اداس نسلیں

مضمون نگار : محمد عباس

’’اداس نسلیں ‘‘ان پاکستانی ناولوں میں سے ہے جنہیں بہت زیادہ شہرت نصیب ہوئی اور آج 60سال گزرنے کے بعد بھی اس ناول کو یہ شہرت حاصل ہے۔
’’اداس نسلیں ‘‘ کا موضوع غلام ہندوستان کے آخری تین دہائیوں کے سیاسی و معاشی حالات کےمقامی جاگیردار اور کسان پراثرات کا مطالعہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عبداللہ حسین نے اس ناول میںزندگی کے کئی دیگرپہلوئوں کو سمیٹنے کی بھی سعی کی ہے۔ دیہات کی زندگی ، جاگیردارانہ ماحول، نوآبادیاتی نظام ، جنگ عظیم اول کے حالات، ہندوستان میں ابھرتی ہوئی سیاسی بیداری، جلیانوالہ باغ، ہندوستانی حریت پسندوں کی انگریزی حکومت کے خلاف سیاسی اورر گوریلا جدوجہد،انگریز سرکار کی طرف سے عوامی مظاہروں میں قتلِ عام، کارخانوں کی زندگی،نئی نئی صنعتی دنیا کے مسائل، مزدوروں کی مشکلات اورہڑتالیں، قحطِ بنگال، فرقہ وارانہ فسادات اور آخر میں تقسیمِ ہندوستان سبھی کو خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا گیاہے۔ناول1914ء سے لے کر1947ء تک کے ان حالات کا احاطہ کرتا ہے جو کسی نہ کسی طرح سے ہندوستان کی اجتماعی زندگی پر اثر انداز ہوئے۔


’’اداس نسلیں ‘‘ کا موضوع ایک فرد نہیں ، بلکہ ہم عصری زندگی کے مختلف ادوار اور ان میں سے گزرتے ہوئے عمل اور صعوبت کے گرداب میں محصور ، کم از کم تین نسلوں کے نمائندے ہیں ، ناول کا تانا بانا انہی کے تجربات کے اردگرد بنایا گیا ہے ۔ یہ عمل جس زمانے یا دوران کو محیط ہے ، وہ پہلی جنگ عظیم سے کچھ پہلے سے شروع ہوتا ہے اور تقسیم ہند کے پر آشوب اور ہنگامہ خیزواقعات تک پھیلا ہوا ہے ۔ ‘‘٭۱


کہنے کو’’اداس نسلیں ‘‘کی توجہ ہندوستان کے سیاسی واقعات کی طرف ہے مگر یہ ناول ہندوستان کے سیاسی منظر نامے پر اُبھرنے والے کئی معمولی واقعات کو بہت زیادہ وقعت دینے کے ساتھ ساتھ کئی بڑے سیاسی واقعات کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں دیتا ۔ ناول 1930ء کے قصہ خوانی بازار کے قتلِ عام کے بعد اگلا پڑائو1935ء کے مسجد شہید گنج کے دوران ہونے والے قتلِ عام پر جا کرتا ہے۔1935ء کے بعد سرسری سا ذکر جنگِ عظیم دوم کا ملتا ہے اور پھر بعد ازاں1943ء کے قحطِ بنگال پر ایک پھس پھسے سے تبصرے کے بعد 1947ء کی تقسیمِ ہندوستان پر جا رکتا ہے۔ تحریکِ آزادیِ ہندوستان کے ان آخری بیس برسوں میں کیا کیا کچھ نہیں ہوا لیکن مصنف کی توجہ محض دو قتلِ عام کی تفصیلی تصویر کشی اور قحطِ بنگال پر اظہارِ تاسف کی طرف ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا مقصد ہندوستان کے تب کے سیاسی حالات دکھانا نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے بلکہ وہ صرف ان اسباب کو احاطۂ بیان میں لانا چاہ رہے ہیں جو یہاں کے مقامی لوگوں کو حکومتِ انگلشیہ کے خلاف کھڑے ہونے پر مجبور کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جلیانوالہ باغ، قصہ خوانی بازار اور مسجد شہید گنج کے واقعات کے بیان پر بیانیے کی تمام طاقت صرف کی ۔ ان واقعات کے بیان کی وجہ سے یہ مابعد نو آبادیاتی بیانیہ بھی قرار پاتا ہے جس میں انہوں نے نو آبادیاتی قوتوں کے جبر کو نمایاں کرنے کی کوشش کی۔


یہ ناول دو خاندانوں کی کہانی ہے جو ایک ہی گائوں کے دو ممتاز گھرانے ہیں البتہ دونوں کے سماجی مرتبے اور معاشی مقام میں بہت زیادہ فرق ہے۔ نعیم کا باپ پچاس مربعے کا مالک تھا مگر اپنی حکومت مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے تمام زمین گنوا بیٹھا۔ روشن محل کے ستون 500مربعہ زمین کی آمدنی پر استوار تھے۔ نعیم کسان کا بیٹا، باپ کی طرف سے بغاوت اور سرکشی کے جذبات خون میں ملے تھے، ناول کے آغاز میں ہی تلک کا تذکرہ کرنے پر اس کے جذبات کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ بعد ازاں فوج میں برضا و رغبت شمولیت اور پھر واپسی پر اس فوجی خدمت کے صلے میں حاصل ہونے والی زمین تحریکِ عدم تعاون میں شامل ہو کر گنوا بیٹھنا اسی جذباتیت کی نشانی ہے۔ یہی جذباتیت ہی ہے جو روشن محل کے باسیوں اور روشن پور کے نعیم میں فرق پیدا کرتی ہے ۔ روشن محل میں ٹھہرائو ہے، وقار ہے اور اپنے سماجی رتبے کو قائم رکھنے کا شعور ہے جبکہ نعیم ان چیزوں سے بالاتر ہے۔ دو خاندانوں کی یہ کہانی بہت سادہ ہے۔ البتہ نعیم کی کہانی میں گائوں ہے، نم مٹی کی خوشبو ہے،کھیتوں کو سیراب کرتے پانی کا لمس ہے اور مردوں سے برابر کی لڑائی لڑنے والی بھرے جسم کی مالک کلدیپ کور ہے۔ جب کہ روشن محل کے اندر قرۃ العین حیدر کے ناولوں کی طرح کی مصنوعی زندگی ہے جہاں بالائی طبقے کے لڑکے لڑکیاں ہیں، جن کی زندگی کا سب سے انوکھا واقعہ گھر میں منعقد کی جانے والی پارٹی ہوتی ہے یا وہاں آنے والے بڑے بڑے لوگ۔ ان دونوں خاندانوں کی کہانی میں کچھ زیادہ اتار چڑھائو نہیں آتے بلکہ روشن محل کی پوری زندگی میں محض ایک ہی اُتار آتا ہے کہ عذرا نعیم سے شادی کر لیتی ہے۔ اتار چڑھائو اور قابلِ ذکر واقعات کی کمی کو پورا کرنے اور ناول کو آگے بڑھانے کے لیے ناول نگار خارجی حالات کا سہارا لیتے ہیں اور کرداروں کے اعمال کو کسی سیاسی پس منظر کا پیش منظر بنا کر دیکھتے ہیں۔ یوں ان کے یہاں کرداروں کی اپنی داخلی و خارجی زندگی ناول کے عمل کو آگے بڑھانے کا وسیلہ نہیں بنتی بلکہ ملک کے سیاسی حالات واقعاتی سلسلے کے مابین ربط قائم کرتے ہیں۔ اسی طرح دونوں خاندانوں کی کہانی بھی آگے چلتی رہتی ہے اور ہندوستان کے حالات بھی پس منظرمیں رہتے ہیں۔


