سورہ الفاتحہ کاپیغام

ڈاکٹرمحمدارمان
کاشی ناتھ کالونی
کٹاری ہل روڈ،گیا
Mob: 9931441623

الفاتحہ قرآن کی پہلی سورہ ہے ۔اس سورہ کاترجمہ یہ ہے :’’حمد صرف اللہ کے لیے ہے جوسارے عالم کارب ہے ۔وہ رحمان اوررحیم ہے ۔روزِ جزاکامالک ہے ۔ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اورہم تجھ ہی سے مددچاہتے ہیں ۔ہم کوصراط ِ مستقیم پر چلا۔اُن کاراستہ جن پرتونے انعام کیا۔ اُن کاراستہ نہیںجن تیراغضب ہوا،اورنہ اُن لوگوںکاراستہ جوسراط ِمستقیم سے بھٹک گئے ۔‘‘
قرآن میں اس سورہ کانام الفاتحہ ہے ۔فاتحہ کالفظی مطلب ہے : ابتدا(The Opening)یہ لفظ ترتیب کوبتاتاہے ، یعنی 114سورتوںکی کتاب کی پہلی سورہ ۔مفسر صحابی عبداللہ بن عباس نے کہاکہ : أ ساس القرآن الفاتحہ (القرطبی 1/113)یہ قول اس سورہ کے معنوی پہلوکوبتاتاہے ۔اساس کالفظی مطلب ہے بنیاد۔اس کامطلوب یہ ہے کہ سورہ الفاتحہ میںقرآن کی تمام بنیادی باتیں (fandamentals)بیان کردی گئی ہیں۔دوسرے لفظوں میںیہ کہ سورہ الفاتحہ میںقرآن کی تعلیمات کاخلاصہ ہے ۔ سورہ الفاتحہ کے مضامین کو5عنوانات کے تحت تقسیم کیاجاسکتاہے ۔ (1)خداکی معرفت یعنی خداکے وجودکوشعورکی سطح پردریافت کرنا۔ (2)انسان کے بارے میںخداکے تخلیقی منصوبہ کی دریافت (3)اللہ کاعبادت گزار بنناجواللہ کی معرفت کالازمی نتیجہ ۔(4)ربانی ماڈل کی نظری دریافت (5)ربانی ماڈل کی عملی دریافت اوراس کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیروتشکیل ۔
1- ’’حمدصرف اللہ کے لیے ہے جوسارے عالم کارب ہے ۔وہ رحمان اوررحیم ہے ۔‘‘ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ خداکی دریافت کا مطلب کیاہے ۔ اس کامطلب یہ ہے کہ ایک آدمی اپنے شعور کواتنا زیادہ بیدارکرے جب کہ وہ خداکوایک ایسی ہستی کے طورپرپالے جس کاایک مستقل وجودہے ،جوسارے عالم کوپیداکرنے والااوراس کوکنٹرول کرنے والاہے ۔ خداکی سب سے بڑی صفت رحمت اوررافت کی صفت ہے ۔اس دریافت کوایک لفظ میں ربانی دریافت کہاجاسکتاہے ۔اس دریافت کالازمی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ انسان کے اندریقین کاچشمہ ابل پڑتاہے ۔وہ ایک تھرل (thrill)کے ساتھ کہہ اٹھتاہے کہ خدایا،ساری تعریف تیرے لیے ہے اورساری عظمت (glory)تیرے لیے ۔
2- ’’وہ روز جز اکامالک ہے ‘‘ -روز جزا (Day of judgement) کا مالک ہوناخدا کے پورے تخلیقی منصوبے کوبتاتاہے ۔یہ الفاظ بتارہے ہیں کہ انسان کی تخلیق اتفاقی طورپر یابے مقصد نہیںہوئی ہے ۔وہ ایک اعلیٰ منصوبہ بند (Well planned) تخلیق ہے ۔ اس منصوبے کے مطابق نوجودہ دنیاایک امتحان گاہ (Testing ground) ہے ۔ یہاں افراد کوان کے ریکارڈ کے مطابق ،منتخب کیاجارہاہے ۔اس کے بعدایک وقت آئے گا، جب کہ موجودہ امتحانی دورِ حیات ختم ہواوردوسرا دورِ حیات آئے ، جہاں ہرانسان کے لیے اس کے ریکارڈ کے مطابق اس کے ابدی مستقبل کافیصلہ کیاجائے ۔
3- ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اورتجھ ہی سے مددچاہتے ہیں ‘‘-عبادت اور استعانت دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ۔جب ایک

