افسانہ نگار : اسد محمود خان

”ہیلو! آل اسٹیشنز میسج اور……!!!“۔
جیپ کے شور میں چنگھاڑتی یہ لانس نائیک ارشد کی آواز تھی، جو وائرلس سیٹ کا ماؤتھ پیس منہ کے سامنے رکھے دوسرے کال سائنز کو متوجہ کرنے کی پوری کوشش میں مصروف تھا۔
”ارشد! کال سائن ون کی لوکیشن چیک کر……“۔
دوسری آواز جیپ ڈرائیور کی بغلی سیٹ پر مستعدی سے بیٹھے یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر کی تھی جو اس وقت یونٹ کے ہراول دستوں کی قیادت میں آپریشن خیبرون کے منطقی انجام کی جانب بڑھتے ہوئے اپنے جوانوں کی مسلسل خبر گیری میں بھی مصروف تھا۔
”سر! میں کال سائن ون کی لوکیشن چیک کر رہا ہوں لیکن جواب نہیں آرہا……“۔
لانس نائیک ارشد، جو کہ کمانڈنگ آفیسر کے ساتھ وائرلس آپریٹر کی ذمہ داریاں نبھا رہا تھا، نے توجہ وائرلس سیٹ کے جلتے بجھتے بلبوں پر ہی مرکوز رکھتے ہوئے سی او کے سوال کا مختصر جواب دیا اور ماؤتھ پیس کو منہ کے سامنے رکھے مسلسل چیخ رہا تھا۔
”ہیلو! ون میسج اور……ہیلو! ہیلو! ……ہیلو!ون میسج اور……“۔
لانس نائیک ارشد جس توجہ سے اپنے مخاطب کو پکار رہا تھا کچھ اُسی مہارت سے جیپ کا ڈرائیور گاڑی کو کچے پکے گنجلک راستوں میں آگے بڑھا رہا تھا۔ سی او کی توجہ مسلسل کبھی دِنڈ اسکرین سے پار کے منظر پر تو کبھی دائیں اور بائیں کے دروازوں میں موجود شیشوں سے باہر کی صورتِ حال پر مرکوز رہی جب کہ جیپ کے پچھواڑے موجود سپاہی بغل میں دابی ریفلوں کے دہانوں کو ہدف کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھیر رہے تھے اور اُن کی شہادت کی انگلیوں کی گُدیاں ٹریگرز سے چپکی، اگلے احکامات کے انتظار میں تھیں۔
”ہیلو! مار خور فار امام اور……“۔
دریں اثنا ایک کال سائن کی جانب سے اطلاعی بزر کے شور کے پیچھے آپریٹر کی آواز سنائی دی جو کنٹرول،(کمانڈنگ آفیسر) کو کوئی اہم پیغام پہنچانا چاہ رہاتھا۔ مار خور کا کال سائن، یونٹ کے ایجوٹنٹ کے لیے مخصوص کیا گیا تھا جو اِس وقت کال سائن تھری کی پوزیشن سے سپاہ کی نقل و حرکت پر نظر جمائے بیٹھا تھا۔
”ہیلو! سینڈ یور میسج اور……“۔
لانس نائیک ارشد نے کنٹرول کے کال سائن سے تخاطب کو جواب دیا جب کہ کمانڈنگ آفیسر نے ونڈ اسکرین سے نظریں ہٹائیں اور گردن گھما کر جیپ کے پچھواڑے میں چیخنے والے وائرلس سیٹ سے نشر ہونے والے پیغام کی جانب متوجہ ہوگیا۔
”ہیلو! مار خور فار امام……ہم آپریشن خیبرون میں پیش قدمی کرتے ہوئے ڈوگرہ سے جھانسی کامیابی کے ساتھ پہنچ چکے ہیں ……“۔
”ہیلو! ویل ڈن بوائز…… کیپ اِٹ اَپ……“۔
”تھینک یو سر……“۔
”ہیلو! مارخور…… کیا سب ٹارگٹس نیوٹرلائز ہو چکے ہیں“۔
”یس سر! ……تمام ٹارگٹس نیوٹرلائز ہو چکے ہیں اور صورتِ حال مکمل قابو میں ہے……“۔
”ویل! …… جوانوں کا مورال کیسا ہے اور کیثویلٹی اسٹیٹ کیاہے ……“۔
”سر! الحمد اللہ پرجوش اور آگے بڑھنے کے لیے بے تاب ہیں …… جب کہ چند جوانوں کو معمولی زخم ہیں جن پر ابتدائی طبی امداد دی جاچکی ہے……“۔
”اوکے!دیٹس گڈ……اگر کسی کو طبی انخلاء کے پیش نظر پیچھے بھیجنا ہے تو ریئر میں میسج کرا دو……“۔
”سر! سب جوان فٹ ہیں …… زخمی جوان بھی مشن مکمل ہو جانے تک سوائے پرچم میں لپٹے کسی بھی اور صورت میں پیچھے جانے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں ……“۔
”شاباش! زندہ دل سپاہیوں کی یہی پہچان ہے……مجھے امید ہے ہم جلد اپنے آخری ہدف کو جا لیں گے……“۔
”انشاء اللہ سر……“۔
”سب لوگوں کو میری طرف سے شاباش دو……خدا تمہارا ہامی و ناصر ہو“۔
”راجر سر……“۔
”اور اینڈ اَؤٹ……“۔
کمانڈنگ آفیسر نے بات مکمل کرتے ہوئے کہا اور وائرلس ریسور کو کانوں سے ہٹاکر واپس آپریٹر کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا:
”یار!ون کو کال کرو……کیا رابطہ ہو رہا ہے یا نہیں“۔
”یس سر!……“۔
لانس نائیک ارشد نے سی او کے سوال کا مختصر جواب دیااورکمانڈنگ آفیسر کے ہاتھوں سے رسیور لے کر کال سائن ون کے لیے وائرلس کی نابیں گھمانے لگا جب کہ اِس دوارن اَپ لنک سیٹ کی بتیوں نے بریگیڈ کمانڈر کی کال کا سائرن بجا دیا تھا جس کے جواب میں کمانڈنگ آفیسر نے ہاتھ بڑھا کر دوسرا رسیور کانوں سے لگا لیا تھا جہاں سے گونجتی بریگیڈ کمانڈر کی آواز واضح سنائی دے رہی تھی۔
………………………………………………


”ہیلو! ون میسج اور……ہیلو! ہیلو! ……ہیلو!ون میسج اور……“۔
لانس نائیک ارشد نے ایک بار پھر سے ماؤتھ پیس کو منہ کے سامنے کیا اور یوں چیخ چیخ کر بلانے لگا، گویا کال سائن ون سامنے دیوار کی اَوٹ میں بیٹھا ہو اور جوں ہی اِ س کی بلند بانگ آواز اُس کی سماعتوں سے ٹکرائے گی تو لامحالہ بول پڑے گا۔ہوا بھی یوں ہی کہ اِس بار بلانے پر کال سائن ون کی جانب سے جوابی پیغام کا سائرن گونج اُٹھا:
”ہیلو! سینڈ یور میسج اور……“۔
کال سائن ون کی جانب سے موجودگی کی اطلاع کے ساتھ ہی اپنے لیے موجود پیغام کی ترسیل کا اشارہ بھی کردیا گیا۔
”سینڈ لوکیشن فار امام……“۔
”منصوبے کے مطابق جھانسی کے بائیں کنارے پر اپنے مقررہ ہدف کی لوکیشن میں ہیں ……“۔
”ہیلو! امام ہیر…… کہاں رہ گئے تھے……“۔
کمانڈنگ آفیسر نے دوسرے سیٹ پر بریگیڈ کمانڈر کی جانب سے ملنے والے نئے احکامات پر ”راجر“ کہا اور ایک ہاتھ سے رسیور اَپ لنک آپریٹر کے حوالے کیا جب کہ دوسرے سے لپک کربٹالین لنک کا رسیور لانس نائیک ارشد کے ہاتھوں سے لگ بھگ چھین کر کان اور منہ کے سامنے کرتے ہوئے قریب چیختے ہوئے کہا۔