’’اداس نسلیں ‘‘ایک ایسا ناول ہے جس کے پاس فخر کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ موضوع ایسا وسیع ہے جو اردو کے بہت کم ناولوں کے پاس ہے، واقعات کا انتخاب اپنی جگہ پر کشش ہے،ناول کے کرداروں میں سے اکثر کردار خاصے جاندار ہیں، خاص طور پر ابتدائی حصے میں جو بھی کردار آتا ہے، اپنا پورا نقش چھوڑ کر جاتا ہے۔ نیاز بیگ ، مہندر سنگھ، جوگندر سنگھ، کلدیپ کور، ٹھاکر داس، سبھی کے کردار اپنی زندگی کی بھرپور مہک دیتے ہیں۔زبان مجموعی لحاظ سے قابل داد ہر گز نہیں البتہ پھر بھی اکثرمناظر کا بیان خوبصورت ہے۔ شروع میں نیاز بیگ کے صبح صبح اٹھ کر ہل چلانے کا منظر، جنگ کے دوران خندق میں بارش کا منظر، سٔور کے شکار کا منظر،جاٹ نگرکی منڈی میں جلسے کا منظر اور خاص طور پر ناول کے آخر پر مہاجر قافلے کا سفر، سبھی مناظر بہت شاندار طریقے سے دکھائے گئے ہیں۔ کردار بڑی حدتک عام زندگی سے لیے گئے ہیں اور اپنے ماحول میں زندہ نظر آتے ہیں۔ ناول سیاسی اور انسانی حوالے سے کچھ ایسے سوالات اٹھاتا ہے اور ان پر بحث کرتا ہے جو انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے ناگزیر ہیں۔


عبداللہ حسین کے اس ناول نے اردو ناول کے لیے معیار مقرر کیا تھا۔ اس معیار پر اردو کا ناول آج تک چل رہا ہے اور پانچ دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی اس کے اثر سے نہیں نکل پایا۔اکثر ناول ’’اداس نسلیں ‘‘ کی طرح خارج کی صورت گری اور سیاسی و تاریخی واقعات کے نقش گری کو اپنا نصب العین بنا کر لکھے جاتے ہیں۔ اس ناول میں بھی اردو کے دیگر ناولوں کی طرح بہت سے مسائل ہیں لیکن پھر بھی باقی ناولوں کے درمیان رہ کر اس ناول کا مقام بہت نمایاں بنتا ہے۔ ادب کے معاملات میں وقت کا فیصلہ ہی بہترین اور مبنی بر انصاف ہوتا ہے۔ معاصر ادیب، ادبی رفقاء جس ادبی منافقت سے کام لیتے ہیں، وقت کی آندھی اس گرد کو اڑا لے جاتی ہے اور چار پانچ دہائیوں کے بعد صاف ستھرا منظر سامنے آ جاتا ہے۔ وقت کے اسی منصف نے فیصلہ دیا کہ ’’ایسی بلندی ، ایسی پستی‘‘، ’’ٹیڑھی لکیر‘‘، ’’شامِ اودھ‘‘، ’’آگ کا دریا‘‘، ’’خدا کی بستی‘‘، ’’دشتِ سوس‘‘، ’’علی پور کا ایلی‘‘، ’’بستی‘‘ جیسے ناولوں کے جھرمٹ میں ’’اداس نسلیں‘‘ سب سے ممتاز ناول ہے۔ وقت نے دیکھا کہ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں اردو دنیا میں ’’اداس نسلیں‘‘ سے زیادہ شہرت کسی کو نہیں ملی۔ معاصرین کی تعریف و تنقیص ایک طرف رہ گئیں، ستائش بے جا کے واویلے زینتِ طاقِ نسیاں ہوئے اور جانبدارانہ توصیف کے ڈونگرے بے اثر ٹھہرے اور ’’ اداس نسلیں‘‘ اِن تمام ناولوں اور ان کے قصیدہ گوئوں کے زورِ بیان سے بڑھ کر اپنا آپ منواکر سب سے نمایاں ناول قرار پاتا ہے۔


اوپر کچھ مسائل کا ذکر کیا گیا ہے جو اس ناول کی بُنت میں موجود ہیں۔ ان مسائل کا مقصد ’’اداس نسلیں ‘‘ کے مقام و مرتبے کو جھٹلانا نہیں ہے ۔ آئندہ معروضات کا تعلق عبداللہ حسین سے کم ہے اور آئندہ کے ناول نگار سے زیادہ ہے۔ عبداللہ حسین نے اردو ناول کی روایت میں اپنا جو کردار ادا کر دیا ہے، وہ قابل داد ہے اور اردو ناول اپنی آئندہ کی تمام روایت میں ان کا یہ احسان فراموش نہیں کر سکتا۔ ان کی عظمت کسی بھی کلاسیکی فن پارے کی طرح تنقید سے کم نہیں ہو سکتی۔البتہ یہ معروضات پیش کرنے کا مقصد یہی ہے کہ اُن فنی کمزوریوں کی نشاندہی کر دی جائے جن سے آئندہ کسی بھی ناول نگار کے لیے بچنا ضروری ہے۔


ناول کے مرکزی کردار نعیم کے علاوہ تمام کردارنسبتاً جاندار ہیں ، نیاز بیگ ، ایاز بیگ، مہندر سنگھ، جوگندر سنگھ، کلدیپ کور، ٹھاکر داس، حتیٰ کہ سجن بھی جو کہ تھوڑی سی دیر کے لیے ناول میں آتا ہے، ان سبھی میں زندگی کے آثار نظر آتے ہیں لیکن ایک نعیم ہے جوگل محمد کا نقش ثانی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کی حرکات پرناول نگار کا کڑا پہرہ ہے ۔ اس کی تمام حرکات و سکنات ناول نگار کی سخت گیر نظروں کی نگرانی میں انجام پاتی ہیں اس لیے ان میں ایک بے حسی اور خارج سے جانب داری پائی جاتی ہے۔ واقعہ ہوتا ہے ، نعیم بظاہر اس میں شامل ہوتا ہے لیکن ہم یہ نہیں جان پاتے کہ نعیم اپنے پورے وجود کے ساتھ اس میں شریک ہے یا نہیں۔ بیانیہ بھی نعیم کے اندر جانے کی بجائے ایک طرح کی لاتعلقی سے خارج پر ہی نظر رکھتا ہے۔


