تانیثیت اور اردو کی نئی افسانہ نگارخواتین

مضمون نگار : ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی

تانیثی ادب کے نظریات و مبادیات کی تلاش و جستجو کرنے والے مغربی دانشوروں کے مطابق اِس تحریک یا رجحان کا نقطۂ آغاز میری وال اسٹون کرافٹ (Mary wall stone craft)کی تصنیف A vindcation of the rights of woman کو مانا جاتا ہے،جو ۱۷۹۲ ء میں شایع ہوئی تھی۔اور جس میں فاضل مصنفہ نے بڑی بے باکی کے ساتھ لکھا تھا کہ ــــــ’’ ظالم او ر استحصال پسند لوگ عورت ذات کو تاریکی میں رکھنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ظالم تو انہیں غلام بنانے کے درپے ہوتے ہیں اور استحصال پسند اپنے ہاتھوں کا کھلونا۔لہذا عورتوں کو چاہیے کہ وہ ان دونوں کے دام فریب سے ہوشیار رہیں‘‘۔(زائدین جدیدیت،از فہیم اعظمی۔ص ۴۴) میری وال اسٹون کرافٹ کی باتیں اُس زمانے کے لحاظ سے بالکل نئی ،جرأ ت مندانہ اور چونکا دینے والی تھیں جن میں مرد اور عورت کے صنفی فرق کو بڑے واضح اور بے باکانہ تناظر میں دیکھا گیا تھا۔


مغربی ادب میں تانیثی تحریک کی دوسری علمبردار سیمون دی بوار (Simone De Beavoir)ہیں ،جن کی کتاب The Second sex کو دنیا بھر میں ایک منفرد اور باغیانہ تحریر کا درجہ حاصل ہوا۔تیسری اہم کتاب ورجینیا وولف کی A Room of one’s own بھی ہے،جس میں عورت کے آزادیٔ اظہار کے حق کے لیے آواز اٹھائی گئی۔مادام بوار اور ورجینیا وولف کی کتابیں نسائی تحریک کی بنیا د ثابت ہوئیں۔ان کتابوں نے عورتوں کی عزت نفس کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ان میں بیدار ی کی وہ کرن پیدا کردی جس نے نسائی تحریک کو اجتماعی تانیثی تحریک میں بدل دیا۔ان لوگوں کا اصرار تھا کہ مرد اور عورت کا وجود ی درجہ ایک ہے اور جنس ان کے راستے میں حائل نہیں ہوتی۔لہذا عورتوں کو ایسی تفریق کی مخالفت کرنی چا ہیے اور ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں وہ آزادیٔ اظہار کا حق استعمال کر سکیں۔گویا عورتوں کے حقوق کی یافت،مرد اساس معاشرے میں متعصبانہ رویوں کے خلاف غم و غصہ اور پابندیٔ اظہار کے خلاف احتجاج و مزاحمت تانیثی تحریک کے بنیادی عناصر قرا ر پائے۔
اِن عناصر اور نظریات ورجحانات کو ملحوظ نظر رکھ کر جب ہم اردو ادب پر نگاہ ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ابتدائی دور میں خواتین کا جو ادب سامنے آیاہے وہ بالعموم رومانی،اصلاحی اور تقلیدی رہاہے۔اُ س پر ان عصری رجحانات و موضوعات کا اثر رہا ہے جو عام طور پر مرد ادیبوں کے یہاں موجود تھے۔مثلاً عشق و عاشقی و قلبی احساسات کی تر جمانی،اسلامی اور مشرقی معاشرت پر اصرار،خیر وبد کی نشاندہی اور ایک مثالی خاندان یا معاشرے کی تشکیل وغیرہ۔مگر دھیرے دھیرے انہوں نے اپنے عہد کے تغیرات کو شدت سے محسوس کیا اور اس کے مثبت اثرات کو قبول کرتے ہوئے منفی اقدار سے احتساب کیا اور ادب میں اُس روش کا ساتھ دیا جو زمانے میں مقبول رہی ۔ نہ صرف فکری اعتبار سے بلکہ فنی اعتبار سے بھی خواتین ادیبائوں نے ہر آنے والی تبدیلی کو
قبول کیا۔یہی وجہ ہے کہ آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد کی خواتین ادیبائوں میں نمایاں فرق نظر آتاہے۔میرے خیال میں ترقی پسند تحریک خواتین کے لیے Turning Point رہی ہے،جس کے طفیل انہیں آزادیٔ فکر و نظر کا ماحول عطا ہوا،اور ان میں خود شناسی کی خصوصیات پیدا ہوئیں۔چنانچہ اپنی ذات کے عرفان اور اپنی صلاحیتوں کے احساس و ایقان کے نتیجے میں نسائی تحریک اور پھر تانیثیت کا رجحان پیدا ہوا۔


