ویسے کا ویسا

محمد جاوید انور
lafznamaweb@gmail.com

جی چاہتا ہے اُس سے بات کروں
پُوچھوں کہ کیسی ہو؟
سوچتا ہُوں کہ سب ٹھیک چل رہا ہُوا، تو جو ایک واہمہ ہے کہ میری کچھ اہمیت تھی وہ بھی نہ رہے گا
وہ تو ویسی کی ویسی ہو گی
ٹھنڈی ٹھار

ہنسے گی تو اچھی لگے گی
میرے راز ، راز رکھے گی
میرا خیال رکھے گی
قدر کرے گی
دِل کی باتیں کرے گی سنے گی
نہ سمجھتے ہوئے بھی میرے فلسفے برداشت کرے گی
پہروں گفتگو چلے گی۔
چائے کے دور ہوں گے
پیزا اور برگر آرڈر ہوں گے
اور ایسی لمبی باتیں ،
جو بس باتیں ہی باتیں ہوں
تو پھر کروں اس سے بات ؟
لیکن اگر اُس نے کہہ دیا کہ ’’ ٹھیک ہُوں ‘‘ تو پھر؟
مجھے تو پوچھے گی کہ کیسے ہو؟
میں تووُہی بولوں گا کہ ،’’ ویسے کا ویسا‘‘!
پتا نہیں یہ مذاق ہو گا یا حقیقت؟
لیکن ہوں تو میں ویسے کا ویسا
تو مان جاؤں کیا ؟
کروں اس سے بات ؟

Share This Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>