انسان کواللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے تواس کے لازمی نتیجے کے طورپروہ اللہ کے آگے سرینڈر کردیتاہے ۔ اس سرینڈر کاایک پہلوعبادت ہے اوردوسرا پہلواستعانت ۔اپنے وجودکی سطح پراس کاجواظاہر ہوتاہے ،اسی کانام عبادت ہے ۔ اسی کے ساتھ وہ اللہ سے اس کاطالب بن جاتاہے کہ وہ اس کوحقیقی فلاح عطا کرے ۔اسی کانام استعانت باللہ ہے ۔
4- ’’ہم کوسیدھے راستے پرچلا‘‘-جب انسان کوحقیقت کی دریافت ہوتی ہے تواسی کے ساتھ وہ یہ بھی جان لیتاہے کہ افکارکے جنگل میںاپنے لیے ذاتی طورپرزندگی کاصحیح راستہ دریافت کرنااس کے لیے ممکن نہیں۔ یہ واقعہ اس کومتلاشی (Seeker) بنا دیتا ہے ۔وہ اپنے دل کی گہرائیوں کے ساتھ اس بات کاطالب بن جاتاہے کہ خدا کی مددسے وہ اپنے لیے صحیح نظریہ ٔ حیات (Ideology of life)سے واقف ہوسکے ۔ صحیح نظریہ حیات کی یہ طلب اس کواپنے پورے دل اوراپنے پورے دماغ کے ساتھ دعاگو بنادیتی ہے ۔اس طرح کی حقیقی دعاجب کسی کے اندرپیدا ہوجائے تووہ اپنے آپ میںاس بات کی ضامن ہوتی ہے کہ خدا اس کوصراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی عطاکرے ۔

5- ’’ان لوگوں کاراستہ جن پر تونے انعام کیا، ان لوگوں کاراستہ نہیںجن پر تیراغضب ہوا، اورنہ ان لوگوں کاراستہ جوصراطِ مستقیم سے بھٹک گئے ‘‘-مرادصراط ِ مستقیم کاعملی ماڈل ہے ، یعنی وہ ہدایت یاب انسان جواپنی زندگی میںہدایت الٰہی کوعملاً اختیار کرلے اور طرح وہ دوسروں کے لیے ماڈل بن جائے ۔انعام کے اس معاملے کی مزیدوضاحت قرآن کی سورہ النساء کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے : ومن یطع اللہ والرسول فأ الیک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشہداء والصلحین وحسن الیک رفیقا(4:69) یعنی جو اللہ اوررسول کی اطاعت کرے گا، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگاجن پراللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبراور صدیق اورشہیداورصالح ۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت ۔

قرآن کی اس آیت چارایسے گروہوں کاذکرہے جواللہ کے انعام کے مستحق قرارپائے ۔وہ چار گروہ یہ ہیں -صدیقین ، شہدااورصالحین ۔ یہ چار گروہ صراطِ مستقیم کے لیے عملی ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔تاہم ان چاروں گروہ کی حیثیت یکساں نہیں ۔ انبیاء کوخدا کی طرف سے براہ راست رہنمائی حاصل ہوتی ہے ۔ اس لیے انبیاکی حیثیت اس معاملے میںاصلاً اوردوسرے گروہوں کی حیثیت تبعاً ۔دوسرے لفظوں میںیہ کہ انبیاکی حیثیت اس معاملے میںمطلق طورپر ہے اوردوسرے کی حیثیت اضافی طورپر۔ انبیا کوان کی وحی کی نسبت سے پہچانناہے ،جبکہ دوسرے گروہوں کواس اعتبار سے کہ انہوںے انبیاکاکامل اتباع کیا۔ گویا انبیا کوجانچنے کامعیاروحی الٰہی ہے ، اوربقیہ دوسرے لوگوں کوجانچنے کامعیار اتباع رسول ۔
مغضوب اورضال دونوں ایک ہی کرادر کے دودرجے ہیں ۔ضال سے مرادانسان ہے جوسچائی کے راستے سے بھٹک گیاہو۔اور مغضوب سے مراد وہ انسان ہے جس کابھٹکاؤ صرف بھٹکاؤ نہ ہو، بلکہ لمبی مدت کی کنڈ یشننگ کے بعد وہ اپنے مسلک پراتناپختہ ہوجائے کہ اس کی واپسی کی امید باقی نہ رہے ۔

٭٭٭

Share This Post
Written by مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>