”سر! ہدف کے علاقے میں ایک گھر سے دہشت گردوں کی جانب سے سخت مزاحمت ملی جسے کلیر کرتے ہوئے بٹالین لنک کے سیٹ پر رابطہ مشکل ہو رہا تھا جسے دور کرتے ہوئے کچھ وقت لگ گیا……“۔
”ابھی کی صورتِ حال کیا ہے……“۔
”سر! مزاحمت کاروں کے کچھ بندے شکار کر لیے گئے ہیں جب کہ کچھ ڈر کربھاگنے میں کامیاب ہو ئے ہیں ……“۔
”ناؤ! پوزیشن اور……“۔
”سر! ایریا کلیر کر دیا ہے اور ہم لوگ اپنے مقررہ ہدف والے مقام تک علاقہ محفوظ بنا چکے ہیں“۔
”دہشت گردوں کی نئی پوزیشن……“۔
”سر! نزدیک میں محسوس نہیں ہو رہی……شاید بھا گ کر کہیں دور نکل گئے ہیں البتہ سات ڈیڈ کنفرم ہیں ……“۔
”اپنی کیثویلٹی اسٹیٹ ……“۔
”سر! نو میجر کیثویلٹی البتہ معمولی زخموں والے جوان ابتدائی طبی امداد کے بعد اپنے اپنے مورچوں میں موجود ہیں“۔
”ویل! …… جوانوں کا مورال کیسا ہے“۔
”ہائی سر……“۔
”اوکے ویل جاب ڈن……سب کو شاباش دو“۔
”راجر سر……“۔
”اور اینڈ اَؤٹ……“۔
کمانڈنگ آفیسر نے بات مکمل کرتے ہوئے کہا اور وائرلس ریسور کو کانوں سے ہٹاکر واپس آپریٹر کی جانب بڑھاتے ہوئے ذمہ داری سے عہدہ براہ ہونے والے گہری لمبی سانس لیتے ہوئے ایک بار پھر سے لانس نائیک ارشد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
”ارشد! سب کال سائنز کو شاباش دو اور ایک گھنٹے بعد کنٹرول کی لوکیشن پر اگلے احکامات کے لیے جمع ہونے کا کہو……“۔
”رائٹ سر……“۔
لانس نائیک ارشد نے پوری توجہ سے کمانڈنگ آفیسر کے اگلے احکامات سننے کے بعد اثبات میں سر ہلا کر جواب دیا اور اگلے لمحے اُس کے سیٹ سے ”ہیلو! آل اسٹیشنز میسج اور……!!!“ کا جملہ اپنے ہمراہ پورا پیغام لے کر سب کی سماعتوں سے گزر چکا تھا۔ ڈرائیور نے کمانڈنگ آفیسر کے اشارے پر گاڑی کا گیئر بدلا اور زناٹے سے مقررہ مقام کی جانب دوڑنے لگا جب کہ اِس دوران کمانڈنگ آفیسر نے گیئر بکسے کے ساتھ ہی رکھے مِنی میپ کیس میں محفوظ نقشے کو سامنے رکھا اور ڈیش بورڈ کی سائیڈ میں بنے ہولڈر سے سرخ رنگ کا پینٹل اُٹھا کر نقشے پر تیر اور دائرے مارک کرنا شروع کر دیےتھے۔
………………………………………………


اگلے ایک گھنٹے میں ڈوگرہ سے جھانسی جانے والے راستوں کی گرد دھیرے دھیرے بیٹھ چکی تھی۔
زندہ دل بٹالین کا کنڑول ہیڈ کوارٹر عارضی طور پر ایک محفوظ مستقر پر لگا دیا گیا۔جنگی حالات اور وہ بھی خصوصاً ایک مقام سے دوسرے مقام کی جانب سازو سامان کے ساتھ سپاہ کی حرکت کے دوران ہیڈ کوارٹرکیا رہا ہو گا بس چند ”کیمپ اسٹول“ ایک ترتیب سے خالی اور صاف جگہ دیکھ کر لگا دیے گئے جن پر کچھ ہی دیر میں سارے کمپنی کمانڈرز اور بٹالین اسٹاف آفیسرز اپنے اپنے حصّے اور جثّے یعنی رینک اور سنیارٹی کے حساب سے آکر بیٹھ گئے۔ اب بس کمانڈنگ آفیسر کی آمد کا انتظار باقی تھا جو مقررہ وقت پر جیپ کے سائے سے اُٹھ کر کانفرنس والی نشستوں کی جانب آگیا۔
”اسلام و علیکم! جنٹلمین!! ہاؤز ایوری ون……“۔
کمانڈنگ آفیسر نے اپنے حصّے کے کیمپ اسٹول پر بیٹھتے ہوئے، کانفرنس پر آئے سبھی آفیسرز کی جانب گردن گھما کر دیکھتے ہوئے کہا۔
”آل فائن سر……اینڈ فائٹنگ فٹ ……“۔
کمانڈنگ آفیسر کے دائیں جانب پہلی نشست پر براجمان یونٹ کے سیکنڈ اِن کمانڈ نے سپاہیانہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب کا پہلا حصّہ بولا جب کہ دوسرے حصّے میں موجود جملہ مکمل کرتے ہوئے اُس کے چہرے پر فوجی عزم ِ جلال نمایاں طور پر دکھائی دیتا تھا۔
”ویل! دیٹس گڈ…… لیکن کیا آپ سب لوگ ایمیجیٹ موو کے لیے تیار ہیں“۔
”سر! وائے ناٹ…… تیار بھی ہیں اور بے قرار بھی……“۔
”ویل! ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا پہلا ہدف جھانسی ہی تھا جسے زندہ دل قیادت نے بھر انداز میں مکمل کر لیاہے ……لیکن یہاں پہنچتے ہی بریگیڈ کمانڈر کی طرف سے نیا حکم ملا ہے کہ ہمیں سپن قمر کی جانب جاتے ہوئے اگلے ہدف تک رسائی حاصل کرنا ہے……“۔
کمانڈنگ آفیسر نے بات کے دوران نقشہ کھول کر سامنے زمین پر پھیلاتے ہوئے ایک سرخ دائرے پر انگلی رکھتے ہوئے کہا جہاں بھورے رنگ کی ٹیڑھی میڑھی لائنوں بیچ ”سپین قمر“ کا نام چمک رہا تھا۔
”ہم لوگ اسی ترتیب میں یہاں سے آگے بڑھیں گے جس ترتیب میں ڈوگرہ سے یہاں تک آئے ہیں ……کال سائن ون دائیں اور آگے، کال سائن ٹو بائیں اور آگے، کال سائن تھری دائیں فالواَپ میں، کال سائن فور بائیں فالو اَپ میں، کنٹرول میرے ساتھ درمیان میں رہ کر آگے بڑھیں گے جب کہ بٹالین مارٹرز دو حصّوں میں دائیں درمیان اور بائیں درمیان میں بروقت گولہ باری اور امدادی فائر کے لیے موجود ہوں گے“۔
کمانڈنگ آفسیر نے نقشے پر موجود سرخ دائرے سے انگلی ہٹاکر جھانسی سے اسپن قمر کی جانب بڑھنے والے راستوں پر تیروں کی مدد سے نشاندہی کی اور سب کمانڈروں کو آخری احکامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا۔
”رائٹ سر……“۔
سب نے یک زبان احکامات سمجھنے اور اُن پر عمل کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا۔
”یہاں تک کسی کا کوئی سوال……“۔
کمانڈنگ آفیسر نے نقشے سے نظریں ہٹاکر سب کے چہروں کی جانب سوالیہ انداز میں دیکھتے ہوئے کہا۔
”نو سر!…… مشن اندر اسٹوڈ اینڈ وِل بی اکمپلشڈایز پر پلان……انشاء اللہ“۔