اردو افسانے میں تانیثی رجحان کی اولین محرک اور احتجاج ومزاحمت کی آواز بلند کرنے والی پہلی خاتون افسانہ نگارڈاکٹر رشید جہاں نظر آتی ہیں،جنہوں نے اپنے افسانوں سے نہ صر ف قدامت پرستی اور توہم پرستی پر ہی کاری ضرب لگائی بلکہ ادبی سطح پر بھی نئے معیار اور نئی قدروں کو جنم دیا۔یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ ’انگارے‘ کی کہانیوں میں سب سے زیادہ گہرا طنز اور قدامت پرستی کے خلاف براہ راست ضرب اگر کہیں لگائی گئی تھی تو وہ سجاد ظہیر کا افسانہ’’جنت کی بشارت‘‘ تھا۔لیکن مولویوں اور سماجی ٹھیکیداروں کی شدت پسندی کاسب سے بڑا نشانہ رشید جہاں بنیں،جبکہ ان کے افسانے میں کوئی قابل اعتراض بات نہ تھی۔در اصل یہاں صر ف افسانے کی بات ہی نہیں تھی۔بنیادی مسئلہ یہ تھاکہ ہندستان میں پہلی مرتبہ اردو میں کسی مسلم خاتون نے ان موضوعات پر اظہار خیال ہی نہیں کیا تھا بلکہ ایک گروپ کے ساتھ باقاعدہ ایک تحریک کی بنیاد رکھی تھی۔
رشید جہاں کے بعد ممتاز شیریں او ر عصمت چغتائی نے اپنی تخلیقات کے ذریعہ مرد اساس معاشرے میں عورت کی آزادیٔ اظہار کے لیے آواز اٹھائی۔ان کی بیشتر تحریریں اردو کے افسانوی ادب میں احتجاج و مزاحمت کے قابل قدر نمونے قرار دیے جا سکتے ہیں۔قرۃ العین حیدر نے ۶۰۔۷۰ کے دہوں میں ہی کارمن اور گریسی کے مقابلے میں تنویر فاطمہ ،سیتا اور چائے کے باغ کے خود گر اورخود شکن کرداروں کا بھی ایک تصور مہیاّ کیا تھا۔ان کے بعد نمایاں ہونے والی فکشن نگار خواتین میں ہاجرہ مسرور،خدیجہ مستور،جمیلہ ہاشمی،جیلانی بانو،واجدہ تبسم،بانو قدسیہ اور زاہدہ حنا وغیرہ نے اپنے افسانوں اور ناولوں کے ذریعہ اسی رجحان کو فروغ دیا۔قابل تعریف بات یہ ہے کہ اِن تمام خواتین کی تخلیقات میں مغرب کی کورانہ نقالی نہیں ملتی بلکہ اپنے ملک اور سماج اور تہذیب و معاشرت کے درمیان زیست کرتے ہوئے جاندار کرداروں کے ذریعے تانیثی فکر و احساس کو پیش کرنے کی کامیاب سعی ملتی ہے۔
اردو افسانے کوخواتین نے جو وسعت بخشی ہے اور جن وسیع تر انسانی تجربات سے اسے آشنا کیا ہے اس کی اپنی بیش بہا قیمت ہے۔مگر اس میں تانیثی فکر و احساس کی شدت ہمیں ۱۹۷۰۔۸۰ کے بعد زیادہ نظر آتی ہے۔اسالیب کا تنوع ،تجربات کا اژدہام اور اظہار کی جرأت ہماری نئی خواتین افسانہ نگاروں کے یہاں فن کے روشن نشانات بن کر موجود ہیں۔تانیثیت کے رجحانات نے جدید خواتین افسانہ نگاروں کو بلا شبہ زیادہ بے باک اور حوصلہ مند بنا دیا ہے۔ان کے یہاں مرد اساس معاشرے