نعیم کے متعلق ڈاکٹر عارف صدیق نے لکھا ہے کہ:
’’ اداس نسلیں ‘‘میںنعیم کے کردار کو ناول نگار نے مختلف کیفیات کا حامل کردار بنا کر پیش کیا ہے ۔ یہ ایک ایسا کردار ہے جو مرکزیت سے عاری ہے ۔ اس کی تمام تر جدوجہد ایک انجانی منزل کی طرف محو سفر ہے مگر وہ یہ بھی نہیں جان پاتا کہ اس کی اصل منزل کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ کوئی منزل پا لیتا ہے تو اس سے آسودہ نہیں ہو پاتا بلکہ اس کی زندگی میں موجود کشمکش برقرار رہتی ہے ۔اس کشمکش کی ایک بڑی وجہ نعیم کا جذباتی رویہ ہے ۔ وہ جذبات کی رو میں بہتے ہوئے فیصلے کرتا چلا جاتا ہے لیکن اس کے فیصلوں کا انجام وہی ہوتا ہے جو جذباتیت کا ہوتا ہے ۔ فوج میں بھرتی ہونے کا جذباتی فیصلہ اسے ساری عمر فوجی زندگی میں سکون نہیں لینے دیتا اور مکافات عمل سے جب وہ ایک بازو گنوا کر وکٹوریہ کراس جیت کر واپس لوٹتا ہے تو اس کی دوبارہ شروع ہونے والی زندگی میں فوج کی منظم زندگی کا شائبہ تک محسوس نہیں ہوتا ۔ نعیم کی جذباتیت اس حد تک بڑھی ہوئی ہے کہ روشن محل کی لڑکی عذرا سے تعلقات بھی جذباتیت ہی کا شاخسانہ دکھائی دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جذبات کی رو جب مدھم پڑتی ہے تو اسے عذرا میں بھی کوئی دلچسپی نہیں رہتی ۔‘‘٭۲


یوں لگتا ہے کہ عارف اس حقیقت کو سمجھتے بوجھتے چھپا گئے ہیں کہ نعیم کا کردار اپنی کوئی مرکزی حیثیت نہ رکھنے کے ساتھ ساتھ جذبات سے بھی عاری آدمی ہے۔ نعیم کا ردِ عمل کہیں بھی جذباتی آدمی کا نہیں نظر آتابلکہ جب ناول نگار کو ضرورت ہوتی ہے، وہ اس سے ہر طرح کا کام کرو ا لیتا ہے۔نعیم خود اس قدر سرد مزاج آدمی ہے کہ عین شباب کے عالم میں پہلی بار جوان اور کنواری لڑکی کا جسم چھونے پر بھی اس کی قوتِ شامہ ہرے پتوں کی خوشبو ہی محسوس کررہی ہے:


’’نعیم نے ہاتھ بڑھا کر اندھیرے میں اس کے ہونٹوں کو چھوا اور ان پر انگلی پھیرتا رہا۔ پھر اس کا ناک اور آنکھوں کو چھوا ، پھر گالوں کو دبا کر محسوس کیا ، پھر جبڑے اور ٹھوڑی پر سے پھسلتا ہوا اس کا ہاتھ عذرا کے گول مضبوط کندھے پر آ گرا اور وہیں پڑا رہا۔ گیلے جسموں اور ہرے پتوں کی بو ان کی ناک میں داخل ہو رہی تھی۔‘‘٭۳


اس واقعہ کے بعد کئی برسوں تک (اندازاً چار برس )، نعیم کے دل میں عذرا کے لیے کوئی جذبہ ، کوئی یاد، کوئی خیال، تصور، احساس پیدا نہ ہوا، کسی ایک سطر میں عذرا کاذکر تک نہیں ۔ اور پھر یک دم چار برس کے بعد جب نعیم اس کی ایک جھلک دیکھتا ہے تو اس کے دل میں یوں پیار امڈتا ہے جیسے مدتوں اسی کے خواب دیکھے ہوں۔
’’لکڑی کے کھلے ہوئے، چوڑے ہاتھ میں سے ایک چہرہ ابھرا۔ اس چہرے کے شدید حزن اور بے کسی کو محسوس کر کے اس کے ہاتھ کی گرفت مضبوط ہو گئی اور اس نے لکڑی چھاتی میں دبا لی۔ سفیدہوتے ہوئے ناخنوں کو دیکھ کر اس نے سوچا کہ وہ چہرہ، وہ عورت، وہ واحد عورت تھی جو دنیا میں اسے بے پناہ رنج دے سکتی تھی۔ عمر بھر تکلیف کی شدت سے اس کا چہرہ زرد ہو گیا اور تیز کاٹتے ہوئے دانت ہونٹوں میں گھسنے لگے۔‘‘٭۴


یہ جذبات نعیم کے دل میں پیدا ہونے کی گنجائش ہی نہیں تھی ، ناول نگار نے خود اٹھا کے اس کے دل میں ڈال دیے ہیں، کیوں کہ انہوں نے طے کیا ہوا ہے کہ ان کی آپس میں شادی کرانی ہےلیکن اتنا نہیں سمجھ سکتے کہ اس جذبے کے اس قدراُبال کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یہ جذبہ پیدا ہوتا بھی دکھایا جائے۔
نعیم کردار سے زیادہ ایک غیر جانبدار تماشائی نظر آتا ہے جو جذبات سے عاری اور انسانی احساس سے بیگانہ زمانے کی کروٹوں کا مشاہدہ کرتا جا رہا ہے۔ کہیں اس کا دل نظر نہیں آتا، کہیں اس کا دماغ محسوس نہیں ہوتا، بس سردمہری سے تمام مناظر کو دیکھتی اس کی آنکھیں نظر آتی ہیں۔ فرانس ، بلجیم میں جنگ کے مناظر میں ، ایگرنجو کی دلدل میں ، حتیٰ کہ اپنا کٹا ہوا ہاتھ دیکھنے پر بھی اس کے دل میں ایک لحظے کو خیال نہیں ابھرتا ، وہ اتنی بے حسی سے نظر ڈالتا ہے جیسے کسی اور کا کٹا ہوا بازو دیکھا ہو۔مجسم آنکھ ہے جو خاموشی سے سب دیکھتی رہتی ہے اور آنکھ بھی شاید مصنوعی ہے جو کہیں نم نہیں ہوتی۔