دائیں پہلو پر بیٹھے یونٹ سیکنڈ اِن کمانڈ نے سب کی ترجمانی کرتے ہوئے مختصر اور مفصل جواب دیا۔
”اوکے……اگر کوئی سوال نہیں ہے تو ……بیسٹ آف لک اینڈ لیٹس کیپ گوئنگ……اور ہاں! کال سائن وَن ……اِس بار جواب آنے میں دیر نہ ہو“۔
کمانڈنگ آفیسر نے کسی جانب سے سوال نہ آنے پر سب کو روانگی کا اشارہ دیا اور آخری جملہ پہلے کمپنی کمانڈر کی جانب دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔
”سر! جواب ہی نہیں رزلٹ آنے میں بھی دیر نہیں ہوگی……“۔
کال سائن ون کے کمپنی کمانڈر نے پر عزم لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا جس پر باقی سارے بھی مسکرا دیے۔ زندہ دل بٹالین کے عارضی کنٹرول ہیڈ کوارٹرمیں جاری رہنے والے جنگی احکامات ختم ہو گئے اور سب اپنی اپنی ذمہ داری نبھانے کے لیے اپنے ذیلی ہیڈ کوارٹروں کی جانب روانہ ہونے لگے جب کہ لانس نائیک ارشد نے کال سائن فریکونسی کو نئے احکامات کے مطابق بدلنے کی تیاریاں شروع کر دیں تھیں۔
………………………………………………


شام کے سائے گہرے ہونے سے ذرا پہلے ہی اسپن قمر کے سوئے راستے گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے جاگ گئے۔
فضاء باردود کے دھویں سے مخمور دھیرے دھیرے بوجھل ہو نے لگی، کچی مٹی کی اینٹوں پر کھڑی دیواریں قلعے کی فصیلوں کی ماند سامنے آگئیں، دیوار نما فصیلوں میں موجود آنکھوں سے بندوقوں کے شعلے برسنے لگے، دروازوں کے کواڑوں نے اپنے پیچھے جانے کتنے دہشت گردوں کو چھپا رکھا تھا البتہ کہیں کہیں پر گولی کی آواز کے پیچھے بھاگتے قدموں کی چاپ اور کہیں کہیں سے پگڑی نیچے جانے کی جھلک نظر آجانے سے دوست اور دشمن کی نالیوں میں تمیز ممکن ہو جاتی تھی۔
اچانک آگے بڑھتی کمپنیوں کے ہراول دستوں نے اَوٹ میں ہو کر پوزیشنز سنبھال لیں۔
”ہیلو! کال سائن وَن میسج اور……“۔
”ہیلو! کال سائن ٹو میسج اور……“۔
لانس نائیک ارشد کے سیٹ سے آگے بڑھتی کمپنیوں کے کمانڈروں کے لیے پیغام کا شور بلند ہو نے لگا۔ کمانڈنگ آفیسر نے پہلو بدل کر دوسرے سیٹ کا رسیور اُٹھایا اور کسی کو احکامات دینے لگا جب کہ اس دوران جیپ کا ڈرائیور گاڑی کو کھلے مقام سے ہٹا کر قریب موجود آڑ میں لے آیا جہاں سے حفاظت اور ابزرویشن دونوں بخوبی نبھا ئی جاسکتی تھیں۔
”ہیلو! وَن سینڈ یور میسج اور……“۔
”ہیلو! ٹوسینڈ یور میسج اور……“۔
اگلے ہی لمحے میں دونوں کال سائنز کی جانب سے ترت جواب موصول ہو گیا۔
”ہیلو! وَن ویٹ……ٹو امام لسنگ…… سینڈ سچوئیشن پلیز……“۔
لانس نائیک ارشد نے دائیں اور آگے کے کال سائن وَن کو سیٹ پر رہ کر انتظار کا کہہ کر بائیں اور آگے کی کمپنی کو اپنی تازہ صورتِ حال سے آگاہی کا اشارہ دیا کیوں کہ اِس حصّے کی جانب فائرنگ اور دھماکوں کی آوازوں کا شور زیادہ تھا جب کہ اِ س دوران کمانڈنگ آفیسر نے ہاتھ بڑھا کر رسیور، ارشد کے ہاتھ سے لے کر اپنے کانوں کے ساتھ لگا لیا تھا۔
”ہیلو! وَن فار امام…… ہمارے سامنے کے علاقے سے دہشت گردوں نے کئی راکٹ داغے ہیں جن کے پیچھے آس پاس کی مختلف جگہوں سے مسلسل فائرنگ بھی کی جارہی ہے……ہم بھی بھر پورجوابی فائر گر رہے ہیں“۔
کال سائن ون کے کمپنی کمانڈر نے پیشہ وارانہ انداز میں موجودہ صورتِ حال سے آگاہی دیتے ہوئے کہا، اِس دوران پس منظر میں ہونے والی مسلسل تیز فائرنگ کی آوازیں گونج رہی تھیں جب کہ چند ایک گولیوں کی سیٹی جیسی تیز شُوکار نے یہ باور کرانے میں کوئی کسر باقی نہ اُٹھا رکھی تھی کہ گولیاں کمپنی کمانڈر کے آس پاس اور سر کے اوپر سے ہی گزر رہی ہیں۔
”ہیلو! وَن ……کیا کوئی آئی ڈی بلاسٹ ہے یا مورچہ بند کاتوائی ہو رہی ہے……“۔
”سر!علاقہ ایسا ہے کہ جیسے ہی اگلی سرچ پارٹی یہاں داخل ہوئی پہلے سنائپر کا فائر ہوا اور پھر مختلف اطراف سے راکٹ اور فائر شروع ہو گیا“۔
”بندوں کی کیا پوزیشن ہے……“۔
”سر! سنائپر کی پہلی گولی نے سرچ پارٹی کمانڈر حوالدار ذولفقار کو لگی ہے……“۔
”زُلفی کو……اب کیا صورتِ حال ہے……زُلفی کیسا ہے……“۔
”سر! فائرنگ اطراف سے مسلسل جاری ہے ……ذولفقار گولی لگنے سے شہید ہو چکاہے لیکن اُس کی ڈیڈ باڈی ابھی تک وہیں پڑی ہے ……“۔
”کیا تمہارا ہاتھ اِن کمینوں کے گردن پرنہیں پہنچ رہا……کھینچ کر باہر نکالو اور بیچ میدان کے للکار کر مارو اِن ایمان فروشوں کو……“۔
”سر! ہم نے گھیرہ مضبوط کر رکھا ہے……کسی ایک کو بھی بھاگنے کا موقع نہیں دیں ……بائیں طرف سے کال سائن ٹو کا دباؤ بھی بڑھ رہا ہے جب کہ دائیں طرف موجود جوانوں نے پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے……“۔
”شاباش! میرے شیرو ……یہ کمینے اندھیرے کا فائدہ اُٹھا کر کسی بِل میں گھسنے کی کوشش کریں تو مارٹر کا فائر گراؤ……اور ہاں زُلفی کو ہر صورت میں وہاں سے نکالو ……یہ حرام خور اُس کے پاس بھی پہنچنے نہ پائیں ……“۔
”ہیلو! ٹو میسج اور……“۔
کمانڈنگ آفیسر اور کمپنی کمانڈر کے درمیان بات جاری تھی کہ درمیان میں بائیں اگلی کمپنی کے کمانڈر نے داخل اندازی کرتے ہوئے سوالیہ بزر بجائی۔
”وَن کیپ لسنگ آؤٹ……ٹو سینڈ یور میسج اور……“۔
کمانڈنگ آفیسر نے کال سائن وَن کو احکامات جاری کرتے ہوئے کال سائن ٹو سے اپنی بات کرنے کا کہا۔
”سر! ہماری طرف بھی شدید فائرنگ ہو رہی ہے……جب کہ سرچ پارٹی میں سے ایک جوان آصف راکٹ کی زد میں آکر شہید ہو گیا ہے لیکن حوالدار ذولفقار کی طرح اُس کی ڈیڈ باڈی بھی وہیں پڑی ہے اور دہشت گردوں کے سنائپر اُٹھانے نہیں دے رہے“۔