سے بغاوت کا لہجہ آہستہ آہستہ تیز تر ہوتا جا رہا ہے۔اب وہ ’وفا کی دیوی‘ اور ’حیا کی مورت ‘ کی جگہ ایک نئے پیکر میں ابھر رہی ہیں،جہاں اپنے وجود اور اپنی ذات کا احساس ہی ان پر حاوی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اک عمر کی وفا شعاری کے تجربے نے جو داغ دیے ہیں وہ اسے کسی صورت فراموش نہیں کر پار ہی ہیں۔ان کے اندر کی آگ نے ان کے وجود کوہی نہیں جلا یا ان کے لطیف احساسات کو بھی زخمی کیا ہے۔اوراِس کا ردعمل بسا اوقات بڑا خطرناک ہوا ہے۔عورت کے حقوق منواتے ہوئے ان کے لہجے میں سہمناکی کے بجائے بلا خوفی ہے۔اس لیے انہیں ان مراعات سے کد ہے جن سے رحم اور ترس کی بو آتی ہے۔وہ معاشرہ جس کی کم وبیش نصف آبادی عورت پر مشتمل ہے محض اس لیے اسے آزادی سے محروم نہیں رکھا جا سکتا کہ وہ عورت ہے۔اس کے لیے اختیارات و قوانین کا معیار جدا کیوں؟یہ سوال بار بار ہماری افسانہ نگارخواتین نے اٹھائے ہیں۔انہیں اس ضابطۂ اخلاق سے سخت نفرت ہے جس پرجاگیرداری منشا و رضا کے دستخط ثبت ہیں کہ وہ محض ایک زینت خانہ ہے۔جدید افسانہ نگار خواتین کے یہاں اِس صورت حال کا ردّعمل تو یکساں ہے مگر اظہار کے پیرایوں اور شدتوں میں امتیاز کی سطحیں مختلف ہیں۔بعض خواتین کی آواز بے حد بلند ہے تو بعض کی تائیدی اور اصراری۔بعض ادیبائوں کے لیجے میں دھیما پن اور تفکر کا رنگ گہرا ہے تو بعض کی تحریر میں طنز اور جوش کے ساتھ فکر بھی برقرارہے۔ہاں ان کے فکر واظہار،سوچ اور بیان کے درمیان پوری یگانگت ہے۔اسی طرح ان جذبوں کے اظہار میں بھی یہ کھری اور سچی ہیں جنہیں اب تک لب گویا نہ ملے تھے۔ترنم ریاض ،غزال ضیغم،ذکیہ مشہدی،قمر جہاں،نگار عظیم،ثروت خان،تبسم فاطمہ،اشرف جہاں،صبوحی طارق،شائستہ فاخری ،عنبری رحمان،نزہت طارق ظہیری،نوشابہ خاتون،تسنیم فاطمہ،غزالہ قمر اعجاز،نصرت شمسی،عروج فاطمہ ،ا فشاںزیدی اور رخسانہ صدیقی وغیرہ کے افسانوں کو پڑھ ڈالیے ۔ان میں تنوع بھی ہے اور تازگی بھی۔یہ تخلیقات وہ ہیں جن سے ہماری روایات بے بہرہ تھیں اور سماعتیں نا آشنا۔محض عورت کے دکھ درد اور جذباتی پسپائیوں کو موضوع بنا کر اگر افسانے لکھے جائیں تو ان کا حصار تنگ اور حلقۂ اثر محدود ہو جاتاہے۔بلاشبہ ان جدید ادیباؤں نے اپنے موضوعات کو وسعت ہی نہیں دی ہے بلکہ اپنے اسالیب ،لفظیات اور افسانوی تکنیکوں میں بھی تداول اور روایت سے گریز کر کے اندر کی اپج اور ضمیر کی آواز پر اپنے تجربات کی بنیاد رکھی ہے۔تبھی تو آج کی ایک خاتون افسانہ نگار غزالہ قمر اعجاز اپنا مجموعہ ’’چاند میرا ہے‘‘ پیش کرتے ہوئے بڑے اعتماد کے ساتھ کہتی ہیں:


’’ مجموعے میں موجود ہر کہانی قلم کے ذریعے ادا کی گئی دل کی آواز ہے۔یہاں موضوعات اچھوتے نہیں ہیں۔ مگر Treatment جداہے۔الفاظ دہرائے ہوئے ہیں ۔۔۔۔مگر نظریہ الگ ہے۔جذبہ نیا ہے۔۔۔۔
حوصلہ تازہ ہے۔‘‘(چاند میرا ہے۔ص۔۹)


یہ محض دعویٰ نہیں ۔موصوفہ کا نیا حوصلہ آپ ان کے افسانوں میں بہ آسانی تلاش کر سکتے ہیں۔مثلاً افسانہ ’’ہار‘‘ میں بیس سالہ صبا کا اعتماد ملاحظہ کیجیے
’’مما میں شادی کر رہی ہوں۔سب کرتے ہیں۔اس میں اتنا over react کرنے کی کیا بات ہے‘‘ جانتی ہو تم کیاکہ رہی ہو۔ناسمجھ ہو تم۔
یہ میری زندگی ہے اور اس کے بارے میں فیصلہ کرنے کا پورا حق ہے مجھے‘‘ (چاند میراہے۔ص ۱۶۰)


اسی تانیثی رجحان کو فروغ دینے والی بولڈ افسانہ نگارغزال ضیغم ہیں جو مردوںاور مردحاوی سوچ کے خلاف کھل کر احتجاج کر تی ہیں۔افسانہ’’نیک پروین‘‘ پڑھ جائیے ،اس میں وہ نہ صر شوہروں کے مختلف برانڈ بتا کر ان کا مذاق اڑاتی ہیں بلکہ انہیں سختی سے باندھے رکھنے کی تلقین بھی کرتی ہیں۔دراصل ’’نیک پروین ‘‘ میں غزال ضیغم نے ایک ایسے مرد کی کہانی بیان کی ہے جو اپنی بیوی کا نہیں ہو سکا جبکہ بیوی ہمیشہ اپنے شوہر کی وفا دار رہتی ہے۔اس کی وفا داری کا صلہ کیا ملتاہے؟دکھ ،درد اور تنہائی۔جبکہ شوہر روز نئی نئی لڑکیوں کے ساتھ رنگ رلیاں مناتا ہے۔وہ ہر روز بیوی کو فریب دیتاہے اور بیوی سب کچھ جان کر وفا دار بنی رہتی ہے۔یہاں تک تو عورت کا روایتی روپ تھا۔مگرافسانے کے آخر میں ہیروئن کا بے راہ روی اختیار کرنا کہانی کو ایک نئی سمت عطا کردیتاہے۔درا صل یہی وہ احتجاج ہے جو غزال ضیغم دکھا نا چاہتی ہیں ۔یہ احتجاج غلط ہے یا صحیح اس سے بحث نہیں ۔مگر یہاں غزال ایک سوال ضرور کھڑا کردیتی ہیں کہ جب مرد سیکڑوں لڑکیوں سے رشتہ قائم کر سکتا ہے تو عورت کیوں نہیں؟


ثروت خان کے یہاں بھی عورت ایک خاص تیور کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے۔یہ عورت سماج کی ناانصافیوں کو برداشت تو کرتی ہے مگر وہ اسے نوشتہ ٔ تقدیر سمجھ کر قبو ل نہیں کرتی۔کہانی ’’مردانگی‘‘ میں ایک عام عورت کا بدلتا روپ دیکھیے۔جب مانکی کے خاموش رہنے پر رگھو اس سے بلا وجہ جھگڑ پڑتاہے تو بات یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ رگھو مانکی کو بھری بس میں ایک تھپڑ رسید کر دیتا ہے۔
’’بس میں خاموشی چھا گئی۔سب دنگ تھے ۔کچھ عورتیں خاموش ،کچھ ہکیّ بکیّ ۔اور کچھ نے ردعمل کیا ہی نہیں۔ گویا مرد سے مارکھانا ان کی زندگی کا حصہ ہو۔مرد ہشاش بشاش اور بچے وہ تو کچھ سمجھ ہی نہیں پائے۔دھیرے دھیرے مر د آپس میں باتیں کرنے لگے ۔’’اچھا ہوا ۔اس کی اوقا ت یہی تھی۔عورت باتوں سے باز نہیں آتی۔
ایک اور مار سالی کے۔‘‘ لیکن اس افسانے کا سب سے اہم پہلو وہ ہے جب مانکی احتجاج پر اُتر آتی ہے۔ ’’لیکن انہوں نے صاف محسوس کیا کہ آج مانکی کی نظروں میں بغاوت کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔مانکی کے کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا ،ایک جا رہا تھا اور ڈاکٹر فرحت نے دیکھا ،مانکی کا ہاتھ ہوامیں لہراتا ہی چلاگیا(مردانگی)


ٹھیک اسی طرح نگار عظیم کے یہاں بھی عورت تھپڑ کھانے کے بعد سخت ردعمل کا اظہار کرتی ہے۔افسانہ ’’حصار‘‘ کو نظر میں رکھیے جس میں ’’زاہدہ‘‘ اپنی بیٹی کی تعلیم کے لیے اپنے شوہر کے سامنے تن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔زاہدہ تعلیم یافتہ تھی اس لیے تعلیم کی اہمیت سے واقف تھی۔اس کا شوہر مزمل بیٹی کو زیادہ پڑھانے کے حق میں نہیں تھا۔اپنی بیٹی کا کالج کے دوستوں کے ساتھ ایک گروپ فوٹودیکھ کر مزمل آگ ببولا ہو جاتا ہے ۔زاہدہ سے تو تو میں میں کے بعد وہ بیٹی کو گھسیٹ کر ایک طرف لے گیا اور زاہدہ کو کئی تھپڑ رسید کر دیے کہ بیٹی کی بے راہ روی کی ذمے داروہ اسی کو مانتا تھا۔ایسے میں زاہدہ کے اندر کی عورت بیدار ہوگئی: ’’ تھپڑ کھانے کے بعد زاہدہ سنبھلی۔۔۔اور اپنی تمام قوت بٹور کر دہاڑی۔۔۔بس ۔۔۔خاموش۔۔۔۔۔
ہاتھ میرا بھی اٹھ سکتاہے۔میری بیٹی پڑھے گی اور ضرور پڑھے گی۔بیوی کی مضبوط آواز اور اٹل قوت ارادی
کو دیکھ کر مزمل بھو نچکا سا رہ گیا۔‘‘(گہن۔ص ۱۰۷)
تانیثی احتجاج کی ایک معتبر آواز ’تبسم فاطمہ‘ بھی ہے،جن کے افسانوں میں نئی عورت کا باغی روپ ملتاہے۔اور یہ روپ کہیں کہیں جارحانہ رخ اختیار کرلیتاہے۔نیا قانون اور جرم جیسے افسانوں میں انہوں نے عورت کو نیک پروین کے بجائے ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے،اور سوال اٹھائے ہیں کہ : ’’ عورت! اسے خود سے شدید نفرت کا احساس ہوا،ایسا کیوں ہے؟ عورت ہر معاملے میں زندگی کے ہر موڑ پر تقدیس کی گرد جھاڑتے ہی چت کیوں ہو جاتی ہے؟ ایک دم سے چت اور ہاری ہوئی۔مرد ہی جیتتا ہے اور عورت چاہے کتنی بڑی کیوں نہ ہو جائے اندرا گاندھی سے مرگریٹ تھیچر تک ۔۔۔عورت کی عظمت کہاں سو جاتی ہے؟‘‘(لیکن جزیرہ نہیں)


