کائنات میں زمین کے علاوہ زندگی اگر ہے تو اس کی عمر کتنی ہو گی؟

تحریر : وہارا امباکر

ہمیں زندگی کی تعریف کا کوئی اچھا اندازہ نہیں لیکن اگر ہم تصور کر لیں کہ زندگی صرف ویسی ہی ہوتی ہے جیسے زمین پر تو اس مفروضے کے تحت سوال کا تجزیہ کر لیتے ہیں۔
کائنات کے آغاز کے تین سے چار منٹ کے بعد ہائیڈروجن اور ہیلئم کے نیوکلئیس وجود میں آئے جب کہ تقریباً پونے چار لاکھ سال بعد اس کا درجہ حرارت اتنا ہوا کہ اس کے ساتھ الیکٹران پہلی بار جڑ کر ایٹم بن سکیں۔ لیکن اس وقت تک کوئی جسم نہیں تھا۔ کثیف حصوں میں گریوٹیشنل کولیپس ہونے لگا اور بگ بینگ کے پانچ سے دس کروڑ سال بعد بڑے ستارے وجود میں آئے جو صرف ہائیڈروجن اور ہیلئم پر مشتمل تھے اور پہلی جنریشن کے یہ ستارے ہمارے سورج سے سینکڑوں گنا بڑے تھے۔ اور اتنے بڑے ستاروں کو مرتے ہوئے صرف دس سے بیس لاکھ سال ہی لگتے ہیں۔


ان ستاروں نے اپنی زندگی میں ہائیڈروجن کو ہیلئم میں بدلا۔ زیادہ بڑے ستاروں نے ہیلیم کو کاربن، کاربن کو آکسیجن، آکسیجن کو سلیکون، سلفر وغیرہ میں بھی۔ یہاں تک کہ لوہا، نکل اور کوبالٹ تک پیروڈک ٹیبل کے عناصر بنے۔ اس کے بعد کور منہدم ہوئی، سپرنووا ہوا اور بھاری عناصر بنے۔ دھماکہ خیز اختتام کے مادے سے ستاروں کی اگلی نسلیں بنیں اور اس بھاری مواد کی وجہ سے پتھریلے سیارے بننا ممکن ہوا اور نامیاتی مالیکیولز کا بھی۔ یہ اب ابتدائی کہکشاوٗں میں موجود تھے۔ جتنے ستارے بنے، جلے اور مرے۔ ستاروں کی اگلی نسل کے لئے اتنا متنوع مواد تھا۔ کئی سپرنووا نے نیوٹرن سٹار بنائے اور ان کے آپس میں ادغام نے پیروڈک ٹیبل کے بھاری ترین عناصر۔ بھاری عناصر کا مطلب پتھریلے ستاروں کی زیادہ ڈینسیٹی تھا اور زندگی بننے کا زیادہ امکان۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کائنات کی عمر ابھی صرف ایک ارب سال ہو گی (یہ پیمائش ہم دور کی کہکشاوٗں میں کر چکے ہیں) جب بھاری عناصر کی بہتات اور بڑی مقدار میں کاربن موجود تھا۔ پتھریلے ستاروں کا بننا تیس سے پچاس کروڑ سال عمر کی کائنات میں شروع ہو چکا ہو گا۔
کاربن بیسڈ زندگی کائنات کے آغاز کے ایک سے ڈیڑھ ارب سال بعد وجود میں آ سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ہمیں نہ ہی زندگی اور غیرزندگی کا فرق معلوم ہے اور نہ ہی زندگی کے آغاز کا پتا ہے۔ نہ ہی یہ معلوم ہے کہ زمین کی ابتدا میں کاسمک پراسسز کی وجہ سے کونسے مالیکول موجود تھے جو زندگی کا بیج ڈالنے کے لئے ناگزیر تھے۔ نہ ہی معلوم ہے کہ زندگی کے لئے سیارے کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔ لیکن اس کا خام مال کائنات کی ابتدا میں بننے لگا تھا۔
کیمسٹری کی نگاہ سے، ارضی زندگی جیسی زندگی کائنات کی پیدائش کے ایک سے ڈیڑھ ارب سال بعد شروع ہو سکتی تھی۔ زمین کے بننے سے تقریباً آٹھ ارب سال قبل۔
ہم جانتے ہیں کہ کسی تہذیب کے لئے صرف چند ہزار سال میں ہی کتنا بڑا فرق پڑ سکتا ہے۔ ایک ارب سال تو اس کے مقابلے میں لامتناہی وقت ہے۔۔۔


بگ بینگ کے پہلے ایک دو ارب سال کائنات میں وہ تمام عناصر موجود نہیں تھے جو کم از کم زمینی زندگی کے لیے ضروری ہیں- اس لیے اگر کائنات میں کہیں ایسی زندگی موجود ہے جو زمینی زندگی کی طرح پیچیدہ نامیاتی مالیکیولز پر مشتمل ہے تو اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ اب سے بارہ ارب سال پہلے کائنات میں کہیں بھی ایسی زندگی موجود تھی
اگر ہم فزکس اور کیمسٹری کو درست طور پر سمجھتے ہیں، زندگی کی تعریف کیمسٹری کی بنیاد پر کرتے ہیں تو پھر صرف فوٹانز، قوارکس، نیوٹران یا برقی مقناطیسیت پر مبنی زندگی ممکن نہیں ہے- اس کے علاوہ زندگی، ذہین زندگی، اور باشعور زندگی یہ تمام مختلف چیزیں ہیں جو بالترتیب زیادہ پیچیدگی پر مشتمل ہیں- ایسی پیچیدگی پیچیدہ کیمسٹری کے بغیر ممکن نہیں ہے- مثال کے طور پر اگر ہم بوزونز کی مثال لیں تو بوزونز عموماً ایک دوسرے سے تعاملات نہیں کرتے اس لیے پیچیدگی پیدا نہیں کر سکتے

Share This Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>