”تو دبا کے رکھ……یہ بزدل چھپ کر معصوموں پر وار کرنے کے عادی ہیں …… اتنی دیر نہیں ٹھہریں گے ……میں وَن کی لوکیشن کے قریب پہنچ چکا ہوں ……تیری طرف بھی آتا ہوں ……“۔
کمانڈنگ آفیسر کے فوجی لہجے کی درشتی بڑھتی جارہی تھی جب کہ اِس دوران ڈرائیور جیپ کو نیلے پیلے آگ کے شعلوں سے نکالتا ہوا کال سائن وَن کی لوکیشن کے پاس پہنچ چکا تھا اور لانس نائیک ارشد اَپ لنک پر بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں تازہ بہ تازہ صورتِ حال پہنچانے میں مصروف رہا۔
”سر!آپ زندہ دلوں کا وطیرہ جانتے ہی ہیں ……ہم نے اب تک دائیں طرف سے میڑھا پھیر دیا ہے……آصف تک ہم نہیں پہنچے تو انہیں بھی پہنچنے نہیں دیا ہے لیکن جلد ہی وہ ہمارے ساتھ موجود ہو گا ……ویسے بھی یہ بزدل ہمارے سامنے تو دور شہید کے سامنے بھی آئیں تو زمین گیلی کرنے لگتے ہیں“۔
کال سائن ٹو کے کمپنی کمانڈر نے جذبات میں ڈوبی آواز میں جواب دیا۔اِس دوران اَپ لنک سیٹ پر موجود آپریٹر نے بریگیڈ کمانڈر کیموجودگی کی خبر دیتے ہوئے رسیور کمانڈنگ آفیسر کی جانب بڑھا دیا جو دوسرے سیٹ پر مسلسل اپنے لوگوں کا حوصلہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ نئی حکمتِ عملی بارے احکامات بھی جاری کیے جارہا تھا جب کہ لانس نائیک ارشد سیٹ کو دوسرے آپریٹر کے حوالے کر کے کھڑکی سے باہر جانے کون سے منظر اپنی آنکھوں میں محٖفوظ بنانے کی کوشش میں تھا۔
”شاباش! شیرو…… مَنڈ کے رکھو…… میں آتا ہوں“۔
کمانڈنگ آفیسر نے آخری جملے کہتے ہوئے مٹھیاں سختی سے بھینچ لیں۔
………………………………………………


پیادوں کی ہر حرکت پر شاہ کی براہ راست نظر ہوتی ہے۔
زندہ دل بٹالین نے جس دم نئی منزل کی جانب ”بسم اللہ“ کا کوڈ کہا اور بٹالین کمانڈر کی جیپ نے روانگی کے لیے کنوائی لائٹ کی مدہم روشنی کا سگنل دیا، اُس سے چند منٹ پہلے ہی یونٹ کے خطیب نے اجتماعی دعا کے لیے ہاتھ اُٹھا کر آمین کہا تو اپسی لمحے بٹالین لنگر کے روحِ رواں رجب لانگری کی تیز دھار چھری نے اللہ اکبر پر لبیک کہتے ہوئے صدقے کے بکرے کی شہ رگ کو کاٹ دیا۔ ٹھیک اُس وقت جب کمانڈنگ آفیسر کی جیپ نے مشکل سے ایک ہی گیئر بدلا ہو گا کہ اَپ لنک سیٹ نے شور مچانا شروع کر دیاتھا۔
”سر! ہائر امام بات کریں گے“۔
اَپ لنک سیٹ کے آپریٹر نے رسیور کمانڈنگ آفیسر کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا جب کہ لانس نائیک ارشد کا سیٹ مسلسل بٹالین فریکونسی پر لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتِ حال کمانڈنگ آفیسر تک پہنچا رہا تھا اور جہاں بہت ضروری ہو جاتا وہاں وہ بات بھی کروا رہا تھا۔
”ہیلو!زندہ دل ……وَٹس دی اَپ ڈیٹ ……اِن کنٹیکٹ کمپنیوں کی پوزیشن کیا ہے“۔
اَپ لنک سیٹ پر بریگیڈ کمانڈر کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
”سر! اگلی دونوں پوزیشنوں پر بھاری فائر ایکس چینج ہو رہا لیکن الحمداللہ موو جاری ہے اور کئی دہشت گردوں کو جہنم کی ٹکٹیں کاٹ کر دے دی ہیں اور جو لائن میں کھڑے ہیں اُن تک جلد ٹکٹ پہنچا کر زندہ دل آگے بڑ ھ جائیں گے“۔
کمانڈنگ آفیسر نے بھینچی مٹھیوں کو مزید سختی سے جکڑتے ہوئے بٹالین آپریشن کی تازہ ترین صورتِ حال سے ہائر امام کو آگاہی دلاتے ہوئے کہا۔
”کیاتمہارا ابابیلوں کے ساتھ رابطہ ہو چکا ہے“۔
”جی ہاں! سر ……ہم رابطے میں ہیں بہت جلد وہ ہماری لوکیشن پر کنکریاں برسانے پہنچ جائیں گے“۔
”ویل ڈن! مجھے خوشی ہے کہ زندہ دلوں کے ساتھ اس اہم مشن پر نکلا ہوں“۔
“تھیک یو سر! ہم کسی بھی طور پر مشن ادھورا نہیں چھوڑیں گے“۔
”جو لڑکے شہید ہو گئے ……اُن کی کیا پوزیشن ہے“۔
”سر! اب تک دو لوگ شہید ہیں لیکن دونوں کی ڈیڈ باڈیز وہیں مقام شہادت پر ہی ہیں ……“۔
”تو انہیں اُٹھانے کے لیے کیا کر رہے ہو……“۔
”سر! اب تک کوشش جاری ہے لیکن دہشت گردوں کے سنائپرز کسی بھی اوپن موو کو ٹارگٹ کر رہے ہیں ……میں نے پارٹیاں بنا دی ہیں جو اطراف سے دہشت گردو ں کے ممکنہ سنائپرز پر کاروائی کے لیے نکل چکی ہیں جب کہ ایک پارٹی جس میں سب والنٹیئرز شامل ہیں، شہیدوں کی ڈیڈ باڈیزریکور کرنے کے لیے منظم کاروائی کے لیے روانہ ہو رہی ہے“۔
کمانڈنگ آفیسر نے صورتِ حال سے آگاہی کے ساتھ ہی اپنی اگلی حکمتِ عملی سے بھی بریگیڈ کمانڈر کا مطلع کرتے ہوئے کہا۔
”ویل! مجھے تم سے یہی امید ہے……کنسنٹریٹ آن دی ٹاسک ……اور پلٹن کو میری طرف سے شاباش کہو……اَور اینڈ آؤٹ“۔
اَپ لنک سیٹ سے آخری جملوں کے ساتھ ہی کمانڈنگ آفیسر نے بٹالین لنک پر اگلی صفوں میں موجود کمپنی کمانڈروں سے بات کرنے کا ارادہ کی نیت سے سیٹ کا رسیور لانس نائیک ارشد کے ہاتھ سے لے کر اپنے منہ کے قریب کر لیا۔
………………………………………………


فیصلہ جہاں بھی ہو ایگزی کیُوٹ توگراؤنڈ پر ہی ہونا ہے۔
آسمان پر ہوئے فیصلوں پر بھی آمین یہیں زمین پر ہو جاتی ہے جب کہ فوجی کمان میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد بھی یہیں گراؤنڈ پر ہوجاتا ہے۔ کمانڈنگ آفیسر نے اگلی کمپنیوں سے صورتِ حال معلوم کرنے کے لیے وائرلس سیٹ کی جانب ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ لانس نائیک ارشد فیصلہ کن آواز میں بولا:
”سر! ابھی تک دہشت گردوں نے شہیدوں کی ڈیڈ باڈیز تک نہیں پہنچنے دیا ہے“۔
وہ اِس دوران مسلسل تازہ ترین صورتِ حال سے خود بھی آگاہ رہا اور کمانڈنگ آفیسر تک بھی خبریں پہنچاتا رہا۔
”ہاں! لیکن جلد ہی وہ ہمارے ساتھ ہوں گے……یہ لعنتی اُن کے قریب بھی نہیں بھٹکیں گے……بزدل، ڈرپوک **“۔
کمانڈنگ آفیسر کی پر عزم آواز میں فیصلے کی گھنٹی گونج رہی تھی۔
”ہیلو! مارخور فار امام اور……“۔
اچانک قریب رکھے سیٹ سے یونٹ ایجوٹینٹ کی پر جوش آواز سنائی دی جو اِس وقت کنڑول سے تھوڑی دور بیٹھا پوری بٹالین کی صورتِ حال کو اَپ ڈیٹ بھی کر رہا تھا اور کمانڈنگ آفیسر کی جانب سے ملنے والے احکامات پر مجموعی رِسپانس کو بھی دیکھ رہا تھا اور ضرورت پڑنے پر کمپنیوں کی براہ راست امداد بھی فرما رہا تھا۔
”امام! سیند یور میسیج اور……“۔
کمانڈنگ آفیسر نے لانس نائیک ارشد کی بات کا جواب ادھورا چھوڑ کر سیٹ کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے کہا۔
”سر! اگلی دونوں کمپنیوں نے دہشت گردوں کی ریفلوں کے منہ بند کروا دیے ہیں اورڈیڈ باڈیز کے اطراف بھی گھیرہ سخت کر رکھا ہے لیکن دور اوٹ میں موجود سنائپرز مسلسل پریشانی پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں ……کمپنی کمانڈروں کا خیال ہے کہ پہلے سے دہشت گردوں کے مقابل بیٹھی سپاہ میں سے پارٹی نکال کر شہیدوں کی جانب بھیجنے سے گھیرے میں خلاء پیدا ہوں گے جو دہشت گردوں کے لیے موقع مہیا کر سکتے ہیں ……ایسے میں مناسب ہو گا کہ بٹالین ہیڈ کوارٹرسے ایک پارٹی بھیجی جائے جو گھیرا لگا کر بیٹھی سپاہ کے بیچ سے گزرے اور اپنے بھائیوں کو واپس لائے“۔
ایجو ٹینٹ نے مختصر مگر جامع کاروائی بیان کر دالی تاکہ کمانڈنگ آفیسر کی جانب سے حتمی فیصلہ لے عمل درآمد کر پائے۔
”پارٹی کمپوزیشن کیا ہوگی اور کمانڈر کون ہو گا……“۔
کمانڈنگ آفیسر نے صورتِ حال پر نظر کرتے ہوئے سوال کیا۔
”سر! ایک تین ……نائب صوبیدار ایوب پارٹی کو یہاں سے موو کرے گا اور اس دوران کیپٹن احتشام بائیں گہرائی والی پوزیشن سے اِن کے ساتھ مل جائے گا“۔
ایجوٹینٹ نے پارٹی کی تنظیم اور پارٹی کمانڈر کی ترتیب بتاتے ہوئے جواب دیا۔
”ایجوٹینٹ! پارٹی میں سگنل مین لازمی ہو اور دیکھنا کوئی تگڑا لڑکا ہو نا چاہیے……“۔
کمانڈنگ آفیسر نے قریب رضا مندی کے ساتھ فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔
”راجرسر!……“۔
ایجوٹینٹ نے وائرلس سیٹ پر بات چیت کے لیے استعمال ہونے والی زبان کا بڑا مختصر سا لفظ، جس کا فوجی زبان میں مطلب ہے کہ کہی گئی بات نہ صرف سمجھ لی گئی ہے بلکہ اِس پر بعینہ عمل بھی کیا جائے گا، بول کر سلسلہ منقطع کردیا۔
”سر! میں والنٹیئر ہوں ……میں اپنے شہیدبھائیوں کو پہلا کندھا دینا چاہتا ہوں“۔
لانس نائیک ارشد، جو اتنی دیر سے ہونے والی لڑائی میں صورتِ حال سے مکمل جان کاری رکھتا تھا،نے بڑے مضبوط ارادے کے ساتھ کہا۔
”ارشد تم……کیوں کوئی خاص وجہ……“۔
کمانڈنگ آفیسر نے لانس نائیک ارشد کے جذبات کو غیر محسوس اندازمیں چیلنچ کرتے ہوئے سوال کیا۔
”سر! ریسکیو پارٹی میں ایک سگنل مین نے جانا ہی ہے اگر وہ میں ہوں گا تو مجھے خوشی بھی ہوگی اور کچھ کرنے کا موقع بھی مل جائے گا“۔
لانس نائیک ارشد نے اپنے والنٹیئرہونے کے ارادے پر یقین کی مہریں رکھتے ہوئے کہا۔
”ٹھیک ہے لیکن یہاں وائرلس پر……!!!“۔
کمانڈنگ آفیسر نے لانس نائیک ارشد کے جذبے کو فیصلے کے پینڈولم پر دھرتے ہوئے کہا۔
”اوکے…… سیٹ میرے حوالے کرو اور تم مین پیک سیٹ لے کر ایجوٹینٹ کے پاس رپورٹ کرو……نائب صوبیدار ایوب پارٹی لے کر نکلے گا تم اُسی کے ساتھ ہو گے……شاباش! نکلو……“۔
کمانڈنگ آفیسر نے فیصلہ لانس نائیک ارشد کے حق میں کرتے ہوئے اُسے شہیدوں کی ڈیڈ باڈیز لے آنے والی پارٹی کے ہمراہ جانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا۔ کمانڈنگ آفیسر کے فیصلے نے لانس نائیک ارشد کی آنکھوں اُتری چمک کو بڑھا دیا اور وہ سرعت اندازی سے سیٹ کوجیپ کی اگلی نشست پر منتقل کرتا چند منٹوں میں ایجوٹینٹ کی جانب نکل چکا تھا۔
………………………………………………


شہید، ابھی تک اپنوں کی راہ تکتے تھے۔
سپاہی کی زندگی تو باردود کے دھویں میں لمبی سانسیں لے ہی گزرتی ہے جب کہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے ملنے والی لوری میں مٹی کے بستر پر گہری پر سکون نیند سونا تو جیسے اِن سپاہیوں کی عادت ہوتی ہے جبھی تو شہیدوں کے جسموں میں اتنی دیر گزرنے پر بھی بے چینی نہیں آئی تھی کیوں کہ انہیں خبر تھی کہ اُن کے پیارے بہت جلد سبز ہلالی جھنڈے والی چادریں لے کر آئیں گے اور انہیں اپنے شانوں پر اُٹھا کر یہاں سے لے جائیں گے۔زندہ دل بٹالین کی پارٹی نائب صوبیدار ایوب کے ہمراہ اُس طرف کو نکل چکی تھی جہاں شہید اِن کی راہ تکتے تھے جس میں لانس نائیک ارشد بھی پیٹھ پر وائرلس سیٹ اُٹھائے بڑھے پر جوش انداز میں روانہ تھا۔پارٹی نے مشکل سے اگلی کمپنیوں کی حد بندی سے آگے کا سفر شروع ہی کیا ہو گا کہ اچانک فضاء گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے چیخ اُٹھی۔
”ڈاون……ہٹ دی گراؤنڈ……“۔
نائب صوبیدار ایوب نے چیختے ہوئے سب کو حکم دیا اور خود بھی چھلانگ لگا زمین کے سینے سے چپک گیا جب کہ باقی سبھی نے بھی زمین پر لیٹکر کرالنگ کرتے ہوئے قریب ترین اَوٹ میں جانے کی کوشش کی جب کہ گولیوں کا ایک چھٹا، زوؤں سوؤں کی آوازوں کا شور مچاتا ہوا اِن کے سروں کے اُوپر سے گزر گیا۔
