شجر ممنوعہ کی چاہ میں

افسانہ نگار : پرویز شہریار

اُس نے کہا تھا۔
’’ازدواج کی ادلابدلی سے فرسودہ رشتے میں نئی بہارآجاتی ہے ،جس سے رشتے کی جڑ مضبوط ہوتی ہے اور محبت کے بوسیدہ شجر میں نئی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں۔‘‘اُس نے در اصل مجھ سے جھوٹ کہا تھا۔
’’میں اُس شجر ِممنوعہ پر چڑھنا نہیں چاہتی تھی۔ مجھے اِس سے کراہیت ہوتی تھی۔ لیکن، اُس کی خوشی کی خاطر، میں نے خود کو سمجھا لیا تھا۔
اپنے دل کی میں نے ایک نہیں سنی تھی اور بے قرار دل پر پتھر رکھ کر اُس کی باتوں میں آگئی تھی۔
نیچے سے دھکا دے کر ،جب وہ مجھے شجر ِممنوعہ پر چڑھانے لگا ،تب میرا دل، ایک دم سے دھڑکا تھا۔ میں نے نیچے گہرا کنواں دیکھ لیا تھا۔ میرے ہاتھ پاؤںشل ہو گئے تھے ۔میرے تمام اعضا ء جواب دینے لگے تھے۔ میں درخت سے نیچے گرنے ہی والی تھی۔ تبھی کسی نے اُوپر درخت سے ہاتھ بڑھا کر میرا ہاتھ تھام لیا تھا۔ کوئی شخص پہلے سے ہی وہاں ،مجھے سہارا دے کر اُوپر اُٹھانے کے لیے موجود تھا۔میں حیران تھی، سنگ مرمر سے تراشہ ہوا مائیکل انجیلو کا مجسمہ میری آنکھوں کے سامنے پھر گیا۔ ایک پل کو مجھے لگا، میرے تن پر بھی ایک کپڑا نہیں ہے۔ دُنیا مجھے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی ہے۔ لیکن جب حواس ٹھکانے لگے اور غور سے دیکھا تو وہاں ہر طرف ہمارے ہی جیسے لوگ موجود تھے۔ اشجار ممنوعہ کا سرسبزو شاداب نخلستان اور دور دور تک ریگستان کا لا متنائی گھوپ اندھیرا چاروں طرف پھیلا ہوا تھا۔ ہر درخت پر کوئی نہ کوئی آدم زاد موجود تھا اور حواکی بیٹیاں شجر ممنوعہ پر زبردستی چڑھائی جارہی تھیں۔ درخت کا پھل کھاتے ہی کراہیت جاتی رہی اور گہرے کنویں کا خوف بھی کافور ہوگیا۔ ہر طرف اٹکھیلیاں چل رہی تھیں اور خشک ریگستان کے ٹھیک بیچو بیچ قہقہوں کے قل قل کرتے چشمے پھوٹ رہے تھے۔
ہم محبت کے رس میں بھیگے ہوئے تھے۔ہمیںغیر مرد کی آغوش میں خود سپردگی کے لیے خود ہمارے شوہرآمادہ کر رہے تھے۔ ان کی مدد سے ہم اپنے لباسوں کی قید سے انتہائی حساس طریقے سے دھیرے دھیرے آزاد ہورہی تھیں۔ ہمارے جسم کے تمام رونگٹے کانٹے دار گرگٹوں کی طرح کھڑے ہوتے جاتے تھے جوں جوں مردانہ ہاتھوں کے لمس سے ہماری حساس جلدیں مس ہوتی جاتی تھیں اوپر سے نیچے تک ہمارے اعضا بھی گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہے تھے۔ کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کون سا ہاتھ اپنے اور کون سا پرائے مرد کا ہے۔انگوں میں بچھو سے لپٹ رہے تھے۔ پورے بدن میں کپکپاہٹ کی ایک لہرسی دوڑ رہی تھی۔ ہم پر بے خود ی کا نشہ کچھ اِس قدر چھا نے لگا تھا کہ کچھ بھی سوچنے کا وقت نہیں تھا۔ ہر پل بلکہ ایک ایک پل کے ہزارویں حصّے میں بھی احساس کی لاکھوں کونپلیں پھوٹ رہی تھیں۔ ہمارے جنسی غدودوں میں اس قدرہلچل مچی ہوئی تھی کہ معلوم ہوتا تھا کہ پراکرتی اور پرُش کے اِس ملن نے فطرت کے کاموں میں دخل در معقولات دے کر جوالا مکھی، طوفان اور سیلاب تینوں کے گیٹ کھول دئیے ہوں۔ ہم خس وخاشاک کی طرح جنسی ہیجان کے سیل رواں میں بہتے جارہے تھے۔


جب ہوش آیا تو دھیرے دھیرے موسیقی کی دُھن مدھم پڑنے لگی تھی اور جلتے بجھتے برقی قمقموں کی رنگ برنگی روشنی ماند پڑنے لگی تھی۔ جسموں کے ملن کا سنگم پرچھائیوں کی اوٹ میں گم ہو رہا تھا۔ وہاں تو صرف لیزر بیم کی چھٹکتی روشنی میںکوئی مخصوص عضو روشن ہواُٹھتے تھے۔ کون سا ہاتھ کس کا تھا، اسے دیکھنے اور سمجھنے کا ہوش کسے تھا۔
میرا شوہر شروع سے ہی حسن کا پرستار تھا۔ خوبصورت انگوں کادیوانہ تھا اور وہ مجھے ٹوٹ کر پیار کرتا تھا۔ لیکن ہماری ازدواجی زندگی میں جسموں کے ملن کی چنگاریاں جب سرد پڑنے لگیں تو ایک حسیں شام کی ملگجی روشنی میں، اُس نے میرا دل ٹٹولتے ہوئے مجھ سے سرگوشی میںکہا تھا۔ ’’جان من! میں ایک ایسی جگہ جانتا ہوں ،جہاں جانے سے ہماری ازواجی زندگی کی خوشیاں پھر سے لوٹ آئیں گی۔‘‘
میں اپنی پوری قوت کے ساتھ اسے اُس کے ارادے سے باز رکھنے کی کوشش کرتی رہی…لیکن سب کچھ بے سود ثابت ہوا۔مجھے معلوم تھا۔ وہ ایک بار کسی چیز کی ضد پکڑ لے تو اُسے اس چیز سے روکنابہت مشکل ہی نہیں، بعض اوقات ناممکن ہو جاتاہے۔میری سنجیدہ کاوشیں رائیگاں گئیں۔ انکار کی صورت میں وہ بالکل طیش میں آگیا تھااور احساس محرومی کا شکار ہوکربہت زیادہ شراب نوشی کرنے لگا تھا۔
رات ،گھر دیر سے آنے لگا تھا۔
مجھے طرح طرح سے یہ باور کرانے کی کوششیں کرنے لگا کہ ’’وہ سہی‘‘ ہے اور میں اُس کی بات مان جاؤں…آخر ایک دن اس کی ضد سے تنگ آکر میں اُس کے آگے جھُک گئی… میں اسے زیادہ دنوں تک روٹھا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھی۔ میں نے آخر کار، اُس کی خوشنودی کے لیے ’’حامی‘‘ بھرلی۔ پھر کیا تھا، وہ خوشی سے طاؤس کی مانند اپنے وجود کے پورے پھیلاؤ کے ساتھ ناچ اُٹھا ۔ اس کے دل کی مراد پوری ہوگئی تھی۔


وہ مجھے اُس رات،اپنے ساتھ اُس پُر اسرار جگہ پر لے گیا۔
وہ جگہ کیا تھی، ایک خفیہ کلب تھا۔جہاں ازدواج کی ادلا بدلی ہوتی تھی۔وہ کلب کثیر جنسی سرگرمیوں کی آماجگاہ تھا۔
اس کلب میں داخل ہونے والے ہر مرد اور عورت کے جسم کا ابھیشیک کیا جاتا تھا۔ایسا کرتے وقت ایک ایک کرکے سارے کپڑے اُن کے تن سے الگ کر دیئے جاتے تھے۔آسمان کی طرف لپکتے ہوئے شعلوں کے گرد ا نسانی جسموں کا ایک ہالہ بنا کرسات بار چکر لگاتے اور اپنے اندر آگ سی حرارت پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