نعیم جوان ہے ، مرد ہے ، مگر اس کی جوانی کا کہیں احساس نہیں ہوتا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ناول نگار نے اپنے خیالات کے ابلاغ کے لیے اسے تقریباً مفعول کردار بنا رکھا ہے۔ نعیم کی یہ جذباتی لاتعلقی وہاں نظر آتی ہے جب نعیم اور اس کے ساتھی پہلی دفعہ جنگ کے لیے انڈیا سے ٹرین پر بیٹھ کر جا رہے ہیں اور
’’مخالف سمت سے آنے والی گاڑی سیٹی بجاتی ہوئی زن سے گزر گئی۔ اس کے زیادہ ترکمروں میں تیز روشنی تھی اور پنکھے چل رہے تھے۔ مسافر اخبار پڑھ رہے تھے، سور ہے تھے اور باہر دیکھ رہے تھے۔ ایک ادھ ننگی ، سفید فام عورت چمڑے کے بکس کے سہارے بیٹھی قہوہ پی رہی تھی ، برف چوستا ہوا ایک موٹا آدمی حیرت سے فوجیوں کی گاڑی کو دیکھ رہا تھا۔ پچھلی رات کی نشہ آور اور نم دار ہوا عبداللہ کے چہرے سے ٹکرائی اور وہ پلٹ آیا۔
’’تم نے گاڑی دیکھی؟‘‘ڈبے پر لٹک کر چڑھتے ہوئے اس نے نعیم سے پوچھا۔
’’ہاں ‘‘
’’اس میں ایک عورت تھی۔‘‘
’’اچھا…‘‘ نعیم نے مسکرا کر کہا۔‘‘٭۵


ایک نوجوان، نوخیز سپاہی عورت کا ذکر سن کر محض ’اچھا‘ کہے، یہ صرف نعیم ہی ہو سکتا ہے۔یوں لگتا ہے کہ مصنف کی چوکس نظروں تلے دبا نعیم کسی بھی جذبے کو ابھرنے نہیں دیتا۔ البتہ تجسس ایک ایسا جذبہ ہے جو اس کے ہاں بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ تجسس ناول نگار کے لیے معاون ہے۔ وہ اپنے پیش کردہ واقعات سے جو نتائج اخد کرنا چاہتاہے، ان تک پہنچانے میں نعیم کے سوالات کیا، کیوں ، کب، کہاں ، کیسے ، کون وغیرہ معاون تھے ، اس لیے نعیم میں یہی تجسس کا جذبہ بھرپور انداز میں ملتا ہے۔ نعیم میں کوئی خوب صورت جذبہ نہیں بیدار ہوتا۔لاتعلق سے سوال پیدا ہوتے ہیں۔ وہ ناول کے عمل میں شریک نہیں ہے بلکہ اس کھیل کا محض تماشائی ہے۔


نعیم کا آرمی میں جانا بلاوجہ ہے، مصنف کی مرضی تھی کہ ناول میں جنگِ عظیم اول کے مناظر دکھائے جائیں تو اس نے نعیم کو بلاوجہ جنگ میں بھیج دیا۔ حالانکہ نعیم تب تک کسی بھی حوالے سے فوجی ذہن کا مالک ثابت نہ ہو اتھا۔ تلک جیسے آدمی کے ساتھ ذہنی وابستگی رکھنے والا جوان انگریز کے لیے لڑنے کو کس آسانی سے تیار ہو گیا۔ یوں لگتا ہے کہ ایک چابی بھرا ہوا شخص ہے جسے ناول نگار اپنی مرضی سے چلاتے رہتے ہیں۔ جس آسانی سے وہ فوج میں بھرتی ہوا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس کی منشاء ناول نگار کے ہاتھ ہے جو پہلی جنگِ عظیم کے مناظر دکھانا چاہ رہے ہیں۔ جنگ کی تباہ کاریاں دکھا کر انسان دوستی کا علم بلند کرنا چاہ رہے ہیں، اگر نعیم اپنی مرضی سے کسی جذبے کی تپش سے گیا ہوتا تو پھر جنگ میں سرگرمی کا ، جوش کا مظاہرہ کرتا اور کوئی ناممکن العمل کارنامہ دکھاتا یا کم از کم دکھانے کی کوشش کرتا۔ جو آدمی اپنی مرضی سے جنگ میں جاتے ہیں وہ ایسے خود کار اور بے اختیار انداز میں لڑائی میں حصہ نہیں لیتے بلکہ پورے جوش و خروش کے ساتھ لڑتے ہیں اور کچھ کر دکھانے کا عزم رکھتے ہیں لیکن یہاں مسئلہ لڑائی تو تھی ہی نہیں، ناول نگار کا مقصد تو یہی تھا کہ ایک دفعہ نعیم کو میدانِ جنگ میں لے جائیں اور اس کے بعد اسے ایک طرف رکھ کر میدانِ جنگ کی تصویر کشی کریں، نعیم محض ایک مشاہدہ کار ہے جو یہ ثابت کرنے کے لیے مصنف کا آلۂ کار ہے کہ جنگ ایک تباہ کن چیز ہے۔


واقعات کا سلسلہ واپس ہندوستان پہنچتاہے۔ نعیم کے ذریعے ناول نگار نے پھر کوئی اہم تاریخی حالات رقم کرنے ہیں ۔ اس لیے اب مقامی تاریخ کے اہم واقعات کے لیے اس کاکسی سیاسی تنظیم کے ساتھ تعلق ضروری ہے ، گھر بیٹھے تو وہ ناول نگار کا مقصد پورا نہیں کر سکتا۔ یہاں ناول نگار کی مطلق العنانی پھر سامنے آتی ہے اور نعیم کسی قسم کی جذباتی ، نظریاتی وابستگی یا فلسفیانہ دلچسپی کے بغیر ہی کانگریس میں جا شامل ہوتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس کی پاداش میں اب تک کی گئی سرکاری خدمت کے حاصلات بھی واپس لیے جا سکتے ہیں اور سزا بھی ہو سکتی ہے، وہ اس تحریک کا حصہ بن جاتا ہے۔ ناول نگار نعیم کے اس طرح رخ موڑنے کا کوئی جواز نہ پیدا کر سکا اور لاتعلقی سے مکالمہ کروا کے کردار کو یو ٹرن دلوا دیتا ہے ۔