”نائب صاب! ہمیں دو گروپ کر لینے چاہیں ……میں لانس نائیک اکرم کے ساتھ آگے جاتا ہوں ……آپ اورلانس نائیک تنویر ہمیں کور دیں“۔
لانس نائیک ارشد جو اس وقت پارٹی کمانڈر کے ساتھ ہی زمین پر موجود تھا، نے مشورہ دیتے ہوئے کہا۔
”ٹھیک ہے ……تم دونوں لو کرال میں آگے جاؤ……میں اور تنویر اِن کی * کا منہ بندھ کرتے ہیں“۔
”نائب صوبیدار ایوب کی شدتِ جذبات سے بھر آواز سنائی دی جس کے پہلے حصّے میں فوجی زبان میں لانس نائیک ارشد والی پارٹی کے لیے احکام اور دوسرے میں صاحب کی مادری زبان میں دہشت گردوں کے لیے واضح کلمات کہے گئے تھے۔ لانس ارشدبات کا پہلے حصے پر عمل پیرا، اکرم کے ہمراہ کرال کرتا ہوا آگے بڑھنے لگاجب کہ آخری حصّے میں کہی باتوں کا لطف اُٹھانے کے لیے انہیں واپسی تک انتظار کرنا پڑا۔
”ہیلو! امام فار نِک نیم ارشد اور……“۔
لانس نائیک ارشد کی پیٹھ پر سوار وائرلس سیٹ کے رسیور سے کمانڈنگ آفیسر کی آواز گونج رہی تھی۔
”نِک نیم ارشد سینڈ اور……“۔
لانس نائیک ارشد نے کرالنگ کرتے ایک اوٹ سے دوجی اوٹ میں جاتے ہوئے کہا۔
”صورتِ حال بتاؤ……کیا پارٹی محفوظ ہے اور تم لوگ ڈیڈ باڈیز سے کتنی دور ہو“۔
”سر! مسلسل چھوٹے ہتھیاروں کے چھٹے برس رہے ہیں ……میں ڈیڈ باڈیز کی طرف کرال کرتا جا رہا ہوں لیکن ابھی تک اُن تک نہیں پہنچا“۔
”ارشد! بہت ہو شیار رہ کر……یہ بے غیرت کے بچے نائٹ ٹیلی اسکوپ کے ساتھ فائر کر رہے ہیں ……تم آگے بڑھو……ہم اِنہیں پیچھے سے بھی قابو کرنے ہی والے ہیں ……“۔
”سر! آپ فکر نہ کریں ……میری آنکھیں اِن کی اسکوپوں سے زیادہ تیز ہیں ……میں بہت نزدیک ہوں“
”شابا……ارشد ……شابا“۔
کمانڈنگ آفیسر نے لانس نائیک ارشد کا حوصلہ بناتے ہوئے فرطِ جذبات سے کہا جب کہ اِس دوران لانس نائیک ارشد کرالنگ کرتا ہوا پہلے شہید کے جسدِ خاکی کے اتنی قریب پہنچ چکا تھا کہ باآسانی ایک جست میں وہاں تک جا پہنچتا۔وہ لانس نائیک اکرم کے ہمراہ وہیں پتھر کی اَوٹ میں دبک کر بیٹھ گیا تاکہ دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ کا اندازہ کر پائے۔ جب کافی دیر تک انہیں اپنے آس پاس فائر کی آواز سنائی نہ دی تو اُس نے قیاس کیا کہ اب تک دہشت گردوں کے سنائپرز نے اُن کی موو کو لوکیٹ نہیں کیا ورنہ اب تک کئی اسپیکیولٹیو فائر اُن کے آجو باجو زوؤں سوؤں کرتے ہوئے گزر چکے ہوتے۔
”اکرم! جگر کور دے میں باڈی کو لاتا ہوں“۔
لانس نائیک ارشد نے آس پاس کی صورتِ حال کی تسلی کر لینے کے بعد اپنے پہلو میں لیٹے لانس نائیک اکرم سے کہا جو نوکری میں کم مگر تربیت میں پورا تھا۔
”نہیں ارشد! تو ٹھیر میں جاتا ہوں“۔
لانس نائیک اکرم نے اپنی تجویز دیتے ہوئے کہا لیکن اِس دوران ارشد بات سنے بغیر ہی قریب موجود پہلے شہید کے جسدِ خاکی کی جانب رینگچکا تھا۔ کچھ دیر بعد جب ارشد کرالنگ کرتا واپس اکرم کے پاس اَوٹ میں آیا تو اُس کے ساتھ حوالدار شہید ذولفقار کا مسکراتا ہوا جسد بھی تھا۔
”اکرم! استاد کو سنبھال ……میں ابھی آیا“۔
لانس نائیک ارشد نے ڈیڈ باڈی اکرم کے پاس چھوڑی اور مزید بات کا انتظار کیے بنا ہی واپس اُسی سمت رینگ گیا جہاں سے پہلی باڈی ریکور ہوئی تھی۔ کچھ دیر بعد جب ایک بار پھر سے لانس نائیک ارشد لوٹا تو اُس کے ساتھ ایک اور شہید سپاہی آصف کا جسد ِخاکی تھا جو پہلی ڈیڈ باڈی سے چند گز کے فاصلے پر ہی ریفل کے ٹریگر میں انگلی دبائے، کھلے آسمان تلے گولیوں کی لوری سن کر لیٹ رہا تھا۔
”اکرم! یہاں سے آگے بھی ڈیڈ باڈیز دکھائی دے رہی ہیں لیکن ہمیں پہلے انہیں پیچھے پہنچانا چاہیے“۔
لانس نائیک ارشد نے دونوں شہیدوں کو اَوٹ میں پہنچا کر دم لیا اور اکرم کو مشورہ دیتے ہوئے کہا جس پر اکرم نے مزید کچھ بات کرنے کے جلدی سے ایک جسد اٹھا یا اور واپسی کے لیے کرالنگ کرنے لگا جب لانس نائیک ارشد نے بھی مزید بات کرنے کی بجائے بس سیٹ پر کمانڈنگ آفیسر کو صورتِ حا ل بتائی اور دوسرے جسد کو کلاوہ مار کر واپسی کے لیے کر النگ کرنے لگا۔
………………………………………………


دو شہید پلٹن کی صفوں میں واپس پہنچ چکے تھے لیکن ابھی بھی ایک باقی تھا۔
”ارشد! تم پاگل مت بنو…… سپاہی سیلم شہید کی ڈیڈ باڈی کے لیے تازہ دم جوان جائیں گے“۔
کمانڈنگ آفیسر جو اِس وقت شہیدوں کے اجسام کے پاس پہنچ چکا تھا، نے سپاہیانہ جذبات میں ڈوبی آواز میں لانس نائیک ارشد کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا جو ایک بار پھر واپس جانے کے لیے والنٹیئر ہو رہا تھا۔
”سر! میرے کندھے اتنے مضبوط ہیں کہ میں اپنوں کا بوجھ اُٹھا سکتا ہوں …… میں ایک نہیں کئی بار بھی جاؤں تو تھکوں کا نہیں“۔
لانس نائیک ارشد نے انتہائی جذبات میں ڈوبی، مگر آداب سے پوری آوازمیں جواب دیا۔
”میں جانتا ہوں ……مجھے اپنے ہر سپاہی کی خبر ہے……میں سی او ہوں تمہارا لیکن……“۔
”سر! جو حکم دیں گے قبول ہو گا لیکن یہ تو مانیں کہ وائرلس آپریٹر بھی میں ہوں اور اُس جگہ سے عملی وقف بھی میں ہی ہوں لہٰذا اگر ممکن……“۔
”ارشد! ٹھیک ہے جا بچے لیکن یاد رکھ تو مجھے واپس چاہیے ……“۔