اُس رات میں نے اپنی ننگی آنکھوں سے دیکھااور محسوس کیا ۔ نسائی ہاتھوں کی انگلیوں کے لمس سے اس کی گردن، پیٹھ اور پہلوؤں میں سہرن سے دوڑ گئی اور وہ فرط انبساط کے عالم میں مست ہاتھی کی طرح جھومنے لگا تھا۔ یہ جسم وجان کے اندر موجود جنسی چنگاریوں کو ہوا دے کر اسے برانگیختہ کرنے کا عمل تھا۔ جسے عرف عام میں کالا جادو جگانے کے عمل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔یہ حسن اتفاق کی بات تھی کہ وہ اماوس کی رات تھی۔ایسی رات جب کالا جادو سر چڑھ کے بولتا ہے۔
اوّل اوّل مرد وزن مکھوٹوں میں روپوش یہاں وہاں گھوم ٹہل رہے تھے لیکن موسیقی میں جوں جوں تیزی آتی گئی، ان کے جسم کپڑوں سے بے نیاز ہوتے چلے گئے۔یہاں تک کہ شعلوں کی آنچ سے تپتے ہوئے مادر زاد انسانوں کا وہاںایک جمگٹھا سا لگ گیا۔ وہ سب کسی اور ہی سیّارے سے آئے ہوئے دم کٹے جانور معلوم ہوتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ عریانیت کو ئی معیوب چیز نہیںہے۔ جب خدا، گوڈ اور ایشور نے ہمیں اسی روپ میں پیدا کیاہے تو پھر اس پر سے یہ آورن کیوں اوڑھا جائے۔ ننگے رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جب ہم دوسروں کی بیویوں کے نیم برہنہ جسموں کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں تو ہمارے اندر منفی توانائی پیدا ہوتی ہے جو آگے چل کر ایک قسم کی نفسیاتی گانٹھ میںبدل جاتی ہے، جس کا انخلا ضروری ہوجاتا ہے۔ لیکن مادرذات عریاں رہ کر ہم کسی سے کچھ بھی نہیں چھپاتے اور جس استری سے جی چاہے سمبھوگ کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ استری بھی اپنے چاہنے والے مرد کے اندراتنی ہی کشش محسوس کرتی ہو۔


اس عمل سے ہمارے اندر مثبت توانائی کی تخلیق ہوتی ہے اور وقفے وقفے سے بطن اور دماغ میں مجتمع ہونے والی منفی توانائیوں سے ہمیں نجات بھی ملتی ہے۔ ہم برے خیالات سے بچتے ہیں۔ ایشور ہمیں ایسے روپ میں زیادہ پسند کرتا ہے۔ ہاں! جس کے اندر شہوانی جذبات برانگیخت نہ ہوں وہ اس ملن سے دور رہ سکتا ہے۔ پرم آنندنہ سہی ،ایشور نے نظارے میں بھی آنند اور من کی شانتی رکھ دی ہے ۔جس کی ترشنا جتنی تیز ہوتی ہے ،وہ اس کی ترپتی کے لئے اتنی ہی جلدی اُتیجت ہو جا تا ہے ۔یہ فطرت کا اصول ہے۔