’’کانگریس کے لیے کام کرو گے؟‘‘
’’اسی لیے آیا ہوں۔‘‘نعیم نے مٹی کے تیل کی بو حلق میں محسوس کی۔
’’ہاں ، یہ پوچھنے کی ضرورت نہ تھی۔مگر تم نے جنگ میں نوکری کی ہے اور امتیاز کے ساتھ…‘‘
’’اوہ۔‘‘ نعیم نے جلدی سے اس کی بات کاٹی:’’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ہمارے پاس فنڈ نہیں ہیں۔ ہم صرف روٹی اور کپڑا مہیا کر سکتے ہیں۔ اور … اور ہو سکتا ہے کہ تمہاری کراس کی زمین بھی چلی جائے۔ ضبط ہو جائے۔‘‘
’’میں نے کہا نا… کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ‘‘٭۶
فرق تو پڑتا ہے البتہ اگر سیاسی حالات کو ناول میں دکھانے کی خواہش ہو تو پھر کردار کی بجائے جواب ناول نگار کی طرف سے آتا ہے جسے کردار کے مصائب سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ خارج کے حالات کی عکاسی کا جنون اسی طرح کرداروں پر حکمرانی کرتا ہے۔
کانگریس میں شریک ہونے کے بعد نعیم کی کایا کلپ ہو جاتی ہے۔ انگریز فوج میں خواہ مخواہ شامل ہو جانے والا، سکھوں کے ساتھ سٔور کے شکار میں پرجوش شرکت کرنے والا نعیم بلا کسی وجہ کے عدم تشدد کا بھی قائل ہو جاتا ہے۔ نہ مطالعہ، نہ جذباتی وابستگی ، پھر بھی عدم تشدد کا اتنے پرچارک بن گیا کہ جان تک کی پروا نہیں کرتا۔
’’میں ہندوستان کو اس کی کمزوری کی وجہ سے عدم تشدد اختیار کرنے کا مشورہ نہیں دے رہا بلکہ میں چاہتا ہوں کہ ہندوستان اپنی طاقت اور قوت کا احساس رکھتے ہوئے عدم تشدد کو اختیار کرے۔ میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ وہ یہ جانے کہ وہ اپنے اندر ایک ایسی روح رکھتا ہے جو تباہ ہونا نہیں جانتا اور جو ہر جسمانی کمزوری پر غالب آ سکتی ہے۔ میں ان لوگوں کو جو تشدد پر یقین رکھتے ہیں ، دعوت دیتا ہوں کہ وہ غیر متشدد اور امن پسند ترکِ موالات کا ایک دفعہ تجربہ کر کے دیکھیں ۔ میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ عدم تشدد اپنی کسی اندرونی ذاتی کمزوری کی وجہ سے ناکام ثابت نہیں ہو گا بلکہ اس وقت ناکام ہو گا جب اس پر پورے طور سے عمل نہ کیا جائے اور وہ وقت حقیقی خطرے کا ہو گا کیوں کہ اس وقت وہ بلند ہمت انسان جو اپنی قومی ذلت کو زیادہ عرصے تک برداشت نہیں کر سکتے ، اپنے غصے کا عملی اظہار شروع کر دیں گے اور تشدد کو اختیار کر لیں گے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو اور اپنے ملک کو اس ظلم سے نجات دلوانے کی بجائے جس کا وہ تختہ مشق بنائے جا رہے ہیں ، تباہ ہو جائیں گے۔‘‘٭۷


جیل میں جا کر آدمی کو اپنی ذات کے ساتھ وقت گزارنے کی زیادہ مہلت ملتی ہے اور اس کی انفرادیت کا احساس اس کے اندر اجاگر ہونے لگتا ہے۔ وہاں بھی عبداللہ حسین نے نعیم کو منفرد نہیں ہو نے دیا :
’’اسی طرح ایک مدت تک جیل میں رہتے رہتے وہ وہاں کے ماحول اور وہاں کے باشندوں سے مانوس ہو گیا جس طرح انسان تقریباً ہر چیز کا عادی ہو جاتا ہے۔ اس پر بھی ایک خلش جو ہر ذہین انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے، اس کی روح میں چبھی رہی۔ ‘‘‘ ٭۸


خلش جو ہر ذہین انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے، وہی نعیم کے دل میں ہے، یہ لکھ کر ناول نگار کا عجز ہی سامنے آتا ہے کہ وہ نعیم کی خلش کی صحیح نوعیت نہ بتا سکا۔
جیل میں ایک مدت گزارنے کے بعدجب اس کی بیوی ملنے آتی ہے تب بھی اس کا رویہ ایک اجنبی اور لاتعلق آدمی کا ہے۔ بیانیے کی توجہ بھی میاں بیوی/عاشق محبوب کے جذبات کی طرف یکسر نہیں بلکہ سائمن کمیشن کے متعلق بحث یا پاس کھڑے دوسرے قیدیوں کا شور سنانے پر مرتکز رہتی ہے۔
اس ناول کا دوسرا بڑا عیب یہ ہے کہ اسے بڑے بڑے واقعات دکھانے کا شوق ہے۔ پلاٹ میں جگہ ہو یا نہ ہو، واقعہ دکھانا ضرور ہے۔اکثر تو ایسے ہوتا ہے کہ واقعہ بلا ضرورت اور بلاجواز ہی ناول میں در آتا ہے۔واقعہ نہ تو ناول کے سلسلۂ واقعات کو آگے بڑھانے میں معاون ہوتا ہے اور نہ ہی ناول کے کرداروں کی باطنی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔مثلاً پہلی جنگِ عظیم واقعات کے سلسلے کو آگے بڑھانے میں کوئی کردار ادانہیں کرتی ۔ سوائے جنگ اور بے صرفہ جانوں کے ضیاع پر ناول نگار کی طرف سے چند انسان دوست جملوں کی ادائیگی کے، اس حصے کا کوئی مصرف نہیں ۔


