اسکول کی کھچڑی

سیف الاسلام کے مزاحیہ مضمون پر مشتمل بچوں کیلئے ایک ڈرامہ

افسانہ نگار : قمر جاوید

پرائمری اسکول کے آفس کا منظر ہیڈ ماسٹر صاحب
فائل کی ورق گردانی کر رہے ہیں اچانک ایک لفافہ پر نظر پڑتی ہے چونک جاتے ہیں
ہیڈ ماسٹر ۔ (چیخ کر) سلامو…….. ابے او سالا مو
سلامو۔(ہاتھ میں جھاڑو لئے داخل ہوتا ہے)جی سر
ہیڈ ماسٹر ۔ ابے مارے گا کیا؟…… کہاں مرگیا تھا؟
سلامو ۔ مرے آپ کے دشمن
ہیڈ ماسٹر ۔ تو تو کون سا میرا دوست ہے…. اچھا یہ بتا کیا یہ لفافہ تو نے رکھا ہے؟
سلامو ۔ جی سر نرگس باجی نے اسے دیکر کہا کہ آپ کے میز پر رکھ دوں
ہیڈ ماسٹر ۔ (غصے سے دانت پیس کر) اپنی نرگس باجی کو بلاؤ
سلامو ۔ جی سر (باہر نکل جاتا ہے)


ہیڈ ماسٹر ۔ (من ہی من میں بڑبڑاتے ہیں)آج اس نرگس کی بچی کو نہیں چھوڑونگا بہت برداشت کر لیا اب نہیں….
نرگس 〔داخل ہو کراٹھلاتے ہوئے〕سلامو کہ رہا تھا آپ بڑے غصے میں ہیں اور مجھے یاد کر رہے ہیں…. آپ کو بھی آخر میری یاد آ ہی گئی
ہیڈ ماسٹر ۔ میرے نصیب پھوٹے ہیں جو میں تمہیں یاد کروں
نرگس۔ ایسا نہ کہیں حضور ہم تو آپ کو ہمیشہ یاد کرتے ہیں… ویسے آپ آج اتنے بھڑکے ہوئے کیوں ہیں لگتا ہے بھابھی نے آج پیٹ بھر ناشتہ نہیں دیا…. کوئی بات نہیں حضور میں ٹفن لائ ہوں
ہیڈ ماسٹر (چہک کر) اچھا کیا کیا ہے ٹفن میں
نرگس ۔ سب آپ کی پسند کا ہے… میں لاتی ہوں
ہیڈ ماسٹر ۔ ہاں ہاں جلدی لاؤ (پھر چونک کر) نہیں ٹھرو پہلے یہ بتاؤ یہ لفافہ سلامو کو تم نے دیا؟
نرگس۔ کون سا لفافہ (دکھاتا ہے) او یہ والا جی حضور
ہیڈ ماسٹر ۔ یہ تمہیں کس نے دیا؟
نرگس۔ جب میں اسکول میں داخل ہو رہی تھی تو ایس آئی آفس کے پیون نے دیا
ہیڈ ماسٹر ۔ کب دیا… آج؟
نرگس۔ نہیں شاید پچھلے ہفتے یا پھر دس دن قبل
ہیڈ ماسٹر ۔ کیا….. ؟ دس دن پہلے اور آپ مجھے یہ آج دے رہی ہو…. ؟
نرگس۔ وہ کیا ہے نا حضور جب پیون نے دیا اسی وقت میرا فون بج اٹھا اور میں نے اسے اپنے پرس میں رکھ لیا… پھر بھول گئی
ہیڈ ماسٹر ۔ تو آج کیوں کر یاد آیا محترمہ؟
نرگس۔ وہ آج بھی یاد نہیں آتا حضور وہ تو بھلا ہو سلمہ کا اس نے میرے شیڈ والی لپ اسٹک دیکھنے کو مانگی تو میری نظر اس لفافے پر پڑی تو میں نے بغیر دیر کیے فوراً سے پیشتر سلامو کے ذریعے آپ تک پہنچا دیا
ہیڈ ماسٹر (پیچ و تاب کھا تے ہوئے) فوراً سے پیشتر…. آں…….محترمہ آپ نے ہم سب کو کس مصیبت میں ڈال دیا ہے جانتی ہیں آپ