کمانڈنگ آفیسر نے لانس نائیک ارشد کی دلیل کے سامنے ہاں کردی لیکن شدتِ جذبات سے یوں اُسے گلے لگایا جیسے ماں بچے کو مشکل میں دیکھ کر اپنی چھاتی سے چپکا لیتی ہے۔کمانڈنگ آفیسر، ایک پلٹن کا سربراہ ہوتا ہے جو بیک وقت ماں بھی ہے اور باپ بھی۔ اُسے پلٹن کے ہر سپاہی سے وہی محبت ہوتی ہے جو اِن دو رشتوں میں سے کسی ایک کو بھی اپنی اولاد سے ہو سکتی ہے۔ لانس نائیک ارشد نے ایڑیا جوڑ کر سلوٹ کیا اور سیٹ کو کمر پر لادے واپس اسی سمت روانہ ہو گیا البتہ اِس بار ہمراہ کوئی اور سپاہی تھا۔
اِس بار پہلے سے کم وقت میں فاصلہ طے ہو گیا۔
لانس نائیک ارشد اپنے تازہ دم بڈی کے ساتھ جب نائب صوبیدار ایوب والی جگہ پر پہنچا جہاں سے آگے کچھ فاصلے پر ہی شہیدوں کی ڈیڈ باڈیز پڑی ہوئی تھیں، تو نائب صاحب نے مشورہ دیا کہ لانس نائیک ارشد اور اُس کا بڈی یہیں رُک کر سانس درست کریں جب کہ اتنے میں پہلے سے مو جود سپاہی قمر اور لانس نائیک تنویرباقی کے شہیدوں کی ڈیڈ باڈیز کو اُٹھائیں گے۔ حالات کی نزاکت نے زیادہ بات کی اجازت نہیں دی اور پہلے سپاہی قمر نے کرال کرتے ہوئے سپاہی سلیم شہید کی ڈیڈ باڈی تک جانے کی کوشش کی لیکن جانے کیسے وہ سنائپر کی آنکھ میں نظر آگیا کہ اچانک ایک مخصوص شُپ کی آواز کے بعد ہی سپاہی قمر آواز سنائی دی جس میں اُس نے اپنے زخمی ہونے کی خبر بھیجی تھی۔ سپاہی قمر کی ٹانگ سنائپر کی زد میں آکر ختم ہو چکی تھی اور مزید آگےبڑھنے کی پوزیشن میں نہیں رہا تھا جبھی لانس نائیک تنویر نے ہلکے سے راستہ بدل کر آگے بڑھنے کی کوشش کی تو ایک بار پھر سنائپر کی شُپ کے پیچھے اُس کی غصے سے بھر پور آواز سنائی دی جس میں اُس نے اپنے زخمی ہونے کی خبر بھی دی اور دہشت گردوں کو گالی بھی۔ لانس نائیک تنویر کے بازو پر گولی لگی تھی اور وہ بھی آگے بڑھنے یا شہید کی باڈی تک جانے سے قاصر تھا۔
”سر! میں جاتا ہوں ……مجھے خبر ہے کیسے وہاں تک جانا ہے“۔
پل بھر میں ہوئے دو زخمیوں نے لانس نائیک ارشد کو مزید انتظار کرنے کی مہلت نہیں دی اور نہ ہی وہ اپنے ساتھ آئے سپاہی کو آگے بھیج کر کوئی چانس ہی لینا چاہتا تھا، جبھی اُس نے فوراً خود کو تیار کرتے ہوئے کہا اور جواب کا انتظار کیے بنا ہی سیٹ سنبھال کر پوزیشن درست کرنے لگ گیا۔
”ہیلو! ارشد کیا ہو رہا ہے……“۔
شُپ کی آوازوں نے پیشہ ور سپاہیوں کو خبر دے دی تھی کہ سنائپر زنے فائر کیا ہے لیکن اِس کے نتیجے میں کیا ہو ہے اُس کی خبر لینا ابھی تک باقی تھا جبھی کمانڈنگ آفیسر کی تیز آواز لانس نائیک ارشد کے کندھوں پر سوار سیٹ سے برآمد ہوئی۔
”سر!سپاہی قمر اور لانس نائیک تنویر، سپاہی سلیم شہید کی ڈیڈ باڈی کی طرف گئے تھے جنہیں سنائپر ز نے ہٹ کر لیا“۔
لانس نائیک ارشد نے شہید کی ڈیڈ باڈی والی ممکنہ جگہ کی جانب رینگتے ہوئے جواب دیا۔ اب کی بار جاتے ہوئے لانس نائیک ارشد نے ہتھیار اور فالتو سامان وہیں نائب صاحب کے پاس رکھ چھوڑا تاکہ حرکت کرنے میں قدرے آسانی ہو البتہ گرنیڈز والا بنڈوریل اُس کی کمر کے ساتھ ہی کسا ہو اتھا۔
”تمہاری لوکیشن کیا ہے“۔
”سر! میں شہید کی ڈیڈ باڈی کی طرف جا رہا ہوں“۔
”لیکن سنائپر……“۔
”سر! میں متبادل راستے سے آگے بڑھ رہا ہوں ……“۔
”ارشد! بچے سنبھل کے…… شاباش ، دوسری طرف سے کیپٹن احتشام بھی کمک لے کر پہنچنے ہی والا ہے……“۔
لانس نائیک ارشد نے جواب دینے کی بجائے مسلسل آگے بڑھنے پر ساری توجہ مرکوز رکھی کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ ایک ہلکی سی جھلک بھی سنائپر کی آنکھ پکڑ لے گی اور پھر اَن دیکھی گولی اُس کے جسم کے آر پا ر ہونے میں دیر نہیں کر ے گی۔ وہ رینگتے ہوئے شاید کافی دور نکل آیا تھا کیوں کہ کچھ فاصلے پر ایک اور شہید کا جسدِ خاکی اُس کی جانب دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
یہ سپاہی امجد شہید کا جسد ِ خاکی تھا۔
جو دھرتی ماں کی گود میں اپنے ہی لہو کی چادر بچھائے لیٹ رہا تھا۔ لانس نائیک ارشد نے جونہی ہاتھ بڑھا کر شہید کے جسم کو اپنی اور کھینچنے کی کوشش کی تو اچانک زُوؤں کی تیز آواز نے فضا ء کے پر سکون لمحوں میں ہلچل مچادی۔ سنائپر کی آنکھ نے حرکت دیکھ لی تھی جبھی اُس نے فائر کیا اور فائر کی آوزا سے لمحہ قبل ہی مٹی اور بارود کی خوشبو نے لانس نائیک ارشد کے پہلو سے چند سوتر پرے سے سر اُٹھایا لیکن وہ محفوظ رہا۔لانس نائیک ارشد نے اپنی سانسوں کو بحال کیا اور کچھ لمحوں بعد ایک بار پھر سے شہید کے جسم سے لپٹے بنڈوریل کو ہاتھ دال کر اپنی اور کھینچنے کی کوشش کی لیکن شاید دہشت گردوں کے سنائپر نے متوقع حرکت جان لی تھی کیوں کہ پھر ایک زوؤں کی آواز آئی اور گولی ٹھیک اسی جگہ پر مزید چند انچ گہرا سوراخ بنا کر خاموش ہو گئی۔البتہ لانس نائیک ارشد اس بار گولی اور گولی کی آواز کے بیچ اپنے شہید ساتھی کو اپنے سینے سے چپکائے متبادل اوٹ میں جا چکا تھا۔ بے شک ایک سپاہی، اگر شہید ساتھیوں کے لیے جان کی بازی لگا سکتا ہے تو اپنے ملک کے معصوم لوگوں کی جان بچانے کی خاطر بھی بہت سی مشکلیں باآسانی کاٹ سکتا ہے۔
”ہیلو! نِک نیم ارشد فار مارکور اور……“۔
لانس نائیک ارشد نے سپاہی امجد شہید کا جسدِ خاکی اوٹ مین اپنے پاس کرنے کے بعد، یونٹ ایجوٹینٹ کے لیے رسیور پر پیغام دیا۔
”ہاں! ارشد بولو……کیا پوزیشن ہے……“۔
یونٹ کے ایجوٹینٹ نے وائرلسی زبان و بیان کا خیال بالائے طاق رکھتے ہوئے، براہ راست لانس نائیک ارشد کو مخاطب کرتے ہوئے جواب دیا۔