ناول کا بنیادی مقصد کہانی کہنا ہوتا ہے، نئی اور انوکھی کہانی ۔ نئی کہانی جو کسی نے اس سے قبل نہ سنی ہو اور ایسے انوکھے انداز میں جو اس سے قبل نہ اپنایا گیا ہو۔ یہاں ’’اداس نسلیں‘‘ میں ناول کا مقصود کہانی نہیں ہے۔ کہانی مقصد ہوتا تو ناول نگار عام انسانی سطح پر رہ کر کرداروں کے رشتے ، جذبے دیکھتا اور ان کے اتار چڑھائو کا مشاہد ہ کرتا جب کہ ناول نگار کی توجہ ہندوستان کی تحریکِ آزادی کی داستان سنانے کی طرف ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے ناول دراصل تحریکِ آزادی کے اہم واقعات کاایک طائرانہ جائزہ ہے۔ ان واقعات کے درمیان ربط پیدا کرنے کے لیے نعیم اور عذرا کے کردار گھڑے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی کے اہم واقعات پر ناول نگار کی نظر تاریخی راستے سے ہے۔ ان کرداروں کی زندگی کے کسی واقعے کو تب تک قابلِ اندراج نہیں سمجھا جاتا جب تک وہ کسی بڑے تاریخی واقعے کے جلو میں پیش نہ آئے۔ عذرا کتنے دنوں بعد نعیم کے پاس آئی ہے۔ رومانوی ماحول ہے، ہلکی دھوپ ہے اور میاں بیوی گزری شب کی لذت کی کسلمندی میں بیٹھے ہیں۔یک دم عذرا جلیانوالہ باغ کا ذکر درمیان میں گھسیٹ لاتی ہے اور یوں ناول نگارکا مقصد پورا ہو جاتا ہے اور وہ جلیانوالہ باغ کے پورے واقعے کو ناول میں پیش کرنا اپنا فرضِ عین سمجھتا ہے خواہ اس کے لیے کرداروں کو اٹھا کر یو پی سے پنجاب کیوں نہ لے جانا پڑے۔ پھر جب نعیم جیل میں ہے اور عذرا اُسے ملنے جا رہی ہے تو ناول نگاراُسے سائمن کمیشن کے خلاف احتجاج اور لاٹھی چارج کا حصہ بنا کر اس کی پوری رپورٹنگ کرنے کے بعد ہی اُس کے خاوند کے پاس پہنچاتا ہے۔ عذرا کے لکھنٔو جانے کا مقصد بظاہر نعیم سے ملنا تھا مگر ناول نگار کا پوشیدہ مقصد عذرا کی آنکھوں سے سائمن کمیشن کے خلاف کیے گئے تاریخی احتجاج کا حال قلمبند کرنا تھا جو انہوں نے بخوبی پورا کیا۔ جب کہ عذرا جو دلی سے لکھنٔو اپنے شوہر سے ملنے گئی اور اب محض دور سے ملاقات کا موقع ملا ہے تو وہ بھی سائمن کمیشن کی خبریں ہی دے رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے اندر میاں بیوی والے جذبات ہیں ہی نہیں۔ آگے چل کر آل انڈیامسلم لیگ کے اتحاد کے موقع پر پھر نعیم اور عذرا کی خانگی زندگی دکھائی جاتی ہے، جہاں محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے اتنے بڑے واقعے کا حال قلمبند کر نے کے ساتھ نعیم اور اس کی بیوی کا جھگڑا بہت ہی غیر ضروری بکھیڑا ہے۔ ناول نگار ان کے حالات تبھی قلمبند کرتا ہے جب اسے خارج میں کسی بڑے واقعے کی شنید ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اصل میں انہوں نے ان تمام سیاسی واقعات کو پہلے درج کیا اور بعد میں انہیں ایک ربط دینے کے لیے ان کے درمیان کردار اور ان کے مکالمے جوڑ دیے تا کہ یہ بیان تاریخ کہلانے کی بجائے ناول قرار پائے۔ لکھنے کا انداز بھی ایسا ہوتا ہے جیسے کوئی صحافی مؤرخ واقعات کے رونما ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی رپورٹنگ کرتا جا رہا ہو۔آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کی تقریب دکھانا مقصود تھی، سو ناول نگار نے دونوں میاں بیوی کو تھاما اور انگلی پکڑ کر جلسے میں لے گئے۔ انداز بالکل ایسا ہے جو رپورٹنگ کرنے والے صحافی کا ہو سکتا ہے۔
1929ء کی 31دسمبر کو نعیم اور عذرا میں جھگڑا ہواجس کے نتیجے میں نعیم روشن پور لوٹ آیا۔دونوں میاں بیوی پر اس رنجش کی وجہ سے کیا گزری، ان کے خیالات کیا تھے، جذبات کس قدرفروزاں تھے، اس سے ناول نگار کو کوئی غرض نہیں۔ ناول نگار 96دن کا طویل فاصلہ عبور کر کے اگلی ہی سطر میں لکھتا ہے:’’اسی سال چھ اپریل کو ڈنڈی ساحل پر مہاتما گاندھی نے نمک سازی کا قانون توڑ کر ’سول نافرمانی‘ کا آغاز کیا۔‘ (اداس نسلیں، سنگِ میل، لاہور، ۲۰۱۳ء، صفحہ: ۳۰۴)بات نعیم اور عذرا کی رنجش کی ہو رہی تھی ، اس میں سول نافرمانی کے ذکر کاکیا تعلق بنتا ہے۔ ناول میں اگر سیاسی معاملات دکھانے لازم ہیں تو ان کے لیے باقاعدہ زمین تیار کی جاتی ہے۔ جیسا کہ مارکیز نے تنہائی کے سو سال میں، گائو ژنگیان نے “One Man’s Bible”میں یا گنتر گراس نے”The tin Drum”میں دکھائے ہیں، واقعات کو قصے کے کرداروں تک لایا جاتا ہے جس کے بعد ان کی شمولیت کا جواز بنتا ہے ، یہ نہیں کہ کردار وں کو اٹھایا اور بلا کسی جواز کے ایسی جگہ لے گئے جہاں واقعات رونما ہونے والے ہوں، اس طرح خواہ مخواہ کا ٹانکا بہت بدنما نظر آتا ہے۔ اس حوالے سے ناول میں دو بہت ہی بدترین مثالیں ہیں، ایک تو جلیانوالہ باغ کی طرز کا ہی واقعہ جو پشاور کے قصہ خوانی بازار میں پیش آیا۔ ناول نگار کو اس واقعہ کی بھی رپورٹنگ کرنی تھی، سو نعیم کو کان سے پکڑ کر ادھر پہنچا دیا۔ عین اسی دن جب وہاں ہنگامہ کھڑا ہونے والا ہے۔ نعیم وہاں کیوں پہنچا، اس کی وجہ ناول میں کہیں نہیں بتائی گئی۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نعیم کو وہاں سول نافرمانی کی تحریک میں حصہ لینے کے لیے بھیجا گیا ہو گا اور زیادہ یقین کے ساتھ کہا سکتا ہے کہ ناول نگار کو شوق ہوا تھا، قصہ خوانی بازار کا واقعہ نعیم کی آنکھوں کے ذریعے دکھانے کا ، سو اس نے نعیم کو وہاں لاکھڑا کیا۔ یہاں ناول نگار کے پاس جلیانوالہ باغ کی طرح کوئی معقول جواز بھی نہیں ، جلیانوالہ باغ میں تو جو کچھ بیان کیا گیا ، وہ چشم دید گواہ کی زبانی تھا، یہاں ناول نگار کے پاس ایسی کوئی آنکھ نہیں جس پر اعتبار کر کے وہ اس کے نقطۂ نظر سے واقعہ بیان کر سکیں ، سو بیانیے کو آگے بڑھانے کے لیے براہِ راست بیان پر اتر آیا۔ نعیم اس بیانے کا راوی مفعول ہے، حوالات کے اندر ہے، باہر نہیں دیکھ سکتا۔ ناول نگار نے ہمہ دان راوی کا کردار نبھاتے ہوئے بلاواسطہ رپورٹنگ شروع کر دی، البتہ ایسا کرتے وقت ہیئت کی کمزوری کا احساس ناول نگار کو بھی تھاکہ یہ براہِ راست انداز مناسب نہیں، اس لیے آخر پر نعیم کا سہار لے لیا۔ ’’حوالات کے دروازے کی سلاخوں میں سے نعیم نے بازارکے اس حصے میں جو اسے دکھائی دے رہا تھا، بھاگتے اور گرتے ہوئے لوگوں کو دیکھا۔ ‘‘یوں ناول نگار نے بیانیے میں نعیم کا وسیلہ ڈال کر اس واقعے کی روایت کا ذمہ نعیم پر ڈالنے کی کوشش کی جب کہ سارا بیانیہ خودمصنف کی نظرسے براہِ راست دیکھا گیا ہے۔