نرگس ۔ کیا ہوا سر مجھ سے کوئی بھول ہوگئی؟
ہیڈ ماسٹر ۔(دانت پیس کر) نہیں بھول تو مجھ سے ہوئی گھر کے قریب اسکول کے لالچ میں ٹرانسفر کروالیا کون جانتا تھا ایسے ایسے نمونوں سے پالا پڑے گا یا خدا اب کیا ہوگا اتنے کم وقت میں سب انتظام کیسے ہوگا (موبائل بچتاہے) ہیلو…. ہاں نیتاجی بولئے…….. جی جی سب ہوجائے گا آپ فکر نہ کریں کاؤنسلر صاحب کو کوئی شکایت کا موقع نہیں دوں گا…. جی بالکل آپ وقت پر آجائیں سب کچھ تیار ملےگا… یا خدا اب یہی باقی رہ گیاتھا… یہ آپ نے کیا کردیا محترمہ نرگس…..
نرگس۔ کیا بات ہے حضور آپ اتنے گھبراۓ ہوئے کیوں ہیں اب ایسا کیا لکھا ہے اس لفافے میں؟
ہیڈ ماسٹر ۔ محترمہ اس لفافے میں ملک الموت کا فرمان ہے….. مڈ ڈے میل کل سے شروع کرنا ہو گا آپنے یہ لفافہ اسی دن دے دیا ہوتا تو تیاری کرنے کا وقت مل جاتا….. اب کھڑے کھڑے میرا منھ مت دیکھیۓ جائے اور سارے اسٹاف کو میرے آفس میں آنے کیلئے کہئیے (وہ ہکا بکا کھڑی ہے).. ارے اب جایۓ بھی (نرگس نکل جاتی ہے ہیڈ ماسٹر صاحب پریشانی کے عالم میں ٹہلنے لگتے ہیں تھوڑی دیر میں نرگس چار اساتذہ کے ساتھ داخل ہوتی ہے)
عرفان ۔ کیا ہوا سر نرگس کیا کہہ رہی ہے مڈ ڈے میل وہ بھی کل سے؟
ہیڈ ماسٹر ۔ جی محترمہ نرگس کی مہربانی سے
سلیمان ۔ لیکن سر اتنا سارا انتظام اتنے کم وقت میں
سلمہ۔ تو کیا سر اب ہملوگوں کو کھانا بھی پکانا ہوگا
ہیڈ ماسٹر ۔ بالکل پکا نا ہو گا سرکاری حکم ہے اور سپریم کورٹ کا بھی حکم ہے
عرفان ۔ پر سر اتنے کم وقت میں…. ہم ایک دن بعد شروع کریں؟
ہیڈ ماسٹر ۔ اور ایس آئی کو کیا بتائیں گے کہ محترمہ نرگس کی وجہ سے لیٹر ہمیں دس دن بعد ملا… آں…. کیوں…… تم لوگ جانتے ہو جگہ کی قلت کی وجہ سےہم لوگ کتنے دنوں سے ٹال مٹول کر رہے تھے اب بہت سختی سے کہا گیا ہے اس لیۓ بیکار کی بحث میں ہم نہ پڑیں تو بہتر ہے….. یہ سوچو کہ کل سےمڈ ڈے میل کیسے شروع کیا جائے (پریشانی میں ٹہلتے ہوئے)عرفان صاحب آپ ابھی جایۓ اور کسی کو بھی پکڑ کر اسکول کی اچھی طرح صاف صفائی کروائیے بلیچنگ پاؤڈر کا چاروں طرف چھڑ کاؤ کروایۓ….. برتن خریدنے کے روپے تو اکاؤنٹ میں آگیے ہیں
عرفان۔ کتنے روپے آۓ سر؟
ہیڈ ماسٹر ۔ ڈھائی ہزار
سلیمان۔ اتنے میں برتن آجاۓ جائے گا سر؟