”سر! دہشت گردوں کے سنائپر سامنے کے علاقے میں شاید درختوں پر موجود ہیں جو کہ بندوں کو نہیں اُٹھانے دے رہے……میں فائر ڈائریکٹ کرواتا ہوں ……آپ مارٹر کا فائر گرائیں“۔
لانس نائیک ارشد نے دوسری حکمتِ عملی اپنانے کا مشورے دیتے ہوئے کہا کیوں اب تک دو جوان زخمی ہو چکے تھے اور خود ارشد بامشکل بچا تھا۔ جس دم لانس نائیک ارشد کا ایجوٹینٹ کے ساتھ مکالمہ جاری تھا، ٹھیک اُس دم فضاء میں کوبرا ہیلی کاپٹروں کے پروں کا شور آہستہ آہستہ بڑھتا جارہا تھا۔
”سر! آپ مجھے اے سی ٹی کی فریکونسی بتائیں ……مجھے ہیلی کاپٹروں کی آواز آ رہی ہے……میں انہیں لوکیشن اِنڈی کیٹ کرواتا ہوں“۔
لانس نائیک ارشد نے دور آسمان پر موجود ہیلی کاپٹروں کی موجودگی کا یقین کرنے کے بعدایجوٹینٹ سے کہا جس نے اگلے لمحے ہی فریکونسی اُسے بتا دی۔جس وقت یہ مکالمہ اور ہیلی کاپٹروں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا ٹھیک اُس وقت امداد میں آئے ٹینک بھی مذکورہ جگہ میں داخل ہو رہے تھے۔
”ہیلو! ارشد …… میں کوبرا کا پائلٹ بول رہا ہوں …… کیا تم مجھے سن سکتے ہو……“۔
لانس نائیک ارشد نے جونہی اے سی ٹی کی فریکونسی سیٹ پر لگا کر ناب گھمائی تو اچانک سیٹ کوبرا ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کی آواز سے جاگ گیا۔
”ہیلو! سر میں آپ کو سن سکتا ہوں ……“۔
لانس نائیک ارشد نے فریکونسی لگا کر سیٹ کو سیدھا کیا اور رسیور کانوں سے لگا جواب دیا۔
”ہم راؤنڈ لے کر واپس آتے ہیں تم نشاندہی کی کوشش کرو……“۔
ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے کہا اور اُسے لگا کہ آواز دھیرے دھیرے دور ہو رہی ہے لیکن دور ہوتی آوازوں کے بیچ شور مچاتی ٹینکوں کی آواز نے اُس کا حوصلہ بڑھائے رکھا اور پھر سے سیٹ کو سامنے رکھ کر بیٹھ گیا تاکہ ٹینک کمانڈر کو اپنی اور شہیدوں کی لوکشن بتا پائے۔
”ہیلو! نِک نیم ارشد فار نائنر نائنر اور……“۔
لانس نائیک ارشد نے ٹینک کمانڈر کے کال سائن پر آواز لگا نا شروع کر دی۔
”ہیلو! نائنر نائنر سینڈ لوکیشن اور……“۔
ٹینک کمانڈر جو اسی مشن کی امداد میں دوڑا چلا آرہا تھا، نے لانس نائیک ارشد کی آئی ڈی پہچان کر لوکیشن جانا چاہی۔
”سر! میں سموک گرنیڈ پھنکتا ہوں …… آپ اُسی لوکیشن میں آئیں اور یہاں سے ہیلی والوں کو بھی ٹارگٹ اِن ڈی کیٹ کرانے میں مددکریں ……“۔
یہ کہہ کر لانس نائیک ارشد نے کمر سے باندھے بنڈوریل سے ایک سموک گرنیڈ نکال پوری طاقت سے محفوظ سمت میں اچھال دیا۔ سموک دیکھ کر ٹینک یوں لپکے جیسے شیر شکار پر لپکتا ہے لیکن سموک پر جانے والا ٹینک درمیان والا نکلا جب کہ ایک بائیں طرف کا ٹینک لانس نائیک ارشد سے چند قدم کے فاصلے سے گزر گیا اور دائیں طرف کا ٹینک لگ بھگ سپاہی سلیم شہید والی لوکیشن کے آس پاس پہنچ گیا۔
”ہیلو! نائنر نائنر…… تم اِن لوکیشن ہو لیکن اپنے بائیں ٹینک کو پیچھے موو کرو یہ نرغے میں جا رہا ہے……“۔
لانس نائیک ارشد نے ٹینکوں کی آمد اور ترتیب سے اندازہ لگا کر قریب چیختے ہوئے کہا۔ ٹینک کمانڈر نے پیغام کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے فوراً بائیں ٹینک کو رُکنے اور گھوم کر پیچھے کی سمت پوزیشن بنانے کا حکم دیا لیکن اگلا لمحہ بڑ ا ہی تکلیف دہ نکلا جب بائیں ٹینک نے ٹرٹ گھماکر پوزیشن بدلی تو اُس کا ایک ٹریک چند گز دور ہی زمین سے چپکے لانس نائیک ارشد کی ٹانگوں سے گزر گیا۔ ایک لمحے کے لیے اُسے لگا کہ جیسے نچلا دھڑ کاٹ کر الگ کر دیا گیا ہے لیکن اُس کی سانس ابھی تک جاری تھی اور دماغ کی بتیاں، وائرلس سیٹ کی بتیوں کے ساتھ جلتی بجھتی جارہی تھیں۔
”ہیلو! ارشد پائٹ بول رہاہوں …… تم سموک گرنیڈ سے لوکیش دو……“۔
لانس نائیک ارشد کے ڈوبتے دماغ نے سگنل رسیو کیے اور اُس نے پوری ہمت جمع کر کے جواب دیا۔
”سر! سموک گرنیڈ کی لائن سے کارپٹنگ شروع کریں ……“۔
”تمہاری لوکیشن کیا ہے……“۔
”سموک سے تیس میٹرز ……نو بجے کی لائن……“۔
”نہیں! یار……!!!“۔
”ہیلو! سر آپ فائر کریں ……“۔
لانس نائیک ارشد چیخا لیکن ہیلی کاپٹروں کی قریب آتی ہوئی آواز غوطہ کھایا اور ایک بار پھر سے دور ہوتی چلی گئی۔ اَس دوران ٹینک اپنی پوزیشن بدل کر ترتیب بنا چکے تھے اور پھر چند لمحوں میں لانس نائیک ارشد کی ڈوبتی سماعتوں نے زندہ دل پلٹن کے جوانوں کے بھاری بوٹوں کی آوازیں پہچان کر ہاتھ میں پکڑے گرنیڈ کی پِن واپس لگانی شروع کردی جو اُس نے اِس لیے سنبھال رکھا تھا کہ اگر کہیں سے کوئی دہشت گرد بھول بھٹک کر بھی اِس جان نکل آیا تو پھر دونوں میں سے ایک ہی ہوگا۔ کچھ دیر بعد ٹینکوں نے بھاری فائر گرا کر دہشت گردوں کے سامنے کی دیوار گرا دی جب کہ آسمان پر پہرہ دینے والے ہیلی کاپٹروں نے دور درختوں کے جھنڈ میں چھپے ہوئے سنائپرز کو زمین چاٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ شہیدوں کے جسدِ خاکی عزت و تکریم کے ساتھ اُن کے گھروں کو روانہ کر دیے گئے جب کہ زخمیوں کو ہسپتال بھیج دیا گیا تھا۔
صبح کے سورج نے جس دم کھڑکی کی دہلیز سے جھانکا تو ہسپتال کے بستر پر لیٹے لانس نائیک ارشد کوکمانڈنگ آفیسر چھاتی لگا کر بھینچ رہا تھا جب کہ ہیلی کاپٹر کے پائلٹ ہاتھوں میں پھولوں کے تحفے لے کر آئے تھے۔

Share This Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>