اس کلب کے ایک سب سے عمردرازشخص نے مثال دیتے ہوئے مجھ سے کہا تھا۔’پیاسے گھوڑے کو آپ پانی پینے سے روک سکتے ہیں لیکن جس گھوڑے کو پیاس نہ لگی ہو ،آپ اسے زبردستی پانی نہیں پلا سکتے ہیں۔ اسی طرح آپ کسی بھی کام کو زبردستی نہیں کرسکتے۔ اگر روچی نہ ہو توآپ نے اکثر دیکھا ہوگاکہ ہم کھانے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیتے ہیں‘۔
میں نے بھی کھانے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا۔ اس وقت میری عمرچھیالیس سال کی ہوچکی تھی۔
لیکن میرے شوہر کی شہوانی خواہشات عمر ڈھلنے کے ساتھ ساتھ مزیدجوان ہوتی جارہی تھی۔ وہ مجھے اپنے ہاتھوں سے بناؤ سنگھار کرکے کلب لے جاتا۔ میں بہت گوری تھی ۔میرے جوبن کے اُبھار ابھی ماند نہیں پڑے تھے۔لیکن اندر سے میں خود کو کمزور محسوس کرنے لگی تھی۔ میں اپنے شوہر کی خاطر وہ سب کچھ کر رہی تھی جس سے کہ وہ خوش رہے۔ مجھے غیر مردوں کے ہاتھوں میں جھولنا، ان کی بانہوں میں مچلنا اور اپنے ہونٹوں کے زوایے میں ان کی زبان کی پھسلن کومحسوس کرنا ،کچھ مزہ نہ دیتا تھا۔ لیکن جب اپنے شوہر کے سامنے دوسرا مرد آپ کے وجود کو جھنجھوڑتا ہے تو یقیناً آپ کے اپنے مرد کے اندر رقابت اور حسد کا ایک شعلہ سا لپک جاتا ہے اور وہ اس کی تپش میںجھلس کر اپنے اندر کی گرمی دوسری عورتوں کی بانہوں میں جاکر ٹھنڈا کرتاہے۔شعلوں سے کھیلنے کا یہ ایک غیر فطری عمل ہے۔ لیکن یہی کام میرے شوہر کے اندر ہر بار جینے کی ایک نئی امنگ پیدا کر دیتا تھا۔کئی مہینوں تک جنسی آنکھ مچولی کا یہ سفلی کھیل چلتا رہا… اس کے اندر تیزی سے تبدیلی آرہی تھی۔ یہاں تک کہ ہماری ازدواجی زندگی میں ایک ایسا موڑ آگیا، جب مجھے اُس کی خوشی سے رفتہ رفتہ جلن اور چڑھ سی ہونے لگی۔
میرا شوہر بہت لکی تھا ۔اس نے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ مل کر ریئل اسٹیٹ کا کاروبار شروع کیا تھا۔ اُسے اِس کاروبار میں اتنی تیزی سے ترقی ملی کہ معلوم ہوتا تھاجیسے کوئی پارس پتھر اس کے ہاتھ لگ گیا ہو۔ جس مٹی کو اُس نے چھوا وہ سونا ہوتی چلی گئی۔دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایمپائر کھڑے کر لیے، فارم ہاؤس خرید لیے اور شہر کے گرد ونواح میں کئی ہوٹلیں کھول لیں۔ وہ شروع سے رَسِک مزاج تھا، چناچہ ہر ہوٹل میں باربی کیو اور ڈانس فلور بنوا رکھے تھے جہاں نوجواں جوڑیاں ڈنر سے پہلے بھوک بڑھا نے اوراپنے جسم کی لٹکتی ہوئی فاضل چربیاں کم کرنے کے لیے ڈانس کیا کرتے تھے۔ میں جب کبھی اپنے شوہر کے ساتھ وہاں جاتی تو اس کا دل رکھنے کی خاطر کچھ اسٹیپس کر لیا کرتی تھی۔لیکن اتنے سے اس کا جی نہیں بھرتا تھا۔ وہ مزید ڈانس کرنے کی ضد کرتا لیکن میں زیادہ ساتھ نہیں دے پاتی تھی۔