ہیڈ ماسٹر ۔ وہی تو…. پتہ نہیں کس کنجوس نے بجٹ بنایا ہے لکھا ہے اتنے میں اگر نہیں ہوتا تو جیب سے لگا لیجیے بل جمع کرنے پر بعد میں مل جائے گا…. وہ تو میں جانتا ہوں اسے حاصل کرنے کے لیے آفس کے کتنے چکر لگانے ہوں گے اور آخر میں کہدینگے منیج کر لیجیے
سلمہ ۔ سر کھانا کیا واقعی ہمیں ہی پکانا ہوگا
ہیڈ ماسٹر ۔ پارٹی والوں نےوارڈ کے چار عورتوں کو چن لیا ہے وہی پکائیں گی
نرگس ۔ تو کیا ان چار عورتوں کی نوکری ہو گئی سر
ہیڈ ماسٹر ۔ ارے کاہے کی نوکری بس تھوڑے بہت پیسے مل جائیں گے اور کیا… لیکن کل پارٹی کے لوگ بھی آئیں گے اسلیۓ ہملوگوں کو مل جل کر کام کرناہوگا
نرگس۔ کام کے نام سے ہی میرے پسینے چھوٹتے ہیں
سلمہ ۔ تو کیا اپنے گھر کا کام اپنے شوہر سے کرواتی ہو
نرگس۔ اپنی اپنی قسمت ہے
عرفان ۔ لو یہ لوگ پھر شروع ہو گئیں…. دیکھیۓ سر….
ہیڈ ماسٹر ۔ ارے چپ رہو سب….. سر پر مڈ ڈے میل ناچ رہا ہے اور ان لوگوں کو مذاق سوجھ رہا ہے…… برتن تو اتنی جلدی خریدا نہیں جا سکتا اپنے اپنے گھر سے لانا ہو گا
سلمہ۔ کیا بول رہے ہیں سر اتنے سارے بچوں کیلئے کھانا بنانا ہے ہمارے اور آپ کے گھر میں اتنے بڑے بڑے برتن کہاں سے آئیں گے
عرفان ۔ پہلی بار آپ نے عقلمندی کی بات کی ہے
سلیمان ۔ وہ تو ٹھیک ہے پر کہیں سے لانا تو ہو گا
نرگس ۔ دیکوریٹر کس لئے ہے…. وہاں سے لے کر کام چلایا جا سکتا ہے
ہیڈ ماسٹر ۔ گڈ آئیڈیا…. چلو سامان کی فہرست بناؤ
عرفان ۔ (کاغذ قلم لیکر) ہاں سر بولیۓ
ہیڈ ماسٹر ۔ تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے میں کوئی خانساماں ہوں چلو یاد کر کر کے ایک ایک سامان بتاؤ… لکھو ایک بڑا ڈیگ
نرگس۔ نہیں یہ تو میں بولنے والی تھی… خیر لکھیۓ ایک بڑا کفگیر
سلمہ ۔ انہہ….جیسے اور کوئی نہیں جانتا…. لکھو دو بڑا ٹب
ہیڈ ماسٹر ۔ دوکیوں…..؟ ایک سے کام چلا لینگے
سلیمان ۔ دو بالٹی اور دو چھری
عرفان۔ ایک بڑی کڑاہی کرچھل اور ایک ٹوکری
نرگس ۔ پلیٹ جگ گلاس
ہیڈ ماسٹر ۔ پلیٹ اور گلاس بچے گھر سے لائیں گے… ساتھ لائیں گے اور ساتھ لے جائیں گے
عرفان ۔ سرجگہ کی قلت کی وجہ سے ہم لوگوں نے اب تک مڈ ڈے میل شروع نہیں کیا….. مسئلہ یہ ہے کہ باورچی خانہ کہاں پر بنایا جائے اسٹور روم میں پہلے سے ہی چاول کی بوریاں بھری ہوئی ہیں اب دال سبزی مسالے کوئلہ وغیرہ وغیرہ کہاں رکھیں گے
ہیڈ ماسٹر ۔ یار تم تو جب بھی منھ کھولتے ہو پرابلم ہی گنواتے ہو…. پرابلم بہت سارے ہیں لیکن اسی میں کام کرنا ہوگا