یعنی تبسم فاطمہ کے یہاں عورتوں کے روایتی یا بنیادی مسائل مثلاً طلاق ،جہیز ،سسرال یا شوہر کی زیادتی جیسے موضوعات نہیں ہیں۔ان کے یہاں عورت کا الگ ہی تصور ہے کہ اکیسویں صدی کی عورت کو کیسا ہو نا چاہیے؟ وہ عورت کو اس کی طاقت کا احساس دلا نا چاہتی ہیں،جس سے کام لے کر وہ سماج،معاشرہ اورپوری دنیا کو بدل سکتی ہے۔
تبسم کے برعکس اشرف جہاں کے یہاں عورتوںکے روایتی یا بنیادی مسائل زیادہ تر موضوع بنتے ہیں۔’اکیسویں صدی کی نرملا‘ کے نام سے شایع ان کے افسانوی مجموعے میں عورت کی تنہائی ،بے بسی اور مرد کی بے اعتنائی کا اظہار تو ہوتا ہی ہے ،اپنی بقا ،تشخص اور آزادی کے لیے احتجاج کا رویہ بھی ملتاہے۔مثلاً یہ جملے دیکھئے


’’عورت کی شکتی کچھ ارن کرنے میں ہے‘‘(شکنتلا) ’’عورت سماج کی نہیں،مذہب کی نہیں،اصولوں کی نہیں ،اپنے احساس کی قیدی ہوتی ہے۔‘‘(۲۱ویں صدی کی نرملا)
’’خدا تو صرف ایک ہوتا ہے امی،یہ مجازی خدا کیاہے۔یہ سب عورتوں کے استحصال کے لیے مردوں
کے تراشے ہوئے جملے ہیں‘‘(نائن الیون) مرد اساس معاشرہ اور مرد حاوی سوچ کے خلاف اشرف جہاں کایہ مزاحمتی رویہ ان کی بہت ساری کہانیوں میں زیریں لہروں کی طرح موجود ہے۔
آ ج کی ایک مقبول افسانہ نگار شائستہ فاخری کے یہاں عورت نہ صرف اپنے قدموں پہ کھڑی ہوتی ہے بلکہ وہ عورت سماج کے لیے نمونہ ثابت ہوتی ہے۔عورت کا اعتماد اتنا ٹھوس ہو چکا ہے کہ وہ وقت آنے پر طلاق دیے جانے کا انتظار نہیں کرتی بلکہ اپنے شوہر کو طلاق دے کر خود کو آزاد کر لیتی ہے۔افسانہ ’’انگلیوں پر گنتی کا سفر‘‘ کی ثانیہ غفور ایسی ہی عورت ہے،جسے چوتھی بار لڑکی پیدا کرنے کی سزا کے طور پر طلاق دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔وہ اپنی نوزائیدہ بچی کو لے کر گھر سے نکل گئی۔اس نے اپنی الگ دنیا بسا لی۔ایسی دنیا جہاں نہ صر ف اس کی شناخت ہے بلکہ اس کی بے حد عزت بھی کی جاتی ہے: ’’ کتنا خاموش اور پرسکون لگ رہا تھا اس کا تنہا بسا یا ہوا یہ چھوٹا سا گھر۔خوشبو سے معطر فضا ۔۔۔اگربتی کا دھواں ۔۔۔لوگوں کی بلند آوازوں میں قرآن پاک کی تلاوت۔اُسے تسکین مل رہی تھی یہ جان کر کہ عورتیں اُسے ایک باکردار ،باصلاحیت اور خوبیوں والی خاتون کہ رہی تھیں۔جس نے گائوں میںعورتوں کو اپنی قوت پر جینا سکھایا۔اپنی ہمت و قوت کیا ہوتی ہے اس کی اہمیت سمجھائی۔مردوں کی دنیا میں اپنے وجود کی شناخت
کیسے بنتی ہے اس کی پہچان کرائی۔‘‘(اداس لمحوں کی خود کلامی۔ص ۱۲۵)