دوسرا واقعہ زیادہ بھونڈا ہے۔ قصہ خوانی بازار کے واقعے کو پانچ سال گزر گئے۔ وقت کی اس گزران کا ناول نگار نے کچھ خاص احساس نہ دیا۔ اس دوران جو واقعات رونما ہوئے، ان کا سرسری ذکر ملتا ہے۔ علی کی شادی ہوئی، علی کی ماں مل گئی، پرویز کا سست الوجود بیٹا بڑا ہو گیا، روشن کی چھوٹی بیٹی بھی جوان ہو گئی اور عذرا اداس رہتی ہے۔ پانچ سال گزرنے کا اور کوئی احساس نہیں۔ ناول نگار تمام افرادِ قصہ کو نظر انداز کر چکا ہے، اسے ناول کا عمل آگے بڑھانے کے لیے خارج میں کسی بڑ ے اور انوکھے واقعے کا انتظار ہے۔ پانچ سال بعد ناول نگار کو ایک اور قتلِ عام کی ’اطلاع‘ ملتی ہے اور وہ اندھادھند نعیم کے چھوٹے بھائی علی کو اس قتلِ عام کی جگہ پر لے جاتے ہیں، بالکل جیسے نعیم کو قصہ خوانی بازار میں پہنچایا تھا۔ اُسے دلی سے اٹھا کر بلاوجہ لاہور پھینکا گیا۔ علی دلی سے لاہور کیوں آیا، اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ بس یوں ہی منہ اٹھا کے دلی سے ٹرین پر بیٹھا اور تیس گھنٹے کے سفر کے بعد جب لاہورآیا تو وہاں اتر گیا۔اور عین اس دن جب انگریز سرکار کی طرف سے مسجد شہید گنج کے انہدام کے خلاف مظاہرہ کرنے والے مسلمانوں پر گولی چلائی جاتی ہے۔ معلوم نہیں عبداللہ حسین کواپنے کردار ہر اس جگہ خواہ مخواہ پہنچانے کا کیا شوق ہوتا ہے جہاں حکومتی اداروں کی طرف سے عوام کے کسی گروہ کا قتلِ عام ہو رہا ہو اور پھر اس قتلِ عام کی رپورٹنگ صحافیانہ غیر جذباتیت سے کرتے ہیںجیسے کوئی دستاویزی فلم بنا رہے ہوں۔واقعے کے ساتھ جو کسی فنکار کا داخلی تعلق،کرداروں کا جذباتی ردِ عمل ہوتا ہے، وہ یکسر مفقود ہوتا ہے، بس ایک فوٹیج دکھاتے ہیں اور آگے چل دیتے ہیں۔


آخر پر آ کر عبداللہ حسین ایک دبدھا میں نظر آتے ہیں، اب تک کے بیان کیے گئے تمام واقعات محض خارج کے ایک عکس کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کی کوئی ادبی معنویت پورے ناول میں قائم نہیں ہو پاتی۔ اب عبداللہ حسین اپنے بیانیے کو سمیٹنا بھی چاہتے ہیںا ور 1935ء تک کے تمام واقعات کی پیش کش کو ایک کلی معنویت بھی دینا چاہتے ہیں تا کہ ناول کے اندر ان کی موجودگی کا کوئی جواز بن جائے ورنہ یہ سارا بیانیہ بے معنی ہو جانے کا امکان تھا۔1935ء تک آتے آتے وہ اتنے مناظر بیان کرچکے ہیں کہ ناول اپنی مرکزی معنویت کھو چکا ہے اور وہ پیچھے ایک نظر جھانک کر اسے مرکزیت دینا چاہتے ہیں۔ اب ان کے پاس کوئی راستہ نہ تھا۔ ناول کے موجودہ کرداروں میں سے کوئی کردار بھی ایسا نہ تھا جو ان واقعات کی معنویت دریافت کر سکتا یا فلسفیانہ انداز میں انہیں ایک کلیت عطا کر سکتا۔ نعیم جو کہ مرکزی کردار ہے، باوجود ادب، تاریخ، معاشیات اور فلسفہ کے گہرے مطالعہ کے ابھی تک اس قابل نہیں ہو سکا کہ ان واقعات پر جذباتی یا فکری نظر ڈال سکے، باقی کردار تو ہیں ہی غیر اہم۔ سو عبداللہ حسین ایسے کڑے وقت میں انیس الرحمٰن کا کردار تراشتے ہیں جو (درپردہ)ناول میں محض اس جواب کی تلاش میں درآتا ہے کہ اب تک کے سارے بیانیے کی معنویت کا کھوج لگا سکے۔انیس الرحمٰن کے ذریعے گزشتہ واقعات کی کلی معنویت تلاش کی جا سکتی تھی کیوں کہ وہ ایک جہا ندیدہ آدمی ہے لیکن یہ کوشش بھی فضول ٹھہری۔ کیوں کہ عبداللہ حسین اس کردار سے خاطر خواہ کام نہ لے سکے۔ محض ایک باب میں نعیم کے ساتھ اس کا ایک طرح سے یک طرفہ مکالمہ، جس میں نعیم ایک مفعول کردار ادا کرتا ہے(میرا کوئی طالب علم ایسا مکالمہ لکھے تو دس میں سے دو نمبر بھی نہ دوں)اور انیس الرحمٰن اپنے خیالات کو انصاف ، قدرت اور خدا کی طرف رکھ کے ناول کو ایک نئی ڈائمنشن دینے کی کوشش کرتے ہیں جس کی طرف ناول نگار نے اب تک کوئی ہلکا سا اشارہ بھی نہیں دیاتھا اور نہ ہی آگے چل کر مذہب ان کا کوئی مسئلہ بنتا ہے۔ بس یہاںاسی مکالمے میں یہ مسئلہ بنتا ہے۔ اس کے بعد ایک اور طویل مکالمہ کیپٹن مسعود کا ہے جو اس کی عمر سے بہت آگے کی چیز ہے۔ ان سے بھی بات نہ بن سکی۔یوں لگتا ہے کہ ناول مکمل کرنے کے بعد کسی کمی کے پیشِ نظر ناول نگار نے یہ باب اضافہ کیا مگر اس کے باوجود اس کمی کو پورا نہ کرسکے۔اور نتیجہ کار اس ناول کے تمام واقعات کچھ ایسے واقعات کا مجموعہ بن جاتا ہے جن کی کوئی کلی معنویت نہیں ملتی۔


’’اس ناول کی سب سے بڑی کمزوری ہی یہ ہے کہ اس کا کوئی مرکزی خیال نہیں ہے۔ جو مرکزی کردار ہے، وہ بھی ناول کی ساری فضاء سے الگ تھلگ ایک تنہا اور بے مقصد سی زندگی میں ادھر ادھر بھٹکتا پھرتا ہے۔ نعیم طبقاتی معاشرہ کا ایک ایسا کردار ہے جو اپنی طبقاتی حیثیت کا تعین نہیں کر سکا، ایک طرف اس کا دیہاتی ماحول ہے ، دوسری طرف کلکتہ کی سینئیر کیمبرج کی تعلیم ہے، پھر وہ سخت قوم پرست ہونے کے باوجود فوج میں بڑے اصرار سے بھرتی ہوتا ہے۔ ایک طرف آزادی کی تحریکوں میں شریک ہوتا ہے اور جاگیرداروں کے ظلم کی بات کرتا ہے۔ دوسری طرف جاگیردار کی بیٹی سے شادی کرتا ہے اور آخر میں نوکر شاہی میں داخل ہوجاتا ہے، پھر مرکزی کردار ہونے کے باوجود ناول کے ایک بڑے حصے میں اس کا وجود ہی نہیں ہے۔ ا س کے علاوہ ناول اس وجہ سے بھی ایک اکائی نہیں بن پاتا کہ اس میں بیان کیے گئے مختلف واقعات ، تجربات اور مشاہدات زیادہ تر مستعار ہیں، وہ مصنف کا ذاتی ردِ عمل نہیں ہیں۔ ناول مختلف نظریات کا ایسا رد عمل بن گیا ہے جس میں زندگی کے متعلق کسی ایک واضح ردِ عمل کی تلاش کرنا ممکن نہیں۔‘‘ ٭۹