سلیمان ۔ لیٹرین کے بغل میں جو جگہ خالی ہے وہاں ابھی عارضی طور پر باورچی خانہ بنایا جائے اور آفس کے ایک کونے کو ضروری چیزیں رکھنے کیلئے مختص کر دیا جائے
ہیڈ ماسٹر ۔ بس یہی طے پایا اب چلو جلدی جلدی آج کا کام نپٹا لیا جائے
سلمہ۔ وہ سب تو ٹھیک ہے سر پر لیٹرین کے سامنے کھانا پکانا کیا ٹھیک ہوگا؟
ہیڈ ماسٹر ۔ ارے بابا لیٹرین کے اندر تو نہیں پکا رہے ہیں.. کل کسی طرح شروع ہوجائے بعد میں دیکھا جائے گا… سب سے پہلے بچوں کو کل سے کھانا ملنے کی اطلاع دو اور گھر سے پلیٹ، پیالہ اور گلاس لانے کی تاکید کردو عرفان صاحب آپ آدمی جگاڑ کرکے صاف صفائی میں لگا دیجیۓ اور سلامو کو بھی صاف صفائی کی تاکید کر دیجئے سلیمان صاحب آپ کوئلہ اور چولہے کا انتظام کیجئے اور محترمہ آپ دونوں بچوں کو جاکر کل کیلئے تاکید کر دیجئے…. میں صبح صبح سبزی منڈی سے سبزیاں لے لوں گا مسالے اور دیگر چیزوں کے لئے کسی کیرانے کی دوکان طے کر لو نگا آخراسےبھی تو(آنکھ دبا کر) ….. اب میرا منہ نا دیکھیں کام پر لگ جائیں (میوزک تیز ہو جاتی ہے) فیڈ آؤٹ


(ہیڈ ماسٹر صاحب دو تین تھیلیاں اٹھانے داخل ہوتے ہیں)
ہیڈ ماسٹر ۔ (بڑبڑاتے ہوئے) یا خدایا زندگی کے اور کتنے امتحان پاس کرنے ہونگے…. سارا سامان آگیا پر ابھی تک کھانا پکانے والیاں نہیں آئیں (عرفان داخل ہوتا ہے)
عرفان ۔صاف صفائی پسند آئی نا سر….. پارٹی والے ہمارا اسکول دیکھ کر بہت خوش ہوں گے (ہیڈ ماسٹر ہاں میں سر ہلاتا ہے تبھی سلیمان داخل ہوتا ہے)
سلیمان ۔ چولہا، کوئلہ اور ڈیکوریڑ کا سارا سامان آگیا
ہیڈ ماسٹر ۔ اور… پکانے والیاں چار عورتیں آئیں؟
سلیمان ۔ جی سر سارا سامان انہیں کے حوالے کر دیا ہے…. لیکن ایک پرابلم ہے وہ لوگ کہہ رہیں ہیں چاول میں بہت کنکر وغیرہ ہے صاف کرنے میں وقت لگے گا اسلئے سبزی آپ لوگوں کو کاٹنی ہوگی… ورنہ وقت پر کھانا نہیں پک سکے گا ( نرگس اور سلمہ پریشان حال داخل ہوتی ہیں)
ہیڈ ماسٹر ۔ کیا بچے اپنے ساتھ برتن وغیرہ لائے ہیں ؟
سلمہ۔ جی سر…. پر بچوں نے ہنگامہ کیا ہوا ہے پی ٹی کرتے وقت جتنی بار بائیں مڑ کہا وہ لوگ دائیں طرف ہی مڑے یعنی باورچی خانے کی طرف اور بار بار ایک ہی سوال کھچڑی پکی کہ نہیں…… پی ٹی کسی طرح سے کروائی… اب بچے لگاتار برتن پیٹ رہے ہیں… اگر ایسا ہی ہوتا رہا تو ایکدن ہمیں پاگل خانے جانا طے ہے….