اسی سے ملتی جلتی کہانی ہاجرہ مشکور کے افسانے ’’رشتوں کے جنازے‘‘ کی ہیروئن ردا کی بھی ہے۔شوہر طلاق دیتا ہے اور ایک چیک بھی تھما تا ہے۔ردا اپنی بچی کو لے کر اعتماد کے ساتھ قدم اٹھاتی جب چل پڑتی ہے تو یاور بچہ چھیننے کو آگے آتاہے۔ردا بچی کو مضبوطی سے جکڑ کر یاور کا چیک اسے واپس کردیتی ہے۔یاور چیک لے لیتاہے اور بچی کے لیے ہاتھ آگے نہیں بڑھاتا: ’’وہ بگو لے کی طرح باہر نکل گئی۔بس یوں جیسے سرائے میں کچھ دن مسافر رہتاہے اور پھر پوری قیمت چکا کر چلا جاتاہے۔اُس نے پھٹی ہوئی چادر تہ کر کے کاندھوں پر ڈالی ،نگارش کو سنبھالا۔ایک گہری سانس
لی۔تازہ ہوا نے بتا دیا کہ وہ دلدل سے باہر نکل چکی ہے۔‘‘(یہ رشتوںکے زرد پتے۔ص ۶۵


’مٹی کی خوشبو ‘اور ’رنگ حیات‘ جیسے مجموعوں کی مصنفہ عنبری رحمان نے بھی عورر توں کی حمایت میں کھل کر لکھا ہے ۔افسانہ ’’میں نے جینا سیکھ لیاہے‘‘ میں ثنا کے کردار کو بیٹی،بہو ،بیوی اور ماں کی شکل میں پیش کر کے انہوں نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ مسلم گھرانوں میںبیٹیوں کو پروفیشنل تعلیم سے تولوگ دور رکھتے ہی ہیں،وقت سے پہلے اور بیٹی کی مرضی کے خلاف اس کی شادی کرکے اس پر ظلم بھی کرتے ہیں۔سسرال میں خموش رہنے کی تلقین کرتے ہیںاور عورت جب ماں بن جاتی ہے ،نئے ماحول میں ڈھل جاتی ہے تو شوہر کسی بدچلن عورت کو گھر لا کر بیوی سے طلاق مانگتا ہے۔اسی طرح بیٹا بڑا ہو کر شادی کر لیتا ہے اور اپنی دنیا الگ کر لیتاہے۔گویا عنبری رحمان نے ایک عورت کی زندگی پیش کرکے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ عورت بچپن سے بڑھاپے تک مسلسل ناانصافیوں اور بے وفائیوں کا سامنا کرتی ہے۔اس لیے ثنا کے کردار کو وہ ترغیب دیتی ہیں کہ اُسے اپنے بل بوتے پر کھڑا ہونا چاہیے۔گویا مرد اساس معاشرے میں عورت کی بے قدری ،محرومی اور اس پر عائد کردہ قدغن کے خلاف عنبری رحمان نے آواز بلند کی ہے اور عورت کو اس کا صحیح مقام دلانے کے تصور پر زور دیا ہے۔اسی لیے’’محبت کے امتحاں اور بھی ہیں‘‘ کی رباب جب حالات کا مقابلہ کر کے اپنے پیروں پر کھڑی ہوتی ہے اور اپنے باس سے شادی کر لیتی ہے تو عنبری رحمان کو خوشی ہوتی ہے کہ انہوں نے عورت کو اس لائق بنا دیا کہ وہ اپنے شوہر کو اسی کے لیجے میں جواب دے سکے۔