1935ء کے مسجد شہید گنج کے واقعے کے بعد ناول نگار تھک سے جاتے ہیں اوردوسری طرف انہوں نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ ناول کو 1947ء کی تقسیمِ ہندوستان تک لے جا کر ہی ختم کرنا ہے۔ سو وہ جلدی سے ناول کو سمیٹنے کے چکر میں پڑ جاتے ہیں۔ 1935ء کے بعد وہ قحطِ بنگال (1943ء)پر آ کر رکتے ہیں، تھوڑی دیر تک تاسف اور ملال بھری بحث کرتے ہیں اور پھر سیدھے 1947ء کے واقعات پر جا پہنچتے ہیں۔ نعیم دلی میںہے، عذرا دلی میں ہے، علی بھی وہیں موجود ہے اوردِلی تمام حوادث کا مرکز ہے۔ اس کے باوجود انہیں ان 12برسوں میں کوئی بامعنی یا قابلِ ذکر واقعات نہیں نظر آتے۔ اگر ناول نگار کی توجہ خارج پر ہی تھی تو اب کیا ہوا، اب تو خارج میں تقسیِم ہندوستان کی تحریک اپنے پورے زور پر ہے، روز دنیا اُلٹی جا رہی ہے تو اب کوئی واقعہ اس قابل کیوں نہیں کہ اس کا بیان کیا جائے ۔ خارج کے اتنے اہم واقعات ہیں اور ناول نگار انہیں درخورِ اعتنا نہیں سمجھتا۔


آخر پر ناول نگار ناول کو انجام دینے کے لیے بے تاب ہیں اور اب تک ناول کی بنیاد جس ماحول پہ قائم کی ہے،اس سے بے گانہ نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ناول کی بنیاد خارج کی دنیا کی پیش کش پر رکھی تھی اور اب تک خارج کے واقعات کی منظر کشی کرتے آ رہے ہیں لیکن اب ان کی توجہ صرف اور صرف ناول کو ختم کرنے کی طرف ہے۔ خارج کی دنیا اب زیادہ ہنگامہ خیز ہو چکی ہے، کردار بھی ان ہنگاموں کے مرکز میں پہنچ چکے ہیں لیکن ان کی توجہ ادھر ہے ہی نہیں۔ وہ بیان کی طوالت سے گھبرا کر ناول کو انجام کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔اس سلسلے میںا نہوں نے بارہ سال کے وہ تمام واقعات نظر انداز کر دیے جواپنی اثر خیزی سے خارج کی دنیا کو پوری طرح تبدیل کر رہے تھے اور بیانیے کو 1947ء کے اعلانِ آزادی، فسادات اور ہجرت تک لے آئے۔ اس لمبے سفر میں انہوں نے ان تمام عوامل کو نظر انداز کیا جو ان حالات کا موجب بنے اور کرداروں کی زندگی کو اس نہج پر لے کر آئے۔ انہیں بس اپنے ناول کے بیانیے کو انجام دینے کے لیے ہجرت کا عمل اتنا متاثر کن نظر آیا کہ براہِ راست وہاں جست لگائی اور تقریباً ستر صفحات تک ہجرت کا یبان کرتے چلے گئے۔ یوں ناول خارج کی زندگی کی پیش کش کے حوالے سے غیر متوازن ہوتا گیا۔ جب یہ طے ہے کہ سیاسی واقعات بتانے ہیں تو کسی واقعے کو یک سر نظر انداز کیوں اور کسی پر حد سے زیادہ توجہ کیوں۔ واقعات کا انتخاب مصنف کی مرضی پہ منحصر ہوتا ہے مگر اس قدر بھی نہیں کہ اس انتخا ب کی کوئی منطق ہی نہ بنتی ہو۔


فنی لحاظ سے ’’اداس نسلیں ‘‘اتنا مکمل ناول نہیں ہے ، خاص طور پر جس قدر شہرت اسے ملی ہے، اتنا کامل تو کہا ہی نہیں جا سکتا ۔ یہ اس ناول کی قسمت ہے جو اسے اتنی شہرت عطا کرتی ہے ، اور اہلِ ادب کی نظر میں وقعت دیتی ہے۔ فنی لحاظ سے یہ ناول خود عبداللہ حسین کے ہی دوسرے ناولوں ’’باگھ‘‘ اور ’’نادار لوگ‘‘ کی نسبت کمزور ہے لیکن ناول کی کامیابی اور شہرت کا دارومدار پلاٹ اور کہانی کی بنت پر نہیںہوتا سو یہ ناول ان کے اپنے اور اردو کے باقی ناولوں سے بھی نسبتاًزیادہ توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔
٭٭٭

حوالہ جات

۱۔ اسلوب احمد انصاری ،’’ اردو کے پندرہ ناول‘‘ ،لاہور، مکتبہ قاسم العلوم ، ص:۱۹۱
۲۔عارف صدیق، ’’عبداللہ حسین کے ناولوں کاتنقیدی مطالعہ ، نو آبادیات سے پس نو آبادیات تک‘‘، مقالہ برائے ایم فل اردو، یونیورسٹی آف سرگودھا، سرگودھا،۲۰۱۳ء،ص:۵۴
۳۔عبداللہ حسین،’’اداس نسلیں‘‘، لاہور،سنگِ میل پبلیکیشنز،۲۰۱۳ء، ص: ۳۷
۴۔ عبداللہ حسین،’’اداس نسلیں‘‘،لاہور، سنگِ میلپبلیکیشنز، ۲۰۱۳ء، صفحہ: ۱۵۲
۵۔عبداللہ حسین،’’اداس نسلیں‘‘، لاہور،سنگِ میل پبلیکیشنز،۲۰۱۳ء، ص: ۸۹
۶۔عبداللہ حسین،’’اداس نسلیں‘‘، لاہور،سنگِ میل پبلیکیشنز،۲۰۱۳ء، ص: ۱۵۴
۷۔عبداللہ حسین،’’اداس نسلیں‘‘، لاہور،سنگِ میل پبلیکیشنز،۲۰۱۳ء، ص: ۱۸۰
۸۔عبداللہ حسین،’’اداس نسلیں‘‘، لاہور،سنگِ میل پبلیکیشنز،۲۰۱۳ء، ص: ۲۸۰
۹۔رضی عابدی، ’’تین ناول نگار‘‘، لاہور،سانجھ پبلیکیشنز، دوم،جنوری ۲۰۱۰ء، ص:۱۲۲

Share This Post
Written by محمد عباس
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>