سامنے آجاتاہوں توآپ میرے ساتھ کونسا اچھا سلوک کرتے ہو، اس لئے میں سردیوں میںآرام کی نیند سوجاتا ہوں ۔ جاڑے کاموسم میرے آرام کاموسم ہوتاہے ۔ اس لئے میں ان دنوں خوب آرام کرتاہوں اوربہار آتے ہی باہر نکل آتا ہوں۔


ایک لال بیگ یااس طرح کی دیگر مخلوقات کی ہی بات نہیں ہے کہتے ہیں جاڑا آتاہے توبہت سی چیزیں گم ہوجاتی ہیں اورجاڑا جاتے ہی دوبارہ برآمد ہوجاتی ہیں مگرایسی بھی بے شمار چیزیں ہیںجو جاڑا آتے ہی سامنے آجاتی ہیں اور اس کے جاتے ہی وہ بھی غائب ہوجاتی ہیں۔ مختلف ملکوں اورماحول میںان چیزوں کی فہرست مختلف ہوتی ہے مگرگرم کپڑے ایک یاسی چیز ہے جوہرفہرست میںشامل ہوتی ہے۔


ہمارے ایسے کئی لوگوں سے ملاقات ہوچکی ہے جوجاڑے کاموسم صرف اس لئے پسند کرتے ہیں کہ انہیں اس موسم میں خوبصورت نرم اورگرم کپڑے پہننے کاموقع ملتاہے ۔ اس کے برعکس ایک ایسی بھی شخصیت سے ملاقات ہوئی تھی جو جاڑے کی بجائے گرمی کے موسم کوپسند کرتی تھی کیونکہ اس موسم میںانسان فیشن اور کپڑوں کے خرچے سے بے نیاز ہوجاتا ہے ۔


ایک زمانہ تھا جب ہمارے یہاں بھی جاڑے کاموسم خاصا لمبا ہوتاتھا ، اب تویہ موسم اتنا مختصر ہوچکاہے کہ ادھر سردی کا مزاشروع ہوتاہے ،ادھر سردی ختم ہوجاتی ہے اس کی وجہ یقیناً یہی ہے کہ ماحولیاتی آلودگی نے پورے کرہ ارض کادرجہ حرارت بڑھادیاہے ۔ اب یہاں نومبر سے فروری تک ہی سردی ہوتی ہے جبکہ چند سال پہلے ستمبر کے آخرمیں سردی پڑنا شروع ہوجاتی تھی جواپریل کے آخرتک رہتی تھی ۔


سردی کاموسم تنگ ہونے کے باوجود سردیوںکے کپڑوں سے نجات نہیںملتی ۔ بڑے گھروں میںکپڑوں کی بڑی بڑی الماریاں سردیوں کے گرم کپڑوں سے لبالب بھرجاتی ہیں۔ مائیں اپنے اور اپنے بچوں کے گرم کپڑے نومبر کے شروع سے ہی نکال لیتی ہیں کہ نجانے کب یکدم سردی پڑنا شروع ہوجائے۔


گرم کپڑے پہننا امیرہوں یاغریب سب کے لئے ہی باعث راحت ہوتاہے مگران کوخریدناہرکسی کے لئے باعث راحت اورسکون نہیںہوتا۔کیونکہ جتنی لاگت میںکسی ایک بچے کا گرم سوٹ بنتاہے اتنی لاگت میںتوعام حالات میں پورے گھرانے کے سوٹ بن جاتے ہیں ۔اس لئے غریب گھرانوں کے لوگ عموماً پرانے گرم کپڑے ہی پہنتے تھے مگراب حالات ویسے نہیں ہیں۔ بیشتر لوگ سردیوں کے کپڑوں کے لئے اپنی جمع پونجی خرچ کردیتے ہیں کیونکہ آخرانہیں بھی تو فیشن کرناہے۔


سردیوں کی شاموں میںگرم کپڑے مونگ پھلی ، چلغوزے ، ہیڑاورٹی وی بہت مزادیتے ہیں۔سانول کوموسم سرمااس لئے اچھالگتاہے کہ اسے ان دنوں میںاچھے اچھے مہنگے اورخوبصورت ملبوسات پہننے کوملتے ہیں ۔ اکثر بچے تو گرم کپڑے ہونے کے باوجود بھی انہیںپہننا گوارا نہیں کرتے ۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عام کپڑوں سے بھاری ہوتے ہیں اورانہیںپہن کران کوآزادانہ حرکت کرنے میں شکایت آتی ہے ۔سانول کاایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے وہ سردی کے موسم سے بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہوتا ہے،گرم کپڑے پہن کر وہ اپنے گھر میںکھیلتا بھی ہے اورپرسکون اندازمیںٹی وی کے پروگرام بھی دیکھتارہتاہے ۔سانول کے جیسا ہی ایک شرارتی اورہوشیار بچہ تھا جس کو گرم اورموٹے کپڑے پہننے کابڑاشوق تھا ۔ایک دن وہ اسکول میںکوٹ اور اوورکوٹ پہن کرچلاگیا ۔ اس روز بہت زیادہ سردی بھی ہوتی تھی ، سب لوگ حیران تھے کہ آج اس نے اتنے موٹے کوٹ کیوں پہنے ہوئے ہیں ،کسی نے اس سے پوچھا بھی مگر اس نے کسی کو کچھ نہیں بتایا ۔ اس کونہیں آیا اورپھر اس کی خوب پٹائی ہوئی۔


ہمارے ملک میںموسم سرما میںبرفباری اتنی نہیں ہوتی ہے جتنی کہ یورپ میں ہوتی ہے ۔ وہاں تونومبر میںہی ہرطرف برف ہی برف نظرآنے لگتی ہے ۔مگر ہمارے یہاں جن علاقوں میںبھی اشد ضرورت ہوتی ہے۔عالم جبہ میں سیاحت کے لئے جانے والے عموماً کرائے پر یہ سامان تولے لیتے ہیں تکنیک نہیں لے پاتے۔ حالانکہ اس کی سہولت بھی وہاں موجود ہوتی ہے۔

Share This Post
معین گریڈہوی کا تعلق گریڈیہہ ،جھارکھنڈ سے ہے ۔ مشہور شاعر اور صحافی ہیں ۔ روزنامہ قومی تنظیم پٹنہ میں سینئر صحافی ہیں ۔ مشاعروں میں بیحد مقبول ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>