میری شادی جب ہوئی ، تب میں سولہویں سال کے میٹھے شباب کے دور سے گزرر ہی تھی۔جب بالی عمر کی لڑکیاں سپنوں میں اپنے شہزادے کو بادلوں کی اوٹ سے نمودار ہوتاہوا دیکھتی ہیں۔ جوبن کے رس سے جب انگ انگ مہک اُٹھتے ہیں اور درد کی میٹھی چبھن سے سارا جسم ٹوٹ رہا ہوتا ہے ۔ایسے میں من کرتاہے کہ کوئی آپ کو ٹوٹ کر چاہے ،کوئی پیار کرے اور کوئی آپ پر اپنی جان نثار کرے۔ میں نے بھی یہی چاہاتھا کہ سپنوں کے راجکمار کے ہاتھوں میں اپنے حسن کی دولت سونپ کر اس کی بانہوں میں سکھ چین کی بانسری بجاتی ہوئی عمر بسر کر دوں گی۔


لیکن ایسا نہیں ہوا۔میں اتنی خوش نصیب نہیں تھی۔
جب میری شادی ہوئی، میرے شوہر کی عمرصرف بیس سال کی تھی۔ اس کے ہاتھوں میںکوئی روزگار نہیں تھا۔وہ کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا،کیونکہ اُس کی زبان میں لکنت تھی۔ وہ اپنے مالدار بھائی کا شافر تھا۔ بھائی کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ وہ پیر وفقیر اور درگاہوں کی خاک چھان چھان کر تھک چکے تھے۔ تبھی انھیں کسی نے مشورہ دیا کہ اپنے چھوٹے بھائی کی شادی کردو ۔شاید ،اِس کی قسمت سے اولاد کا سکھ نصیب ہوجائے۔ میرے شوہر کے ماں باپ پچپن میں ہی خدا کو پیارے ہوگئے تھے۔ وہ یتیم تھا۔ میں بیاہ کر کے آئی۔ گھر میں پھول جیسے دو بچے ہوئے۔ بڑے لاڈ پیار سے ان کی پرورش ہوئی۔ بڑے ہوئے، پڑھنے کے لیے یونیورسٹیوں میں چلے گئے۔تعلیم مکمل کی۔ ملازمت ملی اور پھر وہیں کے ہوکے رہ گئے۔
ایک دن میرے شوہر نے مجھ سے اُداسی بھرے لہجے میں کہا تھا۔
’اتنی کم سنی میں ہماری شادی ہوئی کہ کیسے بچے ہوئے۔ کب پلے بڑھے کچھ پتہ ہی نہیں چلا۔ شادی تو گڈے گڑیا کا کھیل سی ہوکر رہ گئی۔ اب، جبکہ سمجھ میں آیا کہ شادی کیا ہوتی ہے ،کیوں ہوتی ہے اور زندگی کا لطف کیسے لیتے ہیں۔ تو، پُل کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا ہے‘۔
میرے شوہر کے دماغ میں ازدواجی زندگی کی ایک تشنگی سی محسوس ہونے لگی تھی۔ بس، یہی وہ فتنہ سا خیال تھا۔جس کے انکور نے کے بعدبدن کی مختلف شاخوں پرجنسی ہوس کی کونپلیں متواترپھوٹتی چلی گئیں اور پھر ایک دن، اُس کی زندگی میںایسا بھی آیا، جب وہ ننھا سا کونپل ایک پورا تناور درخت بن گیا۔
ہاں ! وہی شجر ممنوعہ
اس شجر ممنوعہ کی جڑوں سے لگا ایک گہرا کنواں بھی تھا جسے دیکھ کے ڈر لگتا تھا۔ مگر اس درخت کے پھل نے مجھے اوّل اوّل ایسا مدہوش کیا کہ حواس ٹھکانے نہ رہے اور جب ہوش آیا تو میری دُنیا پوری طرح سے اُجڑ چکی تھی۔
وہ کالی تھی۔
اس کی بوٹی بوٹی چمکتی تھی۔
لیکن … میرا شوہر اُس چڑیل زادی پر لٹّو تھا۔