ہیڈ ماسٹر ۔ پہلا دن ہے سلمہ جی بعد میں سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن ابھی یہ سب سوچنے کا وقت نہیں ہے چلیے جلدی جلدی سبزی کاٹنا شروع کیجئے… وقت سے پہلے پارٹی والے آ دھمکے تو ہملوگوں کی خیر نہیں (سب لوگ نا چاہتے ہوئے بھی کام میں لگ جاتے ہیں )
عرفان ۔ (سبزی کاٹتے ہوئے) پورے علاقے میں خبر پھیل چکی ہے کہ آج سے ہمارے اسکول میں مڈ ڈے میل شروع ہو رہا ہے…. آج گھر سے اسکول آرہا تھا تو راستے میں کئی گارجین حضرات ملے ایک کہنے لگا میرے بچے کو دست ہو رہا ہے آج اسے کھچڑی مت کھلایۓ گا دوسرے نے کہا میرے بچے کو کھچڑی پسند نہیں اسے اسکا ٹفن ہی کھانے دیجئے گا… پیچھے سے ایک گارجین نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ میری بیٹی کو ڈاکٹر نے آلو کھانے کو منا کیا ہےاسکا خیال رکھیۓ گا…. لیکن انلوگوں کون بتاۓ کہ آلو بنا کھچڑی ایسی ہی ہے جیسی دولہے بن بارات غرض جتنے منہ اتنی باتیں
سلیمان ۔ یہ تو کچھ بھی نہیں وقت آنے دو کھچڑی پر سوالات بنانے ہوں گے…. جیسے کھچڑی مذکر ہے یا مونث، کھچڑی کوجملے میں استعمال کرو
نرگس۔ حساب کے سوالات کچھ اس طرح ہونگے بتاؤ شمیم نے دو اور نسیم نے تین پلیٹ کھچڑی کھائی تو دونوں نے مل کر کتنی پلیٹ کھچڑی کھائی…
سلمہ۔ انگریزی کے ٹیچر کا سوال ہوگا کھچڑی کو انگلش میں کیا کہتے ہیں اور سائنس کے ٹیچر بچوں کو کھچڑی ہضم کر نے کا گر سکھائیں گے اب تو پورا اسکول کھچڑی کے ارد گرد ہی گھومے گا…. واہ امرتیہ سین جی کیا خوب مشورہ دیا ہے واہ واہ
ہیڈ ماسٹر ۔ یعنی وہ دن دور نہیں جب کھچڑی کو باضابطہ طور پر اسکول کے نصاب میں شامل کر لیا جائے گا اور چیپٹر کچھ اسطرح کے ہونگے مثلاً کھچڑی کیسے بنتی ہے؟ اسکی شروعات کب اورکہاں ہوئی ؟ اسکی کتنی قسمیں ہیں؟ ہندوستان کے کس علاقے میں سب سے اچھی کھچڑی بنائی جاتی ہے…. Llاوراسکے کھانے کے آداب کیا کیا ہیں؟ وغیرہ وغیرہ
نرگس ۔ حضور کیا واقعی اب یہ سب بھی کرنا پڑے گا
سلمہ۔ دھیان چھری پر رکھو ورنہ ہاتھ کاٹ لوگی
سلیمان ۔ اور اب لوگوں کی کہی ہوئی بات بھی سچ ہو جائے گی
عرفان ۔ کونسی بات؟
سلیمان ۔ لوگ کہتے نہیں ہیں کہ یہ ماسٹر لوگ آلو پیاز چھیلنے کیلئے ہی تو اسکول جاتے ہیں اور بھلا کرتے کیا ہیں (آلو دیکھا کر)