بالکل نئی افسانہ نگار رخسانہ صدیقی کے افسانے ’’سائبان‘‘ کی امینہ بی کا جواب اور لہجہ بھی عورت کی قوت ،بغاوت اور احتجاجی تیور کا غماز ہے۔بیوہ امینہ بی چار بچیوں کی ماں ہے مگر صاحب جائداد ہونے کی وجہ سے ہارون میاں سے شادی ہوگئی۔ہارون میاں کو دولت کے ساتھ بے زبان بیوی بھی مل گئی تو اُن کے کل پرزے نکلنے لگے۔اُن کی عیاشی کی خبروں کو امینہ بی ہنس کر اڑا دیتی ہے۔مگر ’’ایک دن جب نیلو ہارون میاں کے کمرے میں کھانا دے کر لوٹی تو اس کا چہرہ سرخ تھا۔امینہ بی بیٹی کی طرف لپکیں۔بچی ماں کا پیار پا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔بہت دیر رونے کے بعد ماں نے جب بیٹی کا چہرہ اوپر اٹھایا تو جی دھک سے ہو گیا۔نیلو کے دونوں گالوں پر ہارون میاں کے دانت کے نشان صاف نظر آگئے۔
اس وقت نہ جانے کہاں کی سوئی ہوئی قوت امینہ بی کے اندر بیدار ہو گئی تھی۔وہ بر آمدے میں پڑے جھاڑو کو اٹھا کر دندناتی ہوئی ہارون میاں کے کمرے میں داخل ہو گئی۔بغیر کچھ کہے سنے دنادن جھاڑو ہارون میاں پر برسانے لگی۔وہ جھاڑو مارتی جاتی اور کہتی جاتی ۔’’کمینے ،لچیّ،میں نے تجھے یہاں رکھا کہ تو میری بچیوں کا نگہبان رہے گا لیکن تو تو ذلیل نکلا۔میری ماں،دادیاں مجھے سکھاتی رہیں کہ مرد عورت کی طاقت ہوتاہے، لیکن آج سے میں اپنی بچیوں کو سکھائوںگی کہ وہ خود اپنی طاقت ہیں‘‘۔مارتے مارتے امینہ بی ،ہارون میاں کو گھر کے دروازے تک لے آئیں۔آج نہ جانے کہاں سے ان میں طاقت آگئی تھی ۔انہوں نے ہارون میاں کو دھکا دے کر باہر کر دیااور بہ آواز بلند بولیں’’جا نکل جا کمبخت،اس گھر سے،آج سے ہمارا تمہار ا
رشتہ ختم‘‘ یہ کہ کر انہوں نے دھڑاک سے دروازہ بند کر دیا۔‘‘(وجود۔ص ۴۰)


میں نے ’مشتے از خروارے‘ کے طورپر چند نئی افسانہ نگار خواتین کے جن اقتباسات سے اُن کی بدلتی فکر،احتجاجی لہجے اور تخلیقی روییّ کی طرف اشارہ کیاہے ،ان میں تانیثی میلان کی بڑے واضح طورپر نشاندہی کی جا سکتی ہے۔آج پرانی نئی خواتین افسانہ نگاروں کی ایک طویل فہرست ہے مثلاً صغریٰ مہدی،ذکیہ مشہدی،صادقہ نواب سحر،آشا پربھات،قمر جہاں،نوشابہ خاتون،قمر قدیر ارم،نسرین ترنم،فریدہ بانو،نزہت ظہیری،خلیق النساء،رفعت جمال،عروج فاطمہ،نصرت شمس،تسنیم فاطمہ اور صبیحہ انور وغیرہ ۔ اِن کے یہاں بھی ایسے خواتین کرداروں کی بھر مار ہے ،جنہوں نے حالات کا مقابلہ کرنا سیکھ لیاہے،جو مردوں کے شانہ بشانہ چلتی ہیں۔جو مرد کے مظالم کو خاموش رہ کر اب اور نہیں سہ سکتیں۔اِن خواتین کی کہانیوں میں صرف عورتوں کے دکھ درد ہی نہیں عصری مسائل کا خوب صورت اور فنکارانہ بیان بھی ہوا ہے۔یہ خواتین افسانہ نگار نسبتاً زیادہ بیدار مغز اور عالمی حالات و واقعات پر نظر رکھی ہوئی ہیں۔نکسلی تحریک،چائلڈ لیبر،اولڈ ایج ہوم اور سیکس جیسے موضوعات پر بھی یہ کہانیاں لکھ رہی ہیں۔آج کی تیز رفتار زندگی میں جو سماجی تبدیلیاں آرہی ہیں اور رشتے کا جو نیا منظرنامہ سامنے آیا ہے اس پر بھی ان کی صاف نظر ہے۔مگر انہیں سب سے زیادہ اپنے حقوق کا احساس ہے ،جن کے حصول کے لیے وہ کوشاں ہیں۔ذہن و ضمیر کی آزادی انہیں اب بھی پوری طرح حاصل نہیںہے۔ہماری خواتین افسانہ نگاروں نے اِس جبر کے خلاف بڑے علامتی اور کہیں کہیں بے حد واضح اور اکثر طعن و تشنیع والے اسلوب میں اپنے اظہار کی منزل سر کی ہے۔ ان کے یہاں گہری تانیثی بصیرت پائی جاتی ہے۔یہ اپنی گونا گوں تخلیقات سے اردو فکشن کو نہ صرف وقعت بخش رہی ہیں بلکہ اسے ثروت مند بھی بنارہی ہیں۔