میرے شوہر کو خوبصورت عورتیں اچھی لگتی تھیں۔ یہ بات اور ہے کہ اس کے اندر اتنا گٹس نہیں تھا کہ وہ ان کا دھیان اپنی طرف کھینچ سکے۔ چونکہ وہ بچپن سے ہی ہکلاتھا، اس لئے اُس کے رویّے میں احساس ِ کمتری کی جھلک بڑی نمایاں طور پر موجود تھی۔یہ حقیقت ہے کہ وہ عورتوں کو اپنی طرف مخاطب کرنے سے گھبراتا تھا۔ تبھی اُسے اِس کلب کا پتہ چلا۔ اُس نے وقت ضائع کیے بغیر اپنے منصوبے کے مطابق مجھے شیشے میں ڈھالنا شروع کر دیا ۔ یہاں تک کہ ا ُس نے مجھ سے جھوٹ کہا ۔
اُس نے کہا تھا۔
’’ازدواج کی ادلا بدلی سے فرسودہ رشتے میں نئی بہار آ جاتی ہے، جس سے رشتے کی جڑ مضبوط ہوتی ہے اور محبت کے بوسیدہ شجر میں نئی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں۔‘‘
اس نے سچ کہا تھا۔
محبت کے بوسیدہ شجر میں کونپلیں پھونٹنے لگتی ہیں۔
ہاں! کونپلیں تو پھوٹیں اور خوب پھوٹیں لیکن ساتھ ہی میری قسمت بھی پھوٹ گئی۔ وہ میرے سامنے اس کالی کلوٹی سے پینگیں بڑھاتا رہا اور میں گم صم سب کچھ دیکھتی رہی۔ اس چڑیل نے ناجانے کیا جادو کر دیا تھا۔ وہ سیاہ فام ڈائن مردوںکے ہاتھوں میں شراب سے لبریز پیمانے کی طرح گردش کرتی رہی۔ اس کے پیچھے مردوں کی ایک قطار لگی ہوتی تھی۔ اِدھر میں اپنے ہاتھوں اپنے نصیب کورو پیٹ کر بیٹھ چکی تھی۔ میری حیثیت آم کی اُس چوسی ہوئی گٹھلی کی مانند ہوچکی تھی جو آدم زادوں کی ٹھوکروں کی زد پر ایک جگہ سے دوسری جگہ پرجا کر گر پڑتی ہے۔ جسے گدھے بھی سونگھ کے چھوڑ دیتے ہیں۔ میرا شوہر بھی بہت بڑا گدھا تھا۔اس کا سر بھی گدھے ہی کے جیسا لمبا تھا،جسے وہ کبھی سنبھال کر اپنے قابو میں نہیں رکھ سکتا تھا۔


اس طرح سے میرا شوہر دھیرے دھیرے مجھ سے دور ہوتا چلا گیا۔ وہ میرے پاس ہوتے ہوئے بھی مجھ سے کوسوں دور رہنے لگا تھا۔ میں اپنی نظروں کے سامنے اُسے بڑی بے بسی سے اپنے سے دور ہوتا ہوادیکھتی رہی۔ میری مت ماری گئی تھی۔ کلب کی پرچھائیوں نے اس کے سیاہ جسم کو خوب روشن کیا اور میری آنکھیں ہر پل ،ہر دم دھوکا کھاتی رہیں۔ وہ میری نظروں کے سامنے پرچھائیوں میں غوطے لگاتارہا، وہاں ڈوبتا رہا ،اُبھرتا رہا او راُس کے قہقہوں کی آواز میرے کانوں میں نہیں پڑ رہی تھی۔
آج، میں خود کو اکیلے پن کے ایک ایسے گہرے کنویں میں گری ہوئی محسوس کررہی ہوں ،جہاں سے میری آواز باہر کی دُنیا تک پہنچ نہیں سکتی ہے۔ میں اندر ہی اندرچیخ رہی ہوں ۔میں اپنے وجود کی جنگ لڑ رہی ہوں۔لیکن میرے آس پاس مجھے کوئی سننے والا نہیں ہے۔
عورت کی ذات کتنی تنہا ہے، اِس ہوس بھری دُنیا میں!
افسوس! میں نے یہ کیا کیا،
شجر ممنوعہ کی چاہ میں!
*****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

Share This Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>