ہیڈ ماسٹر ۔ ہاں لوگوں کا کیا ہے کھا پی کر کوئی کام نہیں تو ہم ٹیچرز کو ہی نشانہ بناتے ہیں (ایک عورت داخل ہوتی ہے)
عورت ۔ اے ماسٹر صاحب میں نے اپنے بیٹے کو نیا برتن لے کر دیا ہے دھیان رکھئیے گا ادھر ادھر ہوا تو ہم آپ سے وصولیں گے اور ہاں سب جگہ دو مہینے پہلے ہی مڈ ڈے میل شروع ہوگیا تھاآپ لوگ دیر کاہے کیے دو مہینے کا مال اکیلے مت ڈکار جائیے گا ہم کوبھی یاد رکھئیے گا ورنہ مہیلا سمیتی کی عورتوں کو لیکر آجاؤنگی…… اور ایک بات کئی جگہ سے اسکول کے کھانے میں شکایت آئی ہے چھپکلی وپکلی بھی نکلی ہے یہ سب یہاں نہیں چلے گا اور جن عورتین کو کھانا پکانے میں رکھا ہے سب کو روز نہا کر آنے کو کہیے گا ہملوگ بہت صفائی پسند کرتے (آواز دیکر) ارے پھیکنوا ادھر آ (ایک بچہ میلے کچیلے کپڑے میں داخل ہتا ہے) ای ہے میرا لال بہت ناجو سے پالیں ہیں…(یہ بولتے ہوئےساڑی کے پلو سے بچے کا نیٹ صاف کرتی ہے) ہم اپنا بچہ لوگ کو پھول کی طرح رکھتے ہیں پہچان لیجیے اسکا خیال رکھئیے گا… (بیٹے سے) چلو ماسٹر صاحب کو سلام کرو (نیٹ چاٹتے ہوئے) سلام علیکم ماسٹر صاحب (اور ناک سڑک کر بھاگ جاتا ہے) اچھا ماسٹر صاحب ہم آتے ہیں(چلی جاتی ہے)
ہیڈ ماسٹر ۔ ان لوگوں کا کچھ نہیں ہو سکتا…. چلو چلو سب کٹ گیا باورچی خانہ پہنچا دو (جلدی جلدی سب سامان سمیٹ کر لے جاتے ہیں اور آفس کو صاف کر کے چار ایکسٹرا چیئر لگا رہے ہوتے ہیں کہ دو تین لوگ داخل ہوتے ہیں
نیتا ۔ ہم اندر آ سکتے ہیں ماسٹر صاحب؟
ہیڈ ماسٹر ۔ (زبردستی کی ہنسی ہنستے ہوئے) ارے ارے کیسی بات کرتے ہیں نیتا جی یہ تو آپ ہی کا اسکول ہے ہمیشہ آپ کا ویل کم ہے… آییۓ تشریف رکھئیے… دراصل ہملوگ آپ لوگوں کا ہی انتظار کر رہے تھے کیوں سلیمان ہے نا
سلیمان ۔ (ہڑبڑا کر) جی جی بالکل
نیتا جی ۔ تو ماسٹر صاحب مڈ ڈے میل تو شروع ہو گیا
ہیڈ ماسٹر ۔ جی جی یہ سب آپلوگوں کی کوشش کا نتیجہ ہے
عرفان ۔ جی بس اسی طرح ہمارے اسکول پر نظر کرم کرتےرہئیے ہم آپ کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دینگے ۔۔


نیتا کا ساتھی ۔۔ نہیں چاہیے ہمارے نیتا جی دن رات اپنے وارڈ کے لیے محنت کرتے ہیں تاکہ آپ لوگوں کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو
دوسرا ساتھی ۔ آپ لوگوں کی تکلیف مطلب نیتا جی کی تکلیف
ہیڈ ماسٹر ۔ جی جی بالکل درست فرمایا آپ نے ہمارا اور ہم آپکا خیال رکھیں گے
ہیڈ ماسٹر ۔ میں آپ کا مطلپ نہیں سمجھا
نیتا کا ساتھی۔ کیا ماسٹر صاحب اب کو بھی سمجھانا پڑے گا
دوسرا ساتھی۔ آپ تو خود ہی سمجھدار ہیں
ہیڈ ماسٹر ۔ او ہو… اچھا اچھا میں سمجھ گیا آپ بے فکر رہیں….. یہ تو……
نیتا۔ یہ لوگ آکرآپلوگوں کو سارا کچھ سمجھا دیں گے تاکہ ہم دونوں کا کام چلتا رہے ٹھیک ہے……تو کھانا بن گیا کیا؟
ہیڈ ماسٹر ۔ جی بالکل تیار ہے چلیے نا تو آپ ہی کو
نیتا۔ ارے رہنے بھی دیجئے ماسٹر بچوں بھی جانا ہے
ہیڈ ماسٹر ۔ جی بالکل ابھی کرتا ہو سلیمان صاحب چند بچوں کو لے آئیں…. عرفان صالح b 0 کریں (دونوں حامی میں سر ہلا کر نکل جاتے ہیں)
ہیڈ ماسٹر ۔ آئیے تب تک آپ لوگ چاۓ نوش فرمائیں (چاۓ دیتا ہے…. وہ لوگ چاۓ پی رہے ہوتے ہیں تبھی بچوں کو لیکر وہ لوگ داخل ہوتے ہیں)
ہیڈ ماسٹر ۔ سارے بچے ایک قطار میں بیٹھ کر اپنا اپنا پلیٹ نکال لیں (نرگس اور سلمہ کھانا لیکر آتی ہے) چلیے نیتا جی بچوں کے پلیٹ میں کھچڑی ڈال کر ادگھاٹن کریں (نیتا جی کھانا بچوں کے پلیٹ میں ڈالنا شروع کرتے ہیں کی بچے پہلے ہمکو پہلے ہمکو کا شور شروع کردیتےہیں اس آپا دھاپی میں گرم کھچڑی ایک بچے کے ہاتھ پر گرجاتا ہے)
بچہ۔ ہاۓ جل گیا جل گیا باپ رے مائی رے
نیتا ۔ ارے بھائی کچھ کرو بچے کو چپ کرواؤ
(سبھی بچے کو چپ کروانے میں لگ جاتے ہیں تھوڑی دیر میں بچہ چپ ہوجاتا ہے) ماسٹر صاحب اسکول میں فرسٹ ایڈ کٹ نہیں ہے کیا؟
ہیڈ ماسٹر ۔ جی ہے تو چوٹ لگنے والا مرحم وغیرہ ہے پر برنول نہیں ہے… لگتا ہے اب رکھنا ہوگا… (بچے کو دیکھتے ہوئے) زیادہ کچھ نہیں ہوا ہے… جلدی ٹھیک ہوجائے گا… آپ لوگ بیٹھیۓ آپ لوگ بھی کھچڑی کھا کر دیکھیے. (اتنے میں ایک بچہ دوسرے کی کھچڑی میں پانی ڈال دیتا ہے
بچہ۔ (روتے ہوئے) سر دیکھیۓ نا ای نا میرا کھچڑی میں پانی ڈال دیس آں… آں…. (رونے لگتا ہے) سالا حرامی


دوسرا بچہ ۔ تے ہمکو دھکا کاہے دیا ہم کو ٹھیلا کا ہے تے حرامی… (پھر دونوں میں تو تو میں میں شروع ہو جاتی ہے باقی بچے بھی ایک دوسرے پر کھچڑی پھینکنے لگتے ہیں بڑی مشکل سے انہیں قابو میں کیا جاتا ہے