جہاںتک تجربوں اور تخلیق کار کے ذہن و ضمیر کی آزادی اور ان کے احتجاج کی روِش کا سوال ہے،ہمارے جیسے لوگ ہمیشہ ادیب کی آزادی کے حق میں رہے ہیں۔رشید جہاں سے شائستہ فاخری تک تمام افسانہ نگاروں نے اپنے تجربات کا لوہا منوایا ہے،اور اپنی Sensibilities کی عمدہ مثالیں بھی قائم کی ہیں۔لیکن کیا ہم نے اِنہیں پوری انسانیت ،پورے معاشرے اور پورے ادب کا حصہ بنایا؟ نہیں۔وہ ابھی بھی حاشیہ پر کھڑی ہوئی ہیں۔وہ ابھی بھی ادبی ناانصافی اور جانبداری کا شکار ہیں۔اب بھی ان کے چند ایسے سوالات ہیں جو ارباب زبان وادب کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں کہ
کیوں آ ج بھی بیش تر ادبی تنقید و تشریح اور اس کے عمل پر مردو ں کا اجارہ ہے؟
کیوں خواتین کی اہلیت کو اکثر بہ نظر اشتباہ دیکھا جا تا ہے؟
ہمارا ادبی معاشرہ ان کی قد رشناسی کے تئیں غافل ہے تواس کی وجوہ کیا ہو سکتی ہیں؟
ماضی کے خواتین فکشن کو بحال اور ازسر نو مدون کرنے کی ضرورت کیوں نہیں محسوس کی جاتی ہے؟
خواتین کی تخلیقات کی آسانی سے اشاعت کے لیے نسوانی پبلشنگ ہائوسز کا قیام کیوں عمل میں نہیں آسکتا؟
زبان وادب کے اہم ادارو ں کی سربراہی یا ترجمانی میں خواتین کی تعداد صفر کے برابر کیوں ہے؟
ایک بڑا اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ افسانہ نگار خواتین اپنی معاصر خواتین تبصرہ نگاروں اور نقادوں کی آراء کو مردوں کی آراء کے مقابلے میں کم تر اور غیر اہم کیوںگردانتی ہیں؟وہ اب بھی مردوں کی طرف تحسین طلب نظروں سے دیکھتی ہیں اور انہیں کی آراء کونسبتاً معتبر خیال کیوںکر تی ہیں؟ہماری خواتین تنقید کی طرف کیوں نہیں متوجہ ہوتیں؟ ممتاز شیریں کے بعد اس پائے کی فکشن نقاد کیوں نہیں پیدا ہو سکی؟ میں نہیں سمجھتا کہ مردوں کے مقابلے میں فکشن کی فہم اور فکر کی قوت یا ٰحیات و کائنات کو اپنے طور پر سمجھنے کی صلاحیت اُن میں کم ہے۔ یہ اور اِ س طرح کے بہت سے سوالات ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے تا کہ خواتین فکشن نگاروں اور ادیبائوں کے تانیثی احتجاج و مزاحمت کو معنویت حاصل ہو سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Share This Post
ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی بھارت میں اردو فکشن کی تنقید کا ایک سنجیدہ اور معتبر نام ہے۔ان کی پیدائش یکم اپریل ۱۹۷۲ء کو گیا (بہار) میں ایک عالم دین مولانا عبدالبر اعظمی کے گھر میں ہوئی۔انہوں نے ابتدائی تعلیم والد گرامی سے ہی حاصل کی ،اس کے بعد مگدھ یونیورسٹی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔جون ۲۰۰۳ء میں ان کا تقرر شعبٔہ اردو ،پٹنہ یونیورسٹی میں ہوا،جہاں ابھی وہ بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسرتدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کے مضامین ملک و بیرون ملک کے موقر رسائل و جرائد میں شایع ہوتے رہے ہیں اور ادب کے سنجیدہ قارئین کے درمیان توجہ اور انہماک سے پڑھے جاتے رہے ہیں۔ان کی اب تک چھ کتابیں (۱)ضیائے اشرفیہ،۱۹۹۰ء(۲)اسلام کا معاشرتی نظام،۱۹۹۲ء(اردو کے نثری اسالیب،۱۹۹۹ء(۴)فرات،مطالعہ ومحاسبہ،۲۰۰۴ء(۵)اردو ناول کے اسالیب،۲۰۰۶ء(۶)اور جہان فکشن،۲۰۰۸ء شایع ہو چکی ہیں۔ان میں اردو ناول کے اسالیب اور جہان فکشن کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ،بالخصوص اردو ناول کے اسالیب کو اترپردیش اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی سے اول انعامات سے او ر جہان فکشن کو بہار اردو اکادمی کے اول انعام سے نوازا گیا۔پروفیسر وہاب اشرفی نے ’’تاریخ ادب اردو‘‘ میں اول الذکر کتاب کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ ’’کم ازکم میری نگاہ سے ایسا تحقیقی اور تنقیدی کام نہیں گذرا۔یہ تحقیقی و تنقیدی اعتبار سے نئے جہات سے مملوہے‘‘۔ڈاکٹر اعظمی اردو کی قومی اور بین الاقوامی مجلسوں ،سیمیناروں اور جلسوں میں شرکت کرکے بھی اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>