نیتا۔ ماسٹر صاحب آپ لوگ بچوں کو سنبھالیۓ اور انہیں اچھی طرح کھچڑی کھلایۓ ہملوگ نکلتے ہیں
سلیمان ۔ ایسا کیسے نیتا جی تھوڑا سا تو چکھ لیجۓ
سلمہ ۔ہم آپ کو بغیر چکھے جانے تھوڑے ہی دینگے
نرگس۔ آپ چکھیۓ گا نہیں تو آپ اپنی مٹنگوں میں لوگوں کو بتائیے گا کیسے اسلیۓ آپ کو تھوڑا ہی سہی کھانا تو چاہیے (سارے اسٹاف مل کر اصرار کرتے ہیں
نیتا۔ اب آپلوگ اتنے پیار سے کہہ رہے ہیں تو بھلا ہم کیسے انکار کر سکتے ہیں لایۓ…. آؤ بھائی (ساتھیوں کو اشارہ کرتا ہے) آپ لوگ بھی کھایۓ (سبھی تھوڑا تھوڑا چکھتے ہیں
نیتا اور اسکے ساتھی۔ واہ واہ اچھی بنی ہے کھچڑی…. اسی طرح کی کوالٹی مین ٹین لیجۓ گا کبھی…… تھوڑا… مطلب سمجھ گئے نا…….؟
ہیڈ ماسٹر ۔ جی جی نیتا جی بالکل
نیتا۔ اچھا ہملوگ چلتے ہیں…. اچھا کتنے بچے ہیں اسکول میں
ہیڈ ماسٹر.۔ جی چار سو
نیتا ۔ اب ہر روز سبھی تو نہیں آتے ہونگے…. ہے نا ماسٹر صاحب
ہیڈ ماسٹر ۔ میں سب سمجھ گیا نیتا جی آپ بالکل فکر نہ کریں سب کام آپ کے انسٹرکشن کے مطابق ہی ہوگا (نیتا ہیڈ ماسٹر اور باری باری سب سے ہاتھ ملا کر نکل جاتا ہے
نیتا۔ اور ہاں یہ دونوں جہاں سے چاول دال کے علاوہ دوسری چیزیں لینے کو کہیں گے وہیں سے لیجیۓ گا
(سارے اسٹاف ایک دوسرے کا منہ دکھتے ہیں بچے ایک بار پھر ہنگامہ شروع کر تے ہیں (بیک گراؤنڈ سے سارے جہاں سے اچھا کی دھن سنائی دیتی ہے)


ہیڈ ماسٹر ۔ آپ دونوں بچوں کو لیکر جایۓ…. سلیمان صاحب اور عرفان صاحب آپ نیتا جی کو گیٹ تک چھوڑ کر آیۓ (سب نکل جاتے ہیں…. ہیڈ ماسٹر خود سے ہمکلام ہوتے ہیں…. ایسا لگ رہا ہے جیسے کسی کی شادی سے سبکدوش ہوا ہوں اور گویا یہ اسکول نہیں شادی کا پنڈال ہے….یہی حال رہا تو ریٹائرمنٹ تک پریشر اور شوگر کی بیماری ہونا طے ہے…… آج کی ساری روداد بیگم کو سناؤں گا اور مجھے پورا یقین ہے وہ مسکرا کر کہے گی “اچھا ہے ریٹائرمنٹ کے بعد کی سوچ ختم ہوئی….. کیٹرنگ اور ہوٹل کا دھندہ کبھی مندہ نہیں ہوتا…آرام سے باقی کی زندگی گذر جاۓ گی”… ٹھیک ہی کہتی ہے جیسی سرکار آئی ہے اس سےیہ خدشہ تو ہے کہ پینشن بھی ملے گی کہ نہیں……. “ویسے آپ کیا کہتے ہیں”
فیڈ آؤٹ

Share This Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>